Showing posts with label Education. Show all posts
Showing posts with label Education. Show all posts

Saturday, August 22, 2020

سرمایہ دارانہ تعلیم اور جدیدیت

سرمایہ دارانہ تعلیم اور جدیدیت


یوں محسوس ہوتا ہے جیسے "جدیدیت " سرمایہ دار کی جانب سے پیش کردہ ایسا تصور حیات ہے جس میں ملبوس ہوکر انسان "میں " میں مبتلا ہوجائے اور سرمایہ دار کی ترقی کے لیے اپنی ساری قوت صرف کردے ۔ بیس بچیس سال  کی انتھک محنت کے بعد ایک ڈگری کا حصول اس کو کسی سرمایہ دار کی خدمت کا حقدار بنادے ۔ جس کے عوض اس کی ذات کو چند جبلی آسائشات میسر آجائیں ۔

اسی بنیاد پر کامیابی و ناکامی کا تصور قائم ہے ۔ اسی ذیل میں آج کے اخلاقی تصورات تشکیل پاتے ہیں ۔ جہاں خدمت کی باقاعدہ ویڈیو بنائی جاتی ہے  ۔ فوٹو سیشن ہوتا ہے ۔ ناموں کی تختیاں سجائی جاتی ہیں ۔

غریب ایک ایسا پروڈکٹ ہے جس سے ڈرایا جاتا ہے ، جسے استعمال کیا جاتا ہے ، جسے گالی سمجھا جاتا ہے ، جسے معاشرے کا کلنک سمجھا جاتا ہے ۔ ہنرمندی "عیب" اور جفاکشی بے حمیتی کا استعارہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب "افسر " عوام میں آتا ہے تو "ہٹو بچو " کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔

کیسے تضادات سے بھرے تصورات ہیں ۔ اور یہ جدیدیت ہے ۔


Wednesday, October 10, 2018

سرمایہ دارانہ پروڈکٹ

سرمایہ دارانہ پروڈکٹ

شہیر

علم کی حیثیت ٹکوں کی رہ جائے گی کیسے سوچا جاسکتا تھا ؟ کبھی ماسٹر ، استاذ نے تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی تھی ۔  محلے کے بدنام ترین لوگ بھی ان کی عزت کیا کرتے تھے ،  اسکی زندگی عموما سادہ اکثر کسمپرسی کی حالت میں ہی دیکھی گئی ۔ مگر اس کے چہرے پر اطمینان جھلکتا تھا ۔ احساس ذمہ داری کی شکنیں اس کی پیشانی سے عیاں ہوتی تھیں ۔ جیسے سارے جہاں کا درد اس کے سینے میں ہو  ۔
ہم بچپن میں بڑوں سے پوچھا کرتے تھے تعلیم کی آخری حد کیا ہے ؟ ہمیں بتایا جاتا ویسے تو کوئی حد نہیں مگر آخری ڈگری جو سب سے بڑی ڈگری کہلاتی ہے وہ " پی ایچ ڈی " ہے ۔ اس وقت تو اس کے معنی کا بھی ادراک ممکن نہیں تھا ۔ مگر اس نام کا ایک رومان بسا تھا ذہن میں ۔ کہ جس شخص نے پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی ہو ۔ اس کا ذہن کس قدر وسیع ہوگا اور اس کے سینے میں علم کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوگا ۔ کتنی دنیا اس سے مستفید ہوگی ؟  جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ، علم کے معانی کا ادراک کچھ کچھ ہوتا گیا ۔ مگر ساتھ ساتھ معاشرے کے ایک عظیم المیے سے بھی سامنا ہوا ۔ جہاں علم کی حیثیت ارزاں  ہوتی دیکھی ۔ جہاں ڈگریوں کو  علم کا مساوی درجہ دیا جانے لگا ۔ اور مقصد ڈگری کے معنی ملازمتوں کا حصول جانا گیا ۔ جتنی اعلی ڈگری اتنی اعلی " نوکری " ۔ یہ ایک ایسا تضاد تھا جو بمشکل سمجھ آتا ۔ آج اس تضاد نے یہ دن بھی دکھایا کہ  اعلی ترین ڈگری یعنی اعلی ترین " علمی سند " رکھنے والے  " نوکری" نہ ملنے پر احتجاج کررہے ہیں ۔ اک آہ سی نکلتی ہے ۔ یہ کیسا علم ہے ؟   یہ کیسی سند ہے ؟ یا معاشرہ علم والوں سے متنفر ہوچکا محض " سرمایہ دارانہ پروڈکٹ" کا طلبگار رہ گیا ہے ؟

