Showing posts with label پردیس. Show all posts
Showing posts with label پردیس. Show all posts

Friday, June 5, 2020

پرندہ


پرندہ

شہیر شجاع


انسان کیوں ہے اور کیوں آیا ہے دنیا میں ؟ یہ اور ایسے سوالات ہر سوچنے والا ذہن سوچتا ہے ۔ کچھ کے پاس عقیدتاً جواب موجود ہےتو کچھ کے پاس عقلاً ۔ یہ الگ بات ہے کہ کون کتنا مطمئن ہے ۔ اور کچھ ان سوالات و جوابات سے ماوراء زندگی کی گاڑی کھینچے جارہے ہیں ۔ پر ان سوالات پر غور کرنے کے لیے پیٹ کا بھرا ہونا بھی شاید ضروری ہے ۔یا پھر اُس معاشرے کی تربیت میں پیٹ کا نمبردوسرا ہو ۔
ہم جیسے پسماندہ ممالک جو عالمی طاقتوں کی نکیل ڈالے چلنے پر مجبور ہیں یہاں کے باشندوں کا پہلا مسئلہ معیشت ہے اور یہمسئلہ کبھی ختم بھی نہیں ہوتا ایسے میں ذہنی پسماندگی انسان کو شارٹ کٹ کی راہ دکھاتی ہے ۔ اور ترقی یافتہ ممالک کے بڑےنوٹ سے لیکر وہاں کی پر آسائش زندگی اپنی جانب مائل کیے رکھتی ہے ۔ 
پھر کسی دن پرندہ اپنا گھونسلہ چھوڑتا ہے اور اڑ جاتا ہے ۔ اس سے پیچھے رہ جانے والوں کو کتنا فرق پڑتا ہے اس بات سے قطعنظر ایک ہستی کے دل پر پہلی چوٹ پڑتی ہے ۔ اور وہ زخم سلگتا رہتا ہے سلگتا رہتا ہے ۔ جس کا احساس سوائے اس ہستی کے کسیکو نہیں ہوتا ۔ باہر پرندہ بھی مچلتا رہتا ہے مگر جو زخم اس نازک دل میں پیدا ہوا ہے اس کی دوا کا شاید ہی کوئی سوچتا ہو ۔ کیونکہوہ نظروں سے اور احساس سے اوجھل رہتا ہے کیونکہ وہ عظیم ہستی جانتی ہے کہ اس کا درد اگر نظر آجائے تو پرندے اپنا خواب پورانہیں کرسکیں گے ۔ پھر ایک دن وہ زخم ناسور بن جاتا ہے جس کی ٹیسیں پرندہ بھی محسوس کرتا ہے مگر اب بھی دوا سے نامانوسرہتا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک دل گداز خبر اس کا سینہ چیر کر رکھ دیتی ہے ۔ اس کے پیروں تلے زمین سرک جاتی ہے ۔ بے بسی کیکیفیت اس کی زندگی کو لاحاصل بنا دیتی ہے ۔ لاچارگی کے عالم میں احساس محرومی اس کی دھڑکنوں کو طلاطم خیز موجوں میںبدل دیتی ہے ۔ سر پٹکے یا صحراوں میں نکل جائے ، یا پہاڑوں میں پناہ لے ، پرندہ دل سوزی کی ان حالتوں سے آشنا ہوتا ہے جنحالات سے شاید وہ ہستی عرصہ دراز تک پل پل گزری ہو ۔ لیکن اب سوائے ہاتھ ملنے کے کچھ نہیں رہ جاتا ۔ ایک خلا ہے جس نےتاحیات پُر نہیں ہونا ۔ اس خلا نے ہمیشہ اس احساس محرومی کو زندہ رکھنا ہے ۔ جس کو آباد کرنے کے خواہش لیکر پرندے نے اڑانبھری تھی ۔ 


Saturday, November 26, 2016

امید و یاس

امید و یاس
شہیر شجاع

وہ کوئی پچپن ساٹھ کے درمیان ہونگے ۔  درزی تھے اور اپنی مشین پر بیٹھے تھے ۔ چہرے کی ہلکی سی جھریاں شدید محسوس ہورہی تھیں ۔ آنکھوں میں امید و اداسی کی کشمکش عیاں تھی ۔ پردیس کی طویل غریبی ان کی پیشانی سے جھلک رہی تھی ۔ 
کیا بات ہے حفیظ بھائی آج کچھ زیادہ پریشان لگ رہے ہیں ؟ 
نہیں کچھ نہیں ۔ انہوں نے جواب دیا
ارے کچھ تو ہے ؟ ۔ پاکستان میں سب خیر تو ہے ناں ؟ کفیل کی پرابلم ؟ کیا مسئلہ ہے بتائیں تو ؟
نہیں یار ۔ سب خیر ہے بس کچھ سوچ رہا تھا ۔ وہ اٹھ کر میری جانب آگئے ۔ مصافحہ ہوا ۔ اب بھی چہرہ سپاٹ تھا ۔
ایک جانب چہرہ کیے اب بھی سوچوں کی دنیا سے باہر نہ نکل پائے تھے ۔
میرا تجسس بڑھتا جا رہا تھا ۔ نہ جانے کس مسئلے میں الجھے ہیں ؟
یکدم گویا ہوئے ۔
وہ بولتے جا رہے تھے ۔ اور  میں بس سنتا جا رہا تھا ۔ ان کا چہرہ سرخ ہو تا جا رہا تھا ۔ آنکھوں میں امید کا جلتا دیا بخوبی محسوس کر سکتا تھا ۔
یار شہیر یہ سی پیک کامیاب ہوگیا ناں پھر دیکھنا ۔ ان شاء اللہ پاکستان کو پھر کوئی پکڑ نہیں پائے گا ۔ پاکستان پھر یوں اوپر کی جانب جائے گا ۔  پاکستان ترقی کی منزلیں آنا فانا طے کرے گا ۔ پھر ان کی زبان رکی نہیں ۔ دل کے پھپھولے ہمارے اطراف فضا میں ستاروں کی مانندچمچمانے لگے  ۔  
 

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...