Showing posts with label مسلم. Show all posts
Showing posts with label مسلم. Show all posts

Saturday, March 10, 2018

پینٹنگ

پینٹنگ

شہیر شجاع

جمیل مسیح   ۔۔ ہمیشہ ہنتے مسکراتے رہنا ۔ خوش رہنا ، بلا کا ظرف پایا تھا اس نے ۔ وہ   مکینک تھا ۔ واشنگ مشین ، اے سی وغیرہ ٹھیک کرنا اس کا پیشہ تھا ۔ہم  ایک تھالی میں کھانا بھی کھاتے ۔ ایک ہی گلاس میں پانی بھی پیتے ۔ یہ میرے لیے انوکھا تجربہ تھا ۔ کیونکہ بچپن سے کچھ الگ ہی ذہن بنا ہوا تھا ۔ جس کے بالکل برعکس میں چل پڑا تھا ۔ وہ جس دکان پر ملازم تھا اس کا مالک عظیم بھی میرا دوست تھا ۔ اسی کی توسط سے میں جمیل سے ملا تھا ۔ وہ صبح دکان کھولتا شام تک کام کرتا ۔ خواہ وہ دکان پر ہو یا کسٹمر کے گھر جا کرکام کرنا ہو ۔ وہ مکمل " ایمانداری " کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتا ۔ اتوار کو جب وہ صبح تیار ہوتا ۔ اور چرچ جانے لگتا تو  ایک نہایت ہی معصوم اور پیارا سا مذہبی جذبہ اس کے چہرے سے عیاں ہوتا ۔  میں مسکرائے بغیر نہ رہتا ۔
اس دن ہمارا پکنک کا پروگرام تھا ۔ سوچا کہیں ساحل سمندر کی جانب چلا جائے ۔ کچھ ہلا گلا کیا جائے ۔ کچھ باربی کیو ، کچھ سمندر کے کھارے پانی میں ڈبکیا ں ۔ کہیں صیاد ہو کر صید مچھلی ۔ سو  پچھلی رات تیاریاں مکمل کرکے ہم چار لوگ صبح سویرے نکل کھڑے ہوئے ۔ میں ، جمیل ، عظیم اور عظیم کے بزرگ والد جو کافی ضعیف اور بیمار بھی تھے ، اتنے کے اپنی شلوار  صاف رکھنے پر اختیار کھو چکے تھے  ۔ ڈرائیو عظیم کر رہا تھا۔
ڈیش بورڈ سے اوپر بیک مرر  پہ آیت الکرسی لٹک رہی تھی ۔ اور ساتھ ہی مختلف رنگوں کے امتزاج سے کوئی خوبصورت پینٹنگ بھی لٹکا رکھی تھی ۔ میری نظر جب بھی اس پینٹنگ سے ٹکراتی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ۔ وہ رنگ مجھے تحلیل ہوتے محسوس ہوتے ۔  مختلف رنگوں کا امتزاج آہستہ آہستہ کسی ایک رنگ میں تبدیل ہورہا ہو ۔ اور میرے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل جاتی ۔ کچھ تارے سے جھلملانے لگتے ۔
  اس کے ساتھ والی سیٹ پر اس کے والد بیٹھے تھے ، جمیل اور میں پچھلی سیٹ پر براجمان تھے ۔  اس کے چہرے پر کچھ اداسی سی چھائی تھی ۔ جس کے اظہار سے وہ کترا رہا تھا ۔ جسے میں نے شدت سے محسوس کیا ۔ اس میں وہ ہمیشہ کی گرمی نہیں تھی جو اس کے چہرے سے پھوٹا کرتی ۔ اس کی حرکیات سے ماحول خوشگوار کیے رکھتی ۔
کیا بات ہے جمیل پریشان لگ رہے ہو۔۔۔؟
نہیں آزاد بھائی ٹھیک ہوں ۔ ایسی کوئی بات نہیں ۔
