Showing posts with label People. Show all posts
Showing posts with label People. Show all posts

Tuesday, July 26, 2016

بندوبست

بندوبست

شہیرشجاع

آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ، جو اس کے گالوں کو چھو کر اس میں توانائی کا احساس جگارہی تھیں ۔ وہ یک ٹک آسمان کے بادلوں کو دیکھے جا رہا تھا ۔ منڈلاتی چیلوں  کو گھورتا ۔ ان کے پھیلے پروں پہ اٹکے وجود کو اڑتا دیکھ کر اس کا دل مچل سا جاتا اور چہرے پر ایک مسکراہٹ طاری ہوجاتی ۔ کبھی کوئی چیل ایک دوسرے کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرنے لگتیں تو اس کے پیلے پیلے دانت جھلکنے لگتے ۔ ناک سکڑ سی جاتی اور معصوم آنکھوں میں تارے جھلملالنے لگتے ۔
کچھ شور کی آواز سے اس کی نظریں اپنے دائیں جانب اتریں ۔ چند زرق برق لباس اور بیوٹی پارلر کے حسن میں ڈھلی  آنٹیوں کو دیکھ کر وہ ذرا ٹھٹکا ان میں ایک تقریر کر رہی تھیں ، باقی ان کا ساتھ دے رہی تھیں ، اسے کیا سمجھ آنی تھیں وہ اس جھنڈ میں اپنی بوسیدہ سے کپڑوں میں ملبوس فاقہ کش ماں کا ڈھانچہ تلاش کرنے لگا ۔ کامیابی نہ ملنے پر اس کا چہرہ ذرا ڈھل سا گیا ۔ اس کی آنکھوں کے تارے مزید گہرے سے ہوگئے ۔ اتنے میں اسے ایک ٹھکوکر لگی ۔ خوبصورت جوتوں میں ملبوس پیر اس کی گود میں تھا ۔ اور ایک وقت کے کھانے کا کچھ بندوبست ہونے لگا تھا ۔

Sunday, May 8, 2016

افسانہ ۔۔۔۔شاہ پرست

افسانہ ۔۔۔۔شاہ پرست 

شہیر شجاع 

وہ ایک معمولی سے قطعہ میں ساری زمین کی بادشاہت کی خطابت کے ساتھ جلوہ افروز تھا ۔ آس پاس اس کے  جوکروں کی فوج در موج موجود رہتی ۔ وہ کہتا میں رات اڑ کر دشمن کی خبر دریافت کر لاتا ہوں ۔۔ اور وہ فوج ۔۔ موج میں واہ واہ کرتی اور محل کے در و دیوار سردھنتے ۔ جن دیوراوں کے پار ایک بہت ہی بڑا انسانوں کا مجمع اس بادشاہ کی نظامت کا آسرا لیے اپنے سے کئی گنا طاقتور استبداد سے لڑ مرنے کو تیار تھا ۔ جس کی خبر شاید  اس کے خواب  کی اڑان  کو دستیاب نہیں تھی ۔ اس مجمع  میں ایسا جوش و ولولہ تھا کہ دنیا کے ہر استبداد کو تہہ و بالا کردے ۔ مگر انہوں نے چشم تصور میں خواب  کی اڑان میں خرگوش کا پیچھا کرتے شخص کی امارت کو تسلیم کر رکھا تھا ۔ مگر اپنے سراپے پر نگاہ ڈالنے ، اور امارت کی قابلیت جانچنے  کی صلاحیت کسی میں نہ تھی ۔کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔۔۔ کہ ان کا امیر کوئی مرد میدان ہونا چاہئے ۔۔۔ مگر وہ شاہ پرست تھے ۔۔۔ جس کی بنیاد صدیوں میں  اپنی جڑیں تنو مند کر چکی تھی ۔ اور اب پاداش یہ کہ ۔۔۔۔  جوش و ولے اور غیض وغضب سے بھرپور مجمع کو دشمن نے روندتے ہوئے ۔۔۔ تصوراتی امارت کے حقدار کے قلعے پر دھاوا بولا ۔۔  کہنے کو تو وہ بادشاہ تھا ۔۔۔ نام بہادر شاہ تھا ۔ مگر خواب کی سرزمین کی جانب محو سفر ہوا ۔ جہاں اس کی شان امارت اس کے انتظار میں تھی ۔ ۔۔ جبکہ بھرا پرا مجمع ۔۔ منتشر ہوکر ۔۔ استبداد کے آگے ڈھیر تھا ۔ ۔ بس چنگاریاں تھیں جس کا مستقبل  کاتب تقدیر لکھ رہا تھا۔اور وہ فقیرانہ شان سے  خواب چن رہا تھا ۔۔ آن کی آن میں لوگوں کی ٹھوکروں میں پل رہا تھا ۔

