Showing posts with label لبرل. Show all posts
Showing posts with label لبرل. Show all posts

Friday, January 3, 2020

زعم دانش

زعم دانش 

ہند جیسی صورتحال پاکستان میں ہوتی تو ہمارے محترم لبرل دوست جوش و خروش کے ساتھ ہر منفی خبر پر آستینیں چڑھائے “ مذہبی جنونی” “ جہالت “ وغیرہ کے نعروں کے ساتھ “ تبرا” فرمارہے ہوتے ۔ 
جبکہ ہند کی حقیقی صورتحال میں انہیں وہاں کا حکومتی غیر انسانی رویہ جہاں گھروں میں گھس کر عورتوں کا استحصال ، مردوں ، جوانوں ، بچوں کو زود کوب کے ساتھ انہیں جیلوں میں بھرا جا رہا ہے ۔ خون بہہ رہا ہے ۔ 
جینوسائڈ کے امکانات پہ بات ہو رہی ہے ۔ 
ایک آزاد معاشرے میں مسلمان ہونا جرم ہوگیا ہے ۔ “انسان” کو نہیں “مسلمان “ کے لیے موت و حیات جیسی کشمکش پیدا ہوگئی ہے ۔
 ایسے میں ہمارے لبرل دوستوں میں “ مثبت سوچ “ اجاگر ہورہی ہے ۔ اور وہ اُس معاشرے کی ہر مثبت آواز کی تعریف کرتے ہوئے ہمارے معاشرے پہ “ تبرا “ کا شوق پورا فرمارہے ہیں ۔ 

زعم تقوی ، خبط عظمت اور زعم دانش

معاشرے کے تین المیے 

شہیر


Thursday, April 5, 2018

میرا جسم میری مرضی


میرا جسم میری مرضی 
شہیر شجاع
بلال الرشید صاحب فرماتے ہیں ۔ "انسان ایک جنگل میں جائے وہاں ایک خوبصورت اور پیچیدہ عمارت کھڑی ہو تو شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہاں کوئی ذہین مخلوق تھی ، جس نے یہ عمارت بنائی ۔ انسان ہر کہیں ڈھونڈتا ہے ، اسے کوئی نہیں ملتا ۔ اب وہ سوچتا ہے کہ اس عمارت سے فائدہ اٹھاوں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فرض کرلیا جائے کہ یہ عمارت خودبخود بنی ہے کیونکہ  اگر کسی معمار اور کسی مالک کی موجودگی تسلیم کرلی گئی  تو پھر انسان اسے استعمال تو نہیں کرسکتا ۔ اسے یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ جیسے ہی اصل مالک آیا ، عمارت خالی کرنا پڑے گی ۔ اسی طرح ہمارے جسم کی جو پیچیدہ عمارت موجود ہے ، یہ اپنے آپ تو نہیں بن سکتی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ خدا کی موجودگی تسلیم کر لیں تو پھر آپ کو اپنی خواہشات سے دستبردار ہونا پڑتا ہے ۔ بیٹھ کر پانی پینا ہے ، بسم اللہ پڑھ کر لقمہ توڑنا ہے ۔ حلال ذرائع سے کمانا ہے ۔ انسان للچا کر یہ سوچنے لگتا کہ کیوں نہ خدا کے وجود کا انکار کردیا جائے ۔ اس طرح اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکوں گا ۔ خدا کون سا سامنے کھڑا احکامات دے رہا ہے ۔ نہ ہی  کوئی فوری سزا ہے ۔ "
مگر یہاں دعوی  ملحد کی جانب سے نہیں بلکہ مومنات کی جانب سے وارد ہوا ہے ۔  یہ اس امر کی دلیل ہے کہ " حیا جو رخصت ہوتی ہے تو اپنے ساتھ ایمان بھی لے جاتی ہے  " ۔   حیا نہ صرف ایمان ، بلکہ معاشرے کی چولیں ہلا دیتی ہے ۔ تہس نہس کر کے رکھ دیتی ہے ۔  عالم مغرب میں حقوق نسواں کی تحاریک نے زور پکڑا اس تحریک کو  کامیابی ملی ۔   صنف نازک جو چاہتی تھی اسے مہیا کردیا گیا ۔ فرق بس اتنا ہے پہلے عورت ایک دو یا تین مردوں  کی زیادتی سہتی تھی ، اب  وہ کئی مردوں کی زیادتیاں  بخوشی قبول کرتی ہے ۔   یعنی " میرا جسم میری مرضی " ۔
انسان  ہمیشہ غلبے کی خواہش تلے ہی مارا جاتا ہے ۔ یہاں تک آخری صورت میں الحاد کی رسی کو تھام کر مطئن رہنے کی لاحاصل کوشش کرتے ہوئے رخصت ہوجاتا ہے ۔   

