مولانا ابولکلا م آزاد کے مجموعہ خطوط " غبار خاطر" سے ۔
چڑیا کا بچہ جو ابھی گھونسلے سے نکلا ہے اڑنا نہیں جانتا ، ڈرتا ہے ، ماں اسے اکساتی ہے لیکن پھر بھی اس میں ہمت نہیں ہوتی ۔ لیکن جیسے ہی اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے ۔ وہ اپنا گھونسلہ چھوڑتا اڑان بھرتا ہے ۔۔۔ فرماتے ہیں جونہی اس کی "خودشناسی " جاگ اٹھی اور اسے اس حقیقت کا عرفان ہوگیا " میں اڑنے والا پرندہ ہوں" اچانک قالب ہیجان کی ہر چیز از سر نو جاندار بن گئی ۔ پھر اسی سے یہ حکیمانہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ " بے طاقتی سے توانائی ، غفلت سے بیداری ، بے پر و بالی سے بلند پروازی اور موت سے زندگی کا پورا انقلاب چشم زدن کے اندر ہوگیا ۔ غور کیجیے تو یہی ایک چشم زدن کا وقفہ زندگی کے پورے افسانے کا خلاصہ ہے ۔
Wednesday, March 12, 2014
مولانا ابولکلا م آزاد کے مجموعہ خطوط " غبار خاطر" سے ۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
فوکس
فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...
-
دل اور قلب شہیر شجاع ہم اکثر کہا کرتے ہیں “میرا دل کھانے کا کر رہا ہے ، یا میرا دل چاہ رہا ہے ، یا میرا دل خراب ہورہا ہے ۔۔۔۔یا “ اس “ پہ م...
-
پا کستانی فوجی سرحد کی حفاظت میں تو دنیا کی اعلی عسکری طاقت کے طور پر منوا چکے لیکن سیاسی طور پر اب تک ناکام رہے ہیں ۔۔۔ ہماری بد قسمتی ...
-
پشاور کے اتنے شدید اور نہایت ہی دلگیر اور افسوسناک واقعہ پہ ہر دل رو رہا ہے ۔۔۔ پورے ملک کی حکومتی مشینری سے لیکر عام آدمی تک متحرک ہے ...
No comments:
Post a Comment