کچھ تو ہے ۔ جس کی پردہ داری ہے ۔ ہاں !!!!۔۔ میں نے قدرے خوشگوار انداز میں اسے چھیڑا ۔
تب بھی اس کے چہرے پر وہ مسکراہٹ عیاں نہ ہوسکی ۔ میں ٹھٹک گیا ۔ کچھ تو تھا جس نے اسے پریشان کر رکھا تھا ۔ 
جمیل کیا بات ہے ؟ تمہارے بھی کسی عزیز کا گھر جل گیا ۔ ؟
اس نے بے اختیار میرے چہرے کی جانب دیکھا ۔ اور اس کی آنکھوں سے دو قطرے ٹپک پڑے ۔  میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کچھ زور دیکر اپنی جانب کھینچا ۔ اس نے اپنا چہرہ میرے سینے میں رکھ دیا
اور بنا آواز بنا سسکیوں کراہوں کے رودیا ۔ بس اس کے آنسو تھے جو میری ٹی شرٹ   بھگو کر میری چھاتی میں جذب ہورہے تھے ۔ وہ آنسو جیسے محض پانی نہ تھے ، کرچیاں تھیں جو میرے سینے میں چبھ رہی تھیں ۔ میرے پاس الفاظ نہیں تھے اسے دلاسہ دینے کے لیے ۔ یونہی  چند لمحے گزرے اور مزید گزرے  ۔
ابے انہی لوگوں نے  پہل کی تھی ۔ آخر کو بھگتنا تو پڑے گا ۔ یہ عظیم کے الفاظ تھے ۔ جس پر جمیل نے سر اٹھانے کی کوشش کی پر میں نے اسے سینے میں دبوچے رکھا ۔ کرچیاں کچھ زیادہ بڑھ گئیں ۔
یار عظیم ، جرم کا حساب عدالت میں ہوتا ہے ۔ صحیح غلط  کے فیصلے کے لیے عدالتیں موجود ہیں ۔ قانون کے ادارے موجود ہیں ۔   کسی کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ سر راہ  کسی کو بھی نقصان پہنچائے ۔ اور یہ تو ایک گھر نہیں پورا محلہ جلا دینا ۔ نہ جانے کس مشقت سے ، تنکا تنکا جوڑ کر گھر بنایا ہوگا ۔ انہیں بے گھر کردینا ۔ یہ  کہاں کے اخلاق ہیں ؟
میں نے کچھ اپنی دانش جھاڑنے کی کوشش کی ۔
ابے تجھے کیا پتہ انہوں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی ۔ صلی اللہ کا ۔۔ اللہ کچھ زور دے کر اس نے کہا ۔
گاڑی دھپ سے اچھل پڑی ہم سب ہل کر رہ گئے ۔ عظیم  باتوں میں اس جمپ کو دیکھ نہ سکا تھا ۔ ساتھ وہ آیت الکرسی اور پینٹنگ لرز کر رہ گئے  ۔ پینٹنگ کے رنگ جیسے یہاں وہاں بکھر رہے ہوں ۔ جن میں سرخ رنگ نمایاں محسوس ہوتا تھا ۔
تو کیا اس کی سزا تم دو گے ؟ وہ بھی ان کے گھر جلا کر ؟ انہین بے گھر کر کے ؟ ان کے زندہ سلامت جسد کو سوختہ لاش بنا کر ؟ یہ تو ظلم کی حد ہے ۔ یہ کوئی انصاف  کے ایک ذرے کا تقاضا بھی پورا نہیں کرتا ۔ تمہیں اگر اتنی محبت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ گستاخ کو سمجھاتے اس کی ہدایت کی جلن لیکر اٹھتے کہ وہ نہیں جانتے ۔ یہی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں ۔ میں نے بھی صلی اللہ کے اللہ پر کچھ زیادہ زور دے کر بھاشن دے ڈالا ۔ 
