Showing posts with label افسانہ. Show all posts
Showing posts with label افسانہ. Show all posts

Saturday, May 23, 2020

خوابوں کا کھڑاگ

شہیر شجاع

میں نے انجینئر بننا ہے ۔ میں تو ڈاکٹر بنوں گا ، نہیں بھئی میں تو اکنامکس پڑھوں گا کیونکہ بابا کہتے ہیں بڑے آدمی بڑا سوچتے ہیں۔۔ اور وہ چاروں زور سے ہنس پڑے ۔ اور میں پائلٹ بنوں گا ۔ ندیم جو خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا قہقہوں کے درمیان اپنےدل کی بات کہہ بیٹھا ۔ بھئی بڑے ٹھاٹھ ہوتے ہیں پائلٹ کے ۔ 

اکثر یہ دوست بیٹھے اسی طرح اپنے مستقبل کی پلاننگ کرتے اور دلوں میں امنگیں اور آنکھوں میں خواب سجائے اپنے اپنے گھروں کوروانہ ہوجاتے ۔ 

دن گزرتے گئے سب اپنی اپنی زندگیوں میں آگے بڑھتے گئے اور ندیم بھی کالج میں آگیا ۔ جہاں صبح و شام اسے اپنے خواب کی تکمیلکے لیے اچھے گریڈ کا ڈراونا بھوت دکھائی دیتا جسے اس نے مر کر جی کر حاصل کرنا تھا ۔ ورنہ اس کا اونچائیوں میں اڑنے والاخواب ادھورا رہ جاتا یہ خیال ہی اسے مایوس کردیتا ۔

ندیم ایک متوسط گھرانے کا فرد جہاں بمشکل گھر کے اخراجات پورے ہوتے ۔ اس کے آس پاس ماحول بھی حوصلہ افزا نہ تھا مگر وہیماحول اسے احساس دلاتا تھا کہ زندگی ان کوٹھیوں میں ہے ان محلؔوں میں نہیں ۔ اکثر اس موضوع پہ اس کی عرفان سے بحث بھیہوجاتی جو اس سے متفق نہیں تھا ۔ 

ندیم نے محنت جاری رکھی ۔ محرومیوں اور خواب کا تال میل اسے مزید قوت فراہم کرتا اور وہ منزل بہ منزل آگے بڑھتا گیا ۔ یہاں تککہ ایک دن جہاز کا کاک پٹ اس کے حوالے تھا ۔ اس دن تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔ اس کے والدین نے اس کے لیےخصوصی عبادتوں کا اہتمام کر رکھا تھا اس کے دو چھوٹے بھائی بہن بھی خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے کہ ان کے بھائی ابجہاز اڑائیں گے ۔ اس نے وردی پہنی اور والدین کی دعائیں لیتا ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو چھوڑتا نکل گیا ۔ 

وہی دن ہیں وہی موسم ہے مگر وقت بدل گیا ہے ۔ الارم کی آواز سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ شاور سے فارغ ہوکر اپنی وردی پہنی اسدوران وہ کوئی گیت گنگناتا رہا ۔ نیچے بیگم بیٹی ڈائننگ پہ اس کا انتظارکر رہے تھے ۔ 

پاپا پچھلی مرتبہ بھی آپ کا شیڈیول نہیں بنا تھا اور ہم کہیں گھومنے نہیں تھے ۔ اب پھر میری چھٹیاں ہونے والی ہیں ۔ اب تو آپ کےبہانے نہیں چلیں گے ۔ 

سدرہ جو دل میں غصہ لیے بیٹھی تھی ۔ پاپا کو دیکھ کر نکال بیٹھی ۔

ٹھیک ہے بیٹا میں ابھی سے چھٹیوں کی درخواست دے دیتا ہوں ۔ ویسے بھی ہمارے جہاز آج کل ٹھیک نہیں رہتے ۔ کسی طرح چھٹیاںپکی کرلوں تو ہم چلتے ہیں کہیں باہر ۔

میں تو پیرس جاوں گا ورنہ میں نہیں جاوں ۔ 

بیگم کی تو لاٹری نکل پڑی ۔

ندیم کا قہقہہ بلند ہوا ۔ ہاں ٹھیک ہے پکا ۔

اس نے منہ پونچھا ، بیٹی کو پیار کیا بیگم کو الوداع کہا ۔ اور باہر گاڑی اسٹارٹ کی اور ائر پورٹ کے جانب روانہ ہوگیا ۔ 

