Showing posts with label تربیت اولاد. Show all posts
Showing posts with label تربیت اولاد. Show all posts

Thursday, May 5, 2016

تربیت اولاد کا ایک بنیادی نقطہ



تربیت اولاد کا ایک بنیادی نقطہ 

شیر شجاع

روز مرہ کے معمولات میں اکثر اوقات ہماری توجہ کا مرکز بچے ہوتے ہیں ۔ ان  کے ساتھ کھیلنا انہیں کھلانا  ، پڑھانا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ یہاں بہت اہم امر ان کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہے ۔ جس جانب توجہ تو ہوتی ہے مگر طریقہ کار ایسا اختیار کیا جاتا ہے جو کہ بہتری کے بجائے تنزلی کا ہی باعث بنتا ہے ۔ 
ایک مثال اس کی یہ ہے کہ ۔۔۔۔  اسے مختلف چیزیں رٹائی جاتی ہیں ۔ اس کے بعد اپنے احباب کے سامنے اس سے سوال کیا جاتا ہے ۔
کہ بیٹا فلاں کیا ہے یا فلاں کا مطلب کیا ہے ؟
بچہ کچھ دیر سوچنے لگتا ہے ، اور یہ فطری امر ہے کیونکہ انسان کی اپنے بقیہ حیوانات میں جو خصوصیت جداگانہ ہے وہ غورو فکر ہی ہے ۔ اور یہ انسان میں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ۔ الا یہ کہ اسے ظاہر کیا جائے ابھارا جائے ۔ مگر ابھی وہ ننھا منا پودا ہی ہوتا ہے ۔ اس کی اس گراں قدر صلاحیت کو اس کی ناقابلیت کے طور پر اسے باور کرایا جاتا ہے ۔
یہاں سوال ہو اور یہاں جواب دیا جائے ۔۔ یہی کامیابی کی دلیل اس کے ذہن کے گوشوں میں سرایت کرتی جاتی ہے ۔
جیسے ہی بچہ سوچنے لگتا ہے ۔  سوال کرنے والے کو ہتک محسوس ہوتی ہے ، اور اسے مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ۔۔ فوری جواب دیا جائے ۔۔ اور یہی طبیعت آہستہ آہستہ بچے کا مزاج بن جاتی ہے ۔۔
ہمیں چاہیے کہ بچے کو سوچنے دیں بلکہ کوئی بھی جواب فوری اگر مل جائے تو الٹآ مجبور اس بات پر کیا جائے کہ بچہ پہلے کچھ دیر سوچے غور کرے اس کے بعد جواب دے ۔ جب طبیعت میں جواب معلوم ہونے پر بھی مزید غور جس کو ہم صبر بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔ کا مادہ پیدا ہوجائے گا تو یہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ مزید قوی ہوتا جائے گا ۔

