Showing posts with label colum. Show all posts
Showing posts with label colum. Show all posts

Sunday, June 12, 2016

اشکال در انسانیت



اشکال در انسانیت

شہیر شجاع

زمینی حقائق اعمال و افعال کو فاش کرتے ہیں ۔۔۔ طرز معاشرت کو فاش کرتے ہیں ۔۔۔۔ معاشرے کی سوچ کو فاش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ معاشرے کی تعمیر میں استعمال کیے گئےاینٹ گارے کے حقائق سے آگاہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ معاشرے میں پھیلی منافرت بروزن عصبیت عیاں کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ نتیجہ اخذ کیا جائے گا تو ان عناصر پر تحقیق ہوگی ۔۔۔ آیا کہ یہ عناصر حقیقی ہیں ؟ یا کرپٹ ہیں ؟
کیونکہ ایک حقیقت ہوتی ہے دوسرا جھوٹ ہوتا ہے ۔۔۔ حقیقت وہ نقشہ ہے جس پر گھر کی تعمیر ہونا ہوتی ہے ۔۔۔ جھوٹ وہ پلندہ ہے جو اس نقشے سے ہٹ کر تعمیر ہوجاتی ہے ۔۔۔ جب تک وہ عمارت قائم ہے نقشہ ظاہر نہیں ہوسکتا ۔۔۔ اور اگر میرے نزدیک وہی نقشہ اس عمارت کی مضبوطی کا ضامن ہے ۔۔۔ تو میں اس نقشے کی افادیت اور اس نقشے پہ کھڑی عمارت کے فوائد پر زور دوں گا ۔۔۔۔ نہ کہ عمارت کے رنگ و روغن جسے انسانیت کا نام دیا جاتا ہے اس پر بات کروں گا ۔۔۔ میرے لیے نقشہ اہم ہے ۔۔۔ اگر وہ حقیقی ہے تو ساری عمارت اس کا رنگ و روغن سب ہی بہتر ہوگا ۔۔۔۔ مختصر یہ کہ ۔۔۔۔ انسانیت کا درس بھی مجھے اور آپ کو اسلام نے دیا ہے ۔۔۔۔ میرا فرض اسلام اور اس کے نظام کی دعوت ہے ۔۔۔ اور اس نظام میں تمام تر صفات عالیہ شامل ہوجاتی ہیں جو انسانیت کو اس کے عروج پر پہنچانے کا باعث ہے ۔۔۔۔
ہمارے پاس فی زمانہ آئین پاکستان کی شکل میں ایک نقشہ موجود ہے بس عمارت جھوٹی ہے اسے حقیقی بنیادوں پر کھڑی کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔

Saturday, April 2, 2016

لاہور سانحہ مارچ 2016



لاہور سانحہ مارچ 2016

شہیر شجاع 

اللہ جل شانہ سرزمین پاک پر اپنا رحم فرمائے اور تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے ، لواحقین کو صبر دے ۔۔۔۔ بیشک ہم بھی لواحقین میں شامل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کچھ ہی دن ہوئے پشاور میں بلاسٹ ہوا کئی جانیں ضایع ہوئیں ۔۔۔۔ اور اب لاہور کا کربناک سانحہ ۔۔۔۔۔۔ بہت دیر تو اس الم سے بندہ نکل ہی نہ پایا ۔۔۔۔۔ یہاں ہماری سخت جان ۔۔۔۔۔ چاق و چوبند پولیس نے معاملہ ہی حل کرلیا ۔۔۔۔ اس کےلیے پولیس کے لیے داد تو بنتی ہے ۔۔۔۔۔ خوامخواہ ہماری پولیس کو بدنام کر رکھا ہے کہ وہ مجرموں کوپکڑ نہیں سکتی ۔۔۔ سراغرسانی میں زیرو ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ دیکھو کیسے ۔۔۔۔ ابھی میتیں گھر نہیں پہنچی کہ ۔۔۔۔ کیس مکمل حل ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔ سوشل میڈیا ۔۔۔۔۔۔ مولوی مولوی ۔۔۔۔ گالی گالی ۔۔۔ راگ الاپتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔ مذہب مذاق بنتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔
دانشور ۔۔۔۔۔ چیختے رہے ضرب عضب پنچاب تک وسیع ہونا چاہیے ۔۔۔۔ مگر کیوں ؟ ۔۔۔۔ پنجاب تو صاف شفاف ہے ۔۔۔۔ اب جو خون بہہ گیا ۔۔۔۔ اس کے اثرات نہ جانے کتنے خاندان کتنا عرصہ سہیں گے ۔۔۔۔۔ توجہ ہے تو اپنے اپنے دلی تسکین کے موضوع پر ۔۔۔۔۔۔
میرا وطن جل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور ادارے ۔۔۔۔ سو رہے ہیں ۔۔۔۔ سیاسی نمائندے ۔۔۔۔۔ بندر بانٹ میں مگن ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور عوام ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔ الیکٹرانک میڈیا میں بیٹھے بندروں کی کھینچی گئی لکیریں پیٹنے میں مصروف ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا یہی انصاف ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔ کیا مولوی ۔۔۔ مذہب کو گالی دے لینےسے وہ جانیں واپس آجائیں گی ؟ یا حکومتی ادارے اپنے فرائض ادا کرنے میں مستعد ہوجائیں گے ؟؟
آئے رو ز بلاسٹ میں سےسےسینکڑوں معصوم جانیں فنا ہوچکیں ۔۔۔۔ ہمارا ردعمل اب بھی حکومت کے لیے ایسا ہے جیسے وہ معصوم ہیں ان کا کوئی قصور ہی نہیں ۔۔۔۔
کل " را" کا ایجنٹ پکڑا گیا ۔۔۔۔۔ ایرانی صدر کی پاکستان آمد ۔۔۔۔ لبرل و مذہب کے موضوع پر تناو ۔۔۔۔ جنید جمشید کا کیس ۔۔۔۔ ممتاز قادری کیس ۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ وفاق المدارس کی طرفسے ایک بڑی کانفرنس کا اعلان ۔۔۔۔۔۔ یہ ساری کڑیاں ہیں ۔۔۔۔۔ جوڑ لیں ۔۔۔۔۔ اس کے بعد نتیجہ اخذ کریں ۔۔۔۔ ٹی ٹی پی ( خوارج ) ۔۔۔۔ اب پنجاب میں اپنے پنجے گاڑ چکی ہے ۔۔۔۔۔ ضرب عضب کے لیے آواز بلند کریں ۔۔۔۔ پولیس کے کردار ۔۔۔۔ اور اداروں کی فعالیت کو موضوع بنائیں ۔۔۔۔۔ تفرقہ در فرقہ ۔۔۔۔ مزید زوال کا ہی سبب بنے گا جیسا کہ بن رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ ادارے فعال ہونگے تب ہی مذہبی ہو یا معاشرتی ہر قسم کی انتہا پسندی کو زیر کیا جا سکے گا ۔۔۔۔