Sunday, March 12, 2017

پسند کی شادی اور لبرل ذہن

پسند کی شادی اور لبرل ذہن
شہیر شجاع
پسند کی شادی پر دو پیپلز پارٹی کے وزرا آپس میں مرنے مارنے پر تیار کھڑے ہیں ۔ دونوں مختلف قبائل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ لیکن ان کی جماعت پیپلز پارٹی ہے ۔ اور پیپلز پارٹی لبرل نظریے کی علمبردار بھی ہے ۔ جیسے ہی معاملہ اپنی ذات تک آیا سارا لبرل ازم رفو چکر ہوگیا ۔  دونوں قبائل جن کے دو افراد  اسمبلی کے ممبر ہیں ۔ جو پچھلے دنوں قبول اسلام جیسے مسئلے پر قانون سازی کر رہے تھے ۔ ان  کی پسلی  سماجی روایت کے سامنے ٹوٹ گئی ۔ اور اسلام پسندوں کو رجعت پسندی کا طعنہ دیتے نہیں تھکتے ۔  یہ ایک ایسا عبرت ناک واقعہ ہے ان کے لیے  جو سماجی روایتوں ، اور معاشرتی طور اطوار کو مذہب سے جوڑ کر مذہب کو تختہ مشق بنائے رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔  مذہبی نقطہ نظر جو بھی ہے سو ہے ۔ اس تک تو معاشرہ آج تک پہنچ ہی نہیں پایا ۔  کیونکہ اس سے پہلے اسے سماجی روایتوں کو بھی الانگنا ہوتا ہے جس کی جرات کرنا عموما ناممکن ہوتا ہے ۔ مذہب سے لاتعلقی  کے بہت سارے نقصانات کا اس سماج کو سامنا ہے اس کے باوجود ہر لبرل ذہن، ہر مشکل کا تانہ بانہ مذہب سے جوڑنے کا قائل رہتا ہے ۔ کیونکہ سیکولر معاشرے کی مادر پدر آزادی عام ذہن کو زیادہ متاثر کرتی ہے ۔ سو وہ اس مملکت خداد کے اسلامی مملکت ہونے کو ان تمام الجھنوں کا باعث گردانتا ہے ۔ اور ہر برائی کی جڑ لفظ " مذہب " سے جوڑنے پر ذرا تامل نہیں کرتا ۔ بہتر ہوتا کہ اس متذبذب پراگندہ شعوری دور میں ہم اپنی جڑ ، اپنی بنیاد یعنی مذہب جو  ہمارا نصب العین اور ہماری زندگی کا منشور بھی ہے اس جانب لوٹتے مگر جو لوٹنا بھی چاہتا ہو اسے بھی متنفر کرنے پر مصر ہیں ۔ لبرل کا لفظ ہی اعتدال پسندی کا اظہار ہے مگر اس کے پس منظر میں چھپی منافقت جلد سمجھ نہیں آتی یہاں تک کہ ذہن پر ایک دبیز تہہ چڑ چکی ہوتی ہے ۔ آنکھوں میں ایک خاص عینک براجمان ہوچکی ہوتی ہے ۔

