Showing posts with label Column. Show all posts
Showing posts with label Column. Show all posts

Thursday, July 2, 2015

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



شہیر شجاع 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بيشک انسان خسارے ميں ہے ۔۔۔۔۔۔
ليکن ۔۔۔۔۔۔۔
جي ہاں ۔۔۔۔۔ اس ليکن سے ہم ہميشہ روگرداني کرتے ہيں ۔۔۔۔۔۔ ہم وہي کچھ ديکھنا ، پڑھنا اور بولنا چاہتے ہيں جو ہميں اچھ الگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ حقيقت کے ادراک کي سعي اکثر ناپيد ہوتي محسوس ہورہي ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہم اس " ليکن " کے بعد کے کلام کو ۔۔۔۔۔۔۔ مابعد الطبيعيا کے زمرے مين ڈال ديتے ہيں جبکہ ۔۔۔۔۔ ما بعد الطبيعيات۔۔۔۔۔۔ پہلا جملہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ جس کا حصول آسان جبکہ ۔۔۔۔۔ ليکن ۔۔۔ کے بعد کا حصول حقيقت ہوتي ہے ۔۔۔۔۔ اکثر و بيشتر ۔۔۔۔۔۔ يہي اصول کارفرما ہے ۔۔۔۔۔
ہم ہر بات کو ۔۔۔ اگر مگر ۔۔۔۔۔۔ ميں ٹالنا کہہ کر رد کرديتے ہيں۔۔۔۔۔۔۔ حلانکہ اس اگر اور مگر کے بعد۔۔۔۔۔۔ حقيقي صورتحال کي اکثر نشاندہي ہورہي ہوتي ہے ۔۔۔۔۔
جيسے ۔۔۔۔۔ بيشک انسان خسارے ميں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ يہ قرآن مجيد کي ايت ہے ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ۔۔۔۔۔۔اصل بتايا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ جس کي سعي انسان نے کرني ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔خسارہ ہي مقدر ہے ۔۔۔
جي اس ليکن کے بعد ۔۔۔۔۔۔ کيا کہا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔ ہر وہ انسان خسارے ميں ہے ۔۔۔۔۔
ليکن وہ ۔۔۔۔۔
جو ايمان لائے ۔۔۔۔۔۔ اور نيک عمل کيے اور حق اور صبر کي نصيحت کي ۔۔۔۔۔

ہميں اس ليکن سے آگے بڑھنے کي ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, March 7, 2015

افسانہ ٹھنڈا گوشت کے مقدمے کے تناظر میں ۔۔ ریاستی و معاشرتی نظریاتی سوالات


افسانہ ٹھنڈا گوشت کے مقدمے کے تناظر میں ۔۔ ریاستی و معاشرتی نظریاتی سوالات ۔۔۔
شہیر شجاع ۔۔

ٹھنڈا گوشت کا عدالتی مقدمہ ۔۔۔ حضرت منٹو نے اپنی ایک کتاب میں ۔۔۔ تقریبا من و عن پیش فرمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے ری پٹیشن پر جب فیصلہ حضرت منٹو مرحوم کے حق میں ہونا تھا ۔۔۔ تو جج صاحب  منٹو مرحوم سے  مخاطب ہوئے اور مسکرا کر کہا " میں اگر سعادت حسن منٹو کو سزا دوں تو وہ یہ کہیں گے کہ ایک داڑھی والے نے مجھے سزا دی" ۔۔ یہ پہلو بہت پرانی چلی آرہی مذبی و لامذہبی چپقلش کی طرف خوب اشارہ ہے۔۔۔
پھر ۔۔ فیصلے میں جو پیراگراف سب سے اہم ہے فرماتے ہیں ۔۔۔۔ فاضل مجسٹریٹ (جنہوں نے منٹو مرحوم کے افسانے پر فرد جرم عاید کر دیا تھا )۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے اس بیان سے ابتداء کی کہ " فحاشی " ۔۔ کی اصطلاح اس ماحول کے ساتھ متعلق ہے جس میں اس کے متعلق فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ اس نے کہا کہ مختلف قوموں اور سوسائیٹیز کے معیار مختلف ہو سکتے ہیں ۔۔۔ یہاں تک وہ درست تھا ۔۔۔ اس نے غلطی وہاں کی جب اس نے سمجھا کہ پاکستان کے مروجہ " اخلاقی معیار " ۔۔۔۔۔۔۔ " قرآن و سنت کی تعلیم" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے سوا اور کہیں سے زیادہ صحیح طریقے سے معلوم " نہیں " ہوسکتے ۔۔۔۔۔ پھر وہ کہتا ہے کہ اس کے مطابق غیر شائستگی اور شہوت پرستی شیطان کی طرف سے ہے  ۔۔۔