Monday, January 4, 2016

پردیس

پردیس

شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردیس ایک  لفط ہے یا ایک اصطلاح ۔  آج ایک  دوست کی والدہ کے انتقال کی خبر سن کر میں ان کی تعزیت کے لیے گیا ۔ کچھ دیر بیٹھا ۔ دو چار باتیں کی ۔۔ پھر اجازت لے لی ۔ واپس آتے ہوئے راستے میں  ، میں سوچنے لگا ۔ کہ پردیس کیا ہے ؟  دماغ نے غورو فکر شروع کی  ، ایک لفظ سامنے آیا " موجد "  جسکا مصدر ایجاد ہے ۔ اس لفظ کو سنتے ہی  کیا خیال آتا ہے ؟ یہی کہ بنانے والا ، ایجاد کرنے والا ۔
مزید غور کیا ۔ ایجاد کی حقیقت کیا ہے ؟
جواب ملا ۔ "وجد " سے نکلا ہے جو کہ عربی لفظ ہے ۔ اور اس کے معنی ہیں پانا ۔ حاصل کرنا ۔ یعنی کے ۔ " موجد" درحقیقت پانے والے کو کہتے ہیں ۔۔ کیا پانے والا ؟
گراہم بیل " ۔۔ ٹیلیفون پانے والا تھا ؟ نہیں وہ اس حقیقت کو پانے والا تھا یا اس علم کو پانے والا تھا جس کے ذریعے سے اس نے دنیا کو ٹیلیفون سے روشناس کرایا ۔ جی ہاں ۔ یہ عقل ہے جسے اللہ نے انسان کو تفویض کیا ۔ اور اسے اسی لیے  افضل کیا کہ وہ غورو فکر کرے ۔
خیال آیا ۔۔ ایک لفظ " پردیس " پر غور کرنے پر ۔۔ لفظ " ایجاد" ملا ۔۔ مزید غور کرنے پر ۔۔ لفظ " ایجاد " کی حقیقت سامنے آئی ۔۔۔ اور  قرآن  کریم جو اللہ جل شانہ کا کلام ہے ۔۔  اگر اس پر اسی طرح غورو فکر کیا جائے تو ۔۔ آج کا انسان کیا کچھ پالے  ؟
بہر حال بات پردیس سے  نکلی تھی ۔ لفظ پردیس بھی ایسی ہی ایک اصطلاح ہے ۔۔۔ جس کا پس منظر مختلف تہذیب و تمدن میں مختلف ہو سکتا ہے ۔  خصوصا ۔ مشرق وسطی کے ممالک  کے پردیسی ۔ عموما " چھڑے " یا " علامتی رنڈوے (متبادل لفظ مجھے نہیں معلوم )" ہوتے ہیں  ۔ مختلف ممالک سے  روزی کی تلاش میں یکجا ہوتے ہیں ۔  ان کے  مسائل بھی عموما یکساں ہی ہوتے ہیں ۔   ویسے تو انسان دنیا میں کہیں بھی کسی بھی حال میں ہو ۔ مسائل کے بنا زندگی  ممکن نہیں ۔۔
انسان مسائل  و غموں کی کیفیت مین اکثر غورو فکر سے عاری ہوجاتا ہے ۔۔۔ اس کی وجوہات پر مین نہیں جاتا ۔۔   اگر انسان "کرب " کے لمحات میں ۔۔ ذرا ۔۔ اپنے ذہن کو ۔۔ متحرک کرے ۔۔ تو اس کے سامنے ۔۔ اللہ جل شانہ ایسے ایسے در ۔۔ وا ۔۔ کر دیتا ہے ۔۔ کہ انسان خود حیران ہوا جاتا ہے ۔۔۔  اسی طرح پردیس بھی ایک ۔۔۔ انسٹیٹیوشن ہے ۔۔۔۔۔ جہاں انسان کو حقیقی زندگی سے واسطہ پڑتا ہے ۔۔  اگر وہ چاہے تو اپنے دل کو مایوسی  و کم مائیگی کی آماجگاہ بنا لے ۔۔۔ یا  ۔۔ اس موقع سے فائدہ اٹھالے ۔
درد  و الم ۔۔۔۔ کرب و اذیت ۔۔ کے بنا تخلیق کا عمل مکمل نہیں ہوتا ۔۔

