Showing posts with label MQM. Show all posts
Showing posts with label MQM. Show all posts

Saturday, January 27, 2018

کراچی ، چند سسکتی یادیں اور امید ۔

کراچی ، چند سسکتی یادیں اور امید ۔
شہیر شجاع
کسی نے  ایک جملہ کہا " مکا تو پولائٹ سا لفظ ہوگا آپ کراچی کے  لوگوں کے لیے " یقینا یہ اذراہ مذاق تھا ۔۔۔ لیکن چشم تصور میں ماضی کی بہت سی یادیں تازہ کرگیا ۔  میں نے اس وقت  ہوش سنبھالا جب کراچی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجا کرتا اور یہ عام بات ہوتی گئی ۔ سڑک اچانک سنسان ہوجاتی اور دو گروہوں کے مابین خونخوار مقابلہ شروع ہوجاتا ۔ چند  لاشیں وہاں گرتیں چند یہاں ۔ ہم رات کو سوتے تو اچانک ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سے آنکھ کھل جاتی ۔ پھر گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونجتی اور چند ہی لمحوں میں سناٹا چھا جاتا ۔ اور پھر ہماری آنکھ لگ جاتی ۔ یہ بے حسی کی جانب ابتداء تھی ۔ ہم صبح سو کر اٹھتے اسکول یونیفارم میں باہر نکلتے تو  سڑک پر لاش پڑی ہوتی جس کے ہاتھ بندھے ہوتے اور سینہ چھلنی ہوتا ۔ ہم اس لاش کو یوں دیکھتے جیسے کوئی بلی مری ہو ۔ پولیس  ایمبولینس اور تماشایوں کا ہجوم ہوتا اور ہم اسکول کی راہ لیتے ۔ گولیوں کا چلنا ، لاشوں کا گرنا ، شیعہ سنی ، ایم کیو ایم ، ایم کیو ایم حقیقی ، ہتھوڑا گروپ ، اور نہ جانے کیا کیا ۔ یوں ہمارا بچپن گزرتا گیا ۔ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھنے سے پہلے ہی سینہ پتھر ہوتا گیا ۔ بھتہ خوری عام تھی  ۔ کاروبار شروع کرنا ، گھر بنانا ، آرائش ، شادی بیاہ ، غرض ہلکی سی چمک آپ کی  دہلیز پر دہشت گردوں کو کھڑا کرنے کے لیے کافی تھی ۔ تعلیمی اداروں پر بھی انہی چیزوں کا راج تھا ۔ ہم پانچویں جماعت میں تھے کہ آٹھویں کا لڑکا اور نویں جماعت کے لڑکے کے مابین جھگڑے کی وجہ یہی پارٹیاں تھی ، خون دیکھ کر اسکول کے ان نازک اندام بچوں پر کوئی خوف طاری نہ ہوا ۔ انہی دنوں ایک نوجوان ہمارے پڑوس میں قتل کردیا گیا ۔ کسی کو افسوس نہ ہوا ۔ خون یوں تھا جیسے پانی ۔ آج کراچی میں خون کی بہتی ندیوں کو بھلے قرار آیا ہے ۔ مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر نادرا کی دہلیز تک کراچی کے لوگ آج بھی بے بس ہیں ۔ بھتہ خوری آج بھی اسی ڈگر پر موجود ہے ۔ آپ کاروبار بنا کسی کو بھتہ دیے نہیں چلا سکتے ۔  
کیا کراچی کو کبھی بھی اپنانے والے سیاستدان پیدا نہیں ہونگے ؟
تھانے بھتے جمع کرنے کے ادارے بن چکے ہیں ۔
پولیس بھتہ خور ہے اور بھتہ لینےوالوں کی محافظ ہے ۔
عدل کے اداروں کی صورتحال سے کون ناواقف ہوگا ۔
کیا کراچی پھر کبھی علم و فن ، تہذیب و تمدن کا  چمکتا ستارہ نہیں بن سکے گا ؟
وہ جو " علم " تہذہب " و ثقافت " اس کی شان تھی ۔ کیا وہ پھر حاصل نہ کرسکے گا ؟
   