معزز جج آگے فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال یہ نہیں ۔۔ بلکہ سوال یہ کہ ۔۔ ہمارے سماج یا معاشرے کی اصلی حالت کیا ہے ؟ ۔۔۔ جیسا کہ ظاہر ہے ہم نے اپنا نصب العین ابھی تک حاصل نہیں کیا ۔۔۔ اپیل کرنے والوں کو اس کے مطابق جانچنا چاہیے ۔۔۔۔۔ جس طرح کہ ہماری سوسائیٹی ہے ۔۔ نہ ۔۔۔ کہ اس طرح جیسا کے اسے ہونا چاہیے۔۔۔
یہ جملہ بہت سے معانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔۔ جس پر کچھ گزارشات آگے پیش کروں گا۔۔۔
مگر اس سے پہلے  ۔۔ چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔۔
کیا ۔۔۔۔ معاشرہ اپنے آپ کو خود ترتیب دیتا ہے ؟
یا ۔۔۔ ریاست معاشرے کی ترتیب میں مصلح کا کردار ادا کرتی ہے ؟
یا ۔۔۔۔ معاشرے کی ترتیب میں ریاست کو مصلح کا کردار ادا کرنا چاہیے ؟
یا ۔۔۔۔ ریاست  ۔۔ معاشرے کو اپنے حال پر چھوڑ کر ۔۔ ان کی منشاء کے مطابق قوانین عمل میں لائے ؟
اگر چہ ریاست  کہتی ہے کہ مذہب فرد کا انفرادی معاملہ ہے ۔۔۔ تو اخلاقی معاملہ بھی وہ درحقیقت فرد کے سپرد کر رہی ہے ۔۔۔۔ اس بات کے مد نظر ۔۔ اگر افسانہ ٹھنڈا گوشت پر کوئی فرد اعتراض کرتا ہے ۔۔ تو وہ اس کا انفرادی فعل ہوا ۔۔ اس بنا پر اسے ذہنی مریض ۔۔ یا اس جیسا کوئی  جملہ کہہ کر اس کی انفرادیت یا اس کی شخصی آزادی کوسلب نہیں کیا جاتا ؟ یہاں پر ۔۔ لامذہبی ریاست کو موزوں قرار دینے والے ۔۔۔ بذات خود متشدد نہیں ہوگئے ؟ بہر حال آگے بڑھتے ہیں ۔
جب یہ بات مان لی گئی کہ مذہب فرد کا انفرادی معاملہ ہے ساتھ ہی ۔۔ اخلاقی معاملہ بھی فرد کے سپرد کر دیا گیا ۔۔۔۔۔۔ تو معاشرے کے کی اصلاح و معاشرے کی ترتیب میں ۔۔ ریاست کا کیا کردار ہوگا ؟
کیا زنا بالجبر کو اگر ریاست خلاف قانون مانتی ہے ۔۔ تو ظاہر ہے زنا بالرضا کی آزادی ریاست بہر طور دے گی ۔۔۔ یہاں اخلاقی کردار ریاست کے ہاتھ سے نکل گیا ۔۔
اسی طرح اگر فرد چاہتا ہے کہ اس کا گھر اس کے رب کے احکامات کے طابع چلے ۔۔ تو اس کے پڑوسی کو کون سا قانون حق دیتا ہے کہ ۔۔۔ وہ اپنے پڑوسی کے انفرادی عمل پر نکتی چینی کرے ؟ ۔۔۔ اور اگر اس کی نکتہ چینی کے مقابلے میں ۔۔ مذہبی زندگی کا خواہشمند ۔۔۔ لامذہبیت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے ۔۔۔ تو اس کی آواز کو متشدد کہہ کر کیوں بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے ؟

