Showing posts with label اسلام. Show all posts
Showing posts with label اسلام. Show all posts

Sunday, March 12, 2017

پسند کی شادی اور لبرل ذہن

پسند کی شادی اور لبرل ذہن
شہیر شجاع
پسند کی شادی پر دو پیپلز پارٹی کے وزرا آپس میں مرنے مارنے پر تیار کھڑے ہیں ۔ دونوں مختلف قبائل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ لیکن ان کی جماعت پیپلز پارٹی ہے ۔ اور پیپلز پارٹی لبرل نظریے کی علمبردار بھی ہے ۔ جیسے ہی معاملہ اپنی ذات تک آیا سارا لبرل ازم رفو چکر ہوگیا ۔  دونوں قبائل جن کے دو افراد  اسمبلی کے ممبر ہیں ۔ جو پچھلے دنوں قبول اسلام جیسے مسئلے پر قانون سازی کر رہے تھے ۔ ان  کی پسلی  سماجی روایت کے سامنے ٹوٹ گئی ۔ اور اسلام پسندوں کو رجعت پسندی کا طعنہ دیتے نہیں تھکتے ۔  یہ ایک ایسا عبرت ناک واقعہ ہے ان کے لیے  جو سماجی روایتوں ، اور معاشرتی طور اطوار کو مذہب سے جوڑ کر مذہب کو تختہ مشق بنائے رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔  مذہبی نقطہ نظر جو بھی ہے سو ہے ۔ اس تک تو معاشرہ آج تک پہنچ ہی نہیں پایا ۔  کیونکہ اس سے پہلے اسے سماجی روایتوں کو بھی الانگنا ہوتا ہے جس کی جرات کرنا عموما ناممکن ہوتا ہے ۔ مذہب سے لاتعلقی  کے بہت سارے نقصانات کا اس سماج کو سامنا ہے اس کے باوجود ہر لبرل ذہن، ہر مشکل کا تانہ بانہ مذہب سے جوڑنے کا قائل رہتا ہے ۔ کیونکہ سیکولر معاشرے کی مادر پدر آزادی عام ذہن کو زیادہ متاثر کرتی ہے ۔ سو وہ اس مملکت خداد کے اسلامی مملکت ہونے کو ان تمام الجھنوں کا باعث گردانتا ہے ۔ اور ہر برائی کی جڑ لفظ " مذہب " سے جوڑنے پر ذرا تامل نہیں کرتا ۔ بہتر ہوتا کہ اس متذبذب پراگندہ شعوری دور میں ہم اپنی جڑ ، اپنی بنیاد یعنی مذہب جو  ہمارا نصب العین اور ہماری زندگی کا منشور بھی ہے اس جانب لوٹتے مگر جو لوٹنا بھی چاہتا ہو اسے بھی متنفر کرنے پر مصر ہیں ۔ لبرل کا لفظ ہی اعتدال پسندی کا اظہار ہے مگر اس کے پس منظر میں چھپی منافقت جلد سمجھ نہیں آتی یہاں تک کہ ذہن پر ایک دبیز تہہ چڑ چکی ہوتی ہے ۔ آنکھوں میں ایک خاص عینک براجمان ہوچکی ہوتی ہے ۔