Thursday, September 3, 2015

عقل انسانی اور سماج

عقل انسانی اور سماج ۔۔۔

شہیر شجاع

باپ اپنے بچے کو شرارت ، نافرمانی پر کیوں  تنبیہہ کرتا ہے ؟
ماں جیسی   حساس  و محبت سے بھری ہستی ۔۔۔ اپنی اولاد پر ہاتھ کیونکر اٹھا لیتی ہے ؟
محبت کا عنصر محض مرضی کی اجازت ہی نہیں ، غلطی و  کوتاہی پر سزا  کی بھی محرک ہے ۔۔ جزا و سزا کو گر حذف کردیا جائے تو نفس انسان بیباک ہوجاتا ہے ۔  اس بیباکی کا خوف والدین کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہر ممکن طریقے سے راہ راست پر رکھیں ۔  جو انہیں  اپنا مستقبل روشن  بنانے میں کارآمد ہو ۔۔ اور وہ اپنی اولاد کو کامیابی و کامرانی کی منازل طے کرتا دیکھیں ۔ ان کے اخلاقی کردار کی تحسین ہو ۔
جہاں والدین میں یہ خوف ناپید ہوجائے وہاں   نسل انسانی  کے فیصلے  ان اذہان  کے ذریعے برپا ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔ جن کے تجربات  محض جذبات ہوتے ہیں ۔ تدبر تک ان کی رسائی ابھی کافی بعید ہوتی ہے ۔ اور پھر ایسے سانحات رونما ہونے لگتے ہیں جیسے کہ چند دن پیشتر  ہم نے  ایک قتل اور ایک خودکشی کی صورت میں دو بچوں کی لاشیں  خون میں لت پت دیکھیں ۔ 
ہم کسی بھی واقعے کو محض  معمولی یا اپنی ساخت کا     لاشعوری واقعہ کہہ کر درگزر نہیں کر سکتے ۔۔ بلکہ ہمیں اس کے محرکات پر غور کرنا ہوگا ۔ ان عوامل کو نشان زد کرنا ہوگا ۔۔ جن کے اثر سے انسان متاثر ہو کر " بیباکی " کے منازل طے کرجاتا ہے ۔۔ صحیح و غلط کی قید سے نکل کر ۔۔ اپنی ہی عدالت میں فیصلہ سناکر حق و باطل  کی حدود طے کرتا ہے ۔ 
آج ہم  کسی بھی واقعے کو  جانچنے کے لیے عموما دو  طرح کے کلام استعمال کرتے ہیں ۔۔
الزام  در مذہب
الزام در سیاست
جس طرح ۔۔۔ مسلمان کا طرز عمل اسلام کو برا بھلا کہنے پر دال نہیں ۔۔۔ اسی طرح سیاسی عوامل کا طرز عمل سیاست کو برا بھلا کہنے پر دال نہیں ۔۔
ہاں ایک " سوچ" ہے ۔۔۔۔ جو تواتر سے پروان چڑھ رہی ہے ۔۔۔  جسے  ہم ۔۔۔ مذہبی و غیر مذہبی سوچ کہہ سکتے ہیں عام زبان میں ۔۔۔۔ یا دانشورانہ طرز پر ۔۔۔  قدامت پسند  اور لبرل ۔۔
اگر آپ طرز معاشرت میں مذہب کے کردار کی بات کریں گے ۔۔۔ تو ۔۔ قدامت پسند کہلائیں گے ۔۔
اگر آپ معاشرے سے مذہب کو خارج کردیں ۔۔ اور سماجی پہلووں  پر عقلی دلائل کی بات کریں تو لبرل کہلائیں گے ۔۔۔
اگر سماج ۔۔۔ عقل  سے تشکیل پا سکتا  ۔۔ تو مذہب  کا دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے ذریعے سے  بھیجنے کا تصور ۔۔ کیا لایعنی تھا ؟
انسان   کی فطرت اجتماع ہے ۔۔ اور اجتماع ہی سماج  ہے ۔ اور اس اجتماع  کی اخلاقی قدروں کا کوئی نہ کوئی محرک تو ہوگا ؟
کیا وہ محرک انسانی عقل ہے ؟
یا وہ   اس انسان کے تخلیق کار کی جانب سے عطا کی گئی ہے ؟
اگر انسانی عقل کو  کامل تسلیم کر لیا جائے تو ۔۔۔  یہ انسانی عقل ہی ہے ۔۔۔ جو بتوں کو خدا بنا لیتا ہے ۔۔۔ گائے کی  انسان کے لیے قربانی سے متاثر ہو کر اسے  پوجنے لگتا ہے ۔۔۔  اپنے نفس کی تسکین کے لیے نت نئے طریقے ڈھونڈ کر اسے سماج کا حصہ بنانے کی تگ و دو بھی اسی عقل انسانی کا شاخسانہ ہے ۔۔
محبت و عداوت  میں انسان تو اکثر عقل سلیم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔۔۔ 
پھر  یہ حد کیونکر  بنا مذہب و آسمانی کتب  کے طے ہوسکتی ہے ؟  
انسانی عقل  بذات خود کسی نتیجے پر پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔۔۔ مگر یہ کہ اسے راستہ بتا دیا جائے ۔۔ پھر اس کی " طلب " اسے منزل تک پہنچاتی ہے ۔۔۔ 
یہ دو  معصوم  بچوں کا واقعہ معمولی نہیں ہے ۔۔۔۔ اس میں غور و فکر کے کئی باب کھلتے ہیں ۔۔ گر غور کرنا چاہیں ۔۔  اللہ جل شانہ ان معصومیں پر رحم فرمائے ۔۔۔