Tuesday, January 20, 2015

سندھ کا سندھی



شہیر شجاع
 
پختون کی ایک اپنی ثقافت ۔۔۔ جہاں روشنی تاریکی جنگ و جدل امن ۔۔ غرض تہزیب و تمدن ایک مکمل تاریخ ہے ۔۔ تعلیمی سرگرمیاں ہوں یا سیاسی, کھیل کا میدان ہو یا صحافت ۔۔۔ ہر میدان میں یہ لوگ نمایاں رہے ۔۔۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت ان کے دلوں میں ہر وقت ایمان کی دولت سے دھڑکتا دل ہے ۔۔۔ جو مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی سے بھی بھر پور ہے ۔۔۔ یہ دوست کا دوست ۔۔ اور دوست کے دشمن کا بھی دشمن ہے ۔ اب ظاہر ہے خصوصیات اپنی جگہ لیکن برائیان بھی ہونگی ان میں ۔ جیسے کچھ لوگ ان میں لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف تھے یا رہے ۔۔ یہ چند فی صد ہی ہونگے ۔۔۔ بہر حال ثبات کو ترک کر کے ۔۔ منفی رویوں کو اتنا اچھالا گیا کہ ۔۔ یہ قوم دہشت گرد کی نظر سے دیکھی جانے لگی ۔۔ طالبان یا ٹی ٹی پی ۔۔ جس نے خوارج کا روپ دھار لیا ، انڈیا اور امریکہ کے پیسوں پر چلنے والے یہ لوگ ۔۔ملت اسلامیہ کے لیے سر درد بن گئے ۔۔۔ بہر حال میرا مقصد اس وقت ان باتوں کو چھیڑنا نہیں ہے ۔۔۔ اس تمہید کا مقصد ۔۔ سندھ میں سندھیوں کے حالات کی طرف توجہ دلانا ہے ۔۔۔۔ جہاں ہاری وڈیروں کی غلامی پر مجبور ہے جہان تعلیمی رجحان دس فی صد بھی شاید ممکن نہ ہو ۔۔ جہاں غریب آدمی کو اپنا شناختی کارڈ بنوانے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے ۔ لیکن کوئی بھی سندھیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والاانہیں ۔۔  بلوچستان میں جب  احساس کم مائیگی بڑھی تو وہاں علیحدگی پسندی کی تحاریک نے جنم لیا ۔۔۔ جس کا فائدی دشمنان پاکستان نے خوب اٹھایا ۔۔ اور ان کی  خوب مدد کی ۔۔۔۔ سندھ میں بھی اسی قسم کی ایک تنظیم موجود ہے ۔۔۔۔  اس کے علاوہ ۔۔ جس طرح سے وہاں اقرباء پروری ۔۔۔ بدمعاشی ۔۔ امیر غریب کی تفریق ۔۔ سماج کی تذلیل ۔۔۔ اور  خصوصا ۔۔ تعلیمی سطح پر کوئی کارکردگی نہیں ہے ۔۔۔ ان کے حقوق مسلسل سلب ہو رہے ہیں ۔۔ لیکن توجہ کسی کو نہیں ۔۔ پیپلز پارٹی سندھ کی جماعت کہلاتی ہے ۔۔ لیکن حقیقتا ۔۔ وڈیروں اور جاگیرداروں کی جماعت ہے جس کا مقصد جاگیر داروں کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔۔۔ اس کے جیالے آج بھی اپنے آپ کو جیالا کہلاتے ہیں ۔۔ اب تک ان کے دلوں میں بھٹو زندہ ہے ۔۔ جس کی بدولت ۔۔۔ زرداری جیسے بدقماش فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔۔۔۔ کیا ہماری سرزمیں ۔۔۔ اس قدر تعصب کا شکار ہے کہ ۔۔۔ پنجاب  اور کے پی کے ۔۔ کے علاوہ ۔۔ کسی دوسرے خطہ ارض پاکستان پر کوئی توجہ حاصل نہیں ؟ ۔۔۔ کے پی کے ۔۔ کا تو ہم نے خود بیڑہ غرق کیا ۔۔۔ آج ہم پر جنگ مسلط ہے ۔۔ افواج پاکستان کی توجہ ادھر مبذول ہے ۔۔۔۔ ہم نے انہی کو دشمن بنا لیا جو کبھی ہمارے آہنی ہاتھ ہو اکرتے تھے ۔۔۔ ان کی قدر نہیں کی ۔۔ اور آج وہ بیرونی ہاتھوں میں بک گئے ۔۔۔ ہماری زمین ہمارے لوگ ۔۔۔ اور ان پر ہمارا ہی اختیار نہیں ۔۔۔ کل کو یہی صورتحال سندھ کی نہ ہو ؟ ۔۔۔ کبھی سندھی وڈیروں نے ۔۔ مہاجروں کو سمندر برد ہوجانے کا مشورہ دیا تھا ۔۔ تو الطاف حسین نے جنم لیا ۔۔۔۔ پھر زرداری نے بلوچوں کو بدمعاشی  کا لائسنس دیا ۔۔۔ اور آج کراچی مسلسل جل رہا ہے ۔۔۔  کیا ہم اسی طرح لسانی ٹکڑوں میں بٹے رہیں گے ؟