Tuesday, February 21, 2017

علماء سے تنافر کے بعد سیکولر ازم کا نعرہ

علماء سے تنافر کے بعد سیکولر ازم کا نعرہ
شہیر شجاع
علماء سے اس قدر تنافر پھیلادیا گیا ہے جس وجہ سے لوگوں میں اسلام سے ہی دوری پید اہوگئی ہے ۔اور علماء کے لیے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کا  اصل مقصد یہی ہوسکتا ہے کہ اسلام سے ہی دور کردیاجائے ۔ شرعی احکام و مسائل کو ہر کس و ناکس  نے یوں سمجھنا شروع کردیا ہے جیسے کسی ادبی شعر و نثر کی تشریح قاری اپنے فہم و ادراک و تجربات کی روشنی میں کرتا ہے ۔ اکثر وبیشتر "جدید تعلیم یافتہ حضرات" کی جانب سے ایسی تشریحات سننے میں آتی رہتی ہیں ،  جن میں اجتہاد کو  شرع سے ہٹا کر انسانی عادت  پر قیاس کر لیا گیا ہو ۔ ایسا ہی ایک واقعہ کسی صاحب کی تحریر میں نظروں سے گزرا۔فرماتے ہیں " میں حج پر گیا تو احرام باندھ کر اپنا "انڈر گارمنٹ " نہیں اتارا ۔ کیونکہ اس کو اتارنا میری عادت کو گوارہ نہیں ۔ " الفاظ مجھے مکمل یاد نہیں مگر اجتہاد کو لیکر یہی ان کا مدعا تھا کہ وہ بھی اجتہاد کے مکلف ہیں ۔ محض علماء کرام ہی ٹھیکیدار نہیں ہیں ۔ شاید یہ بتانا چاہ رہے ہوں کہ ان کی حیاء آڑے آگئی ۔اسی تحریر میں یہ بھی فرمایا کہ انڈر گارمنٹ وہ صرف سوتے وقت بدلتے ہیں ۔  ۔ جبکہ ہم نے اکابرین کی روداد سنی ہے جہاں وہ غسل کے دوران بھی اپنی شرمگاہ  کے گرد کپڑا لپیٹ  لیا  کرتے تھے ۔ کیا حیاء کے پیکر تھے ۔ اور یہاں حج کے دوران ان کی حیاء نے انہیں "اجتہاد " پر مجبور کردیا ۔
أيحسب الإنسان أن يترك سدى
ترجمہ : کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اس کو بے کار چھوڑ دیا جائے گا ؟
سورۃ القیامہ آیت 75
سدی کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں ۔۔ اس شخص کو کہتے ہیں جس کو نہ کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جائے نہ کسی امر سے روکا جائے ۔۔
امام شافعی رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں مزید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو جائز نہیں کہ وہ اپنے جی سے کچھ کہے ۔ یا اپنی پسند کا اظہار کرے یہ سب سے بڑی بدعت ہے ۔  بلکہ نصوص سے استدلال کرے ۔(کتاب الرسالہ)  امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں  میں  اس وقت تک اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتا یہاں تک کہ اس مسئلے میں کوئی ضعیف حدیث ہی کیوں نہ مل جائے ۔ میری رائے کے مقابلے میں وہ ضعیف حدیث معتبر ہے ۔  ( اس کا حوالہ مجھے یاد نہیں )
علماء سے متنفر ہونے کا سب سے بھیانک نتیجہ جو نکلا وہ یہ کہ عوام نے مسجد کو صرف نماز پڑھنے کے مقام کا درجہ دے دیا اور امام و معلم سے کنارہ ہوگئے ۔  یہاں تک کہ شرعی علوم کی کتب کا درجہ ناقابل قبولِ مزاج قرار پاگیا ۔ جب علم سے ہی  ناآشنائی ہوگی تو عالم کی کیا پہچان ہوگی ؟ یوں معاشرہ درجہ بدرجہ دین سے دور ہوتا گیا اور لادینی "خوش کن نظریات" کے سحر میں گم ہوتا گیا ۔  اور پھر یہ وقت آیا کہ ریاست کے بیانیے سے مذہب کا باب ہی ختم کردینے کا نعرہ بلند ہوا اور " لبرل ازم و سیکولر ازم " کے نظریے کو تقویت ملی ۔ آج " ملائیت " کو مغربی " پاپائیت" کا ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اس  نظریے کی قبولیت کہ وجہ بھی درحقیقت حد سے زیادہ پھیلائی گئی نفرت ہے ۔ ورنہ ہمارے معاشرے کی آج بھی شان بہترین علماء ہیں ۔ جو یکے بعد دیگرے رخصت بھی ہوتے جا رہے ہیں مگر چونکہ ہمیں ان کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ۔ ہم تو " ملائیت " کے نعروں کی زد میں ان کی پہچان ہی کھو چکے ۔ ان سے استفادہ کیا کریں گے ؟   سو دین  کا مذاق اڑانا بھی عادات میں شامل ہوتا جا رہا ہے ۔  جبکہ اللہ جل شانہ نے  شعائر اسلام کی توہین کی سختی سے ممانعت فرمائی ہیں ۔  سوا اب  جبکہ لوہا گرم ہے خصوصا تعلیم یافتہ طبقہ دین سے متنفر ہوچکا ۔ اب مکمل طور پر عوام کی زندگی سے دین کو نکال دینے کا وقت آپہنچا ۔ اور سیکولر ریاست کا نعرہ شدو مد سے در و بام میں گونج گیا ۔ کیا انسان اس قدر بھی  اپنے شعور سے لا تعلق ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ جل شانہ کی حاکمیت اعلی کا ہی منکر ہوجائے ؟ زبان سے  تو ہم کئی  ہندوں پنڈتوں سے لیکر نصاری   سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ستائش سنتے رہتے ہیں ۔ کیا یہ ان کے ایمان کے لیے کافی ہے ؟ علم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو خیر و شر کی تمیز میں معاون ہے ۔ اس کے لیے علماء سے تعلق کو از سر نو استوار کرنا ہوگا ۔ عقیدت عالم سے نہیں علم سے بنانی ہوگی ۔ تاکہ منبر پر اس کا صحیح حقدار ہی پہنچ سکے ۔  اور علم و حکمت سے تعلق ایک مرتبہ پھر تعمیر ہو ۔  سیکولر و لبرل ، محبت و آزادی جیسے خوش کن نعروں  کے لبادے میں لپٹے زہر کی پہچان ہو ۔
  