Sunday, August 28, 2016

ایم کیو ایم ایک غیر منظم جماعت

ایم کیو ایم ایک غیر منظم جماعت
شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملکی سطح کی سیاست ہو یا محض لسانی سیاست ۔ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ فی الوقت جتنی بھی جماعتیں اقتدار میں ہیں وہ کوئی نہ کوئی لسانی عصبیت رکھتی ہیں سوائے  تحریک انصآف اور جماعت اسلامی کے ۔  میری اس رائے پر اعتراض کیا جاسکتا ہے پر فی الحال ہمارا موضوع   ایم کیو ایم اور اس کی سیاسی حرکیات یاتنظیم پر نظر ڈالنا ہے ۔  کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی سب سے منظم جماعت ہے ۔  اس تاثر کی دو بڑی وجوہات ہیں ۔ اول ان کے راہنما اپنی پارٹی کے مخلص ہیں اور پارٹی کے آئین پر آخری سانس تک چلنے والے محسوس ہوتے ہیں ۔ دوم : ایک اعلان ہوتا ہے اور کراچی سارا سمندر بن کر امڈ آتا ہے  ۔ 
کیا کبھی غور کیا گیا کہ واقعی یہ دونوں باتیں کسی بھی جماعت کو منظم کہلانے  پر دال ہیں ؟ مزید بھی ہو سکتی ہیں مگر عموما ً یہی دو عنصر ہیں جو  ذہن پر اثر انداز ہوتے نظر آتے ہیں ۔  میں سمجھتا ہوں ۔ پاکستان کی سب سے زیادہ غیر منظم جماعت ایم کیو ایم ہے ۔   کیونکہ ایم کیو ایم  کا تنظیم ساز ادارہ لندن میں بیٹھا ہے ۔ وہی ساری حرکیات پر نظر رکھتا ہے اور احکامات جاری کرتا ہے ۔ اُس ادارے  کے تابع  ایک لایعنی سا ادارہ پاکستان رابطہ کمیٹی کے نام سے قائم ہے ۔ جس کے سرکردہ راہنماوں کو کبھی ساری عوام کے سامنے مرغا بنا دیا جاتا ہے ۔ کبھی تھپڑ رسید کروائے جاتے ہیں اس طرح ان کے ذہنوں میں یہ خیال راسخ کروایا جاتا ہے کہ تم ہمارے تابع ہو اور ہمیشہ رہو گے ۔ کبھی سر اٹھانے کی کوشش نہ کرنا ۔  سو پاکستان کا یہ متابع ِلندن ادارہ   اکثر بہت سے ایسے احکامات سے بھی لاعلم رہتا ہے، جو وہاں سے  کسی بھی کارکن یا کارکنوں کے گروپ کو دیے جاتے ہیں ۔ یہ وہ گروپس ہیں جنہیں لندن والے نائن زیرو کو زیر رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ اور اگر کوئی بہت بڑی واردات انجام دینی ہو تو جنوبی افریقہ ، دبئی ، بنکاک و دیگر ممالک میں لندن کمیٹی کے تابع فرمانبرداروں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ جو وہاں سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اپنا کام انجام دیتے ہیں اور رفو چکر ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بعد نائن زیرو کو علم ہوتا ہے کہ ارے یہ تو ایم کیو ایم کے نام پر کام ہوگیا ۔ اور پھر  عجیب کیفیت کے زیر اثر نائن زیرو اس  امر پر مجبور ہوتا ہے کہ اس دھبے کو دھوئے  کہ اس کے چھینٹے انہی کو ناپاک کر رہے ہوتے ہیں ۔  یقینا بہت سے امور باہمی  مشاورت سے بھی انجام پاتے ہونگے ۔
اس ساری غیر یقیینی صورتحال میں رابطہ کمیٹی پاکستان یا نائن زیرو  کس طرح سے اپنی سیاسی حرکیات کو تنظیمی طور پر   درپیش امور پر زیر استعمال لائے ۔ ؟  یہ یقینا نہایت ہی مشکل و کٹھن عمل ہے جو اب تک پاکستان رابطہ کمیٹی انجام دیتی آرہی ہے ۔  نتیجتاً بہت سے عناصر اپنے ذاتی فوائد اکھٹے کرنے کے لیے ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم کو نہایت ہی محفوظ مقام سمجھ کر اس میں شامل ہوتے رہے ۔ خواہ وہ کارکن کی صورت میں ہو  ، خواہ وہ لیڈر کی صورت میں ۔ اوپر سے نیچے تک ایسے لوگ ایم کیو ایم میں  موجود ہیں جن کو مہاجر تحریک یا الطاف حسین سے کوئی غرض نہیں وہ میدان میں آکر الطاف بھائی کا نعرہ لگاتے ہیں اور زیر زمین اپنے  ذاتی امور کی انجام دہی میں مشغول رہتے ہیں ۔ کارکن سطح پر  ایک مثال دوں گا ۔ کہ شیعہ سنی لڑائی کا ایک محفوظ پلیٹ فارم ایم کیو ایم ہے ۔ جس میں ایم کیو ایم کے مختلف لیڈرز بھی شامل ہیں ۔ ایم کیو ایم کے یونٹس و سیکٹرز کو بھی تب اس بات کا علم ہوتا ہے جب ایسے کارکن پولیس کی گرفت میں آجاتے ہیں اور پھر باقاعدہ انکشاف ہوتا ہے یہ تو لشکر جھنگوی کے لیے کام کر رہا تھا اور فلاں تو سپاہ محمد کا کارکن تھا ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اسی طرح مالی فوائد سیمٹنے والے بہت سے عناصر کراچی  کے بدنام زمانہ علاقوں لانڈھی کورنگی ، ملیر ، کے علاقوں سے نکل کر اب کلفٹن و ڈیفینس میں کروڑوں کی پراپرٹیز کے مالک ہیں ۔  کیسی تنظیم ہے ؟ کیسا منظم سیاسی ادارہ ہے ؟ جس کے راہنما آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کر سکتے ۔ محض ایک خوف کی سی  کیفیت  ہے اور چلتے چلے جا رہے ہیں ۔
یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ایم کیو ایم کوئی بہت ہی منظم ادارہ ہے بلکہ یہ خو ف کا مجموعہ ہے خواہ وہ اپنے  کارکنان و ذمہ داران کے لیے ہو یا جہاں اس کا سایہ پڑ جائے ۔۔۔ اس کے باوجود   کراچی کی مہاجر عصبیت مجبور ہے ۔ بھٹو کے کوٹہ سسٹم  کے بعد مہاجروں کے پاس کوئی ایسا دروازہ نہیں جہاں وہ اپنا مقدمہ پیش کرسکیں ۔ ان کی آواز صرف ایم کیو ایم ہی بنتی محسوس ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کا مینڈیٹ اب تک کوئی اور حاصل نہ کرسکا ۔  جماعت اسلامی نے خوب ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا مگر مہاجر کے سامنے جمعیت سے نفرت کے اسباب موجود ہیں جس نے کبھی بھی مہاجروں کے دل ان کی جانب مائل نہیں  ہونے دیے۔ ایک عرصے کے بعد عمران خان  نے کراچی کا رخ کیا تو کراچی  نے ایک نئی سانس لی جس کی گرماہٹ پورے پاکستان نے محسوس کی ۔ مگر افسوس تحریک انصاف بھی کراچی کو  اپنا نا بنا سکی ۔ اور ایک مرتبہ پھر مینڈیٹ ایم کیو ایم کے پاس محفوظ رہا ۔
اس سرسری خاکے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر غیب سے ریاست کی مدد ہوئی ہے ۔ اور خود ایم کیو ایم  اپنی روش تبدیل کرنے کی جانب اور اپنی سیاست کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی جانب قدم بڑھانے پر مائل نظر آتی ہے  ۔مگر  ہر طرف وہی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ یہ وقت، ریاست کے  اعصاب کا امتحان ہے کہ وہ اس موقع کو ضایع نہ کرے اور اسی ایم کیو ایم کے لوگوں کو سپورٹ کرے جنہوں نے ایک تبدیلی کی جانب اپنا پہلا قدم بڑھایا ہے ۔ یہ قدم مزید مضبوط ہو سکتا ہے ۔ اگر ان کی پیٹھ تھپتھپائی جائے ۔ انہیں سیکیورٹی کا احساس دلایا جائے ۔ انہیں ریاست اپنی آغوش میں لے لیے ۔  بصورت دیگر لندن والے ہاتھ دراز ہونے کے امکان ہیں ۔ انہیں کمزور کرنے کے لیے انہیں مضبوط کرنا ہوگا ۔ اگر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنی اسی روش کے ذریعے ایم کیو ایم کو ختم کردے گی تو یہ ایک سراب ہے ۔  پی ایس پی  عوام کی نظر میں ایک ہائیڈ آوٹ محسوس ہورہی ہے ۔ جس نے بھی جان بچانی ہو اس میں داخل ہوجائے ۔  ایسے منظر ناموں کے بعد کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟
مینڈیٹ والی جماعت کو ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ بہت سے بھڑکتے لاووں کو الاو دینے کے مترادف ہوگا ۔ اس کا یہی حل ہے کہ مثبت راستہ اپنایا جایے ۔ اگر یہ لوگ واقعتا سچے ہوئے تو آگے جا کر لندن سے مکمل طور پر اپنے آپ کو علیحدہ کر لینگے ۔ فی الحال ان کے لیے ایسا ممکن نہیں ہے ۔ کیونکہ ریاست انہین تحفظ کا احساس دلانے میں ناکام ہے ۔  بصورت دیگر  سچ و جھوٹ واضح ہوجائے گا ۔ اور یہ اپنی موت آپ ہی مرجائیں گے ۔ یہ ویسا ہی احساس ہے جو ہم میں جاگ رہا ہے ۔ ہم اب کراچی کو صحت مند سیاسی جماعتوں  کے میدان کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔

Tuesday, August 23, 2016

مسئلہ ایم کیو ایم

مسئلہ ایم کیو ایم

شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. 

ملک میں مجھ کو ذلِیل و خوار رہنے دیجئے 
آپ اپنی عزّتِ دربار رہنے دیجئے 

اکبر 

ہمارا مسئلہ یہ ہے ہمماضی میں اپنے کو قید کرلیتے ہیں ۔ آگے نہیں بڑھنا چاہتے ۔ ایم کیو ایم نے جس وقت اپنی آواز بلند کی اس وقت یقینا ً ایک ایسی آواز کی شدید ضرورت تھی ۔ جسے پذیرائی بھی ملی اور نوجوان بچے بڑے بوڑھوں نے جوق در جوق اس آواز پر لبیک کہا ۔ الطاف حسین صاحب کو اپنا راہنما تسلیم ہی نہیں دل و جان سے عزیز بنایا ۔ ان کی ایک آواز اٹھتی اور مرد و خواتین ، غرض ہر طبقے کے مہاجر گھر سے نکل آتے ۔ بلکہ آج بھی ایک اچھی خاصی تعداد ان کو اپنا راہنما کم پیر مانتی ہے ۔ لیکن الطاف حسین نے اس ملک کے سب سے زیادہ مہذب و تعلیم یافتہ طبقے کو کیا دیا ؟ 
زوال اور صرف زوال ۔۔
جو کہ مسلسل جاری ہے ۔۔۔ اسی کی دھائی میں ان کے تعصبانہ نعرے قابل قبول اور حقیقت بر مبنی تھے ۔ مگر اب دو ہزار سولہ ہے ۔ اور حضرت بیس سال سے بھی زائد عرصہ ہوا پاکستان سے باہر ہیں اس دوران زمینی حقائق بہت زیادہ تبدیل ہوئے ہیں جس کا حضرت کو ادراک شاید بالکل نہیں ، اور اس کا اظہار وہ وقتا فوقتا اپنی تقاریر میں کرتے رہتے ہیں ۔ راہنما اپنی قوم کو تہذیب دیتا ہے مگر یہاں تو انہوں نے تہذیب کو ہی الوداع کہہ دیا اور اپنے چاہنے والوں کو ایک ایسے سراب میں ڈالے رکھا جہاں سراب کے سوا کچھ نہیں ۔ بہترین اذہان ان کے مصاحبین میں شامل ہیں ان کی تنظیم کو خوش اسلوبی سے منظم رکھے ہوئے ہیں جن میں اکثر کا کردار خصوصا کراچی کی سیاست میں اچھے حروف میں یاد کیا جانے کے قابل ہے ۔ مگر الطاف حسین صاحب کی بصیرت اب تک اسی کی دھائی میں قید تنہائی کی زندگی گزار رہی ہے ۔ جس کا خمیازہ مہاجروں کے سپوت بھگت رہے ہیں ۔ انہیں وطن دشمن عناصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ ان کی " پیشوائی " کے اب تک قائم رہنے میں صرف ان کے جان نثار کارکنوں کا ہی ہاتھ ہے جو ہمہ وقت ان کے ایک اشارے پر جان لینے اور جان دینے پر تیار رہے ۔ اور رہتے ہیں ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ تین دھائیاں گزرنے کے باوجود ارتقائی منازل نہ طے کرسکے ؟ اور اپنی قوم کو مسلسل آگ و خون ، نفرت و بے چارگی کی دلدل میں دھنساتے رہے ۔ یہاں تک کہ ایک پوری نسل کو برباد کر کے چھوڑا ۔ 
اس جماعت کے کارکن نہ جیالے ہیں نہ شیر نہ ٹائیگرز ۔۔۔ یہ باشعور اور بہت زیادہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔اس کے ثبوت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ الطاف حسین صاحب کی اس قدر ہٹ دھرمیوں ، غلطیوں ، کوتاہیوں کے باوجود اس تنظیم کو منظم رکھنا اور عوام کے ساتھ مکمل رابطے میں رہنا ، خدمت میں بھی کسی سے کم نہ ہونا ۔ 
میں منفی پہلووں کی بات نہیں کروں گا کیونکہ جو منفی پہلو مثلا دہشت گردی ، جس زمرے میں خون ریزی و بھتہ خوری کو لے لیں ۔۔۔ یہ دہشت گردی ہر جماعت میں موجود ہے ۔ ن لیگ کی پولیس گردی ، اور گلو بٹیں تو سامنے ہیں ۔ اور بھتے کی جگہ یہ سرمایہ داروں سے فنڈز لیکر ہم پر ٹیکس کی صورت میں بھتہ لے رہے ہیں ۔۔ پیپلز پارٹی کی کراچی میں امن کمیٹی زائد ہے ۔۔ اے این پی ، سے لیکر جماعت اسلامی کی شباب ملی ۔۔ کونسی جماعت ہے جس کو دہشت گردی کی صف سے باہر رکھا جا سکے ؟ ایم کیو ایم کا مسئلہ الطاف حسین صاحب کا طرز سیاست ہے ۔ ایم کیو ایم کے ان تمام کارکنوں ، عہدیداروں کو چاہیے لندن رابطہ کمیٹی سے برات کا اظہار کریں اور ملک میں اپنی تنظیم کو از سر نو تشکیل دیں ۔۔۔ اس جماعت پر اگر پابندی لگتی کے تو کم از کم کراچی کی سیاست کو بہت نقصان پہنچے گا ۔ ایجنسیوں کی کٹھ پتلیاں ، پاک سرزمین پارٹی و ایم کیو ایم حقیقی آپس میں خون ریزی شروع کردیں گی ۔ حقیقی نے تو ویسے ہے اپنے علاقوں کا سکون خراب کررکھا ہے ۔ کراچی کا باشندہ ہونے کے ناطے اس وقت کراچی کو دو جماعتیں اون کرتی ہیں ، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم اور ان دونوں جماعتوں کا حقیقی سیاست میں ہونا اہم ہ ۔ بشرطیکہ ایم کیوایم کی تشکیل نو ہو اور وہ ماضی کی سیاست سے باہر نکلیں ۔