Tuesday, January 6, 2015

ایل مشغرب

محمد شہیر شجاع


مولوی کا لفظ جب ان کے سامنے سے گزرتا ہے تو ۔۔۔۔۔۔ تخیل میں ایک ایسی کریہہ تصویر سامنے آجاتی ہے جن کی نس نس میں درندگی ، حیوانیت ، جنسی تشدد ، بھری پڑی ہوں ۔۔۔ جو سانس بھی لیتے ہوں تو ۔۔۔ اس میں بدبو آتی ہو ۔۔ جو انسانیت کی شکل میں درندے ہیں ۔۔۔ جو معاشرے میں ۔۔۔۔ اللہ اور رسول کا نام  لیکر معاشرے کا ناسور بنے ہوئے ہیں ۔۔ جن کے ذہن پر خون اور کندھے پر بارودی جیکٹ چڑھی ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ..
برائی کس معاشرے میں نہیں ہے ؟ ہر معاشرہ فی زمانہ برائی کا پٹارہ ہے ۔۔۔ لیکن ہم جب اسلامی معاشرے کی بات کرتے ہیں تو اس میں کلیدی کردار کس کا ہوتا ہے ؟َ اس کا اب تک کوئی تعین نہیں ہوا ۔۔۔۔۔
ایک اور آواز گونجتی ہے ۔۔ مشرقی تہذیب ۔۔۔۔
جس تہذیب کو اپنے ہی ہاتھوں منوں مٹی تلے خود ہی دباتے جا رہے ہیں ۔
 .پھر یہ مولوی ۔۔۔ کی غلاظت کہاں سے در آئی?
کہتے ہیں اس میں جنسی درندگی ہے جو ۔۔۔۔ کلیوں کی نشونما ہونے سے پہلے ہی اس کے ذہن میں غلاظت بھر دیتا ہے ۔۔ وغیرہ وغیرہ..
 مدارس ۔۔ جہاں مخلوط تعلیمی نظام کا دستور نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ جہاں کی طالبہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لینا ۔۔ اس طالبہ کو پریشان کر دیتا ہے ۔۔۔۔ اور طالبعلم جو صبح سے شام تک سوائے اللہ اور رسول کے اور کچھ نہیں سیکھتا ۔۔۔۔ کھانے میں ۔۔۔۔ سوکھی روٹی ۔۔۔ اور پانی والی دال کھاتا ہے ۔۔۔۔ ان میں بہت سے اسیے بھی ہوتے ہیں ۔۔۔ جو اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ پاتے ۔۔۔۔ اور ان گناہوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں ۔۔ جو معاشرے کا سب سے بد ترین  "فعل" ہے ۔
ٹھیک اسی طرح جس طرح کالج یونیورسٹیز میں ۔۔۔ بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز کا دستور ہے ۔۔۔ جہاں زنا بالجبر بھی ہوتا ہے ۔۔ اور زنا کو محبت کا نام بھی دیا جاتا ہے..
 جب مدرسے کا طالبعلم فراغت پانے کے بعد ۔۔۔ روزی روٹی کی فکر میں آتا ہے تو وہ اپنے آپ کو کہیں بھی نہیں پاتا ۔۔۔ کیونکہ اس کے لیے مدارس نے کبھی سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ آخر کار ۔۔ کسی مسجد میں پیش امام ہو جاتا ہے ۔۔۔ آپ کے ہی گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے اور آپ کے بچوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم بہم پہنچاتا ہے
 
دنیاوی ہر آسائش سے دور ۔۔۔۔ صبح و شام کرتا ہے ۔۔۔ زندگی گزارتا ہے ۔۔۔۔ خوش رہتا ہے ۔۔۔ خؤش اخلاق ہوتا ہے ۔۔۔ جو صاحب حیثیت ہوتے ہیں ۔۔۔ وہ کوئی تجارت کر لیتے ہیں ۔۔۔۔ اور جو کچھ زیادہ ہی صاحب حیثیت ہوتے ہیں وہ اپنا مدرسہ بنا لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔ آج پاکستان کی گلی گلی میں اسکول نما فیکٹریاں لگی ہیں..
میڈیکل میں ۔۔۔ بیماریوں سے بچاو کی ترکیبیں بتائی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی طرح مدارس میں ۔۔۔ اپنے نفس و ایمان کو محفوظ رکھنے کے لیے ان عناصر کا بتایا جاتا ہے جو مضر ایمان و نفس ہیں ۔۔۔۔
  یہ ایک ایسا نقطہ ہے ۔۔۔۔ جہاں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔ کیونکہ اس نقطے پر آکر ۔۔۔۔ کم علمی و کم فہمی معاشرے کی تباہی کا باعث بننے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ،،،،۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح سے ۔۔۔۔ ہمارا 