باہر موسم بہت سہانا تھا ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے ۔ صاف ستھری سڑکیں ۔ دونوں جانب خوبصورت بنگلے ، ہلکی پھلکی ہریالی اسنے گاڑی کا سی ڈی پلئر آن کردیا ۔ موسم اور موسیقی کے امتزاج سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ائر پورٹ پہنچا ۔ 

اس کا عملہ مستعد تھا اور وہ کاک پٹ میں بیٹھا مستقبل کی منصوبہ بندیاں کر رہا تھا ۔ 

کئی مرتبہ اس نے اپنے عہدیداران سے شکایت کی تھی کہ جہاز میں تکنیکی مسائل ہیں پر انہیں اب تک مکمل طور پر درست نہیں کیاگیا تھا ۔ آج بھی ویسی ہی صورتحال تھی پر اب وہ عادی ہوگیا تھا ۔ خیال یہی تھا کہ جیسے پہلے سفر مکمل ہوتا رہا اب بھی ہوتارہے گا ۔ 

فلائٹ تیار تھی ۔ وقت مقررہ پر اسے سگنل ملا اور اس نے جہاز کو رن وے پہ سرکادیا ۔ اب وہ ہوا میں بلند تھا بظاہر سب ٹھیک تھا ۔ہزاروں فٹ کی بلندی میں اس کی معیت میں کوئی سو مسافر اور تھے جن کی آنکھوں میں کئی خواب انگڑائی لے رہے تھے اور انخوابوں میں ڈولتے اپنے آپ میں ہی وہ چشم تصور میں مسکراتے جو ان کی آنکھوں سے عیاں ہوجاتی ۔ ان سب نے مہنگا ذریعہ سفراختیار کیا تھا ، اسباب مختلف ہوسکتے ہیں مگر مقصد ایک ہی تھا کہ منزل پہ پہنچنا ہے ۔ یہ ذریعہ سفر ان میں اکثر کے اسٹیٹس کےلیے بھی ضروری تھا ۔ 

ندیم نے مسافروں کو بیلٹ باندھ لینے کا مشورہ دیا کہ اب بس وہ منزل مقصود تک پہنچنے لگے تھے ۔ سارے مسافروں میں خوشی کیلہر دوڑ گئی اور وہ بیلٹس باندھنے لگے ۔ پورے جہاز میں کھڑاک کی آواز گونج گئی ۔ 

ابھی یہ آوازیں خاموش ہی ہوئی تھیں کہ جہاز ڈگمگانے لگا اور گڑگڑاہٹ کی آواز سے جہاز لرزنے لگا ۔ جہاز ندیم کے قابو سے باہرہونے لگا تھا ۔ پہلے چھوٹے مسائل نے سر اٹھایا اور رن وے سے چند میٹر پہلے کے دونوں انجنوں نے کام کرنا بند کردیا ۔ جہاز میں اللہاکبر ، کلمہ طیبہ کی صدائیں اک خوفناک کرب کی آویزش کے ساتھ پھیلی ہوئی تھیں ۔ ندیم کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہورہی تھی ۔اس کی آنکھوں کے سامنے بیگم اور سدرہ کی تصویریں فلم کی طرح چل رہی تھیں ۔ 

اور ایک دھماکے کے ساتھ وہ ساری فلمیں ، وہ سارے خواب ، وہ ساری خواہشیں جل کر راکھ ہوگئی۔ ۔ 

خواب دکھانے والوں نے سو جانیں جلا کر راکھ کردی تھیں ۔ 

 