Thursday, May 7, 2015

ایک گزارش



ایک گزارش 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی پارٹیز کو سپورٹ کرنے کے کئی پیمانے ہیں ۔۔۔۔ جیسے ۔۔
ذاتی مفاد ۔۔۔۔ مذہبی مفاد ۔۔۔ لسانی مفاد ۔۔۔۔۔  اور بھی ہونگے ۔۔۔ لیکن جو سب سے اہم ہے ۔۔ وہ قومی مفاد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کا سیاستدان بڑی ہی بے باکی سے کچرا کرتا ہے ۔۔
دراصل اس تمہید کا مقصد ہے ۔۔۔ کہ بحیثیت مجموعی ۔۔ جو عام سیاسی سپورٹر ہے ۔۔۔۔۔ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو چاہتا ہے تو ۔۔ اس کے پیچھے ایک ہی مفاد ہوتا ہے جو " قومی مفاد " ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ ہر ایک کا حق ہے کہ وہ اپنی سوچ و پرکھ کے مطابق کسی بھی جماعت کو سپورٹ کرے اور اس سے توقعات باندھے ۔۔۔۔ یہان تک تو ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن جب بات ۔۔ اختلاف کی آتی ہے تو ۔۔ رویہ جارحانہ تشکیل پاتا ہے ۔۔ اور سب آپس میں ۔۔۔۔ ایک دوسرے کے لیے نفرتوں کے بیج بوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں اس نفرت کے کھیل سے باہر آنا چاہیے ۔۔۔
کسی بھی جماعت کے سپورٹر کو محض اس وجہ سے کہ وہ ۔۔ میری جماعت کا سپورٹر نہیں ہے ۔۔۔ سو کم عقل ہے یا ۔۔ کم ظرف ہے یا ۔۔۔ وطن کا غدار ہے ۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔ اس قسم کی سوچ صرف نفرتوں کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہیں ۔۔
اس فضا سے کیسے باہر آیا جائے ؟؟ رویہ کیسے تبدیل ہو ؟
اس کی ایک ہی صورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تنقیصی نظر کو ترک کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ اور تنقیدی نظر سے ہر اس کام کو دیکھنا ہوگا جو عمل پذیر ہو رہا ہے یا ہوچکا ہے یا ہونے جا رہا ہے ۔۔ خواہ وہ کسی بھی جماعت کے  تصرف میں ہو رہا ہو ۔۔۔ 
اگر مخالف جماعت   کے کسی غلط رویے کی تنقید کرنا ہو تو ۔۔۔۔۔ رویہ اختلاف رائے والا اپنایا جائے ۔۔ نہ  کہ چیف جسٹس آف پاکستان ۔۔ بن کر فیصلہ  صادر کریں ۔۔
ذاتی نوعیت  کے اختلاف میں حد درجہ احتیاط ہو ۔۔۔۔
ذمہ داری کا احساس ہونا حد درجہ اہم ہے ۔۔۔۔۔۔۔   انسانی عمل ۔۔ کبھی بھی مکمل نہیں ہوتا ۔۔ اس میں  کمی بیشی کا امکان موجود رہتا ہے ۔۔۔۔۔  سو  اگر ہم واقعتا قومی مفاد میں ۔۔  اپنے اپنے نظریات کے مطابق ۔۔ سیاسی پارٹیز  کے جھنڈے کو پسند کرتے تو ہوں ۔۔ لیکن ان سب کو چھاوں ۔۔ سبز ہلالی پرچم سے پہنچ رہی ہو ۔۔۔  تو ہی اختلاف و  اقرار کا حق ادا ہو ۔۔۔۔

