Showing posts with label Fiction. Show all posts
Showing posts with label Fiction. Show all posts

Tuesday, July 26, 2016

بندوبست

بندوبست

شہیرشجاع

آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ، جو اس کے گالوں کو چھو کر اس میں توانائی کا احساس جگارہی تھیں ۔ وہ یک ٹک آسمان کے بادلوں کو دیکھے جا رہا تھا ۔ منڈلاتی چیلوں  کو گھورتا ۔ ان کے پھیلے پروں پہ اٹکے وجود کو اڑتا دیکھ کر اس کا دل مچل سا جاتا اور چہرے پر ایک مسکراہٹ طاری ہوجاتی ۔ کبھی کوئی چیل ایک دوسرے کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرنے لگتیں تو اس کے پیلے پیلے دانت جھلکنے لگتے ۔ ناک سکڑ سی جاتی اور معصوم آنکھوں میں تارے جھلملالنے لگتے ۔
کچھ شور کی آواز سے اس کی نظریں اپنے دائیں جانب اتریں ۔ چند زرق برق لباس اور بیوٹی پارلر کے حسن میں ڈھلی  آنٹیوں کو دیکھ کر وہ ذرا ٹھٹکا ان میں ایک تقریر کر رہی تھیں ، باقی ان کا ساتھ دے رہی تھیں ، اسے کیا سمجھ آنی تھیں وہ اس جھنڈ میں اپنی بوسیدہ سے کپڑوں میں ملبوس فاقہ کش ماں کا ڈھانچہ تلاش کرنے لگا ۔ کامیابی نہ ملنے پر اس کا چہرہ ذرا ڈھل سا گیا ۔ اس کی آنکھوں کے تارے مزید گہرے سے ہوگئے ۔ اتنے میں اسے ایک ٹھکوکر لگی ۔ خوبصورت جوتوں میں ملبوس پیر اس کی گود میں تھا ۔ اور ایک وقت کے کھانے کا کچھ بندوبست ہونے لگا تھا ۔

Thursday, January 15, 2015

کشمکش




اس کے حسین چہرے کے خدو خال ۔۔۔ عجیب سی کشمکس میں مبتلا محسوس ہو رہے تھے ۔۔ سر سے بال سرک کر جب ماتھے سے ہوتے ہوئے چہرے کو ڈھانپ لیتے تو وہ سر کو یوں جھٹکتی  کے آس پاس  کی فضا میں کوئی خؤشبو سی بکھر جاتی ۔۔۔ اور پھر سے وہ چہرہ پوری آب و تاب کے ساتھ چمکنے لگتا ۔۔۔۔ لیکن کسی کونے میں چھپی وہ کشمکس مجھے بے چین کیے دیتی تھی ۔۔ ۔۔ آخر تنگ آکر میں نے اس سے پوچھ ہی لیا ۔۔۔ کوئی مسئلہ پریشانی ہو تو ۔۔۔ کیا میں کوئی مدد کر سکتا ہوں?

وہ ایک ادا سے مسکرائی ۔۔۔ اور کہا ۔۔ جی وہ میری گاڑی پنکچر ہوگئی ہے ۔۔۔ جیک گاڑی میں پڑا ہے ۔۔ ٹائر بدل دیں 
گے ؟؟؟؟؟