میڈیاایک سطر چھوڑ دے اور ہلچل مچ جائے
جب تک مولوی ماسٹر کی تفریق کو ۔۔۔۔۔۔ ختم کر کے ۔۔۔ ایک نظر سے نہین دیکھا جائے گا
۔۔۔۔۔۔ یہ طبقہ دو حصوں میں ہمیشہ بٹا رہے گا ۔۔۔۔  لائم لائٹ میں ۔۔۔ مولوی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔۔ جب کہ دوسرے طبقے کا علمی ذریعہ لائم لائٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یا تو دونوں کو برابر حصہ داری دی جانی چاہیے ۔۔۔۔۔۔ یا پھر مولوی کو خود اس آنچ کو مکمل آگ کی صورت میں بھڑکنے سے پہلے ہی ۔۔۔۔۔۔ سامنے آکر ہر ہر سطح پر اپنے آپ پیش کرنا چاہیے ۔۔۔اپنے مدارس کے نظام میں نظر ثانی کرنی چاہیے ۔۔۔ کہ ہر سال ۔۔۔۔۔۔ لاکھوں طلباء سند لے کر باہر معاشرے کا حصہ بنتے ہیں ۔۔۔۔۔ آخر ان کا مستقبل کیا ہے ؟ 

Monday, January 5, 2015

مسجد و مدرسہ اور ہماری ریاست


کستان میں ایک مدرسے میں سفاکیت کی انتہا ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جگہ جگہ اس کے پوسٹر کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدارس کو ایک ایسی جگہ ثابت کیا جا رہا ہے جہاں ۔۔۔ انسانیت نہیں حیوانیت سکھائی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح سے ایک کرسچین جوڑے کو آگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا تھا اور انسانیت تماشائی بنی دیکھتی رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھ ناک اور کان کی حس سے محروم ہونے کا ثبوت پیش کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کونسی عقل ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ہر جگہ ریاست کو کھلا چھوڑ دیں ۔۔۔۔ ریاست کی ذمہ داریوں پر کوئی الزام نہ دیں ۔۔۔۔ بلکہ ان عناصر کو دوش دیں آئندہ کوئی ایسا کچھ سوچنے سے پہلے ہی تھرا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں قانون کا نام و نشان نہ ہو ۔۔۔ وہاں کیا مدرسہ کیا کالج ۔۔ کیا یونیورسٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہے ۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ جایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو مجھے صرف اس بنا پر چھوڑنا پڑا کہ وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طالبعلم کم اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تنظمیی جھگڑا زیادہ تھا ۔۔۔ دونوں اسلحے کے زور پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنےساتھ شامل کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔ مرو یا ماردو ۔۔۔ کی دھمکیاں ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو مدرسے کی آب و ہوا سے ناواقف ہوں انہیں صرف ٹیلیویژن میں بیٹھے ۔۔۔۔ پروپیگنڈا مشینری سے متعلق شہرت کے دلدادہ افراد کی باتوں کو سن کر ۔۔۔ اپنا ذہن نہیں بنانا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود جائیں مدارس کے طلباء کا حال تو دیکھیں ۔۔