Saturday, March 12, 2016

تربیت اولاد اور ہم




تربیت اولاد اور ہم

شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تربیت اولاد  ہماری  ذمہ داریوں میں نہایت ہی خاص اہمیت کا حامل ہے ۔۔۔۔  میری نظر جب اپنے اطراف میں پڑتی ہے تو مجھے  نظر آتا ہے کہ ۔۔۔۔ آج کے والدین کی سوچ ، معیار سوچ  و مقصد تربیت یکسر بدل چکا ہے ۔۔۔ ویسے تو ہمارا تہذیبی زوال  کئی سو سال پہلے شروع ہو چکا تھا ۔۔ مگر آسمانی تہذیب اتنی جلدی نہیں ختم ہوسکتی ۔۔۔ اور جس دن یہ ختم ہوئی اس دن دنیا سے انسان کا وجود بھی مٹ جائے گا یعنی قیامت برپا ہوجائے گی ۔۔  
اس فانی زندگی میں ہمارا اس قدر گم ہوجانے کی واضح دلیل یہ ہے کہ ۔۔ ہم پر سختیاں پڑتے ہی زبان پر شکوے آجاتے ہیں ۔۔۔ اور اپنے آپ کو کم بخت و  بد نصیب کرداننے لگتے ہیں ۔۔۔۔ اگر اس کی معمولی سی تصویر دیکھنی ہو تو ۔۔۔  آج کے شعری ادب کا ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔  جبکہ جو زندگی ہماری ابدی ہوگی ۔۔۔ اس کا  شعور ہمارے ذہنوں میں بیٹھا نہیں بلکہ بٹھایا جا رہا ہے ۔۔ جس میں وہ عناصر بخوبی کامیاب بھی ہیں ۔۔ کہ مذہبی لوگ عذاب سے ڈرا ڈرا کر انسان کو کمزور کرتے ہیں ۔۔۔ جنت کا تصور ہی پیش نہیں کرتے ۔۔۔۔ اس جملے نے اس قدر پذیرائی حاصل کی ہے کہ  اب  عذاب آخرت کا تصور ہمارے ذہنوں سے تقریبا محو ہو کر رہ گیا ہے ۔۔ عربوں کے ہاں ایک جملہ اسی مد میں بقدر سننے کو ملتا ہے کہ ۔۔۔ گر غلطیاں ہوجائیں تو ۔۔ کہہ دیتے ہیں ۔۔ اللہ غفورو رحیم ہے ۔۔ وہ معاف کردے گا ۔۔ سو کرتے جاو ۔۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہم نڈر ہوگئے ہیں ۔۔ اور تصور زندگی ۔۔ حقیقتا معیار زندگی کو بلند کرنا ہی رہ گیا ہے ۔۔۔۔  
ہمارا آج کا معاشرہ اس قدر  متذبذب کیوں ہے ؟  آج کے نوجوان میں وہ بنیادی شعور زندگی کیوں موجود نہیں ہے  جس کی بنیاد ہمارے اجداد ہم میں بچپن سے ڈالتے  آئے ہیں۔۔۔ ہر موڑ پر ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہوتے تھے ۔۔ اور علم کی محبت ہمارے دلوں مین انڈیلتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔ کردار و معیار سوچ کو بلند کرنے  کی  تحریک دیتے تھے ۔۔ اور اس کے طریقے بتاتے تھے ۔۔۔۔ آج  صورت حال یہ کہ بزرگوں سے تو ہم نے مکمل ناطہ توڑ لیا ہے ۔۔ انہیں پرانے زمانے  کی بوسیدہ دیوار کہہ کر ایک طرف دھکیل دیا ہے ۔۔۔  اور ماوں کے دلوں میں یہ بات  سرایت کرتی جارہی ہے کہ ۔۔ ان کی اپنی بھی کوئی زندگی ہے ۔۔۔۔  وہ کیوں قربان کی جائے ۔۔۔  اور باپ   آخر اُس بلندی کو چھونے کی تگ و دو میں اولاد سے  یکسر غافل ہوجاتا ہے ۔۔ اسکول   ٹیوشن آتا جاتا دیکھ کر وہ مطمئن رہتا ہے ۔۔۔ اس بچے کے پاس تو اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ ۔۔ دن کے چند گھنٹے ماں باپ کے ساتھ بیٹھ جائے ۔۔۔ کہ یہ صحبت بھی  بہت اہم ہے ۔۔۔ بزرگ گھر پر ہوں تو اس سے اچھی کیا بات ہو کہ ان کی صحبت تو والدین کی صحبت سے ہزار درجہ بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔۔  ہم بہت سے تعمیری کام ، رویوں  اور اقدام کا ذکر کرتے ہیں ۔۔۔ اگر صرف اس جانب توجہ دے لیں ۔۔ اور اپنے مقاصد طے کرلیں تو ۔۔۔ چند ہی سال گزریں گے ۔۔۔۔۔۔ سماج اور معاشرے میں نمایاں فرق خود ہی محسوس ہونے لگے گا ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...