Showing posts with label بصیرت، نظروں کا دھوکہ. Show all posts
Showing posts with label بصیرت، نظروں کا دھوکہ. Show all posts

Thursday, August 18, 2022

نظر

 

نظر

شہیر شجاع

دنیا اس حسین دو شیزہ کی مانند ہے جس کی چال ، اس کے لچھن ، خال و خد ، مسکراہٹ ، کھلکھلاہٹ اس کی سریلی آواز اپنی جانب مائل کرتے ہیں ۔ مرعوب کرتے ہیں ، متاثر کرتے ہیں ۔ جیسے بڑے بڑے شاپنگ مالز ، لگژری سواریاں ، تزئین و آرائش کی شاہکار بلند و بالا عمارتیں ، مہنگے ملبوسات کچھ دیر کے لیے انسان کے نفس میں رعب ڈال دیتے ہیں ۔ اپنی دسترس میں حاصل کرلینے کی جانب مائل بہ فریاد ہوتے ہیں ۔

لیکن ذرا غور کرے انسان تو فنا ان تمام رعنائیوں سے کراہت پیدا کردیتا ہے ۔

دوسری جانب بلند و بالا پہاڑ ، سرسبز وادیاں ، ٹھاٹھیں مارتا سمندر ، جاری دریا ، ندیاں ، پیڑ پودے ، وسیع ریت کے میدان ، صحرا جمالیات کی تشنگی دوبالا کردیتے ہیں ۔

اپنے خالق کے لا متناہی جمال کے تصور سے قلب و وجود کو ششدر کر دیتے ہیں اور وہ پکار اٹھتا ہے “ اللہ نور السموات والارض “ ۔

بس اس نظر کا حصول ہی زندگی ہے

 

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...