Showing posts with label مسلمان. Show all posts
Showing posts with label مسلمان. Show all posts

Friday, June 5, 2020

آج کا آدمی

 

آج کا آدمی

 شہیر

 یہ ایک ایسا دور ہے جہاں مسلمان معاشرے کا  زوال مسلسل ہے ۔ ذہنی پسماندگی کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہمجموعی رویہ استہزائیہ ہے ۔ اور یہ رویہ عقل کلی کی غمازی کرتا ہے ۔ عقل کلی کا احساس پیدا ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہعلمی سطح کس قدر سطحی ہے ۔

مسلمان کی علمی تاریخ جس قدر بھی پہنچی غنیمت ہے بعد از تاریخ ہلاکو خان و فرڈیننڈ ۔ سوال یہ ہے کہ “میں” نے علوم کو یکجا اورمرتب کرنے میں کتنی تندہی دکھائی ؟ آج کا آدمی تو اتنا کاہل ہے کہ ایک ناول تک کا معیار نہیں پیدا کرسکا آپ ایسے آدمی کی دانشپر اپنا مضحکہ اڑاتے ہو اور تعمیر کی تدبیر سے اپنی ذات کو مبرا کرتے ہو ؟

تاریخ کے ساتھ رویہ ایسا ہے جیسے وہ اور لوگ تھے ہم نہیں تھے ۔ المیہ یہ ہے کہ تاریخ کو خلفاء راشدین کے معیار پر پرکھا جاتا ہےپھر کہا جاتا ہے کہ “ بی پریکٹیکل “ ۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ چودہ سو سالہ تاریخ میری اپنی ہے ۔ خلفاء راشدینکا آدمی بھی میں ہوں ، اموی بھی ، عباسی بھی ، عثمانی بھی ، مملوک بھی ، فاطمی بھی ، اندلس بھی ، تیمور بھی ، نادر شاہ بھی، سلاجقہ بھی اور غلاماں و بلبن بھی ، لودھی بھی مغل بھی ابدالی بھی ، سمیت ان تمام اثبات و انکار کے جو اس دوران وقوع پذیرہوئے ،اور آج کا آدمی بھی ۔ جدید دنیا کی تعبیر یقینا یورپ کی ترقی کا نام ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس جدید دنیا کی بنیادیاینٹوں میں “ میں “ شامل نہیں ہوں ۔ علم جہاں سے ملے وہاں سے حاصل کرو کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے بعد اسمیں انفرادیت پیدا کرنا ۔ جب “ میرا “ عروج تھا تو “ میں “ نے اہل یونان و اہل ہند و چین جہاں سے علم ملا حاصل کیا اور اپنیانفرادیت قائم کی ۔ جب تک میرا عروج رہا میرے نام کا ڈنکا بجتا رہا ۔ یورپ نے مجھ سے سیکھنے میں شرم نہیں کی اور اپنے عروج کےساتھ اپنی انفرادیت قائم کی ۔ یہ ان کا دور ہے اسے  قبول کرنا چاہیے اور اس میں مہارت کی سعی اور مجاہدہ کرنا چاہیے ۔ دنیاقوموں کے عروج و زوال کی تاریخ ہے ۔ المیہ مسلمان کا یہ ہے کہ وہ بنا منزل کے گھوڑے دوڑانے پر مصر ہے ۔ جس کے پاس آج اپنے آپکو ہی دکھانے کو کوئی تہذیب نہیں کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو نیا آدمی تصور کرتا ہے ۔” آئینے میں اپنی شبیہ نظر آئے تو شرمندگیہوتی ہے یا جوش پیدا ہوتا ہے اور اس کا ثمر عبرت یا ولولہ ہے “ ۔جب آئینے کی جگہ سنیما ہو تو کیا کہا جا سکتا ہے ؟ مرعوب ذہن کےساتھ اپنے آپ کو اس ہزار سالہ آدمی سے الگ تصور کرنا بذات خود آدمی کی موت ہے اور آدمی کی موت تہذیب کی موت ہے ۔ ہر دورمیں نیا آدمی نہیں پیدا ہوتا بلکہ وہی آدمی حالت ترقی یا حالت کسمپرسی میں ہوتا ہے بقیہ اس کے احوال ہیں ۔

 

Monday, April 10, 2017

ہدایت کی دعا

ہدایت کی دعا 
شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔
اس کا کیا قصور تھا ؟ چہرے پر سنت رسول سجائے ، پانچ وقت رب کے دربار میں حاضری دینا ؟ چھٹیوں میں سر پر عمامہ باندھے امیر صاحب کی راہنمائی میں تبلیغ میں وقت لگانا ۔ کسی مدرسے کا بھی طالبعلم نہیں تھا ۔ اس نے تو ابھی کالج میں قدم ہی رکھا تھا ۔ نہ جانے کتنے خواب اس نے اور اس کے والدین نے سجا رکھے تھے ۔ آج وہ چالیس دن اللہ کی راہ میں لگا کر واپس گھر پہنچاتھا ۔ ماں نے کتنی چاہ سے اس کے پسندیدہ کھانے بنائے تھے ۔ باپ اسے دیکھ دیکھ کر عین و قلب روشن کر رہا تھا کہ ۔۔۔ چند وردی پوش آئے اور آنا فانا اسے اٹھا لے گئے ۔ چار آنکھیں پتھرا کر رہ گئیں ۔ در در کی خاک چھانی گئی ۔ مگر سب بے سود ۔ پورے تین ماہ بعد اس کہانی کا انجام اس دردناک و دلدوز خبر کے ساتھ انجام کو پہنچا کہ پولیس مقابلے میں چند دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ۔ جس میں ان کا لعل بھی تھا ۔ کسی نے اس باپ کے کان میں اس بچے کے قاتلوں کے لیے بدعائیں کی ۔ جس کا وہ اکلوتا بیٹا تھا ۔ اس نے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا اور کہا ۔ بیٹا اللہ کی امانت تھا اللہ نے واپس لے لیا ۔ بد دعاوں سے میرا بیٹا واپس نہیں آئے گا ۔ بس ان لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا کرو ۔