Saturday, March 12, 2016

مصطفی کمال کی آمد

مصطفی کمال کی آمد 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران خان نے پنجاب میں اپنے پنجے گاڑنے کی سر توڑ کوشش کی ۔۔۔۔ اسٹریٹیجی ان کی " میاں صاحب" کی ذات کو نشانہ بنانا رہی ۔۔۔۔ جس بنا پر وہ ہنجے کیا جماتے ۔۔۔ مزید نفرتوں کو پروان چڑھا گئے ۔۔۔
اور اب اسی اسٹریٹیجی کے ساتھ " مصطفی کمال " صاحب میدان میں آئے ہیں ۔۔۔ دعوی یہ ہے کہ ۔۔۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں کی انکھیں کھولیں گے ۔۔۔
سیاسی اسٹریٹیجی کے بنانے میں سب سے اہم ۔۔۔ سماج کا مطالعہ ہے ۔۔۔۔ جو کہ ہمارے کسی سیاستدان میں نظر نہیں آتا ۔۔۔
اگر اسی طرح ایک " معتقد " سماج میں ۔۔۔ اپنے مخالف کی ذات کو ٹارگٹ کرکے کامیابی کے خواب دیکھنے ہیں تو ۔۔۔ انہیں پہلے سے پیشتر واپس چلے جانا چاہیے ۔۔۔۔ کیونکہ اس طرح سے تفریق در تفریق تو جنم لے سکتی ہے ۔۔۔۔ مگر تعمیر نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔
مزید یہ کہ ۔۔۔۔ وسیم آٖتاب صاحب نے جو پریس کانفرنس کی ۔۔۔ اگر وہی اس نئی جماعت کا بیانیہ ہو جائے تو ۔۔۔ پاکستان کو بہترین راہنما میسر آسکتے ہیں خصوصا ۔۔۔ اردو بولنےوالوں کو ۔۔ 

