Showing posts with label think. Show all posts
Showing posts with label think. Show all posts

Tuesday, January 20, 2015

سندھ کا سندھی



شہیر شجاع
 
پختون کی ایک اپنی ثقافت ۔۔۔ جہاں روشنی تاریکی جنگ و جدل امن ۔۔ غرض تہزیب و تمدن ایک مکمل تاریخ ہے ۔۔ تعلیمی سرگرمیاں ہوں یا سیاسی, کھیل کا میدان ہو یا صحافت ۔۔۔ ہر میدان میں یہ لوگ نمایاں رہے ۔۔۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت ان کے دلوں میں ہر وقت ایمان کی دولت سے دھڑکتا دل ہے ۔۔۔ جو مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی سے بھی بھر پور ہے ۔۔۔ یہ دوست کا دوست ۔۔ اور دوست کے دشمن کا بھی دشمن ہے ۔ اب ظاہر ہے خصوصیات اپنی جگہ لیکن برائیان بھی ہونگی ان میں ۔ جیسے کچھ لوگ ان میں لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف تھے یا رہے ۔۔ یہ چند فی صد ہی ہونگے ۔۔۔ بہر حال ثبات کو ترک کر کے ۔۔ منفی رویوں کو اتنا اچھالا گیا کہ ۔۔ یہ قوم دہشت گرد کی نظر سے دیکھی جانے لگی ۔۔ طالبان یا ٹی ٹی پی ۔۔ جس نے خوارج کا روپ دھار لیا ، انڈیا اور امریکہ کے پیسوں پر چلنے والے یہ لوگ ۔۔ملت اسلامیہ کے لیے سر درد بن گئے ۔۔۔ بہر حال میرا مقصد اس وقت ان باتوں کو چھیڑنا نہیں ہے ۔۔۔ اس تمہید کا مقصد ۔۔ سندھ میں سندھیوں کے حالات کی طرف توجہ دلانا ہے ۔۔۔۔ جہاں ہاری وڈیروں کی غلامی پر مجبور ہے جہان تعلیمی رجحان دس فی صد بھی شاید ممکن نہ ہو ۔۔ جہاں غریب آدمی کو اپنا شناختی کارڈ بنوانے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے ۔ لیکن کوئی بھی سندھیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والاانہیں ۔۔  بلوچستان میں جب  احساس کم مائیگی بڑھی تو وہاں علیحدگی پسندی کی تحاریک نے جنم لیا ۔۔۔ جس کا فائدی دشمنان پاکستان نے خوب اٹھایا ۔۔ اور ان کی  خوب مدد کی ۔۔۔۔ سندھ میں بھی اسی قسم کی ایک تنظیم موجود ہے ۔۔۔۔  اس کے علاوہ ۔۔ جس طرح سے وہاں اقرباء پروری ۔۔۔ بدمعاشی ۔۔ امیر غریب کی تفریق ۔۔ سماج کی تذلیل ۔۔۔ اور  خصوصا ۔۔ تعلیمی سطح پر کوئی کارکردگی نہیں ہے ۔۔۔ ان کے حقوق مسلسل سلب ہو رہے ہیں ۔۔ لیکن توجہ کسی کو نہیں ۔۔ پیپلز پارٹی سندھ کی جماعت کہلاتی ہے ۔۔ لیکن حقیقتا ۔۔ وڈیروں اور جاگیرداروں کی جماعت ہے جس کا مقصد جاگیر داروں کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔۔۔ اس کے جیالے آج بھی اپنے آپ کو جیالا کہلاتے ہیں ۔۔ اب تک ان کے دلوں میں بھٹو زندہ ہے ۔۔ جس کی بدولت ۔۔۔ زرداری جیسے بدقماش فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔۔۔۔ کیا ہماری سرزمیں ۔۔۔ اس قدر تعصب کا شکار ہے کہ ۔۔۔ پنجاب  اور کے پی کے ۔۔ کے علاوہ ۔۔ کسی دوسرے خطہ ارض پاکستان پر کوئی توجہ حاصل نہیں ؟ ۔۔۔ کے پی کے ۔۔ کا تو ہم نے خود بیڑہ غرق کیا ۔۔۔ آج ہم پر جنگ مسلط ہے ۔۔ افواج پاکستان کی توجہ ادھر مبذول ہے ۔۔۔۔ ہم نے انہی کو دشمن بنا لیا جو کبھی ہمارے آہنی ہاتھ ہو اکرتے تھے ۔۔۔ ان کی قدر نہیں کی ۔۔ اور آج وہ بیرونی ہاتھوں میں بک گئے ۔۔۔ ہماری زمین ہمارے لوگ ۔۔۔ اور ان پر ہمارا ہی اختیار نہیں ۔۔۔ کل کو یہی صورتحال سندھ کی نہ ہو ؟ ۔۔۔ کبھی سندھی وڈیروں نے ۔۔ مہاجروں کو سمندر برد ہوجانے کا مشورہ دیا تھا ۔۔ تو الطاف حسین نے جنم لیا ۔۔۔۔ پھر زرداری نے بلوچوں کو بدمعاشی  کا لائسنس دیا ۔۔۔ اور آج کراچی مسلسل جل رہا ہے ۔۔۔  کیا ہم اسی طرح لسانی ٹکڑوں میں بٹے رہیں گے ؟