Wednesday, December 24, 2014

سرزمین تجربہ گاہ


سرزمین تجربہ گاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قائد اعظم کی ایک طویل تقریر 12جون 1938ءکے روزنامہ انقلاب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو
مسلمانوں کو پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے پاس تیرہ سو سال برس سے ایک مکمل پروگرام موجود ہے۔ اور وہ قرآن پاک ہے۔ قرآن پاک میں ہماری اقتصادی ، تمدنی و معاشرتی اصلاح و ترقی کے علاوہ سیاسی پروگرام بھی موجود ہے۔ میرا اسی قانون الیہہ پر ایمان ہے اور میں جو آزادی کا طالب ہوں وہ اسی کلام کی تعمیل ہے۔ تعلیم قرآنی ہی میں ہماری نجات ہے۔ اور اسی کے ذریعے ہم ترقی کے تمام مدارج طے کر سکتے ہیں۔
سانحہ پشاور کے بعد سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دہریتی ۔۔۔۔ سوچ کھل کر سامنے آنے لگی ہے ۔۔۔۔۔ دہریت کا پرچار ۔۔۔ اور مذہب سے انکار ۔۔۔سر عام ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ جب مسلمانوں کو آپس میں لڑا نہ پائے ۔۔۔ تو اس پاک سر زمین میں دہریت کے غنڈے چھوڑ دیے گئے ۔۔ جو مختلف اونچی مسندوں میں بیٹھ کر ۔۔۔۔ بلا اشتعال ۔۔ مذہب اور اس کے نام لیواوں پر طعن و تشنیع برت رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ 
وہ جان لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جو سنی شیعہ بریلوی اہل حدیث وغیرہ کی جو جنگ عام نظر آتی ہے ۔۔ حقیقتا ۔۔۔۔۔ ان مسالک کے جید علماء میں ۔۔۔۔ علمی دوستی بھی ہے ۔۔۔۔۔۔ جو کہ پس پشت ڈال کر ۔۔۔ ان ہواوں کو کانوں میں سر سرایا جاتا ہے ۔۔۔ جو بغض و عداوت کو ہوا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہم جیسے کم علم دوستوں کو چاہیے ۔۔۔۔ اس فتنے سے باہر آئیں ۔۔۔۔۔ مسلکی گفتگو تو ہم میں ہونی ہی نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔ یہ علماء کا کام ہے ۔۔۔۔ ان کے اختلافات ہیں ۔۔۔۔ اور علمی اختلاف بھی اسلام کا حسن ہے ۔۔۔۔ ہم جیسے ناقص العلم ۔۔۔ ان اختلافات کو بغض و عداوت میں تبدیل کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہم صرف اور صرف مقلد ہیں ۔۔۔۔ جو مجتہد ہیں ۔۔ انہیں اختلاف کرنے دیجیے ۔۔ یہ بیڑہ ہمار انہیں ہے ۔۔۔۔۔ 
قائد کا خواب ہمار اخواب ہے ۔۔۔۔ اسے علمی و عملی تجربہ گاہ بنائیں ۔۔۔ نہ کہ ۔۔ خونی تجربہ گاہ ۔۔۔۔
عاجز شہیر

Tuesday, December 23, 2014

میں تھر کا بیٹا ۔۔۔


میں تھر کا بیٹا ۔۔۔
سرد رات ۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی سرسراتی ہوائیں ۔۔ جو کانوں کی لو کو جما رہی تھیں ۔۔۔ ہاتھ برف ہوئےے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔ ناک اور آنکھیں ۔۔۔ اپنے وجود پر مسکرارہی تھیں ۔۔۔ جو گالوں کو اپنے ہونے کا احساس دلا نے پر مصر تھے ۔۔۔۔ گردن اکڑتی جا رہی تھی ۔۔۔ پیر منجمد تھے ۔۔۔ میرے سینے میں کچھ دھڑک سا رہا تھا ۔۔۔ اور میرا پیٹ ؟ ۔۔۔ وہ تو مجھ سے روٹھا ہوا تھا ۔۔۔ کتنے دن ہوئے ۔۔۔ وہ مجھ سے لڑ رہا تھا ۔۔۔ اور میں ٹھٹھر رہا تھا ۔۔۔ بلک رہا تھا ۔۔ لیکن چہرہ فق تھا ۔۔۔ سپاٹ تھا ۔۔۔ امی بتا رہی تھیں ۔۔۔ کہ میرے بہت سارے بھائی بہنوں کو ۔۔۔ایک اسکول میں کچھ درندوں نے شہید کرڈالا تھا ۔۔ جنہیں طالبان کہتے ہیں ۔۔ بہت برے تھے وہ لوگ ۔۔ 
آج صبح میری چھوٹی بہن نے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ۔۔ مری امی کی گود میں جان دے دی تھی ۔۔ میری ماں کتنی روئی ۔۔ لیکن اس کے چہرے پر ایک قطرہ آنسو کا نہیں تھا ۔۔۔ وہ تڑپ رہی تھی ۔۔ بلک رہی تھی ۔۔۔ میرا سر بھی اس کی گود میں رکھا ہے ۔۔۔ اس کی آہ و فغاں میرے کانوں کی لو کو گرما رہی ہے ۔۔۔ ٹھنڈ کچھ کم ہوتی محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔۔ لیکن اب وہ میری صورت پھر کبھی نہیں دیکھ سکے گی ۔۔۔ میں تو منوں مٹی تلے چلا جاوں گا ۔۔۔ کیا مجھے بھی شہادت کا رتبہ ملے گا ؟ ۔۔ شاید کچھ دنوں بعد امی بھی مجھ سے آن ملے ۔۔۔۔۔ ہم ماں بیٹے بیٹی ۔۔ دائمی دنیا میں بغلگیر ہونگے ۔۔۔ اور کہیں ذکر تک نہ ہوگا ۔۔ 
کیونکہ میری جان کسی طالبان نے نہیں لی ۔۔۔
شہیر