Saturday, March 10, 2018

پینٹنگ

پینٹنگ

شہیر شجاع

جمیل مسیح   ۔۔ ہمیشہ ہنتے مسکراتے رہنا ۔ خوش رہنا ، بلا کا ظرف پایا تھا اس نے ۔ وہ   مکینک تھا ۔ واشنگ مشین ، اے سی وغیرہ ٹھیک کرنا اس کا پیشہ تھا ۔ہم  ایک تھالی میں کھانا بھی کھاتے ۔ ایک ہی گلاس میں پانی بھی پیتے ۔ یہ میرے لیے انوکھا تجربہ تھا ۔ کیونکہ بچپن سے کچھ الگ ہی ذہن بنا ہوا تھا ۔ جس کے بالکل برعکس میں چل پڑا تھا ۔ وہ جس دکان پر ملازم تھا اس کا مالک عظیم بھی میرا دوست تھا ۔ اسی کی توسط سے میں جمیل سے ملا تھا ۔ وہ صبح دکان کھولتا شام تک کام کرتا ۔ خواہ وہ دکان پر ہو یا کسٹمر کے گھر جا کرکام کرنا ہو ۔ وہ مکمل " ایمانداری " کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتا ۔ اتوار کو جب وہ صبح تیار ہوتا ۔ اور چرچ جانے لگتا تو  ایک نہایت ہی معصوم اور پیارا سا مذہبی جذبہ اس کے چہرے سے عیاں ہوتا ۔  میں مسکرائے بغیر نہ رہتا ۔
اس دن ہمارا پکنک کا پروگرام تھا ۔ سوچا کہیں ساحل سمندر کی جانب چلا جائے ۔ کچھ ہلا گلا کیا جائے ۔ کچھ باربی کیو ، کچھ سمندر کے کھارے پانی میں ڈبکیا ں ۔ کہیں صیاد ہو کر صید مچھلی ۔ سو  پچھلی رات تیاریاں مکمل کرکے ہم چار لوگ صبح سویرے نکل کھڑے ہوئے ۔ میں ، جمیل ، عظیم اور عظیم کے بزرگ والد جو کافی ضعیف اور بیمار بھی تھے ، اتنے کے اپنی شلوار  صاف رکھنے پر اختیار کھو چکے تھے  ۔ ڈرائیو عظیم کر رہا تھا۔
ڈیش بورڈ سے اوپر بیک مرر  پہ آیت الکرسی لٹک رہی تھی ۔ اور ساتھ ہی مختلف رنگوں کے امتزاج سے کوئی خوبصورت پینٹنگ بھی لٹکا رکھی تھی ۔ میری نظر جب بھی اس پینٹنگ سے ٹکراتی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ۔ وہ رنگ مجھے تحلیل ہوتے محسوس ہوتے ۔  مختلف رنگوں کا امتزاج آہستہ آہستہ کسی ایک رنگ میں تبدیل ہورہا ہو ۔ اور میرے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل جاتی ۔ کچھ تارے سے جھلملانے لگتے ۔
  اس کے ساتھ والی سیٹ پر اس کے والد بیٹھے تھے ، جمیل اور میں پچھلی سیٹ پر براجمان تھے ۔  اس کے چہرے پر کچھ اداسی سی چھائی تھی ۔ جس کے اظہار سے وہ کترا رہا تھا ۔ جسے میں نے شدت سے محسوس کیا ۔ اس میں وہ ہمیشہ کی گرمی نہیں تھی جو اس کے چہرے سے پھوٹا کرتی ۔ اس کی حرکیات سے ماحول خوشگوار کیے رکھتی ۔
کیا بات ہے جمیل پریشان لگ رہے ہو۔۔۔؟
نہیں آزاد بھائی ٹھیک ہوں ۔ ایسی کوئی بات نہیں ۔
کچھ تو ہے ۔ جس کی پردہ داری ہے ۔ ہاں !!!!۔۔ میں نے قدرے خوشگوار انداز میں اسے چھیڑا ۔