Wednesday, April 13, 2016

امارت و تجارت اور ہماری ذہنی اپج



صرف اتنا ہی جان لینا میرے لیے کافی ہے کہ یہ تاجر ہیں ۔۔۔ اور امارت و تجارت کا آپس میں میل جول نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ تاجر ہمیشہ اپنے سرمایے کا مفاد سب سے مقدم رکھے گا ۔۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ امیر کے لیے اس کی جمعیت کا مفاد مقدم ہوگا ۔۔۔۔  ۔۔۔ اسی طرح ۔۔۔۔ امیر اور عام کی تفریق میں اخلاقیات کا بڑا عمل دخل ہے ۔۔۔۔ ایک ہی عمل کسی عام شخص کی نسبت برا نہ مانا جاتا ہو ۔۔۔ لیکن وہی عمل امیر ۔۔۔ کی نسبت بہت معنی رکھتا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ وہ ایک پوری قوم کی رائنمائی کا دعویدار ہوتا ہے ۔۔۔۔ وہ ایک بہت بڑی جمعیت کے نمائندے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے یعنی سفیر السفراء ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تو وہ مقام ہے جہاں ساری جمعیت اپنے حق میں بہتر فیصلے کرنے کے لیے اس پر اعتماد کرتی ہے ۔۔۔۔۔ سو جمعیت کے افراد گناہ گار بھی ہونگے تو عام بات ہوگی ۔۔۔۔ مگر گناہ اگر امیر سے سرزد ہوجائے تو بلاشبہ یہ عام بات نہیں کہلائے گی ۔۔۔۔۔

Monday, May 4, 2015

معاشرتی ترقی ۔۔۔۔۔



معاشرتی ترقی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 شہیر شجاع

معاشرہ کئی اکائیوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے ۔۔۔ جس کی ایک بہت ہی بنیادی اکائی ۔۔ مساوات ہے ۔۔۔۔ مساوات کے ضمن میں ۔۔ محنت کش طبقے کی بات کرنا چاہوں گا ۔۔ جسے دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔۔۔ جس کی مزدوری  کے لے سیاستدان سڑکوں پر نکلتا ہے ۔۔ دین اس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے اس کے مزدوری ادا کر دیے جانے کا حکم دیتا ہے ۔۔۔۔ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔ ایک محنت کش کے کھردرے ہاتھوں کو محسوس کر کے چوم لیتے ہیں ۔۔۔   جس کی محنت کے بل بوتے پر انجینئر اپنی تخلیق کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتا ہے ۔۔۔۔ بہر حال یہ ایک سب سے مضبوط اور قابل فخر اکائی ہوتی ہے ۔۔۔ 
ہم معاشرتی اصلاح ۔۔ کی تو خوب باتیں کرتے ہیں ۔۔ لیکن وی آئی پی کلچر  پر شاذ و نادر ہی گفتگو ہوتی ہے ۔۔ کیونکہ تکبر ہم میں رچا بسا ہے ۔۔۔  چپراسی  کو ہمارا معاشرہ جزوقتی غلام کا مقام دیتا ہے ۔۔ جبکہ وہ محنت کر کے حلال روزی کما رہا ہے ۔۔۔ اسی طرح اس معاشرے میں کئی ایسے کردار ہیں ۔۔ جو " کمینے " کہلائے جاتے ہیں ۔۔۔
میں ایک کمپنی میں ملازمت کیا کرتا تھا ۔۔ رمضان کا مہینہ تھا ۔۔ پوری کمپنی میں ایک ہی لوڈر تھا ۔۔ اور دو ڈپارٹمنٹ تھے ۔۔مختصر یہ کہ ۔۔۔ اس سے زائد کام لینے پر میں نے احتجاج کیا تو ۔۔ میرے مینیجر نے مجھے جواب میں کیا کہا " ۔۔۔۔ یہ کہ ۔۔۔۔ پورے ملز ایریا میں جا کر دیکھ لو ۔۔۔ سب سے زیادہ میں ہی تنخواہ دیتا ہوں ۔۔۔
پتہ ہے کتنی ؟
پورے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو ہزار پانچ سو ۔۔
آآآآآآآاااہ ۔۔۔
یہ دس سال پرانی بات ہے ۔۔۔ پر دو ہزار پانچ سو کی اس وقت بھی کیا اوقات ہوگی ۔۔ جب حکومت کی طرفسے کم سے کم تنخواہ چھ ہزار مقرر تھی ۔۔
میری ان صاحب سے خوب نوک جھونک ہوئی بالآخر  پیر پٹختے مجھے واپس آجانا پڑا ۔۔
سوچتا ہوں ۔۔۔ یہ جو بڑے بڑے افسان ہیں ۔۔( ہمارے معاشرے میں تو ۔۔ بہت ہی بڑے کہلائے جاتے ہیں ناں ) جن کو چائے پینی ہو تو غلام کو آواز دے دی ۔۔۔ جوتے پالش کرنے ہوں ۔۔ تو غلام کو آواز دے دی ۔۔۔ کپڑے استری کرنے ہوں ۔۔۔ تو  خاص دھوبی ۔۔۔۔۔
یوں محسوس ہوتا ہے ۔۔ جیسے ہمارے معاشرے میں ۔۔۔ محنت کش طبقہ ۔۔۔ ان افسران بالا کی غلامی کے لیے پیدا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔ جن کی قدر ۔۔۔ کھوٹے سکے کی ہے ۔۔۔
اور سڑکوں پر سیاستدان محنت کش طبقے کے لیے آواز بلند کرتا  لاوڈ اسپیکر پھاڑ ڈالتا ہے ۔۔۔ اور ڈائس سے اتر کر ۔۔ ایک غلام آتا ہے  ۔۔ صاحب کا پسینہ صاف کرنے ۔۔۔