Monday, December 22, 2014

رب سے شکوہ کیوں ؟



ہم نے اپنے رب کو چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس سے شکوہ کس منہ سے کریں ؟ ۔۔۔۔۔ ہمارے مقاصد دیکھیں کیا ہیں زندگی کے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے دشمن کے مقاصد ۔۔ ا ور ان کی تیاریاں دیکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے خواب کیا ہیں ؟ ۔۔ ہماری زندگی کیا ہے ؟ ۔۔ ہمارے مقاصد کیا ہیں ؟ ۔۔ ہمارے افعال کیا ہیں ؟ ۔۔۔ جینے کی وجہ کیا ہے ؟ ۔۔۔۔ مرنے کا امتحان کیا ہے ؟ ۔۔۔
اور
اور
اور ۔۔
مسلمان ہونے کا حق کیا ہے ؟

پشاور حادثہ اور ہم



ایک المناک سانحہ پاکستان کی سر زمین میں ایک مرتبہ پھر پیش آیا ۔۔۔۔ سوگ ، غم و غصہ ، تشویس ، ماتم ، تجزیے ، مشاہدے ، الزام ، بدلہ اور کیفیات کی مزید جتنی بھی اقسام ہیں سامنے آئیں ۔۔۔۔۔۔
لیکن ایک بات جو مجھے ہمیشہ سے دکھ پہنچاتی ہے ۔۔۔ لال مسجد کے سانحے کے دوران ان کے متعلقین کا غم و غصہ شدید تھا ۔۔ جبکہ بہت سے لوگ اس سانحے کو سراہتے بھی رہے ۔۔۔
اس کے علاوہ ایک سانحہ لاہور میں پیش آیا جب پولیس نے منہاج القراں کے دفتر میں درندگی کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔ اس وقت منہاج القرآن کے متعلقین کا غم و غصہ شدید تھا ۔۔۔۔۔۔
اور اب یہ سانحہ جس کے شہداء بچے ہیں ۔۔۔ جن کو ہم مذہب ، رنگ ، نسل ، سیاست غرض کسی بھی ترازو میں نہیں تول سکتے ۔۔۔ وہ معصوم بچے ۔۔ وہ کلیاں جو ابھی کھلی نہیں ۔۔ انہیں اس غیر انسانی فعل کے ذریعے جنت برد کردیا گیا ۔۔۔۔ ان ماوں پر کیا بیت رہی ہوگی ۔۔۔ جن کو عمر بھر کا دکھ ایک پل میں میسر آگیا ہے ۔۔ جو ہر لمحہ درد کی ٹیسیں سہیں گی ۔۔ جن کا ہر لمحہ ہر پل اپنی ننھی معصوم اولاد کی ایک ایک حرکت کو یاد کرتے گزرے گا ۔۔ جن اور چہرہ آسمان کی طرف اٹھ جائے گا کہ شاید کوئی معجزہ ہو اور ان کا بیٹا / بیٹی دوڑتے ہوئے ان کو " مااااااں " پکارتے ہوئے چلے آئیں ۔۔ جن کی زندگی چلتی پھرتی لاشوں جیسی ۔۔۔۔۔ ان کا نوالہ کیسے ان کے حلق سے اترتا ہوگا ۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مولوی عبدالعزیز جو عورتوں اور بچیوں کی لاشوں کے سہارے مین اسٹریم میں اچھل کود کر رہا ہے ۔۔۔۔ اور میڈیا اس لالی پاپ سے خوب انجوائے کر رہا ہے ۔۔۔۔ جس میڈیا کی ماں کوئی اور ہے اور نہ جانے باپ کتنے ۔۔۔ ۔۔۔ جو " ما آدری " کے مفہوم سے نا آشنا ہے ۔۔۔ علماء کو ایسے اشخاص کو پردے سے باہر لانا ہوگا ۔۔۔۔ یا پھر کم از کم انہیں نکیل ڈالنی ہوگی ۔۔۔ ۔۔ ورنہ ان کی حیثیت بھی یونہی مشکوک ہوتی جائیگی ۔۔ جس کے لیے فاشسٹ دنیا ایک صدی سے کوششوں میں لگی ہے ۔۔۔ علماء سوء جو کہ سب سے پہلے جہنم رسید ہونگے ۔۔۔ کا مائینڈ سیٹ اتنی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ آگے جا کر ۔۔ علماء پر یقین کرنے والا کوئی نہ رہے گا ۔۔۔۔۔۔
مزید مذہبی گروہوں میں بھی اسی قسم کے مختلف مشاہدات دیکھنے میں آرہے ہیں ۔۔۔ کوئی شیعہ بن کر آواز اٹھا رہا ہے ۔۔۔ تو کوئی کچھ بن کر ۔۔۔۔ مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ ایسے حضرات کے ان کمنٹس کو پڑھ کر ۔۔۔ جو کہ ہمارے معاشرے کے دانشور کہلاتے ہیں ۔۔۔