Sunday, March 13, 2016

ان لوگوں کے لیے جو ریاست کے مذہبی بیانیے کو غلط سمجھتے ہیں ۔۔

ان لوگوں کے لیے جو ریاست کے مذہبی بیانیے  کو غلط سمجھتے ہیں ۔۔ 

شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ واقعہ بھی اسی  شخص کا ہے جو ہندو ازم سے متنفر ہو کر ۔۔ کرسیچینٹی کی پناہ میں آگیا ۔۔۔ اس کا تعلق ہند سے ہے ۔۔ جو کہ ہندووں کی کسی نچلی ذات سے تعلق رکھتا تھا ۔۔ کرشچینیٹی قبول کرنے کے بعد اسے گاوں چھوڑنا پڑا ۔۔۔ مگر جو گاوں اب اس کو میسر آیا وہ دو سو گھروں کا گاوں ہے اور ساری آبادی ہندووں کی ہے ۔۔۔ صرف یہ ایک خاندان کرسچئین ہے ۔۔۔۔  
کہتا ہے ۔۔۔ میرے والد کا انتقال ہوا ۔۔۔ تو ان کی آخری رسومات کے بعد ۔۔۔ قبرستان لے جایا گیا ۔۔ جو کہ ہندووں کا تھا ۔۔ وہ لوگ اس میت کو دفن کرنے  پہ مانع ہوگئے ۔۔۔ کہان ان کا یہ تھا کہ ۔۔۔ چونکہ یہ میت ایک مسلمان کی ہے ۔۔ اسے ہم یہاں دفن ہونے نہیں دیں گے ۔۔۔  یعنی وہ غیر ہندوں کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں ۔۔۔ دونوں طرف سے گفت و شنید جاری رہی ۔۔  اتنے میں  اس کو اپنے سیل فون کا خیال آیا جس میں اس کے پادری صآحب نے ایک نمبر دیا تھا کہ اگر کوئی اس قسم کی پریشانی ہو تو کال کر لے ۔۔۔ اس نے اس نمبر پر کال کی ۔۔ اور صورتحال سے آگاہ کیا ۔۔۔۔ آدھا گھنٹہ نہیں گزرا تھا کہ ۔۔ پولیس کی گاڑیاں نمودار ہوئیں ۔۔ اور آنا فانا ۔۔ ساری صورتحال کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔۔ اور مکمل احترام کے ساتھ میت دفنائی گئی ۔۔۔۔  جی ہاں وہ کال امریکن ایمبیسی کو کی گئی تھی ۔