تب بھی اس کے چہرے پر وہ مسکراہٹ عیاں نہ ہوسکی ۔ میں ٹھٹک گیا ۔ کچھ تو تھا جس نے اسے پریشان کر رکھا تھا ۔ 
جمیل کیا بات ہے ؟ تمہارے بھی کسی عزیز کا گھر جل گیا ۔ ؟
اس نے بے اختیار میرے چہرے کی جانب دیکھا ۔ اور اس کی آنکھوں سے دو قطرے ٹپک پڑے ۔  میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کچھ زور دیکر اپنی جانب کھینچا ۔ اس نے اپنا چہرہ میرے سینے میں رکھ دیا
اور بنا آواز بنا سسکیوں کراہوں کے رودیا ۔ بس اس کے آنسو تھے جو میری ٹی شرٹ   بھگو کر میری چھاتی میں جذب ہورہے تھے ۔ وہ آنسو جیسے محض پانی نہ تھے ، کرچیاں تھیں جو میرے سینے میں چبھ رہی تھیں ۔ میرے پاس الفاظ نہیں تھے اسے دلاسہ دینے کے لیے ۔ یونہی  چند لمحے گزرے اور مزید گزرے  ۔
ابے انہی لوگوں نے  پہل کی تھی ۔ آخر کو بھگتنا تو پڑے گا ۔ یہ عظیم کے الفاظ تھے ۔ جس پر جمیل نے سر اٹھانے کی کوشش کی پر میں نے اسے سینے میں دبوچے رکھا ۔ کرچیاں کچھ زیادہ بڑھ گئیں ۔
یار عظیم ، جرم کا حساب عدالت میں ہوتا ہے ۔ صحیح غلط  کے فیصلے کے لیے عدالتیں موجود ہیں ۔ قانون کے ادارے موجود ہیں ۔   کسی کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ سر راہ  کسی کو بھی نقصان پہنچائے ۔ اور یہ تو ایک گھر نہیں پورا محلہ جلا دینا ۔ نہ جانے کس مشقت سے ، تنکا تنکا جوڑ کر گھر بنایا ہوگا ۔ انہیں بے گھر کردینا ۔ یہ  کہاں کے اخلاق ہیں ؟
میں نے کچھ اپنی دانش جھاڑنے کی کوشش کی ۔
ابے تجھے کیا پتہ انہوں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی ۔ صلی اللہ کا ۔۔ اللہ کچھ زور دے کر اس نے کہا ۔
گاڑی دھپ سے اچھل پڑی ہم سب ہل کر رہ گئے ۔ عظیم  باتوں میں اس جمپ کو دیکھ نہ سکا تھا ۔ ساتھ وہ آیت الکرسی اور پینٹنگ لرز کر رہ گئے  ۔ پینٹنگ کے رنگ جیسے یہاں وہاں بکھر رہے ہوں ۔ جن میں سرخ رنگ نمایاں محسوس ہوتا تھا ۔
تو کیا اس کی سزا تم دو گے ؟ وہ بھی ان کے گھر جلا کر ؟ انہین بے گھر کر کے ؟ ان کے زندہ سلامت جسد کو سوختہ لاش بنا کر ؟ یہ تو ظلم کی حد ہے ۔ یہ کوئی انصاف  کے ایک ذرے کا تقاضا بھی پورا نہیں کرتا ۔ تمہیں اگر اتنی محبت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ گستاخ کو سمجھاتے اس کی ہدایت کی جلن لیکر اٹھتے کہ وہ نہیں جانتے ۔ یہی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں ۔ میں نے بھی صلی اللہ کے اللہ پر کچھ زیادہ زور دے کر بھاشن دے ڈالا ۔ 
جمیل نے پھر سر اٹھانے کی کوشش کی پر میں نے اسے وہیں سینے سے لگے رہنے پر مجبور رکھا ۔