جبکہ لبرلز ۔۔۔۔۔ تو افغان اور مذہبی معتقدین کے پیچھے یوں پڑ گئے ہیں جیسے یہ سارا کیا دھرا انہیں کا ہے ۔۔۔۔ جہاد کا نام ظالمان استعمال کر رہے ہیں ۔۔۔۔ چھ آٹھ افراد ناکوں چنے چبوادیتے ہیں ۔۔۔ اور گرفتاری ایک بھی عمل میں نہیں آتی ۔۔۔ یا تو جہنم رسید کر دیے جاتے ہیں یا اپنے آپ کو جینم کی غذا بذات خود ہی بان ڈالتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ایک بیان آتا ہے ۔۔۔ تھڑیک ظالمان پاکستان نے ۔۔۔ اس کی ذمہ داری قبول کر لی ۔۔۔۔ اور پھر ایک بچشم مذہبی لیکن غیر منطقی و لا یعنی سی توجیہ سامنے آتی ہے ۔۔۔۔ اور اسلام اور اس کی تاریخ سے نا آشنا ۔۔۔ غصے سے لال پیلے ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور اسلام و جہاد و قتال پر لعن طعن شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہود بھی تو مسلمان بچوں کو ہی ختم کر رہا ہے ۔۔۔۔۔ کیا یہ کڑیاں نہیں ملتی ۔۔۔۔؟؟؟؟
افغان قوم پر رسہ کشی شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم بھول جاتے ہیں ۔۔۔ جب افغان طالبان کابل پر بر اجمان تھے ۔۔۔۔ ہم مطمئن تھے ۔۔۔ ہمیں کوئی خطرہ نہیں تھا ۔۔۔ ہماری محفوظ تھے ۔۔۔۔۔ لیکن پھر ایک شور بلند ہوا ۔۔۔۔ پاکستان میں دہشت گرد موجود ہیں جو قبائلی علاقوں میں پناہ گزین ہیں ۔۔۔۔۔ وہ تو ساٹھ سال سے وہاں رہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب وہ دہشت گرد ہیں ۔۔۔ آپریشن شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔ ڈرون حملے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ مرتے پاکستانی ہیں ۔۔۔۔ خواہ ادھر ہوں یا ادھر ۔۔۔۔ کسی امریکی و برطانوی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔۔۔ مختلف آوازیں اٹھتی ہیں ۔۔ کوئی حق میں تو کوئی مخالفت میں ۔۔۔ لیکن نقصان تو ہمارا اپنا ہی ہوتا رہا ۔۔۔ ۔ افغان طالبان پر پاکستان کے راستے چڑہائی ہوئی ۔۔ وہ خاموش رہے ۔۔۔ کیا وہ بیوی بچوں والے نہں ہیں ؟ ان کے بچے یتیم ان کی عورتیں بیوا ۔۔۔ ان کے بچے اور اور عورتیں شہید نہیں ہوتی ہونگی ؟ ۔۔۔۔۔ لیکن مجال ہے جو ایک لفظ انہوں نے پاکستان مخالفت میں کہا ہو ۔۔۔ بہر حال ۔۔۔ پاکستان کے ظالمان ہم نے ہی بنائے ۔۔۔ اور پھر ۔۔
ہم نے ضرب عضب شروع کیا ۔۔ انہوں نے ضرب غضب ڈھا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کون کر رہا ہے ؟ ۔۔۔ خؤد کش حملہ آور کون ہیں ؟ کہاں سے آتے ہیں ؟ وہ تو پشتو بھی نہیں بولتے ۔۔۔۔۔ جعلی تصویریں ۔۔۔۔ میڈیا میں پھیل جاتی ہیں ۔۔ جنہوں نے اپنے چیتھڑے اڑا لیے تھے ۔۔۔۔ ان کی سالم مردہ تصویریں سر عام گردش کر رہی ہوتی ہیں ۔۔ اور ہم اپنی اپنی توجیہ کے مطابق ان پر اپنی داشمندانہ رائے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
ہم کل بھی بٹے ہوئے تھے ۔۔۔ ہم آج بھی بٹے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم کون ہیں ؟؟؟ ہم کیا ہیں ؟ ہمیں اپنی کاسٹ کی بنیاد کو تو علم ہوتا ہے ۔۔ لیکن اپنے نسب سے نا واقف ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
حقیقتا ۔۔۔۔۔ ہم کٹھ پتلیاں ہیں ۔۔۔۔ یہاں تک کہ ۔۔۔ ہمارے ذہن بھی وہی سوچتے ہیں ۔۔۔ جیسا انہیں سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہیر شجاع

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...