Showing posts with label افسانچہ. Show all posts
Showing posts with label افسانچہ. Show all posts

Wednesday, January 14, 2015

حلق



محمد شہیر شجاع 

مجھ سے اب ہلا نہیں جا رہا ۔۔۔۔ مجھ میں طاقت  نہیں رہی ۔۔   
کل بہت سارے لوگ   بڑی بڑی گاڑیوں میں اچھے اچھے کپڑے پہن کر آئے تھے ۔۔۔  آپس میں بہت باتیں کر رہے تھے ۔۔ اور کوئی تصویریں بھی کھینچ رہا تھا ۔۔۔ ہاں بہت ساری تصویریں کھینچی گئیں ۔۔ اور جب مین نے بھی ایک تصویر میں شامل ہونے کی کوشش کی ۔۔ تو مجھے ایک زور کا دھکا پڑا تھا ۔۔ جس سے میرے گٹھنے چھل گئے تھے ۔۔ کافی دیر تک میں ٹھیک سے چل بھی نہیں پایا تھا ۔۔ 
بڑی بڑی مشینیں لائی گئی تھیں ۔۔  انہیں دیکھنے کے لیے  میں کبھی کنویں کی منڈیر پر چڑھ جاتا کبھی درخت پر چڑھ جاتا تھا ۔۔   وہ لوگ بہت دیر تک رہے تھے  ۔۔۔ بہت شور تھا گاوں میں ۔۔۔ لوگ کہہ رہے تھے ہمارے گاوں میں بجلی آئے گی ۔۔۔  لیکن مجھے تو پیاس لگی تھی ماں ۔۔۔ کتنے دن ہوئے روٹی کا ٹکڑا بھی نہیں ملا تھا ۔۔ ۔ پھر ایک ایک کر کے سب چلے گئے ۔۔ ۔۔ پانی کی تلاش  میں  میں ان کی گاڑی کے پیچھے کتنی دور تک بھاگا تھا ۔۔۔ لیکن وہ  چلے گئے ۔۔  
 ماں کہتی ہے ۔۔ یہ بہت بڑے لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔ ان کے پاس بہت پیسہ ہوتا ہے ۔۔ وہ جو چاہے خرید سکتے ہیں ۔۔ تو کیا انہوں نے ساری روٹیاں سارا پانی خرید لیا تھا  ماں ؟ جو اب ہمارے لیے نہیں بچا ۔۔ 
ماں دیکھو میرے پاس دو روپے ہیں ۔۔  یہ بہت دنوں سے چھپا کر رکھے تھے ۔۔  ان سے روٹی نہیں ملتی کیا ماں ؟ ۔۔ 

اوراس نے میرے سر پر کتنے پیار سے ہاتھ پھیرا تھا اور مسکرا دی تھی ۔۔ لیکن مجھے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔   ماں نہ جانے مجھے کہاں سے گھسیٹتی ہوئی لائی تھی ۔۔۔۔ مجھے اپنی پیٹھ پر جلن محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ 

میرا سر  ماں کے بازووں  میں بھینچا ہوا تھا ۔۔ اور وہ خود ایک طرف کو ڈھلکی پڑی تھی ۔۔  اس کے ہونٹ سفید تھے ۔۔  ماں ماں ۔۔۔ ماں ۔۔ میں نے زور زور سے اس کو آواز دینی چاہی ۔۔ لیکن میری آواز حلق میں ہی پھنس کر رہ گئی ۔۔ میں نے اپنے بازو وں کو حرکت دینے کی کوشش  کی ۔۔ وہ بھی بے سود رہی ۔۔۔ میرے ناک کان میں مکھیاں اور چیونٹیاں آنی شروع ہوگئی تھیں ۔۔  اور میری آواز حلق میں پھنسی ہوئی تھی ۔