Saturday, January 31, 2015

پاکستان کا بیچارہ دستور

یہ  جنگ تو پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے ہی شروع ہوچکی تھی ۔۔۔۔ کہ پاکستان سیکولر ہوگا یا  ریگولر ۔۔ اسی چکر ویو میں ۔۔۔  بھول بھلیاں ہو کر رہ گیا ۔۔۔۔۔ کھینچا تانی  کا بازار  اتنا کھچا کھچ بھرا ہوا ہے کہ ۔۔۔۔۔ انسانی خون کی قیمت ارزانی ہوگئی ہے ۔۔۔ نامعلوم افراد  یہاں کی خاص پہچان ہیں ۔۔۔ جہاں مرضی جس کو مرضی  " ٹھوک " ڈالتے ہیں ۔۔۔۔  لیکن یہ زیادہ دیر نا معلوم نہ رہ پائے ۔۔ اب انہیں  ٹی ٹی پی ۔۔ کے نام سے جانا جاتا ہے  ۔۔۔ ویسے   پاکستانی  ریاست کا وجود کیونکر آیا ؟ اس کو  معمہ بنانے کی بھی بدرجہ اتم کوششیں جاری و ساری ہیں ۔۔۔ لیکن   دوسری طرف ہر پاکستانی  اپنے ذہن میں ایک مظبوط نظریہ ظرور رکھتا ہے ۔۔۔۔
کسی طرح چھبیس سال کے عرصے کی کھینچا تانی خون گرانی کے بعد  جو ایک دستور  کا وجود عمل میں آیا تھا ۔۔۔۔ اس کو اکتالیس سال کے عرصے تک نافذ نہ کر پائے  ۔۔۔ لیکن اب تک ۔۔۔ ریگولر اور سیکولر کی جنگ جاری ہے۔۔۔

شہیر 

Saturday, January 24, 2015

شدت






شدت 
 
شہیر شجاع 
 
ہماری نفسیات میں شدت اس قدر اثر انداز ہوچکی ہے ۔۔۔۔ خواہ محبت ہو یا نفرت ۔۔۔ عمل ہو یا بے راہ روی ۔۔ ہر چیز میں شدت ہی نظر آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثال کے طور پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والدین اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں ۔۔ یہ ایک قدرتی جذبہ ہے ۔۔۔۔  لیکن آج کے والدین میں اولاد کی محبت کی شدت ایسی ہے کہ ۔۔ بچہ اپنے آپ کو دنیا کا  شہزادہ  محسوس کرتا ہے ۔۔ا ور اسی سوچ کے ساتھ وہ شعور کے  منازل طے کرتا جاتا ہے ۔۔ اور جیسے جیسے اس کی منزلیں طے ہوتی ہیں اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ  " وہ " نہیں رہا ۔۔ اس کے آس پاس کے لوگ بھی " وہ " نہیں جو اس کے لاشعور میں بیٹھے تھے ۔۔۔ اور اس کے دل میں  مختلف احساسات جگہ بنانے لگتے ہیں ۔۔ جس میں احساس کمتری سے لیکر احساس لاحاصلی ۔۔۔ اور دلی طور پر مردگی کی جاب مائل ہوجاتا ہے ۔۔ یہی وجہ ہے کہ ۔۔ جب اس کو عقلی بلوغت کا حامل ہونا چاہیے تھا ۔۔ وہ اپنے آپ کو دنیا میں بوجھ سمجھنے لگتا ہے ۔۔۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں تن تنہا ہے ۔۔ ساری دنیا بناوٹی ہے ۔۔ سب کچھ محض دکھاوا ہے ۔۔۔ اس کے بعد جب اس کی اپنی اوالد ہوتی ہے تو وہ اسے اس سے کہیں زیادہ شدت سے پیار دیتا ہے ۔۔ یہ سوچ کر کہ جو اس کی زندگی میں کمیاں رہ گئی ہیں وہ آنے والی نسل میں نہ رہے ۔۔۔ لیکن غیر مرئی طور پر ۔۔۔ اس بچے کو مزید شدید احساس لاحاصلی کی طرف مائل کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...