Saturday, October 25, 2014

محرم





محرم کی پہلی تاریخ ہے ۔۔۔۔ اس تاریخ کے عقب میں ایک طویل تاریخ ہے ۔۔۔ پھر اس ماہ حرام کی ایک تاریخ ہے ۔۔۔۔ لیکن ہمیں تاریخ سے کیا غرض ؟ ہمیں علم سے کیا غرض ؟  عبرت سے کیا غرض ؟ ۔۔سیکھ سے کیا غرض ؟ ۔۔۔
ہمیں تو ان اعمال و افعال سے غرض ہے ۔۔ جس میں شورش ہے ۔۔۔  دغا و فریب ہے ۔۔۔  ضد اخوت ہے ۔۔۔  مبالغہ ہے ۔۔۔ بغض ہے ۔۔۔۔ عناد ہے ۔۔۔۔ تفرقہ ہے ۔۔۔  ریا ہے ۔۔۔
غرض یہ کہ ۔۔۔۔ ہم تو مثبت نظریے سے اس طرح ناآشنا ہوچکے ہیں ۔۔ جیسے ہمارے سروں پر حقیقی سینگ اگ چکے ہوں ۔۔ اور ہم ان سینگوں کی نمائش پر بہ اہتمام  مصر ہوں ؟ ۔۔۔۔  ہم باشعور کہلانے پر بضد  ایک ایسی قوم ہیں جس نے بلندی سے پستی کی جانب انتہائی تیزی سے سفر کیا اور گرتی ہی چلی گئی ۔۔ لیکن سنبھلنے کو تیار ہی نہیں ۔۔  ۔لیکن بضد ہیں ۔۔۔۔ کچھ مرعوب  زمانہ ہیں ۔۔۔۔  اور اس رعب میں اپنا آپ بھول چکے ہیں ۔۔۔۔ علم میں حسد درست ہے ۔۔ ۔۔ لیکن عالم سے حسد کا تصور علم سے دور ہی کرتا ہے ۔۔۔الفاظ و معانی ۔۔۔ کلام و اعمال میں تضاد ایک عام سی بات ہے ۔۔۔۔۔۔ ۔ اور جنہیں دعوی ہے اس حصار سے نکلنے کا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی بنیادیں کھو چکے ہیں ۔۔۔
دیکھنا یہ ہے کہ ۔۔۔ اس  تیز بہت تیز دور میں جہاں سمت کا تعین کرنا ہی سب سے دشوار ترین مرحلہ ہے ۔۔ کون اپنے مقاصد طے کرتا ہے ۔۔۔۔ اور اپنی سمت کا تعین کر پاتا ہے ۔۔۔   

Monday, June 23, 2014

دانشوران ملت



دانشوران ملت

شہیر شجاع

بنت حوا کی لاش نیم برہنہ حالت میں زمین پر آڑھی ترچھی پڑی تھی ۔۔۔ اس کا جسم اس کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر چیخ چیخ کر پکار رہا تھا ۔۔۔   لوگ چہ مگوئیاں کر رہے تھے ۔۔ ایک بولا ۔ اللہ غارت کرے ظالموں کو ۔۔ حکمرانوں کو۔۔

ایک اور آواز ابھری ۔ ۔۔یہ ہمارے ملک کو کیا ہوگیا ہے ۔۔ ہم اس قدر پستی کی جانب گرتے چلے جا رہے ہیں  ۔۔

 جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔ اتنے میں ۔ ایک صحافی ابن آدم آگے بڑھا۔۔


 اپنی نیم برہنہ لٹی پھٹی بہن کی لاش  کی تصویر کھینچی ۔۔ اور کہا کہ میں ساری دنیا کو دکھاونگا کہ ہمارے ملک میں یہ کیا ہورہا ہے ۔۔ تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کروائی ہو اور ایسے واقعات کی روک تھام ہو۔۔

ادیب اگے بڑھا ۔۔ اس نے کہا ۔۔ میں اس واقعے کو ایک ایک آدمی تک پہنچاوں گا ۔۔ تاکہ لوگوں کو آگاہی ہو  ۔۔


سیاست دان آگے بڑھا ۔۔ اس نے کہا ۔۔ ہم احتجاج کریں گے ۔ یہاں تک کہ انصاف ملے۔۔

بنت حوا کی ماں ایک طرف بیٹھی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔۔ آس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ وہ آگے بڑھی ۔۔  پولیس نے روکنے کی کوشش کی کہ لاش  کی ابتدائی تحقیقات ہونے تک آپ لاش کو نہیں چھو سکتیں  ۔۔۔


ارے کمبخت وہ میری بیٹی ہے ۔ لاش نہیں ۔۔  مجھے کوئی انصاف نہیں چاہیے ۔۔۔  وہ رو رہی تھی ۔۔چیخ رہی تھی۔۔

اپنے سر سے چادر اتاری ۔۔ اور پولیس والے کی طرف پھینک کر چلائی کہ کم از کم میری بیٹی کو اس سے ڈھانپ دو ۔۔   اور غش کھا کر گر پڑی  ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...