استحصال اور عورت
شہیر شجاع
حقوق نسواں کے ضمن میں میڈیا کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے
لگالیں کہ اس موضوع پر بھانڈوں کو آپس میں پھبتیاں کسنے پہ جمع کر رکھا ہے ۔
یہ موضوع جن کے لیے حساس ہے ان کو نہ کبھی کسی نے پوچھا اور نہ جانا ۔ اور
نہ ہی اس کے حل کی جانب کوئی بھی ٹھوس اقدام تو دور “ رائے “ تک سامنے نہیں
آتی ۔ ورنہ اس معاشرے میں
ہماری عورت کا جو استحصال ہوتا آرہا ہےسن اور دیکھ کر روح
کانپتی ہے ۔ یہ عورت مارچ والی برگر خواتین تو بس اتنا جانتی ہیں جو خبروں میں آتا
ہے ۔ کسی خاتون کا چہرہ جھلسا دیا ، زنا بالجبر ، یا زبردستی شادی وغیرہ ۔
ان کے جو شکوے ہیں اس کا حل وہ یہی چاہتی ہیں کہ وہ مذہب و تہذیب کے بندھن سے آزاد
ہوجائیں ۔ شاید سماج کا وہ برگر طبقہ ہوچکا ہے بس “ سر عام “ ہونا چاہتا ہے ۔ بے
راہ روی کے لیے قانونی تحفظ چاہتا ہے ۔
حقیقی استحصال شدہ معاشرہ ان کے لیے ایک ایسا “ ٹول “ ہے جو ان
کے پس پردہ عزائم کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے دلیل بنتا ہے ۔
میری وہ عورت جس کا صبح و شام استحصال ہوتا ہے اس کا نہ کل کوئی
والی تھا نہ اب کوئی وارث ہے ۔
عورت مارچ والوں کے پاس یقینا ایک نظریہ ہے اور وہ حقیقتا “
میرا جسم میری مرضی “ کرنا چاہتی ہیں ۔
حیا مارچ والوں کو مارچ کے بجائے سماج کو شعور دینے کی جانب
توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس استحصال شدہ عورت کو تحفظ دینا اور ان عوامل کی
نشاندہی کرنا جس سبب سے وہ تہذیب و مذہب کی بیڑیوں میں جکڑی استحصال کو سہتی جاتی
ہے اور راتوں کو سجدے میں گر کر “ اللہ جل شانہ “ کے آگے روتی ہے ۔ کہ اسے اس صبر
کا اجر عطا فرمائے ۔ اس کے سوا اس کے دامن میں اور ہے ہی کیا ؟
وہ ایسے حساس مقام پر کھڑی ہے جہاں ذرا پیر لچکا اور وہ ان گہری
کھائیوں میں جا گری جہاں برگر خواتین کی تھپکیاں اسے “ کامیاب “ عورت کے زعم
میں مبتلا کردیں ۔
Showing posts with label حقوق نسواں. Show all posts
Showing posts with label حقوق نسواں. Show all posts
Monday, March 9, 2020
استحصال اور عورت
Labels:
استحصال,
حقوق نسواں,
عورت,
عورت مارچ,
میرا جسم میری مرضی
Tuesday, May 31, 2016
اسلامی نظریاتی کونسل اور حقوق نسواں بل ۔
اسلامی نظریاتی کونسل اور حقوق نسواں بل ۔
شہیر شجاع
اسلامی
نظریاتی کونسل نے پہلی مرتبہ غالبا ً ۔۔۔ حقوق نسواں بل کے نام سے ایک ماڈل پیش کیا
۔۔۔ اور تقریباً وہ تمام شقیں شامل کردیں ۔۔ جن پر مذہبی طبقات کو مورد الزام ٹہرایا
جاتا تھا کہ وہ ان امور پر بات کیوں نہیں کرتے ۔
مثلاً
۔۔ مرتد عورت کی تعزیر ۔۔۔ پر واضح رائے دی گئی کہ ۔۔۔ اسے قتل نہیں کیا جائے گا
۔۔۔ بلکہ تین دن کی مہلت دی جائے گی ۔۔۔
اسی
طرح ۔۔۔ خواتین کو بزور مذہب تبدیل کرانے والے کو تین سال قید کی سزا دی جائے گی
۔۔۔ یہ کوئی اتنا اہم نقطہ نہ تھا ۔۔ نہ ہے ۔۔ کیونکہ ہمارا آئین ہو یا اسلام ۔۔ اس
میں مکمل مذہبی آزادی ہے ۔۔ چونکہ اس قسم کی منفی تعبیرات کا پروپیگنڈا کیا جاتا رہا
ہے ۔۔ تو کونسل نے اس جملے کو واضح کیا ۔۔۔
اس
کے ساتھ ۔۔ اس سوچ کی بھی نفی کی گئی جس میں ۔۔ مذہبی لوگوں پر الزام عائد کیا جاتا
ہے کہ ۔۔ وہ شادی پر عورت کی مرضی کے عمل دخل کی نفی کرتے ہیں ۔۔۔ سو ایک شق شامل کردی
گئی کہ ۔۔۔ ہر بالغ لڑکی ولی بغیر خود نکاح کر سکے گی ۔۔
پھر
غیرت کے نام پر قتل ۔۔۔ کاروکاری ، قرآن سے شادی جیسے امور جو کہ کونسل کے لیے ضروری