شخسیات و نظریات اور تربیت



محمد شہیر شجاع
؎
شخصیت پرستی کا طعنہ دینے کا رواج چل پڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد رہے ۔۔۔ چے گویرا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منڈیلا ۔۔۔۔۔۔ کارل مارکس ۔۔۔۔ قائد اعظم محمد علی جناح ۔۔۔۔ گاندھی جی ۔۔۔۔۔۔۔ ودیگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو لوگ جانتے ہیں ۔۔۔۔
مگر ان کے ساتھ کون لوگ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔۔
لیاقت علی خان شہید کے ساتھ بھی کچرے کا ڈھیر موجود تھا ۔۔۔ مگر سب قائد ملت کو دیکھتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر شخصیات سے نکل کر نظریات کی کی تکمیل کی طرف جانا ہے تو ۔۔ تربیت بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ کوئی ایک ابھرتا سورج ہوگا ۔۔ اور ہم اس کے پیچھے پیچھے ۔۔۔ جو وہ نظروں سے اوجھل ہوا ۔۔ پھر تاریکی کا دھارا ۔۔

Monday, May 4, 2015

معاشرتی ترقی ۔۔۔۔۔



معاشرتی ترقی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 شہیر شجاع

معاشرہ کئی اکائیوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے ۔۔۔ جس کی ایک بہت ہی بنیادی اکائی ۔۔ مساوات ہے ۔۔۔۔ مساوات کے ضمن میں ۔۔ محنت کش طبقے کی بات کرنا چاہوں گا ۔۔ جسے دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔۔۔ جس کی مزدوری  کے لے سیاستدان سڑکوں پر نکلتا ہے ۔۔ دین اس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے اس کے مزدوری ادا کر دیے جانے کا حکم دیتا ہے ۔۔۔۔ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔ ایک محنت کش کے کھردرے ہاتھوں کو محسوس کر کے چوم لیتے ہیں ۔۔۔   جس کی محنت کے بل بوتے پر انجینئر اپنی تخلیق کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتا ہے ۔۔۔۔ بہر حال یہ ایک سب سے مضبوط اور قابل فخر اکائی ہوتی ہے ۔۔۔ 
ہم معاشرتی اصلاح ۔۔ کی تو خوب باتیں کرتے ہیں ۔۔ لیکن وی آئی پی کلچر  پر شاذ و نادر ہی گفتگو ہوتی ہے ۔۔ کیونکہ تکبر ہم میں رچا بسا ہے ۔۔۔  چپراسی  کو ہمارا معاشرہ جزوقتی غلام کا مقام دیتا ہے ۔۔ جبکہ وہ محنت کر کے حلال روزی کما رہا ہے ۔۔۔ اسی طرح اس معاشرے میں کئی ایسے کردار ہیں ۔۔ جو " کمینے " کہلائے جاتے ہیں ۔۔۔
میں ایک کمپنی میں ملازمت کیا کرتا تھا ۔۔ رمضان کا مہینہ تھا ۔۔ پوری کمپنی میں ایک ہی لوڈر تھا ۔۔ اور دو ڈپارٹمنٹ تھے ۔۔مختصر یہ کہ ۔۔۔ اس سے زائد کام لینے پر میں نے احتجاج کیا تو ۔۔ میرے مینیجر نے مجھے جواب میں کیا کہا " ۔۔۔۔ یہ کہ ۔۔۔۔ پورے ملز ایریا میں جا کر دیکھ لو ۔۔۔ سب سے زیادہ میں ہی تنخواہ دیتا ہوں ۔۔۔
پتہ ہے کتنی ؟
پورے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو ہزار پانچ سو ۔۔
آآآآآآآاااہ ۔۔۔
یہ دس سال پرانی بات ہے ۔۔۔ پر دو ہزار پانچ سو کی اس وقت بھی کیا اوقات ہوگی ۔۔ جب حکومت کی طرفسے کم سے کم تنخواہ چھ ہزار مقرر تھی ۔۔
میری ان صاحب سے خوب نوک جھونک ہوئی بالآخر  پیر پٹختے مجھے واپس آجانا پڑا ۔۔
سوچتا ہوں ۔۔۔ یہ جو بڑے بڑے افسان ہیں ۔۔( ہمارے معاشرے میں تو ۔۔ بہت ہی بڑے کہلائے جاتے ہیں ناں ) جن کو چائے پینی ہو تو غلام کو آواز دے دی ۔۔۔ جوتے پالش کرنے ہوں ۔۔ تو غلام کو آواز دے دی ۔۔۔ کپڑے استری کرنے ہوں ۔۔۔ تو  خاص دھوبی ۔۔۔۔۔
یوں محسوس ہوتا ہے ۔۔ جیسے ہمارے معاشرے میں ۔۔۔ محنت کش طبقہ ۔۔۔ ان افسران بالا کی غلامی کے لیے پیدا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔ جن کی قدر ۔۔۔ کھوٹے سکے کی ہے ۔۔۔
اور سڑکوں پر سیاستدان محنت کش طبقے کے لیے آواز بلند کرتا  لاوڈ اسپیکر پھاڑ ڈالتا ہے ۔۔۔ اور ڈائس سے اتر کر ۔۔ ایک غلام آتا ہے  ۔۔ صاحب کا پسینہ صاف کرنے ۔۔۔