Tuesday, March 8, 2016

ہمارا معاشرتی رویہ از مذہبی اختلاف



ہمارا معاشرتی رویہ از مذہبی اختلاف

شہیر شجاع

ڈاکٹر  حسن ترابی انتقال فرما گئے ۔۔۔ اللہ جل شانہ غریق رحمت فرمائے ۔۔  ایک بات اکثر ذہن کو پریشان کرتی ہے کہ ۔۔۔ یہ کفر و ضلال کے فتوے زبان زد عام کیوں ہوجاتے ہیں ؟ ڈاکٹر مرحوم کے علمی و فکری خیالات نظر سے گزرتے تھے ۔۔۔ آج مزید کچھ جاننے کا موقع ملا ۔۔۔۔ وہ بھی ایک عالم تھے مفکر تھے ۔۔ اور مجتہد تھے ۔۔۔۔۔ اک بات سمجھ آگئی ۔۔ جس کی تکرار ہر معتدل علماء کیا کرتے تھے اور ہیں اپنے خطابات میں ۔۔ کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں دوسروں کا مسلک چھیڑو نہیں  ۔۔۔۔ اس وقت اس کے مفہوم کچھ اور سمجھ آیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔ پر مفہوم اب جا کر واضح ہوا ۔۔۔ مسلک سے مراد ۔۔ فرقہ یا جماعت بندی نہیں ۔۔۔ بلکہ ۔۔۔ وہ علمی وضاحت ہے جس پر ہم عمل پیرا ہوتے ہیں ۔۔۔ بعینہ وہی مسئلہ کسی دوسرے عالم کے نزدیک ۔۔۔ کسی اور پیرائے سے واضح ہو سکتا ہے ۔۔ا ور اس کا عمل جدا ۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے جو اجتہاد کیا ۔۔ وہ غلط کیا ۔۔۔ وہ بھی عالم ہے ۔۔ اس کی اپنی فکری صلاحیتیں ہیں ۔۔۔ اب جس کا دل چاہ وہ ان کی پیروی کر لے نہ چاہے تو ترک کردے ۔۔۔۔ چہ جائیکہ ۔۔۔ ان افکار کی بنا پر ۔۔ ان کی ذات کو نشانہ بنانا شروع کردے ۔۔۔ جس کا معاشرہ یا تہذیب روادار نہیں ہو سکتی ۔۔ اور انتشار جنم لیتا ہے ۔۔۔۔ اسلام بہت ہی سہولت کا دین ہے ۔۔۔۔ ہر مجتہد کے اجتہاد کی غلطی پر بھی ایک نیکی کا فرمان ہے ۔۔۔ تو پھر یہ گولہ باری کی فضا کیوں ؟
اتنی آسان سی بات ہے ۔۔۔۔ اپنا مسلک چھیڑو نہیں ، دوسروں کا چھیڑو نہیں ۔۔ یعنی میں جس علمی تعبیر پر عمل پیرا ہوں ۔۔ وہ جاری رکھوں ۔۔ دوسرے کے پاس کوئی اور تعبیر ہے تو ۔۔ وہ اپنا عمل کرتا رہے ۔۔۔ اس کے عمل سے مجھے کیا سروکار ؟ ہماری توجہ تو اخلاقی ذمہ داریوں کی طرف ہونی چاہئیں ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...