Showing posts with label Ideology. Show all posts
Showing posts with label Ideology. Show all posts

Wednesday, June 17, 2020

​فکر مشرق

فکر مشرق

شہیر شجاع

 

مسلم دنیا تحقیق کے میدان میں کتنا سفر کرچکی ہے علم نہیں ۔ خصوصا طب کا میدان جو آج کا خاص موضوع ہے اس میں ہم کہاںکھڑے ہیں ؟ بظاہر ہاتھ باندھے مغرب کی  جانب نظریں گاڑے بیٹھے ہیں کہ کوئی ویکسین آئے تو “ہم” شور مچانا شروع کریں ۔۔۔۔۔۔“ اےاہل مشرق تم نے ایک دوسرے کو کافر کہنے کے سوا کیا کیا ؟ یہ دیکھو کافروں نے علاج دریافت کرلیا “ ۔ ۔۔۔۔اور اگر اہل مشرق اپنیمقدور بھر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر کسی تحقیق کی بنا پر علاج کا بتائے تو اس کا تمسخر اڑا کر عوام الناس کو اس سے مستفیدہونے سے محروم کردیا جائے ۔ گویا اہل مشرق کو صرف تمسخر کا نشانہ بننے کا حق ہے ۔ 

ہم اپنی صلاحیتوں کو یوں ہی ضایع ہوتے دیکھتے رہیں یا ذرا آنکھیں نیچی کر کے اپنے قوت بازو کو بھی آزمانے پر توجہ دیں ۔ ورنہ یہسلسلہ دراز ہے ۔ 

آخر یہ “ ہم “ اور “ اہل مشرق “ کیا دو جدا آدمی ہیں ؟ 

 


Saturday, April 23, 2016

اعزاز و معزز

اعزاز و معزز

شہیر شجاع

پہلی صف میں کھڑا وہ  اطمینان سے  نہیں بیٹھ رہا تھا ۔ مسلسل متحرک ۔۔۔ لطف یہ کہ اسے کوئی منع بھی نہیں کر رہا تھا ۔ جیسے کہیں اس کے ذہن کے گوشوں میں تکبر کا عنصر موجود ہو ۔  یہ روز کا معمول تھا ۔ علم ہوا وہ  بچہ امام صاحب  کے بیٹے ہیں ۔کالج میں پانچ لڑکوں کی ٹولی یوں گھومتی جیسے یہ کالج نہ ہو غلاموں کی بستی ہو ، اور وہ ان کے آقا ۔ ان پانچ میں ایک نمایاں ہوتا ۔ بقیہ گروہ کے لڑکوں کا طرز عمل اس کو عالیجاہ سمجھنے اور سمجھانے میں بالکل بھی دھوکا نہیں کھا سکتا تھا ۔ معلوم ہوا وہ کالج کے پرنسپل کا لڑکا ہے ۔ اسی طرح مزید بھی کئی ٹولیاں ہوتیں ، سننے میں آتا کہ فلاںمجلس شوری کے ارکان( ایم این ایز)کی اولاد ہیں ۔  جب کالج و جامعہ سے فراغت  کے بعد در در کی ٹھوکروں کی جزا میں ایک نوکری نصیب ہوئی ۔ ہر موقع پر احساس دلایا جاتا کہ ، تم بے اختیار ہو ، اپنے دماغ کو کام میں لانے کی ضرورت نہیں ۔ بس احکام بجا لاو ۔ ہر ہر موقع پر عزت نفس  کا مجروح ہونا ، احساس تذلیل بڑھا جاتا ۔ اپنے آپ سے کراہت شدید کراہت محسوس ہونے لگتی ۔ بازار جاتا تو دکاندار ایسی چبھتی نظروں سے دیکھتا جیسے  میں کوئی کریہہ صورت  بھکاری ہوں ۔ جبکہ میں سودا اتنا ہی لیتا جتنے میرے پاس پیسے ہوتے ۔ اگر کم پڑجاتے تو سامان کم کروالیتا ۔ جس وجہ سے دکاندار کی " چار باتیں " بھی کڑوے گھونٹ پی لیتا ۔ بجلی کا بل جمع کروانے جاتا ، سخت دھوپ میں طویل قطار ، کئی گھنٹے بعد کھڑکی کے سامنے میرا چہرہ ہوتا ۔ بل جمع کرنے والا یوں مخاطب ہوتا جیسے وہ میرا بل جمع کر کے مجھ پر احسان کر رہا ہو ؟ کیا واقعی ؟ میں سوچتا  ! مہینے بھر میں نے بجلی استعمال کی ،  خواہ دن میں چند گھنٹے استعمال کی مگر کی ، بل کم ہے یا زیادہ ، ادا کرنا ہی ہے ،  مجھ جیسے کریہہ انسان کی بجلی والی کمپنی کیونکر مدد کرے گی ۔ لیکن جب میں وہ بل ادا کرنے گیا ہوں تو مجھے اتنی عزت تو ملنی چاہیے کہ میں ان کا  " معزز صارف " ہوں ۔ جب بھی بجلی کے بل پر لکھا معزز صارف دیکھتا ہوں ، تو معزز کے الفاظ ٹوٹ کر بکھرنے لگتے ہیں ۔ آخر ایک دن میرے دل کا سارا  غبار نکل ہی گیا ۔ جب میری ملاقات اس خوبرو نوجوان سے ہوئی  ۔ جو میڈیکل یونیورسٹی میں صرف اس لئے نکال باہر کیا گیا کیونکہ وہ فیس نہیں ادا کر پایا تھا  ۔ اس کے بعد اس نے وہ راستہ اختیار کیا جہاں وہ بااختیار تھا ۔ روپیہ پیسہ ، گھر بار ، رعب دبدبہ سب کچھ تھا ۔ عزت تو نہ پہلے تھی نہ اب ہے ۔ مجھے اس کا راستہ پسند آیا ۔اسے اگلے دن ملنے کا کہا ۔ رات بھر سوچتا رہا ۔ کروٹیں بدلتا رہا ۔ بہت سے خیالات ، افکار ذہن کے پردے پر چلنے لگے ۔دن سے رات تک جتنے عوامل کا مجھے سامنا ہوتا ، ان کا تجزیہ ہوتا رہا ۔ اور بالآخر فیصلہ میرے پاس تھا ۔ کب آنکھ لگی کب صبح ہوئی پتہ نہ چلا ۔ اگلے دن وقت مقررہ پر میں اس کے ساتھ رواں دواں تھا ۔ اس کی منزل تو شاید جیل ہی تھی ، یا کسی پولیس مقابلے میں نعش ہوجانا ۔ مگر میں نے  اس سے بھہی آگے جانا تھا ۔ " معزز " ہونا تھا ۔ سیاستدان ہونا تھا ۔