جمیل نے پھر سر اٹھانے کی کوشش کی پر میں نے اسے وہیں سینے سے لگے رہنے پر مجبور رکھا ۔
ابے جا بڑا  آیا لبرل بننے والا ۔ تیرے دل میں تو عشق رسول ہے ہی نہیں ۔ اگر ہوتا تو ، تو نے یہ نہ کہنا تھا ۔ بلکہ ان کے گھر جلانے والوں میں تو بھی شامل ہوتا ۔ گستاخ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ۔  عظیم نے میرا تمسخر اڑایا ۔
پھٹ پھٹ پٹ پٹ ۔۔ پڑڑڑڑڑ ۔۔۔
چھی ۔۔ شٹ ۔۔ ابو یہ کیا کیا ؟ کم از کم بتا ہی دینا تھا ۔ میں گاڑی کھڑی کردیتا ۔ ساری گاڑی گندی کردی ۔
عظیم نے گاڑی کچھ آگے جا کر ایک جانب روکی ۔ سڑک سنسان تھی ۔ اکا دکا گاڑیاں زن سے گزر جاتیں ۔ میں اور جمیل باہر نکلے ۔ عظیم پہلے ہی ابوکی جانب  کا دروازہ کھول چکا تھا ۔ اور انہیں باہر نکالنے کی سعی کر رہا تھا   اور اس پھیلی ہوئی غلاظت سے ناک بھوں چڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو محفوظ بھی رکھنا چاہتا ہو ۔  میری  بھی اب تک ہمت نہ ہوئی تھی کہ پاس جاتا ۔ جمیل مسیح آگے بڑھا اور ابو کو  سکون سے اپنی گود میں اٹھا لیا ۔ جیسے وہ اسی کے باپ ہوں ۔  وہ انہیں اٹھا کر کچھ دور لے گیا ۔ اسی دوران میں پانی کی بڑی بوتل ڈگی سے نکال کر ان کے پیچھے چل پڑا ۔ عظیم ایک جانب کھڑا ۔۔ شٹ ۔۔ شٹ کرتا رہ گیا ۔
جمیل نے ان کے کپڑے اتارے، میں دوڑ کر چادر لے آیا جو انہیں اوڑھا دیا۔جمیل نے  ان کپڑوں کو دھویا ۔ ان کے جسم کی غلاظت کو صاف کیا ۔  اس دوران اس کے چہرے پر ہلکی سی بھی کوئی بدمزگی پیدا ہوئی ہو ۔ نہایت اطمینان سے اس نے  یہ سارے کام انجام دیے ۔
ابے جلدی کرو دیر ہورہی ہے ۔ عظیم کے چیخنے کی آواز آئی ۔ جمیل اور میری آنکھیں چار ہوئیں ۔ اس کے چہرے پر پر خراش مسکراہٹ تھی اندر کہیں اداسی سرسراتی تھی ۔ میری آنکھیں زیادہ دیر اس سے ہمکلام نہ رہ سکیں اور جھک گئیں ۔ ویسے ہی گیلے کپڑے ابو کو پہنائے اور ہم دونوں کندھوں کا سہارا دیکر انہیں گاڑی تک لے آئے ۔
ابو کو میں کندھے پر سہارا دیے رکھا ۔ اس دوران جمیل نے سیٹ صاف کردی ۔پھر انہیں گود میں اٹھایا اور قدرے مشکل سے انہیں اگلی سیٹ پر بٹھا دیا ۔ 
میری نظر سرکتی ہوئی پینٹنگ کی جانب گئی جو  اس زور آزمائی پر گاڑی کے لرزنے کی وجہ سے  دائیں بائیں ہلنے لگی تھی ۔  رنگوں کا امتزاج  خوشنما تھا یا بدنما میں کوئی فیصلہ نہ کر پایا ۔
ابھی سفر باقی تھا ۔ ہم پکنک منانے نکلے تھے ۔
ہم نے سمندر میں ڈبکیاں لگانی تھیں ۔ باربی کیو کرنا تھا ۔
صیاد مچھلی ہونا تھا ۔