Thursday, April 30, 2015

متحدہ قومی موومنٹ



متحدہ قومی موومنٹ
۔۔۔۔۔
شہیر شجاع۔۔۔

پاکستان تو نظریاتی تناظر میں وجود میں آیا ۔۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ۔۔۔۔۔۔ غیر نظریاتی ہاتھوں میں اس کی پرورش ہونے لگی ۔۔۔  جس نے نہایت ہی آہستہ
آہستہ ۔۔ اپنے قدم جمائے ۔۔ اور انسانوں کو مختلف نظریاتی وجود مہیا کر دیا ۔۔۔  جن کا سہا را لیکر ۔۔ بہت ساری تنظیموں  نے اس معاشرے میں  سر ابھارا ۔۔۔۔ ان میں ایک
مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے بھی ایک تنظیم ہے ۔۔
بلاشبہ یہ لوگ اس سرزمین سے محبت کرنے والے لوگ  تھے ۔۔۔ ہجرت کر کے آئے تھے ۔۔ اپنا گھر بار ۔۔ مال اسباب سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے تھے ۔۔ ویسے تو پورے
پاکستان میں ہی ہند سے ہجرت کر کے مسلمانوں نے ۔۔  پاکستان کا رخ کیا ۔۔ لیکن ان کا قصور یہ تھا کہ یہ اردو بولتے تھے ۔۔۔ جس بنا پر یہ مہاجر کہلائے ۔۔ بقیہ لوگوں کو ۔۔ ان
کی زبان کی مناسبت سے اپنی شناخت میسر آگئی ۔۔۔
لہذا ۔۔۔ یہ مہاجر ۔۔ بالواسطہ اجنبی ٹہرے ۔۔۔ یہاں ویسے ہی نظریہ اپنا وجود کھو چکا تھا ۔۔ سو ان کے حقوق پامال ہونے لگے ۔۔ انہیں ۔۔ دھتکارا جانے لگا ۔۔  مختصر یہ کہ
۔۔۔ آخر کار ۔۔ انہوں نے اپنے وجود کی بقا کے لیے ہتھیار اٹھا لینے میں عافیت جانی کے وہی آخری راستہ بچ رہا تھا ۔۔
گر وہ یہ نہ کرتے تو شاید آج کی صورتحال کچھ اور ہوتی ۔۔۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ۔۔ اپنی روش اور اپنے کردار پر انہیں کام کرنا چاہیے تھا ۔۔۔ نہ کہ ۔۔ اسی ڈگر پر چلتے
رہتے ۔۔ اور جس کی جو مرضی آئی رگڑ دیتا ۔۔۔ ورنہ تقریبا تمام ہی سیاسی پارٹیز کے پاس عسکری ونگز موجود ہیں ۔۔۔
مختصر سی تمہید باندھنے کا مقصد ۔۔۔۔  جو ایک نیا ڈرامہ شروع ہوا ہے ۔۔ اس  پر  کچھ تاثرات بیان کرنے تھے ۔۔۔  بیشک ہم سب ہی جانتے ہیں ۔۔ پاکستان میں   سب سے بڑا
