Showing posts with label تنقید. Show all posts
Showing posts with label تنقید. Show all posts

Thursday, July 27, 2017

سب ہی تو معجزے کے منتظر ہیں

 سب ہی تو معجزے کے منتظر ہیں  
............................................................شہیر شجاع

مغربی ممالک کی مہیا کی گئی پر آسائش زندگی میں جیتے ہوئے اپنے اس سماج کو قابل گردن زدنی قرار دینا نہایت آسان ہے ۔یہ زمین صدیوں سے غیر منصفانہ روایتوں اور رواجوں کی بنیاد پر سسک رہی ہے ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مغربی دنیا ہر قسم کے اخلاقی و سماجی مسائل سے پاک ہے ۔ جہاں مادر پدر آزاد معاشرہ ہونے کے باوجود زنا بالجبر کی شرح ہم جیسے گھسے پٹے معاشرے سے کہیں زیادہ ہے ۔ سڑ کوں پر اور اپنی گاڑیوں کو اپنا گھر بنانے والوں کی تعداد ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہ ہمارا معاشرہ ہے جہاں ۔۔ایس آئی یوٹی ، شوکت خانم، اخوت اور نہ جانے کتنے ایسے ادارے موجود ہیں ۔ یہ بھی اسی سماج کا حصہ ہیں ۔ ہمارا معاشرہ صدیوں سے جاگیر داروں ، سرداروں ، وڈیروں ، خانوں ، چوہدریوں کی غلامی کر رہا ہے ۔ عام آدمی کے پاس تعلیمی وسائل ہیں نہ تربیتی مراکز اس سماج کو میسر ہیں ۔ اگر کہیں کچھ مثبت ہے بھی تو اس میں بھی کیڑے نکالنے کی روایتیں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ آپ کے پاس ایسا کیا ماڈل ہے جو اس سماج کو تعلیم یافتہ بنائے ? اس کو اپنے اقدار سے روشناس کرائے ؟ اس کے اخلاقی اقدار کو قائم کرے ؟ مسلکی عصبیتیں بہت بعد کی چیزیں ہیں صاحب ۔ یہاں نسلی و لسانی عصبیتیں اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں ۔ وہ تو آپ کو مغرب نے ایک بتی کے پیچھے لگا یا ہے ۔ مذہب کا نام آتے ہی کرنٹ دوڑ جاتا ہے۔ دل میں نفرت آنکھوں میں انگارے دوڑ جاتے ہیں ۔ ہر جانب ملا کسی دیو کی طرح دکھنے لگتا ہے ۔ آپ کبھی مدارس کا دورہ تو کر کے دیکھیے ۔ پانی والی دال اور سوکھی روٹی کھا کر ٹاٹ کے بستر پر سوکر ، چٹائیوں میں بیٹھ کر جو اپنی جوانی لٹا دیتے ہیں ۔ ان کے لیے اس معاشرے میں کیا مقام ہے ؟ امام مسجد بنا دو ؟ موذن لگا دو ، نکاح پڑھوالو ؟
جناب اگر آپ اس سماج کا حصہ بن کر اس کے لیے محنت نہیں کر سکتے تو کم از کم ہم پر لعن طعن بھی نہ کریں ۔ ہم مریض ہیں تو مرض کی تشخیص بھی ہے اور اس کا علاج بھی ، بہر طور علاج کے وسائل کی کمی ہے وہ بھی ان شاء اللہ کبھی نہ کبھی اپنی دسترس میں لے ہی آئیں گے ۔ ہم نے اسی سماج میں جینا ہے اسی کی خدمت کرنی ہے ۔ آپ تو ا س سے کب کا ناطہ توڑ چکے ۔ بس لعن طعن تک کا رشتہ باقی ہے ۔
۔ سب ہی تو معجزے کے منتظر ہیں ؟

Tuesday, January 31, 2017

پردیسی پاکستانی



پردیسی پاکستانی
شہیر شجاع
ہم اپنا ملک چھوڑ کر کچھ زیادہ ہی  وطن عزیز سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ مگر ہم انصاف نہیں کرتے ۔ عموما جو یورپ امریکا جا کر سکونت اختیار کرلیتے ہیں۔ وہ   اپنی تہذیب و ثقافت پر کچھ سخت قسم کی تنقید کر تے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ غور کیا جائے تو ایسے افراد عموما بہتر اذہان ، بہتر شعور کے مالک ہوتے ہیں ۔ ان میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں ۔ کسی بھی معاشرے  کی بہتر تخلیق کے لیے ان  کا حصہ نہایت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے ۔ مگر   بدقسمتی کہیے کہ ہمارے مادر وطن سے وہ اپنے وسائل  کی تلاش میں نکل جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اور پھر جہاں وہ مسکن بناتے ہیں ، اسی تہذیب و تمدن ، اور اسی ثقافت کی درحقیقت ترویج میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہوتے ہیں ۔ دراصل  یہ غیر ارادی ہوتا ہے جو ارتقاء کے ساتھ ساتھ  نظریہ بن جاتا ہے ۔ جس بنا پر اپنے وطن کی ثقافت و تہذیب  کے خدوخال اسے دقیانوسیت  زدہ محسوس ہوتے ہیں ۔ جبکہ یہ تہذیب ویسے ہی اس قدرگرد آلود ہوچکی ہے ۔ اس   کا سماج   ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں شعور کا عمل دخل نہیں ۔ محض ایک  تیز رفتار زندگی ہے جس کا ردعمل اپنی طاقت کے مطابق ہر شخص  دیتا ہے جس میں کچھ ماضی کا عمل دخل ہے تو کچھ حال کا ، کوئی مربوط اخلاقی نظام کا موجود نہ ہونا ایک بہت بڑا خلا ہے ، سو ایک غیر مرتب اور پراگندہ معاشرہ ہمارے سامنے ہے ۔ جس پر صبح و شام ہر پاکستانی دنیا کے ہر گوشے سے  طنز ، تنقید و تنقیص کے تند و تیز تیروں کی بارش کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...