گاڑی آگے کو دوڑتی جاتی تھی ۔ آیت الکرسی اور وہ پینٹنگ دائیں بائیں ہلتی تھیں ۔ رنگوں کا امتزاج پر تحلیل نہ ہوتا تھا ۔ میرا تصور کہیں منجمد ہوگیا تھا ۔ 

Saturday, December 10, 2016

دعوۃ و تبلیغ ، تبلیغی جماعت


دعوۃ و تبلیغ ، تبلیغی جماعت
شہیر شجاع
مدینہ منورہ سے تبوک ایک چلے کی جماعت آئی ہوئی ہے ۔ اب ہم دنیا دار لوگ اپنی دنیا  کے جھمیلوں یا فرصت کے اوقات میں  لطف اندوز ہونے کا سوچتے ہیں ۔۔ جبکہ دوسری جانب بہت سے ایسے افراد جو اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالتے ہیں ۔۔ اور  مسرت کے لمحات کی قربانی دیتے ہیں صرف اس لیے کہ اللہ کے دین کے لیے کچھ وقت دے دیا جائے ۔۔ چند لمحات قیمتی بنا لیے جائیں ۔۔
کچھ عرصہ قبل مجھے ایک کال موصول ہوئی ۔۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتے تھے  ان کا نام عبدالماجد بھائی تھا ۔ کیوں ؟ محض نسبت دین سے ۔ چند لمحے جو بھی ہمارے گزریں اس میں دین کی باتیں ہوں ۔ اور کوئی مقصد نہ تھا ۔ میرے پاس آئے کچھ دیر بیٹھے ، ہمارے درمیان چند باتیں ہوئیں ، اور وہ چلے گئے ۔ اور مجھے سوچنے پر مجبور کر گئے کہ میں بھی مسلمان کہلاتا ہوں ۔۔ اور نہ جانے اپنے ذہن میں کتنے کبر پال رکھے ہیں ۔ کہیں اپنے آپ کو بہتر سمجھتا ہوں کہیں برتر ۔ کسی معاملے میں اپنے آپ کو عالم سمجھتا ہوں ۔چند معاملات میں اپنے شعور کو دوسرے کی نسبت درست سمجھتا ہوں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔ اور ان بتوں نے میری زندگی میں کیا اثرات مرتب کر رکھے ہیں ؟ نہ مجھ میں علم ہے ؟ نہ عمل ہے ؟ بس باتیں ہیں ۔۔ اور باتیں بھی اتنی کہ اچھے خاصے عالم حضرات متاثر ہوجاتے ہیں ۔۔ یکدم مجھے محسوس ہوا ۔ وہ متاثر نہیں بلکہ میری دلجوئی کرتے ہیں ۔۔ شاید کہ کچھ خیر انہوں نے مجھ میں دیکھا ہو ۔ اور وہ خیر بتدریج بڑھے۔ 
مجھے احساس ہوا میں دراصل ایک خمار میں جی رہا ہوں ۔۔ جس میں صرف میں ہی میں ہوں ۔۔ مجھے ساری دنیا کم عقل و بے شعور نظر آتی ہے ۔ یہ ایک ایسا خمار ہے ۔۔ جو مجھ میں منافقت بھردیتی ہے ۔ میں سامنے بہت خلوص سے ملتا ہوں۔ مگر جیسے ہی مجلس بر خاست ہوتی ہے ، مجھے ان لوگوں پر ترس آنے لگتا ہے ۔ جیسے میری عقل سب سے بہتر ہو ۔   اس جیسے مختلف احساسات نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا ۔ مجھ میں اپنی انتہائی کم مائیگی کا احساس شدید ہوگیا ۔ ہر دوسرا شخص مجھے بہتر  لگنے لگا ۔  محسوس ہوا کہ حقیقت یہی ہے ۔ میں تو کچھ بھی نہیں ؟ سوائے کلمہ شہادت کے میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔ اور اس کلمے کے معنی و مفہوم بھی درست طریقے سے جانتا ہوں نہ سمجھتا ہوں ۔ اور بڑے بڑے نظریات پر گفتگو ایسے کرتا ہوں جیسے کوئی بہت بڑا عالم ہوں ؟ ۔۔ 