ابے جا بڑا  آیا لبرل بننے والا ۔ تیرے دل میں تو عشق رسول ہے ہی نہیں ۔ اگر ہوتا تو ، تو نے یہ نہ کہنا تھا ۔ بلکہ ان کے گھر جلانے والوں میں تو بھی شامل ہوتا ۔ گستاخ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ۔  عظیم نے میرا تمسخر اڑایا ۔
پھٹ پھٹ پٹ پٹ ۔۔ پڑڑڑڑڑ ۔۔۔
چھی ۔۔ شٹ ۔۔ ابو یہ کیا کیا ؟ کم از کم بتا ہی دینا تھا ۔ میں گاڑی کھڑی کردیتا ۔ ساری گاڑی گندی کردی ۔
عظیم نے گاڑی کچھ آگے جا کر ایک جانب روکی ۔ سڑک سنسان تھی ۔ اکا دکا گاڑیاں زن سے گزر جاتیں ۔ میں اور جمیل باہر نکلے ۔ عظیم پہلے ہی ابوکی جانب  کا دروازہ کھول چکا تھا ۔ اور انہیں باہر نکالنے کی سعی کر رہا تھا   اور اس پھیلی ہوئی غلاظت سے ناک بھوں چڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو محفوظ بھی رکھنا چاہتا ہو ۔  میری  بھی اب تک ہمت نہ ہوئی تھی کہ پاس جاتا ۔ جمیل مسیح آگے بڑھا اور ابو کو  سکون سے اپنی گود میں اٹھا لیا ۔ جیسے وہ اسی کے باپ ہوں ۔  وہ انہیں اٹھا کر کچھ دور لے گیا ۔ اسی دوران میں پانی کی بڑی بوتل ڈگی سے نکال کر ان کے پیچھے چل پڑا ۔ عظیم ایک جانب کھڑا ۔۔ شٹ ۔۔ شٹ کرتا رہ گیا ۔
جمیل نے ان کے کپڑے اتارے، میں دوڑ کر چادر لے آیا جو انہیں اوڑھا دیا۔جمیل نے  ان کپڑوں کو دھویا ۔ ان کے جسم کی غلاظت کو صاف کیا ۔  اس دوران اس کے چہرے پر ہلکی سی بھی کوئی بدمزگی پیدا ہوئی ہو ۔ نہایت اطمینان سے اس نے  یہ سارے کام انجام دیے ۔
ابے جلدی کرو دیر ہورہی ہے ۔ عظیم کے چیخنے کی آواز آئی ۔ جمیل اور میری آنکھیں چار ہوئیں ۔ اس کے چہرے پر پر خراش مسکراہٹ تھی اندر کہیں اداسی سرسراتی تھی ۔ میری آنکھیں زیادہ دیر اس سے ہمکلام نہ رہ سکیں اور جھک گئیں ۔ ویسے ہی گیلے کپڑے ابو کو پہنائے اور ہم دونوں کندھوں کا سہارا دیکر انہیں گاڑی تک لے آئے ۔
ابو کو میں کندھے پر سہارا دیے رکھا ۔ اس دوران جمیل نے سیٹ صاف کردی ۔پھر انہیں گود میں اٹھایا اور قدرے مشکل سے انہیں اگلی سیٹ پر بٹھا دیا ۔ 
میری نظر سرکتی ہوئی پینٹنگ کی جانب گئی جو  اس زور آزمائی پر گاڑی کے لرزنے کی وجہ سے  دائیں بائیں ہلنے لگی تھی ۔  رنگوں کا امتزاج  خوشنما تھا یا بدنما میں کوئی فیصلہ نہ کر پایا ۔
ابھی سفر باقی تھا ۔ ہم پکنک منانے نکلے تھے ۔
ہم نے سمندر میں ڈبکیاں لگانی تھیں ۔ باربی کیو کرنا تھا ۔
صیاد مچھلی ہونا تھا ۔
گاڑی آگے کو دوڑتی جاتی تھی ۔ آیت الکرسی اور وہ پینٹنگ دائیں بائیں ہلتی تھیں ۔ رنگوں کا امتزاج پر تحلیل نہ ہوتا تھا ۔ میرا تصور کہیں منجمد ہوگیا تھا ۔ 