شہیر


Wednesday, January 14, 2015

حلق



محمد شہیر شجاع 

مجھ سے اب ہلا نہیں جا رہا ۔۔۔۔ مجھ میں طاقت  نہیں رہی ۔۔   
کل بہت سارے لوگ   بڑی بڑی گاڑیوں میں اچھے اچھے کپڑے پہن کر آئے تھے ۔۔۔  آپس میں بہت باتیں کر رہے تھے ۔۔ اور کوئی تصویریں بھی کھینچ رہا تھا ۔۔۔ ہاں بہت ساری تصویریں کھینچی گئیں ۔۔ اور جب مین نے بھی ایک تصویر میں شامل ہونے کی کوشش کی ۔۔ تو مجھے ایک زور کا دھکا پڑا تھا ۔۔ جس سے میرے گٹھنے چھل گئے تھے ۔۔ کافی دیر تک میں ٹھیک سے چل بھی نہیں پایا تھا ۔۔ 
بڑی بڑی مشینیں لائی گئی تھیں ۔۔  انہیں دیکھنے کے لیے  میں کبھی کنویں کی منڈیر پر چڑھ جاتا کبھی درخت پر چڑھ جاتا تھا ۔۔   وہ لوگ بہت دیر تک رہے تھے  ۔۔۔ بہت شور تھا گاوں میں ۔۔۔ لوگ کہہ رہے تھے ہمارے گاوں میں بجلی آئے گی ۔۔۔  لیکن مجھے تو پیاس لگی تھی ماں ۔۔۔ کتنے دن ہوئے روٹی کا ٹکڑا بھی نہیں ملا تھا ۔۔ ۔ پھر ایک ایک کر کے سب چلے گئے ۔۔ ۔۔ پانی کی تلاش  میں  میں ان کی گاڑی کے پیچھے کتنی دور تک بھاگا تھا ۔۔۔ لیکن وہ  چلے گئے ۔۔  
 ماں کہتی ہے ۔۔ یہ بہت بڑے لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔ ان کے پاس بہت پیسہ ہوتا ہے ۔۔ وہ جو چاہے خرید سکتے ہیں ۔۔ تو کیا انہوں نے ساری روٹیاں سارا پانی خرید لیا تھا  ماں ؟ جو اب ہمارے لیے نہیں بچا ۔۔ 
ماں دیکھو میرے پاس دو روپے ہیں ۔۔  یہ بہت دنوں سے چھپا کر رکھے تھے ۔۔  ان سے روٹی نہیں ملتی کیا ماں ؟ ۔۔ 

اوراس نے میرے سر پر کتنے پیار سے ہاتھ پھیرا تھا اور مسکرا دی تھی ۔۔ لیکن مجھے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔   ماں نہ جانے مجھے کہاں سے گھسیٹتی ہوئی لائی تھی ۔۔۔۔ مجھے اپنی پیٹھ پر جلن محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ 

میرا سر  ماں کے بازووں  میں بھینچا ہوا تھا ۔۔ اور وہ خود ایک طرف کو ڈھلکی پڑی تھی ۔۔  اس کے ہونٹ سفید تھے ۔۔  ماں ماں ۔۔۔ ماں ۔۔ میں نے زور زور سے اس کو آواز دینی چاہی ۔۔ لیکن میری آواز حلق میں ہی پھنس کر رہ گئی ۔۔ میں نے اپنے بازو وں کو حرکت دینے کی کوشش  کی ۔۔ وہ بھی بے سود رہی ۔۔۔ میرے ناک کان میں مکھیاں اور چیونٹیاں آنی شروع ہوگئی تھیں ۔۔  اور میری آواز حلق میں پھنسی ہوئی تھی ۔

Tuesday, December 23, 2014

میں تھر کا بیٹا ۔۔۔


میں تھر کا بیٹا ۔۔۔
سرد رات ۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی سرسراتی ہوائیں ۔۔ جو کانوں کی لو کو جما رہی تھیں ۔۔۔ ہاتھ برف ہوئےے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔ ناک اور آنکھیں ۔۔۔ اپنے وجود پر مسکرارہی تھیں ۔۔۔ جو گالوں کو اپنے ہونے کا احساس دلا نے پر مصر تھے ۔۔۔۔ گردن اکڑتی جا رہی تھی ۔۔۔ پیر منجمد تھے ۔۔۔ میرے سینے میں کچھ دھڑک سا رہا تھا ۔۔۔ اور میرا پیٹ ؟ ۔۔۔ وہ تو مجھ سے روٹھا ہوا تھا ۔۔۔ کتنے دن ہوئے ۔۔۔ وہ مجھ سے لڑ رہا تھا ۔۔۔ اور میں ٹھٹھر رہا تھا ۔۔۔ بلک رہا تھا ۔۔ لیکن چہرہ فق تھا ۔۔۔ سپاٹ تھا ۔۔۔ امی بتا رہی تھیں ۔۔۔ کہ میرے بہت سارے بھائی بہنوں کو ۔۔۔ایک اسکول میں کچھ درندوں نے شہید کرڈالا تھا ۔۔ جنہیں طالبان کہتے ہیں ۔۔ بہت برے تھے وہ لوگ ۔۔ 
آج صبح میری چھوٹی بہن نے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ۔۔ مری امی کی گود میں جان دے دی تھی ۔۔ میری ماں کتنی روئی ۔۔ لیکن اس کے چہرے پر ایک قطرہ آنسو کا نہیں تھا ۔۔۔ وہ تڑپ رہی تھی ۔۔ بلک رہی تھی ۔۔۔ میرا سر بھی اس کی گود میں رکھا ہے ۔۔۔ اس کی آہ و فغاں میرے کانوں کی لو کو گرما رہی ہے ۔۔۔ ٹھنڈ کچھ کم ہوتی محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔۔ لیکن اب وہ میری صورت پھر کبھی نہیں دیکھ سکے گی ۔۔۔ میں تو منوں مٹی تلے چلا جاوں گا ۔۔۔ کیا مجھے بھی شہادت کا رتبہ ملے گا ؟ ۔۔ شاید کچھ دنوں بعد امی بھی مجھ سے آن ملے ۔۔۔۔۔ ہم ماں بیٹے بیٹی ۔۔ دائمی دنیا میں بغلگیر ہونگے ۔۔۔ اور کہیں ذکر تک نہ ہوگا ۔۔ 
کیونکہ میری جان کسی طالبان نے نہیں لی ۔۔۔
شہیر