Saturday, January 10, 2015

غش



بنت حوا کی لاش زمین پرنیم برہنہ حالت میں زمین پر آڑھی ترچھی پڑی تھی ۔۔۔ اس کا جسم اس کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر چیخ چیخ کر پکار رہا تھا۔۔۔  لوگ چہ مگوئیاں کر رہے تھے ۔۔ ایک بولا ۔ اللہ غارت کرے ظالموں کو ۔۔ حکمرانوں کو 
ایک اور آواز ابھری ۔ ۔۔یہ ہمارے ملک کو کیا ہوگیا ہے ۔۔ ہم اس قدر پستی کی جانب گرتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔
جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔ اتنے میں ۔ ایک صحافی ابن آدم آگے بڑھا ۔
 اپنی نیم برہنہ لٹی پھٹی بہن کی لاش  کی تصویر کھینچی ۔۔ اور کہا کہ میں ساری دنیا کو دکھاونگا کہ ہمارے ملک میں یہ کیا ہورہا ہے ۔۔ تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کروائی ہو اور ایسے واقعات کی روک تھام ہو۔۔۔
ایک ادیب اگے بڑھا ۔۔ اس نے کہا ۔۔ میں اس واقعے کو ایک ایک آدمی تک پہنچاوں گا ۔۔ تاکہ لوگوں کو آگاہی ہو۔
ایک سیاست دان آگے بڑھا ۔۔ اس نے کہا ۔۔ ہم احتجاج کریں گے ۔ یہاں تک کہ انصاف ملے۔۔
بنت حوا کی ماں ایک طرف بیٹھی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔۔ آس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ وہ آگے بڑھی ۔۔  پولیس نے روکنے کی کوشش کی کہ لاش  کی ابتدائی تحقیقات ہونے تک آپ لاش کو نہیں چھو سکتیں۔۔۔۔۔
ارے کمبخت وہ میری بیٹی ہے ۔ لاش نہیں ۔۔  مجھے کوئی انصاف نہیں چاہیے ۔۔۔  وہ رو رہی تھی ۔۔چیخ رہی تھی۔
اپنے سر سے چادر اتاری ۔۔ اور پولیس والے کی طرف پھینک کر چلائی کہ کم از کم میری بیٹی کو اس سے ڈھانپ دو ۔۔   اور غش کھا کر گر پڑی۔۔

Friday, July 11, 2014

نفاق



اس کے دل میں ہمیشہ اپنے پڑوسی کے چال چلن پر اعتراض رہتا تھا لیکن وہ کہہ نہیں پاتا تھا ۔۔۔۔ ایک مرتبہ اس کے پڑوسی کا بیٹا اپنے طور طریقوں کی وجہ سے زخم کھا بیٹھا اور اسپتال میں داخل ہوگیا ۔۔۔۔۔۔ وہ بھی بھاگا بھاگا اسپتال پہنچا اور پڑوسی سے تعزیت کرنے لگا۔۔۔

وہ اسپتال کے گیٹ سے باہر نکل رہا تھا کہ عظیم سے اس کا سامنا ہوگیا۔۔۔

ارے عزیر تم یہاں  ؟؟

ارے ہاں یار وہ میرا کمینہ پڑوسی ہے نا ۔۔۔ اس کا بیٹا اپنی حرکتوں کی وجہ سے یہاں پڑا تھا ۔۔ سوچا تعزیت کر آوں ۔۔ اچھا ہوا ٹانگ ٹوٹ گئی کاش دونوں ہی ٹوٹ جاتیں ۔۔ دونوں کے قہقہے فضا میں بلند ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہیر

Monday, June 23, 2014

دانشوران ملت



دانشوران ملت

شہیر شجاع

بنت حوا کی لاش نیم برہنہ حالت میں زمین پر آڑھی ترچھی پڑی تھی ۔۔۔ اس کا جسم اس کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر چیخ چیخ کر پکار رہا تھا ۔۔۔   لوگ چہ مگوئیاں کر رہے تھے ۔۔ ایک بولا ۔ اللہ غارت کرے ظالموں کو ۔۔ حکمرانوں کو۔۔

ایک اور آواز ابھری ۔ ۔۔یہ ہمارے ملک کو کیا ہوگیا ہے ۔۔ ہم اس قدر پستی کی جانب گرتے چلے جا رہے ہیں  ۔۔

 جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔ اتنے میں ۔ ایک صحافی ابن آدم آگے بڑھا۔۔


 اپنی نیم برہنہ لٹی پھٹی بہن کی لاش  کی تصویر کھینچی ۔۔ اور کہا کہ میں ساری دنیا کو دکھاونگا کہ ہمارے ملک میں یہ کیا ہورہا ہے ۔۔ تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کروائی ہو اور ایسے واقعات کی روک تھام ہو۔۔

ادیب اگے بڑھا ۔۔ اس نے کہا ۔۔ میں اس واقعے کو ایک ایک آدمی تک پہنچاوں گا ۔۔ تاکہ لوگوں کو آگاہی ہو  ۔۔


سیاست دان آگے بڑھا ۔۔ اس نے کہا ۔۔ ہم احتجاج کریں گے ۔ یہاں تک کہ انصاف ملے۔۔

بنت حوا کی ماں ایک طرف بیٹھی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔۔ آس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ وہ آگے بڑھی ۔۔  پولیس نے روکنے کی کوشش کی کہ لاش  کی ابتدائی تحقیقات ہونے تک آپ لاش کو نہیں چھو سکتیں  ۔۔۔


ارے کمبخت وہ میری بیٹی ہے ۔ لاش نہیں ۔۔  مجھے کوئی انصاف نہیں چاہیے ۔۔۔  وہ رو رہی تھی ۔۔چیخ رہی تھی۔۔

اپنے سر سے چادر اتاری ۔۔ اور پولیس والے کی طرف پھینک کر چلائی کہ کم از کم میری بیٹی کو اس سے ڈھانپ دو ۔۔   اور غش کھا کر گر پڑی  ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...