Showing posts with label نواز شریف. Show all posts
Showing posts with label نواز شریف. Show all posts

Saturday, July 29, 2017

پانامہ فیصلہ

ن لیگی غم سے نڈھال ہیں بقیہ خوشی سے نہال ہیں ۔ کیا ن لیگیوں کیلیے یہ بات ہی کافی نہیں کہ ن 
لیگی حکومت نہیں گری ؟ بس ایک کلیدی فرد نا اہل ہوا ہے ۔ اس فیصلے پر  دو رائے ہو سکتی ہیں ۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ ۔۔ ہم منشور کے تابع ہیں یا فرد کے ؟ ایک " محبوب فرد " کے اپنے منصب سے ہٹ جانے پر غم و اندوہ کی یہ کیفیت ذاتی محبت کی بنا پر تو درست ہو سکتی ہے ۔ مگر ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھنا زیادہ بہتر ردعمل ہے ۔ آیا کہ محبوب فرد سے منسوب محبوب جماعت اپنے منشور پر قائم ہے ؟ اور وہ اس پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے کہ نہیں ؟
ہاں اگر ہم اب بھی دربار سے منسلک ہیں اور محبوب بادشاہ کی "نظری موت " کے غم سے نڈھال ہیں ۔ پھر امید رکھنی چاہیے ۔ ہم کبھی جمہوری دور میں داخل نہیں ہوسکتے ۔ جے آئی ٹی کے بننے کے بعد سے میں نے کم از کم اس پورے معاملے میں کسی ردعمل کے اظہار سے گریز کیا ۔ بلکہ معاملات کی درست تفہیم و تعبیر کی کوشش کرتا رہا ۔ کوئی اسے عالمی سازش قرار دیتا رہا ۔ کوئی اسے شفاف احتساب ۔ غرض خودساختہ لیڈروں کی زبان ہمارے منہ میں رہی ۔ اور خوب جگالی ہوتی رہی ۔ نتیجتا ، آج ایک جانب دلوں میں دو مضبوط اور محترم اداروں کے لیے نفرت کا لاوا بھڑک اٹھا ہے ۔ کیا  اب بھی سیاسی ادارے نے اپنی ساکھ کے حصول کے لیے  حسن اخلاص اور حسن نیت کے ساتھ جدوجہد نہیں کرنی چاہیے ؟ پارلیمنٹ کے افراد ہی پارلیمنٹ کو کوئی حیثیت نہیں دیتے ۔ جبکہ یہی وہ ادارہ ہے جو تمام اداروں کا سربراہ ہے ۔ جب سربراہ کے دامن میں چھینٹے ہونگے تو ماتحت کیونکر اس کا احترام کریں گے ؟

Sunday, October 2, 2016

غیر مہذب کہیں کا

غیر مہذب کہیں کا !!!!

صاف ستھرے کلف لگے کپڑوں میں ملبوس ، فرانسیسی پرفیوم کی خوشبو سے معطر  ، کلائی میں قیمتی گھڑی  باندھے ، پیروں میں اٹالین جوتے پہنے  ، ڈائیس میں کھڑے ہوکر نہایت ہی ادب و اخلاق و دھیمے انداز میں  عوام سے مخاطب  ، جب  کچھ موسم کی گرمی اور کچھ سیاست کی تپش   سے ان کی پیشانی  پر پسینے کے قطرے نمودار ہوں ، تو   جیب سے ایک عدد معطر و ململ صاف ستھرا رومال برآمد ہوتا ہے جو نہایت ہی تہذیب کے ساتھ ان قطروں کو اپنے آپ میں جذب کرلیتا ہے ۔  ٹھیک اسی لمحے پنڈال سے نیچے موجود ہزاروں محبان لیڈر اپنا  بازو اپنی پیشانی تک لاتے ہیں اور آستینوں سے اپنا پسینہ رگڑ ڈالتے ہیں ۔۔
منظر بدلتا ہے ۔۔۔۔ ڈایس پر ایک شخص سفید لٹھے میں ملبوس کھڑا ہے ۔ جس کا کلف اتر چکا ہے ،   یہاں تک کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کپڑے ابھی ابھی کسی گٹھڑی سے نکال کر پہن لیے ہوں ۔ خوشبو کا کیا پتہ ہوگا ؟ ۔۔  پیروں میں سڑک چھاپ کھیڑیاں ہیں ۔ بال بکھرے ہوئے ۔  موسم کی حدت جذبات کی تپش اس  کی پیشانی بھی نمکین پسینے سے تر کردیتے ہیں ۔ لمحہ ضایع کیے بغیر اس کا بازو بلند ہوتا ہے اور آستیں میں پسینہ رگڑ دیتا ہے ۔
اف ہے ناں سڑک چھاپ ، بد تہذیب ، انسان ۔
جو کام مہذب  و مدبر لیڈر کے  خطاب کے دوران زمین پر بیٹھے غیر مہذب لوگ سر انجام دیتے ہیں ویسا مظاہرہ یہ ڈایس پہ کھڑے ہوکر کر رہا ہے ۔
غیر مہذب کہیں کا ۔۔
:)     

شہیر شجاع ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...