Thursday, June 25, 2015

مہاجر ۔۔۔ ایم کیو ایم پر انحصار کرنے پر مجبور کیوں ؟



مہاجر ۔۔۔ ایم کیو ایم  پر انحصار کرنے پر مجبور کیوں ؟
 شہیر شجاع

مہاجر قومی موومنٹ بعد از متحدہ قومی موومنٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تحریک کی صورت میں سامنے آئی ۔۔ اسوقت ان کا مقصد اور وجہ تحریک بجا تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے دوسرے خطوں میں تو مہاجریں اپنی زبان کے لحاظ سے سیٹ ہوگئے ۔۔۔ لیکن کراچی میں اردو بولنے والے زیر عتاب آگئے ۔۔۔ یہاں تک کے ۔۔ بھٹو کے تاریخی الفاظ ہیں ۔۔ کہ اس نے کہا تھا کہ مہاجرو ۔۔ تم سمندر برد ہوجاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے طرح ان کے ساتھ ظلم و نا انصآفیاں ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہر حال اس کے بعد الطاف حسین کی قیادت میں ۔۔۔ انہیں ۔۔ ضاء الحق نے اسٹیک دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے ۔۔ متوسط طبقے کے لوگوں کو نمائندگی دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہان تک کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج بھی ۔۔۔۔۔ یہ پارٹی سب سے منظم پارٹی ہے ۔۔۔ اس کی مثال ۔۔ مصطفی کمال کی قیادت میں ۔۔۔۔ کراچی کی ڈیویلپمنٹ دیکھی جا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
بہر حال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہاجر کا نعرہ ایک وقت تک ٹھیک تھا ۔۔۔۔ اس کے بعد ان کو ۔۔ کراچی سے نکل کر ۔۔ پاکستان کی جماعت کے طور پر اپنے آپ کو منوانا چاہیے تھا ۔۔۔۔ جس کی ابتداء ۔۔۔۔ نام بدل کر ۔۔ متحدہ کرنا ۔۔۔ ایک مثال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔ یہ ہمارا قومی وطیرہ ہے ۔۔۔ کہ ہم ۔۔۔ بادشاہت کی طرف فورا مائل ہوجاتے ہیں ۔۔ فی الوقت الطاف حسین کے ساتھ بھی یہی مسءلہ ہے ۔۔۔ اس نے اپنے علاوہ کسی کو قبول نہ کیا ۔۔۔۔ خیر آگے بڑھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ المیہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ پاکستان میں ۔۔۔ پاکستان کی سیاست کسی نے نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریک انصآف واحد جماعت کے طور پر نظر آئی جس نے پاکستان کی سیاست کی ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسے لوگ اس جماعت سے امید باندھے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جو یہ طبقاتی سیاست ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس عنصر کو ہوا دیتی ہے ۔۔۔۔۔ جس بنا پر ۔۔۔ مہاجر نعرہ بیٹھتے بیٹھتے ایک مرتبی پھر سر اٹھا لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ میری آپ بیتی ہے ۔۔۔۔۔۔ جب سے نون لیگی حکومت آئی ہے ۔۔۔ مہاجروں کے لیے ۔۔۔ کتنی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔۔۔ یہ وہ بخوبی جانتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ سسٹم ہے ۔۔ جو تعصب کی راہ ہموار کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور الطاف حسین جیسے لوگوں کے پاس ۔۔۔۔۔ سیاست میں جگہ بنائے رکھنے کا بہانہ رہتا ہے ۔۔