Tuesday, March 8, 2016

ہمارا معاشرتی رویہ از مذہبی اختلاف



ہمارا معاشرتی رویہ از مذہبی اختلاف

شہیر شجاع

ڈاکٹر  حسن ترابی انتقال فرما گئے ۔۔۔ اللہ جل شانہ غریق رحمت فرمائے ۔۔  ایک بات اکثر ذہن کو پریشان کرتی ہے کہ ۔۔۔ یہ کفر و ضلال کے فتوے زبان زد عام کیوں ہوجاتے ہیں ؟ ڈاکٹر مرحوم کے علمی و فکری خیالات نظر سے گزرتے تھے ۔۔۔ آج مزید کچھ جاننے کا موقع ملا ۔۔۔۔ وہ بھی ایک عالم تھے مفکر تھے ۔۔ اور مجتہد تھے ۔۔۔۔۔ اک بات سمجھ آگئی ۔۔ جس کی تکرار ہر معتدل علماء کیا کرتے تھے اور ہیں اپنے خطابات میں ۔۔ کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں دوسروں کا مسلک چھیڑو نہیں  ۔۔۔۔ اس وقت اس کے مفہوم کچھ اور سمجھ آیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔ پر مفہوم اب جا کر واضح ہوا ۔۔۔ مسلک سے مراد ۔۔ فرقہ یا جماعت بندی نہیں ۔۔۔ بلکہ ۔۔۔ وہ علمی وضاحت ہے جس پر ہم عمل پیرا ہوتے ہیں ۔۔۔ بعینہ وہی مسئلہ کسی دوسرے عالم کے نزدیک ۔۔۔ کسی اور پیرائے سے واضح ہو سکتا ہے ۔۔ا ور اس کا عمل جدا ۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے جو اجتہاد کیا ۔۔ وہ غلط کیا ۔۔۔ وہ بھی عالم ہے ۔۔ اس کی اپنی فکری صلاحیتیں ہیں ۔۔۔ اب جس کا دل چاہ وہ ان کی پیروی کر لے نہ چاہے تو ترک کردے ۔۔۔۔ چہ جائیکہ ۔۔۔ ان افکار کی بنا پر ۔۔ ان کی ذات کو نشانہ بنانا شروع کردے ۔۔۔ جس کا معاشرہ یا تہذیب روادار نہیں ہو سکتی ۔۔ اور انتشار جنم لیتا ہے ۔۔۔۔ اسلام بہت ہی سہولت کا دین ہے ۔۔۔۔ ہر مجتہد کے اجتہاد کی غلطی پر بھی ایک نیکی کا فرمان ہے ۔۔۔ تو پھر یہ گولہ باری کی فضا کیوں ؟
اتنی آسان سی بات ہے ۔۔۔۔ اپنا مسلک چھیڑو نہیں ، دوسروں کا چھیڑو نہیں ۔۔ یعنی میں جس علمی تعبیر پر عمل پیرا ہوں ۔۔ وہ جاری رکھوں ۔۔ دوسرے کے پاس کوئی اور تعبیر ہے تو ۔۔ وہ اپنا عمل کرتا رہے ۔۔۔ اس کے عمل سے مجھے کیا سروکار ؟ ہماری توجہ تو اخلاقی ذمہ داریوں کی طرف ہونی چاہئیں ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...