Monday, June 9, 2014

مسلمان اور اسلام



مسلمان اور اسلام 

شہیر 

فی زمانہ ہر شخص ہی ذی شعور و مدبر ہونے کا دعوے دار ہے ۔۔۔۔۔۔ ہم نے قرآن و سنت کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔۔۔ اور ہمیں اللہ جل شانہ کے دیے ہوئے نظام سے نفرت ہے اور اس نظام کو لاگو کرنے کو ظلم سمجھا جانے لگا ہے ۔۔۔۔۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ آج دنیا میں جہاد ختم ہو چکا ہے ۔۔۔۔ مسلمان ۔۔۔ خونریزی پر تلے ہوئے ہیں ۔۔ اور اپنی جان پر وبال ہیں ۔۔۔۔ اپنی ماوں بہنوں کی عصمتیں لٹا رہیں ہیں ۔۔۔۔ ان کی عزتیں پامال ہوتے دیکھ رہے ہیں ۔۔ ان کی سرزمینوں پر یہود و نصاری قابض ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔ لیکن جہاد ساقط ہے ۔۔ کیونکہ مسلمان نے جہاد کی صحیح تفہیم کی ہی نہیں ۔۔۔ ۔۔۔ اس نے غلطی کی کہ سوشلزم کے لیے ورلڈ وار میں حصہ نہیں لیا ۔۔۔۔بلکہ۔۔ امریکہ کے جمہوریت کے نعرے کے جواب میں ۔۔ اسلامی نظام کا خاتمہ کر دیا ۔۔ اور آج وہ انسانیت اور سیکولرازم کے نعرے کے ساتھ پھر سے کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔ شاید سیکولر نظام میں ہی عافیت ہے۔۔۔
کیا واقعی ؟؟

Saturday, May 31, 2014

کراچی کے راہزنوں سے خطاب

 
 
کراچی کے راہزنوں سے خطاب؎
 
شہیر
 
صبح دن چڑھے  جب آنکھ کھلتی ہے تو تمہارے ذہنوں میں یہ خیال نہیں آتا ہوگا کہ  میں آج روزی روٹی کی تلاش میں کونسا روزگار تلاش کروں کہ میرا آج اور میرے آنے والے کل کے لیے راہ ہموار ہوجائے ۔    کس رستے جاوں کے میرے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں اور رب تعالی کے حضور  شرمندہ ہونے سے محفوظ ہوجاوں ۔   میرا معاشرہ مجھ پر فخر کرے  اور میری وجہ سے اس معاشرے میں انقلاب آجائے ۔ مجھ میں اتنی قوت ہے کہ میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں سڑک کے بیچوں بیچ  راہ چلتے  عام سے آدمی کے کپڑے تک اتروا سکتا ہوں تو اس قوت کو میں  اپنی طاقت بنا لوں اور اپنے جیسے نوجوانوں اور ان نوجوانوں کے لیے بھی جو میرے ہاتھوں اپنا دھن لٹوا ڈالتے ہیں جو مجھ سے کمزور ہیں  اور بیشک بڑی تعداد مجھ سے بھی زیادہ طاقتور ہوگی جن کے ملاپ سے  اپنے راستے خود متعین کروں ،  روزگار خود چل کر میرے راستے میں بچھ جائیں ۔  اور میں تمام بے کس  و ناداروں میں اسے تقسیم کروں ، دہشت کی علامت ہونے کے بجائے ان کا مسیحا ہو جاوں۔
گر واقعی ایسی سوچ نہیں در آتی   
تو
ان   چوروں لٹیروں ڈاکووں کو کیوں نہیں لوٹتے جنہوں نے تمہیں اس درجے تک پہنچنے پر مجبور کیا  ۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...