Thursday, April 30, 2015

متحدہ قومی موومنٹ



متحدہ قومی موومنٹ
۔۔۔۔۔
شہیر شجاع۔۔۔

پاکستان تو نظریاتی تناظر میں وجود میں آیا ۔۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ۔۔۔۔۔۔ غیر نظریاتی ہاتھوں میں اس کی پرورش ہونے لگی ۔۔۔  جس نے نہایت ہی آہستہ
آہستہ ۔۔ اپنے قدم جمائے ۔۔ اور انسانوں کو مختلف نظریاتی وجود مہیا کر دیا ۔۔۔  جن کا سہا را لیکر ۔۔ بہت ساری تنظیموں  نے اس معاشرے میں  سر ابھارا ۔۔۔۔ ان میں ایک
مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے بھی ایک تنظیم ہے ۔۔
بلاشبہ یہ لوگ اس سرزمین سے محبت کرنے والے لوگ  تھے ۔۔۔ ہجرت کر کے آئے تھے ۔۔ اپنا گھر بار ۔۔ مال اسباب سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے تھے ۔۔ ویسے تو پورے
پاکستان میں ہی ہند سے ہجرت کر کے مسلمانوں نے ۔۔  پاکستان کا رخ کیا ۔۔ لیکن ان کا قصور یہ تھا کہ یہ اردو بولتے تھے ۔۔۔ جس بنا پر یہ مہاجر کہلائے ۔۔ بقیہ لوگوں کو ۔۔ ان
کی زبان کی مناسبت سے اپنی شناخت میسر آگئی ۔۔۔
لہذا ۔۔۔ یہ مہاجر ۔۔ بالواسطہ اجنبی ٹہرے ۔۔۔ یہاں ویسے ہی نظریہ اپنا وجود کھو چکا تھا ۔۔ سو ان کے حقوق پامال ہونے لگے ۔۔ انہیں ۔۔ دھتکارا جانے لگا ۔۔  مختصر یہ کہ
۔۔۔ آخر کار ۔۔ انہوں نے اپنے وجود کی بقا کے لیے ہتھیار اٹھا لینے میں عافیت جانی کے وہی آخری راستہ بچ رہا تھا ۔۔
گر وہ یہ نہ کرتے تو شاید آج کی صورتحال کچھ اور ہوتی ۔۔۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ۔۔ اپنی روش اور اپنے کردار پر انہیں کام کرنا چاہیے تھا ۔۔۔ نہ کہ ۔۔ اسی ڈگر پر چلتے
رہتے ۔۔ اور جس کی جو مرضی آئی رگڑ دیتا ۔۔۔ ورنہ تقریبا تمام ہی سیاسی پارٹیز کے پاس عسکری ونگز موجود ہیں ۔۔۔
مختصر سی تمہید باندھنے کا مقصد ۔۔۔۔  جو ایک نیا ڈرامہ شروع ہوا ہے ۔۔ اس  پر  کچھ تاثرات بیان کرنے تھے ۔۔۔  بیشک ہم سب ہی جانتے ہیں ۔۔ پاکستان میں   سب سے بڑا
" کرپٹ " سے سے زیادہ " باعزت" ۔۔۔ اور سب سے بڑا " مجرم " سب سے زیادہ محترم ۔۔۔
تو کیا سارا زور صرف کراچی میں اپنا وجود رکھتی ۔۔ متحدہ پر ہی صرف کرنا ۔۔ دانشمندی کہلائے گی ؟
کہیں متحدہ نے اپنے آپ کو ۔۔۔ ان سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں ۔۔ کھلونا تو نہیں بنا رکھا ؟
جب کسی سیاسی تنظیم  کے برے حالات چل رہے ہوں ۔۔ متحدہ کے خلاف آپریشن کر دو ۔۔۔ اور اپنی ساکھ بحال کر لو ۔۔
اس سے نقصان کس کا ہوا؟ ہم عوام کا ۔۔۔
۔ کیوں ؟ ۔۔ متحدہ دودھ کی دھلی ہے ؟ ۔۔ کیا اس کے جرائم سے ہم آشنا نہیں ہیں ؟ ۔۔ بیشک آشنا ہیں ۔۔ اور سب جانتے بھی ہیں ۔۔
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی کوشش کی ۔۔۔ کراچی  کے لوگ متحدہ کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں ۔۔۔ ؟
 اور ان کا مسلسل ان پر اعتماد کرنا ۔۔۔ ان کی اپنی روش میں بھی
تبدیلی نہیں لے کر آرہا ہے ۔۔۔ اگر یہ سیاسی  غنڈے ۔۔۔۔ اس ملک سے مخلص ہوں ۔۔ تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں ۔۔۔ نہ صرف متحدہ ۔۔۔ پاکستان کی ہر جماعت
۔۔۔ صرف سیاست کرے ۔۔ بالائے سیاست ۔۔۔ کا سوچے بھی نہ ۔۔
ان تمام ڈراموں سے۔۔ فائدہ ۔۔ ایم کیو ایم کو ہی ہوتا ہے ۔۔ اس کے جو بھی جرائم ہوتے ہیں ۔۔۔ ان سے بھی یہ صاف ہوجاتے ہیں ۔۔۔ اور آئندہ اپنے آپ کو بدلنے کی
کوشش نہیں کرتے ۔۔۔ ورنہ ان میں اتنا پوٹینشل تو یقینا ہے ۔۔۔ جس طبقے کو عوامی نمائندگی ۔۔۔ ایم کیو ایم نے دی ہے ۔۔ اس کی مثال ۔۔ کسی بھی جماعت میں نہیں ملتی
۔۔۔ تحریک انصاف نے کوشش کی ۔۔ مگر کامیاب نہ ہوسکی ۔۔
اگر یہ سیاسی غنڈے ۔۔ واقعتا " ملکی مفاد" سے وابستہ ہیں تو ۔۔۔ اس روش کو بدلیں ۔۔۔ اب ان ڈراموں سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...