Showing posts with label عورت، سماج، مسئلہ. Show all posts
Showing posts with label عورت، سماج، مسئلہ. Show all posts

Sunday, August 1, 2021

عورت کا مسئلہ

 آپ نے نکاح کو مشکل بنا رکھا ہے ۔ جلدی شادی کو عیب سمجھتے ہیں ۔ کثیر الازدواج آپ کے لیے روح فرسا ہے ۔ اور پھر معاشرے میں روا مرد و عورت کے مسائل کا حل مادر پدر آزادی میں تلاش کرتے ہیں ۔ نور اور عینی کی مثال لاتے ہیں ۔ لیکن ان دونوں پہ غور نہیں کرتے ۔ صرف درندگی نظر آرہی ہوتی ہے ۔ درندہ تو درندگی سے باز نہیں آئے گا ۔ ایسے میں غور کرنا ہوتا ہے کہاں کیا غلط ہو رہا ہے ؟

عینی ایک بیوی ہے اور اس کے پاس شرعی اختیار ہے کہ وہ علیحدہ ہوجائے ۔ مگر آپ کے معاشرے میں مطلقہ ہونا جیسے اچھوت ہونا ہے ۔ کیونکہ یہ “ہزاروں سالہ تہذیبی زمین “ ہے ۔ یہاں صاحب استطاعت مردوں کو ایک شادی کی آزادی ہے خواہ وہ باہر زنا کرتا ہھرے ۔ مگر دوسری تیسری شادی کی اجازت نئیں ہے ۔ عورت کی طلاق ہوجائے یا وہ بیوہ ہوجائے تو اب اس کے لیے ساری زندگی گھٹ گھٹ کر جینا آپ ہی نے لکھ دیا ہے ۔ کیونکہ مردوں کو اسے اپنانے کی آپ کی جانب سے اجازت نہیں ۔
ہاں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی اپنی “ مرضی “ سے تعلقات استوار کرلے اور توڑ لے ، پھر اور کسی سے جوڑ لے ۔ یعنی اسے اس بات کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ سو مردوں کے بستر کی زینت بنے پھر بھی کوئی پسند نہ آئے تو اکیلی رہے ۔ یہاں عورت کے لیے کیا مثبت ہے ؟ پھر اس کی توجیہہ کے لیے عورت کے ساتھ پیش آئے درندگی کے واقعات کو سامنے لاتے ہیں ۔ ان کا آپس میں کیا تال میل ہے ؟ دلیل لائیں تو کم از کم منطقی لائیں ۔ عورت کو سوچنا ہوگا وہ “ شوپیس “ نہیں ہے ۔ اس کی زندگی نکاح میں ہے اور اگر شوہر پسند نہیں تو بے جھجھک علیحدہ ہوجائے نہ کہ ظلم سہتی رہے ۔ یہ مسائل چلتے رہیں گے ، دانش گاہیں آباد رہیں گی ان دانشوروں سے جن کے قلم مفادات کے تابع ہوتے ہیں ۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...