ایسا کیوں ؟
اس سوال کا جواب تو مجھے مل گیا ۔ مجھ میں سیکھنے کی طلب مزید بڑھ گئی ۔۔ علم کی پیاس شدید ہوگئی ۔۔۔ عمل کی جانب بڑھنے کی جستجو پیدا ہوگئی ۔  فی زمانہ دنیا  کی جستجو میں مگن روحانی طلب کو پورا کرنے کا ماحول عام نہیں ہے ۔  مگر یہ شاذ بھی نہیں ہے ۔ ہر محلے میں ایسی مجالس کا اہتمام ہورہا ہے ۔ بس اس ماحول سے مستفید ہونے کی جستجو ہونی چاہیے ۔ اس ماحول کی طلب ہونی چاہیے ۔ بیشک ہر ایک باعمل نہیں ہوتا ۔ پر ماحول کے زیر اثر ضرور ہوتا ہے ۔ اور ماحول بتدریج ہی متاثر کرتا ہے ۔
کم از کم  اتنی سی بات کا ہی ادراک ہوجائے کہ ۔۔
ان الانسان لفی خسر ۔۔۔ بیشک انسان خسارے میں ہے ۔۔۔
 تو ہمارے ذہنوں میں موجود انجانا احساس کبر مٹ جائے ۔ جو شدت سے ہم میں سرایت کر چکا ہے ۔ ہمیں  ہر خیر کی چیز سمیٹ لینے سے روک لیتا ہے ۔ جس کبر نے کمارے ذہنوں میں وسوسے پیدا کر رکھے ہیں ، اور  کبر ہو کر بھی ہمیں محسوس نہیں ہوتا ۔
تو بات ہو رہی تھی  چلے کی جماعت کی ۔ جناب عبدالماجد صاحب بہت محبت کرنے والے انسان ہیں ۔  انہیں اس جماعت کا علم تھا ۔ وہ خود انڈین ہیں ۔ انہیں علم ہوا کہ وہ جماعت پاکستان کی ہے اور اس میں ایک صاحب کا تعلق کراچی سے ہے ، تو وہ مجھے اس جماعت سے ملانا چاہتے تھے ۔ میں نے رضامندی ظاہر کردی ۔ ہم اگلے دن جمعے کو عصر کی نماز کے بعد  جماعت  سے ملنے جا پہنچے ۔ الحمد للہ بہت ہی بہترین وقت گزرا اور وقت کے حقیقتا  قیمتی ہونے کا احساس میں نے دل سے محسوس کیا ۔  جن کا اچھا وقت لگا ہوتا ہے ۔ اور جوواقعتا اپنے آپ کو مکمل طور پر دعوۃ کے کام  کو سونپ  چکے ہوتے ہیں ۔ ان کی باتوں میں ،  ان کے ملنے کے انداز میں ایک خاص عنصر جو آپ شدت سے محسوس کرتے ہیں وہ ہے ان کے اعلی اخلاق ، نبوی اخلاق ۔ جس میں  اپنی ذات سے مکمل کنارہ کشی ۔ محض اللہ کی ذات ہی بلند و بالا اور ہر مخاطب اپنے آپ سے برتر و بہتر ۔   ورنہ دعوۃ و تبلیغ سے جڑے بیشتر ایسے افراد بھی ملیں گے  جنہیں دیکھ کر مجھ جیسے بد بخت  دل میں برا سوچنے لگتے ہیں ۔ اور  مختلف خیالات و نظریات کے آئینے میں   منفی  نتائج اخذ کر بیٹھتے ہیں ۔ ہوتا کیا ہے ؟ ہم خود ہی اپنے آپ کو خیر سے دور کر لیتے ہیں ۔ 