Monday, May 15, 2017

کیا سی پیک ن لیگ کے لیے فخر کا باعث ہے ؟

کیا سی پیک ن لیگ کے لیے فخر کا باعث ہے ؟
شہیر شجاع
پاکستان کی ترقی اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے دعوے دار ن لیگ کے سربراہ کی جانب سے سی پیک پر فخر کیا جانا بالکل بجا ہے ۔ اس میں ساتھ ہی تمام وزرائے اعلی اور ان کی پارٹی بھی مکمل حصہ دار ہے جنہوں نے اس منصوبے کو کھٹائی میں پڑنے نہیں دیا ۔۔ اپنے تحفظات ضرور پیش کرتے رہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے ۔ مگر انہوں نے اس منصوبے کو کالا باغ ڈیم جیسی صورتحال کی جانب جانے سے محفوظ رکھا ۔ یہاں تک تو سارے متفق ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ کیا ن لیگ کو سی پیک پر حقیقتا فخر کرنا چاہیے ؟ یہ ایک غیر ملکی سرمایہ کاری ہے ۔ اور اس میں اس ملک کا سب سے زیادہ مفاد پوشیدہ ہے جو اس پر سرمایہ کاری کر رہی ہے ۔  ایشین ٹائیگر بنانے کے دعوے دار جماعت نے  اپنی زمین اور اس سے پیدا ہونے والے سرمائے سے لیکر زراعت ، ٹیکنالوجی ، تعلیم ، صحت و انفراسٹرکچر کو بھی مثال بنا لیتے ہیں کہ یہ ان کی پہلی ترجیح ہے ۔ کیا پاکستان کو پاکستانیوں کے لیے  پاکستانیوں کے ٹیکس اور  پردیسی پاکستانیوں کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے والوں  کے لیے کوئی پرکشش صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ؟ کیا  آج میں یہ تصور کرسکتا ہوں کہ میری آمدن جتنی بھی ہو ۔ میری اولاد کی تعلیم اور صحت  کے مسئلے میں پرسکون رہوں ؟ 
ہمارے پاس یقینا تعلیمی نظام کے بہترین ماڈلز موجود ہیں ۔ ماہرین اور تعلیم کو بنیادی ضرورت سمجھنے والے ایسے ماڈلز پیش کرتے رہتے ہیں ۔ مگر کیا وجہ ہے کہ اب تک ان حکومتوں کی بنیادی ترجیح یہ سب نہ ہوسکی ؟
آج چین سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لے ۔ ہمارے پاس کیا رہ جائے گا ؟

Tuesday, April 26, 2016

قدرتی تقاضہ


قدرتی تقاضہ

شہیرشجاع

دنیا کے حالات انسانی زندگی کی کشمکس کی بنا پر نمو پذیر ہوتے ہیں ۔ قومیں سنورتی ہیں ، سنور کر بگڑتی ہیں ۔ بگڑ کر سنورتی ہیں ، تہذیبی اختراع  ایک تمدن کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اور اسی تمدن سے تہذیب بتدریج مٹ جاتی ہے ، اور کوئی نئی تہذیب یا تہذیبی ملغوبہ جنم لیتا ہے ۔ 
بخت نصر کی طرز حکمرانی بدرجہ ہولناکی  کے بعد قدرتی تقاضے  کے امر پر "سائرس" کا ظہور ہوتا ہے ۔  سائرس کے بعد  امن و شانتی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی ۔ ایک مرتبہ پھر سکندر مقدونی کی صورت میں ایک آفت نمودار ہوتی ہے ۔ اور اس آفت کی موت کے ساتھ ہی وہ ساری سلطنت پارہ پارہ ہوجاتی ہے ۔  ان ساری صورتحال کے درمیان جو غور کرنے کی بات ہے وہ ہے رعایا ۔ انسان ۔۔   کہ مسلسل استحصال کے دوران اس کے اندر کے ایک بے چینی جنم لیتی ہے ۔  اور سکون کی تلاش میں اس کی طبیعت سرگرداں ہوجاتی ہے ۔ زمین کا قدرتی تقاضہ یہی ہے کہ اب کوئی نجات دہندہ کا ظہور ہو ۔  پھر کسی نبی کی صورت میں یا شفیق فاتح کی صورت میں دنیا کا عمل آگے بڑھتا ہے  تہذیبیں بنتی ہیں اور اس میں بگاڑ آتا ہے ، اور پھر ایک نئی تہذیب جنم لیتی ہے ۔
اسی طرح آج کی دنیا  بھی سسک رہی ہے ۔ وہ کسی نئی تہذیب ، نئے  نجات دہندہ کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔  ہر طرف آہ و بکا ہے ۔ زندگی سسک رہی ہے ، تڑپ رہی ہے ۔  مگر یہ زمانہ آخری  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا زمانہ ہے ۔  اب نجات دہندہ کوئی اور نہیں ۔   بذات خود ہر انسان ہے ۔   آج کا انسان بالغ نظر ہے ۔ عقلی طور پر مستحکم ہے ۔ اس کے پاس  ان عولم کا خزینہ ہے جو پہلے نہ تھا ۔ آج کے انسان کی طاقت علم ہے ۔
مگر اخلاص و قبولیت ، سچ و جھوٹ کی تمیز میں  خود تراشے ہوئے بتوں سے باہر نکلنا بھی ضروری ہے ۔ اور یہی آج کا قدرتی تقاضہ ہے ۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...