Saturday, February 11, 2017

بانو قدسیہ کی رحلت

بانو قدسیہ کی رحلت
شہیر شجاع 

 ذہین اور مدبر لوگوں کی سوچ میں مشابہت ہونا امر ممکن ہے ۔ اور ایسا ہوتا رہا ہے ۔ بڑے بڑے محققین جو ایک دوسرے کو اُس وقت جانتے بھی نہ ہونگے ، ملتے جلتے نظریات پیش کرچکے ہیں ۔ کیونکہ زندگی کے حقائق یکساں ہیں ۔ ان تک تدبر کرنے والوں کی جب رسائی ہوتی ہے تو یکسانیت لازم ہے ۔ آج بانو قدسیہ مرحومہ کے جانے کے بعد کچھ حقائق جو ہمارے ادب کے متعلقین میں موجود ہیں کچھ زیادہ واضح ہوتے محسوس ہوئے ہیں ۔۔ جیسے ایک دیوار حائل ہے ۔۔ افکار کی دنیا میں بھی اجارہ داری سا رواج محسوس ہوتا ہے ۔ جہاں صرف اسی سوچ کو پنپنے کی اجازت ہے جو رائج زمانہ ہے ۔ خواہ رواج درست بھی ہے یا غلط ۔ بانو آپا مرحومہ غیر روایتی اور اس فکر کی علمبردار ادیبہ تھیں جسے آج کا ادب برداشت نہیں کرسکتا ۔ جبکہ وہی کچھ چیخوف کے قلم سے بپا ہو تو قابل قبول ہے بلکہ قابل ستائش بھی ۔ لیکن راستہ ٹالسٹائی کا پسند ہے۔ بلا شبہ ٹالسٹائی اپنے عہد کا ذہین و مدبر شخص تھا جو علم کی ان گہرائیوں تک پہنچا جسے معرفت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ مگر صاحب ایمان غزالی رحمہ اللہ جب اس چوٹی تک پہنچتا ہے تو وہ امام غزالی ہوجاتا ہے، مگر ٹالسٹائی ؟ یہی وہ دیوار ہے جو ہم نے کھڑی کر رکھی ہے ۔ دیوار کے بائیں جانب ہونا قبولیت کی ضمانت ورنہ اسے ادیب ماننا بھی دشوار ۔ اس کے باوجود بانو قدسیہ جیسے ادیب دیوار کے دائیں جانب اپنا کام کرتے رہے ۔ ان کے جانے کے بعد اب جیسے بہت بڑا خلا محسوس ہوتا ہے۔ 
نہیں سمجھے ؟ میں نے دیکھا ایک بہت بڑی ادیبہ کی رخصتی ، اور اس پر کہیں افسوس تو کہیں جلتے کڑھتے لوگ ۔ کم و بیش چالیس سال پہلے لکھا گیا ان کا ناول " راجہ گدھ" کسی کو " نقالی " نظر آنے لگا تو کسی کو اس میں کچھ اور ۔ ادبی فن پارہ حتمیت کا دعوی نہیں کرتا ۔  قبولیت و نا مقبولیت کے ساتھ ساتھ نقد بھی اس فن پارے کا لازمی حصہ ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ فن پارہ ہی نہ ہو ۔ آپ کے رائج اصطلاحات سے ہٹ کرفن کو فن ہی نہ ماننا نا انصافی ہے ۔ جس سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ ادب لبرل نہیں بلکہ " فرقہ لبرل " اپنی منشاء کے مطابق ہی اسے قبول و نامقبول رکھنا چاہتا ہے ۔ ایک واضح لکیر صاف محسوس ہوتی ہے۔ جیسے کچھ دائیں جانب کھڑے ہوں کوئی بائیں جانب ۔ افرادی قوت اجارہ داری چاہتی ہو جیسے ۔ اور ایسی سوچ گھٹن پیدا کرتی ہے ۔ اعتدال رفع ہونے لگتا ہے ۔ اور حقائق غائب ہوجاتےہیں ۔ اسکرین پر جو دکھایا جائے اس کی حیثیت محض وقتی تفریح سا رہ جاتا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے بانو قدسیہ دیوار کے دائیں جانب کھڑی آخری پلر تھیں جنہوں نے سارا بوجھ اٹھا رکھا تھا ۔ آج جیسے بس وہ دیوار گرنے والی ہو ۔ میدان صاف ہو جائے ۔ اور اجارہ داری قائم ہوجائے ۔ کیونکہ فن بھی اب اپنی منشاء کے مطابق تولا جانے لگا ہے ۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...