بہر حال جماعت کے امیر صاحب  مردان کے ایک بزرگ تھے ۔ اللہ جل شانہ ان سے راضی ہوں ۔ نہایت ہی خوش اخلاق، ملنسار ۔ عبدالماجد بھائی ان سے  پہلے ہی مل چکے تھے ۔ سو انہیں علم ہوا تھا کہ امیر صاحب انیس سو اکیانوے میں ڈیڑھ سالہ  بیرون ملک لگا چکے ہیں جس میں وہ بارہ ملک گھومے بنا ہوائی جہاز استعمال کیے ۔ انہیں اس کی ممانعت تھی ۔ اور شدید ضرورت کے تحت ہی کسی بھی قسم کی سواری کی اجازت تھی ۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد سے ملاقات ہو سکے یا مزید بھی کوئی حکمت ہو سکتی ہے ۔ فرماتے ہیں ۔ پاکستان سے جماعت نکلی ایران ، پھر ترکی ، شام ، اردن ، مصر ، سوڈان ، تنزانیہ ہوتے ہوتے زمبابوے ان کا آخری پڑاو تھا ۔ اور یہ سارا سفر پیدل ہوا ۔ دس فیصد سفر ٹرکوں وغیرہ میں رہا ہوگا ۔ فرماتے ہیں عجیب و غریب جنگل ، پہاڑ ، صحرا  اور اللہ کی نصرت کے ایسے ایسے واقعات دیکھنے میں آئیں عقل دنگ رہ جاتی تھی ۔اور ایسے ایسے غیر مسلموں سے ملنے کا اتفاق ہوا کہ اپنے مسلمان ہونے پر شرم آتی تھی ۔   کارگزاری تو طویل ہے ایک واقعہ  سنا رہے تھے ۔ فرماتے ہیں ، وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں چہار سو نصاری یا کرسچین آباد تھے ۔ کوئی مسلمان نظر نہ آتا تھا ۔ مگر وہ کرسچین لوگ ان کی نصرت کر رہے تھے ۔ انہیں اپنے گھروں میں رہنے کو جگہ دے رہے تھے ۔ کھانے پینے کی اشیاء سے خاطر کر رہے تھے ۔ ان کے بچے ان کی تعظیم یوں کر رہے تھے جیسے وہ کوئی نادر مخلوق ہوں ۔ سر جھکا کر ملتے سر جھکا کر ان کی خدمت کرتے ۔ وہ  یہ سب تعجب  سے دیکھ رہے تھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔  تو  فرصت دیکھ کر انہوں نے  ایک صاحب سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ آپ لوگ تو حضرت عیسی علیہ السلام کا کام کر رہے ہیں ۔ آپ لوگ بہت بڑا کام کر رہے ہیں ۔ آپ لوگ ہمارے لیے بہت خاص ہیں ۔ ہمارے لیے معظم ہیں ۔ وہ بتاتے چلے گئے اور وہ شرم سے ڈوبتے چلے گئے کہ ایک یہ عیسائی ہیں اور دوسرے ہم مسلمان ہیں ۔ ان کے بچوں کی کتابوں میں عیسی علیہ السلام پر مضامین موجود تھیں ۔ یعنی بچپن سے ہی انہیں عیسی علیہ السلام کی زندگی اور ان کے خصائل و سنن سے آگاہ کردیا جاتا ہے ۔  یہ صرف ایک گھر کا نہیں دیہات در دیہات  میں ایسی ہی صورتحال کا مشاہدہ رہا ۔
اس بیٹھک میں  ان کی ایسی ایمان افروز کارگزاری تھی جی کرتا تھا ساری رات وہ سناتے جائیں اور ہم سنتے جائیں ۔  

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...