Tuesday, May 6, 2014

بند سگنل



محمد شہیر شجاع

ميں سوچوں ميں مگن سکون سے ڈرائيو کر رہا تھا ، آج دفتر سے جلدي چھٹي ہوگئي تھي ۔ سگنل کي بتي لال ہونے پر ميں نے بريک پر پير رکھ ديا اور اپنے دائيں جانب سڑک پر گاڑيوں کے ہجوم کو تھمتا ديکھ رہا تھا کہ ميري بائيں جانب دروازے کي کھڑکي ميں ايک حسين چہرہ ميري توجہ کا منتظر تھا ۔ ميں تو چند لمحے مبہوت اسے ديکھتا ہي رہ گيا ۔

جناب جناب اگلے تين سگنل بعد ميرا اسٹاپ ہے ، کيا آپ مجھے لفٹ دے ديں گے ? اس سريلي اواز نے مجھے سکتے سے باہر نکال کرحقیقی دنیا میں لاکھڑا کیا ۔

جی جی تشریف رکھیے میرا راستہ یہی ہے ۔ میں نے بھی وقت ضایع کیے بغیر دروازے کو کھول دیا۔

حسینہ بلا تکلف سیٹ پر براجمان ہوگئیں ، اپنے پرس سے ٹشو نکال کر ماتھے کا پسینہ پونچھنے لگیں  ۔ اور تصور میں ، میں اپنے اپ کو ٹشو کے طو رپر محسوس کرنے لگا ۔

ارے سگنل کھل گیا ہے ۔ دیکھیں  ہارن  کے شور نے جینا دو بھر کر دیا ہے ۔ حسینہ نے نسوانی انداز میں جھاڑ بھی پلا دی۔

اور میں کھسیاتا ہوا جلدی سے گاڑی سیلف میں ڈال کر آگے بڑھتا گیا  ۔

اب بھی میں نے گاڑی کی رفتار قدرے مدہم رکھی ہوئی تھی ۔ زیادہ سے زیادہ وقت اس حسینہ کے بازو میں گزارنا چاہتا تھا ، بلکہ موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی کافی شاپ میں اس وقت کی کافی لطف دوبالا کر دے۔
بہت شکریہ جناب ، آج کل لوگوں میں یہ جذبہ کہان رہ گیا ہے ؟ خدا آپ کا بھلا کرے ، آج میرا ڈرائیور کمبخت نہ جانے کہاں رہ گیا ، اس کا سیل فون بھی آف ہے ، بہت سوچ بچار کے بعد کوشش کر کے آپ کی  طرف نگاہ کی تھی ، شکر ہے آپ اچھے لوگون میں سے نکلے ، ورنہ بہت بے عزتی محسوس کرتی ۔ حسینہ نے اپنی زبان کیا کھولی اک سماں ہی بندھ گیا ، گم صم  اس کی حرکت کرتی زبان کو دیکھتا ہی چلا گیا
نہ جانے وہ کتنی دیر تک بولتی رہی اور میں دم بخود تکتا رہا ۔۔ ہوش تو تب آیا جب اس نے زور سے مجھے جھٹکا دیا کہ سگنل بند ہے ۔ اور میں نے ہڑبڑا کر ایمرجنسی بریک لگا دیے ۔ سامنے دیکھا تو سگنل کیا سڑک بھی نا پید تھی ۔ نہ جانے کب معجزاتی طور پر مین سڑک سے اتر کر کچے پر اتر آیا تھا بٖغیر کسی کو نقصان پہنچائے ۔ اب جو میں نے شرمندگی سے اس کی طرف نگاہ کی تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی اور ہنسی کے پس منظر کو میں دیکھتا ہی چلا گیا ۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...