" کرپٹ " سے سے زیادہ " باعزت" ۔۔۔ اور سب سے بڑا " مجرم " سب سے زیادہ محترم ۔۔۔
تو کیا سارا زور صرف کراچی میں اپنا وجود رکھتی ۔۔ متحدہ پر ہی صرف کرنا ۔۔ دانشمندی کہلائے گی ؟
کہیں متحدہ نے اپنے آپ کو ۔۔۔ ان سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں ۔۔ کھلونا تو نہیں بنا رکھا ؟
جب کسی سیاسی تنظیم  کے برے حالات چل رہے ہوں ۔۔ متحدہ کے خلاف آپریشن کر دو ۔۔۔ اور اپنی ساکھ بحال کر لو ۔۔
اس سے نقصان کس کا ہوا؟ ہم عوام کا ۔۔۔
۔ کیوں ؟ ۔۔ متحدہ دودھ کی دھلی ہے ؟ ۔۔ کیا اس کے جرائم سے ہم آشنا نہیں ہیں ؟ ۔۔ بیشک آشنا ہیں ۔۔ اور سب جانتے بھی ہیں ۔۔
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی کوشش کی ۔۔۔ کراچی  کے لوگ متحدہ کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں ۔۔۔ ؟
 اور ان کا مسلسل ان پر اعتماد کرنا ۔۔۔ ان کی اپنی روش میں بھی
تبدیلی نہیں لے کر آرہا ہے ۔۔۔ اگر یہ سیاسی  غنڈے ۔۔۔۔ اس ملک سے مخلص ہوں ۔۔ تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں ۔۔۔ نہ صرف متحدہ ۔۔۔ پاکستان کی ہر جماعت
۔۔۔ صرف سیاست کرے ۔۔ بالائے سیاست ۔۔۔ کا سوچے بھی نہ ۔۔
ان تمام ڈراموں سے۔۔ فائدہ ۔۔ ایم کیو ایم کو ہی ہوتا ہے ۔۔ اس کے جو بھی جرائم ہوتے ہیں ۔۔۔ ان سے بھی یہ صاف ہوجاتے ہیں ۔۔۔ اور آئندہ اپنے آپ کو بدلنے کی
کوشش نہیں کرتے ۔۔۔ ورنہ ان میں اتنا پوٹینشل تو یقینا ہے ۔۔۔ جس طبقے کو عوامی نمائندگی ۔۔۔ ایم کیو ایم نے دی ہے ۔۔ اس کی مثال ۔۔ کسی بھی جماعت میں نہیں ملتی
۔۔۔ تحریک انصاف نے کوشش کی ۔۔ مگر کامیاب نہ ہوسکی ۔۔
اگر یہ سیاسی غنڈے ۔۔ واقعتا " ملکی مفاد" سے وابستہ ہیں تو ۔۔۔ اس روش کو بدلیں ۔۔۔ اب ان ڈراموں سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...