نہیں تھا ۔۔ مگر چونکہ مذہب سے جڑے افراد کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ وہ ان
امور پر بات نہیں کرتے ۔۔۔ تو ان تمام نقاط کو اپنی سفارش میں شامل کر کے اپنا موقف
واضح کردیا ۔۔۔۔
یہ
سفارشات 163 دفعات پر مشتمل ہیں ۔۔۔۔۔ مگر میڈیا کی زینت بنی بھی تو یہ شق کہ ۔۔۔ عورت
پر ہلکے تشدد کی اجازت ہوگی ۔۔۔۔
اور
بقیہ 150 سے زائد دفعات کی مٹی پلید ہوگئی ۔۔۔۔۔
ہمارے
معاشرے کے اہل علم میں خصوصا دو طبقات ہیں ایک مذہبی اور دوسرے لبرل ۔۔۔ مذہبی اہل علم میڈیا کی زینت کبھی نہیں بنتے
۔۔۔۔ اور نہ عام اہل دانش کی ان کی تحقیقات
پر نظر ہے ۔۔۔ جو مذہبی اسکالرز کی جانب سے عمل پذیر ہوتی ہیں ۔۔ یہاں تک کہ ۔۔ بقیہ
دنیا ان ریسرچ سے فوائد سمیٹ رہی ہے ۔۔۔ جس کی زندہ مثال ۔۔ اسلامی بینکاری ہے ۔۔۔
۔۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے ۔۔ جیسے دانش سے
(intution)کشف
تک
کے سفر کی بنیاد بھی یہی میڈیا ہے ۔۔۔ جس کے پاس کوئی ایسا اسٹرکچر نہیں جس سے معاشرہ
اعتدال کی جناب گامزن ہو ۔۔ اور اہل علم کے آپس میں
)Interaction(
کی
فضا بنے ۔۔۔ ۔۔۔
یہاں
ایک بات تو واضح ہو گئی ہے ۔۔۔ کہ لبرل کا نعرہ لگانے والے کبھی عورت کا تشخص اور نہ
ہی اسے حقوق مہیا کرنے پر مخلص تھے نہ ہیں
۔۔۔۔ اس کا استحصال ایک تو جہالت زدہ معاشرے میں ،دوسرا تہذیب کے نام پر اس کا استحصال
ہوتا رہے گا ۔۔۔مذہبی اسکالرز تو تختہ مشق ہیں ۔۔ ۔
Labels:
feminism,
اسلامی نظریاتی کونسل,
حقوق نسواں
Wednesday, July 2, 2014
برقعہ
برقعہ
شہیر شجاع
سڑک میں ٹریفک کا
اژدھام تھا اور میں نے روڈ کراس کرنا تھا ۔۔ جس کے لیے میں زیبرا کراسنگ کی طرف
چلا جا رہا تھا ۔۔
اتنے میں کیا دیکھتا ہوں ۔۔۔ ایک برقعہ پوش عورت ۔۔۔ آنا فانا آئی اور سڑک میں داخل ہوگئی ۔۔۔ میں یک دم چونک گیا کہ یہ تو گئی۔
اتنے میں کیا دیکھتا ہوں ۔۔۔ ایک برقعہ پوش عورت ۔۔۔ آنا فانا آئی اور سڑک میں داخل ہوگئی ۔۔۔ میں یک دم چونک گیا کہ یہ تو گئی۔
لیکن یہ کیا ۔۔ پہلے
ایک پھر دو یہاں تک کہ ساری ٹریفک رک گئی ۔۔۔ جس کی صرف مجھے خبر تھی اس عورت نے
تو شاید اس طرف دیکھا بھی نہیں ۔
س نے جیسے ہی سڑک پار
کی ۔۔۔۔ ٹریفک کی روانی ایک مرتبہ پھر اپنی اصل حالت میں واپس آچکی تھی ۔۔۔ میں نے
دیکھا سگنل مزید 5 منٹ کے فاصلے پر ہے ۔۔ کیون نہ میں بھی اس عورت کی تقلید کروں
۔۔۔ ابھی ارادہ ہی کر رہا تھا کہ میرے دائیں طرف سے آتی گاڑی کو میرے ارادے کی
بھنک پڑگئی اور اس نے لائٹ سے سرزنش کی ۔۔ میں نہ مانا ایک قدم رکھا ہی تھا کہ اس
نے ہارن بجادیا کہ ذمہ داری اس کی نہیں ۔۔۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے
زیبراکراسنگ تک جانا پڑا۔
Labels:
Huqooq e Nuswan,
short story,
افسانہ,
پاکستان,
حقوق نسواں,
سعودی عرب,
مغربی میڈیا
Subscribe to:
Posts (Atom)
فوکس
فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...
-
پا کستانی فوجی سرحد کی حفاظت میں تو دنیا کی اعلی عسکری طاقت کے طور پر منوا چکے لیکن سیاسی طور پر اب تک ناکام رہے ہیں ۔۔۔ ہماری بد قسمتی ...
-
پشاور کے اتنے شدید اور نہایت ہی دلگیر اور افسوسناک واقعہ پہ ہر دل رو رہا ہے ۔۔۔ پورے ملک کی حکومتی مشینری سے لیکر عام آدمی تک متحرک ہے ...
-
I do not expect Some type of outcome from So Called ((( DANISHWARS))... I Must say ... what is the use of Our Minds ? I guess actually ...