Thursday, May 25, 2017

جبر

افسانہ 

جبر

شہیر شجاع
.............................

ستاروں پہ کمند ڈالنے ، شاہین جیسی پرواز ،  خودی کے اسرار سے پردے اٹھاتا اس نے جوانی کی دہلیز میں قدم رکھا تھا ۔ جذبات اپنی اٹھان پر تھے۔ قدم پرجوش ۔ خون میں گرمی کا درجہ حرارت جیسے اپنی دسترس میں آئی ہر چیز کو پگھلا دے ۔ ساتھ ساتھ جوانی کی جبلتیں ، جو اسے متزلزل نہ ہونے دیتیں ۔ آسمان پر ستاروں کو دیکھتا تو جیسے بس کسی بھی لمحے ستارہ اس کی قید میں ہو ۔ چاند اس کا کھلونا ہوجائے ۔ آس پاس ویرانی دیکھتا تو  مسکرا اٹھتا کہ جلد یہ ویرانی سبزہ زار میں تبدیل ہوجائے گی ۔ 

 اس کے ہاتھوں میں فائل تھی جس میں سخت گرمیوں میں چارجنگ لائٹ کی روشنی میں کی گئی محنت  کے نتائج تھے ۔  اس کا دل و دماغ شاہین  کی اونچی اڑان کے تصور میں ہر مشکل کو آسان کرتا آج اس کے اعتماد کو اس کے لیے ایک مضبوط ستون تعمیر کرچکا تھا ۔ وہ اس فائل کو لیے کسی بھی منزل کی جانب جاتا ۔پر اعتماد واپسی ہوتی ۔  اس بات کو اب ایک عرصہ گزر چکا تھا ۔ وہ گلیوں میں کھیلتے معصوم بچوں کو دیکھتا جن کے جسم پر کپڑوں کے بجائے چیتھڑے ہوتے ، اس کے چہرے پر اذیت ناک مسکراہٹ ابھر آتی ۔ اسٹاپ پر کھڑے گاڑی کے انتظار میں ایک جانب آٹو ورکشاپ سے گالیوں کی آواز پر نگاہ پھیرتا ، اس کی نظروں کے سامنے معصوم سا شاہین اپنے استاد کے بھاری بھر کم ہاتھوں کے پڑنے پر اپنے گال سہلارہا ہوتا ۔ یہ منظر اس کے دل کی آگ کو مزید دہکا دیتا ۔ اس کے تصور میں موجود سبزہ بھی مانند پڑنے لگا تھا ۔ ویرانیاں سڑکوں ، گلیوں محلوں سے سفر کرتی اب اس کے آنکھوں میں بھی بسر کرنے لگی تھیں ۔ سخت چلچلاتی دھوپ میں کھڑا جب وہ منی بس کا انتظار کر رہا ہوتا ، اس کے ماتھے کا پسینہ اس کو اپنے موزوں تک پھسلتا محسوس ہوتا ۔  آہستہ آہستہ اس کے کندھے بھی ڈھلکنا شروع ہوگئے ، اس کے ہاتھ میں موجود ستاروں پر کمند ڈالنے کی چابی  بھی  بھاری بھر کم چٹان سی محسوس ہونے لگی تھی ۔ جس کا بوجھ اب اس سے سہارا نہ جاتا ہو ۔ نیم دلانا سڑک پر ٹہلتا اب آسمان کی جانب بھی  نگاہ  نہ اٹھتی ۔اس نے وہ چابی الماری میں سنبھال کر رکھ دی تھی ۔ اور ایک دوست کے توسط سے ہنرمندوں کی جماعت میں شامل ہوگیا تھا ۔ دو وقت کی روٹی کا بندوبست تو ہوگیا مگر اس کے تصورات مین موجود شاہین اب تک غافل نہ ہوا تھا ۔ جو اس کے دل کو لمحہ بہ لمحہ کچوکے لگاتا رہتا ۔ ایک عجب جبر تھا ۔ پروں کے ہوتے بھی پرواز سے عاری تھا ۔ سڑک پر ریڑھی کھینچتے جوان و بزرگوں کو دیکھتا تو دل میں ہوک سی اٹھتی ۔ آنکھوں میں ستارے جھلملانے لگتے ۔ کہاں آسمان کے ستارے کہاں آنکھوں میں جھلمل ۔ وقت کے جبر نے  کس موڑ پہ لا کھڑا کیا تھا ۔ اس کے بابا نے بھی ضعیفی کے برامدے میں ڈیرےڈال لیے تھے ۔ اس کے کندھے اب مزید بوجھ سہہ نہ پارہے تھے ۔ اس کا ہنر اس کے لیے اب مزید کارآمد نہ رہا تھا ۔ بابا سے ذرا پرے دوسری چارپائی پر آنکھیں موندے لیٹا بابا کی کراہوں پر سسک رہا تھا ۔ باورچی خانے سے اماں اور نوراں کی نوک جھونک اس کے حوصلے کی کمر توڑتی جارہی تھی ۔ اگلی صبح بیدار ہوکر وہ سیدھا جمیل کی جانب چلا گیا ۔ جس نے جامعہ سے فراغت کے بعد اپنے بیرون ملک مقیم بھائی کی مدد سے ٹریول ایجنسی کھول لی تھی ۔ وہ اکثر اسے باہر چلے جانے کا مشورہ دیتا رہتا ۔ پر سوکھی زمین کی جانب اشارہ کر کے کہتا کہ اسے سیراب کون کرے گا ؟ اور جمیل خاموش ہوجاتا ۔ آج اس نے جمیل کے سامنے ہار مان لی تھی ۔ جمیل نے اسے قرض و مدد کے سہارے چند ہی دنوں میں پردیس بھیج دیا ۔ اس کے ہاتھ میں اب بھی وہ فائل تھی ۔ جسے سراہا گیا تھا ۔ وہ اس بلند و بالا عمارت سے باہرنکلا ۔ آسمان کی جانب نگاہ ڈالی دور آسمان کی بلندیوں میں شاہین محو پرواز تھا ۔ اس کے دل میں خوشی تھی یا ویرانی وہ فیصلہ نہ کرپایا ۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...