Showing posts with label سماج. Show all posts
Showing posts with label سماج. Show all posts

Thursday, January 9, 2020

نظام اخلاق

نظام اخلاق
شہیر شجاع

نظام اخلاق سماجی دباو کے بنا قائم ہی نہیں ہوسکتا ۔ اس میں سب سے پہلا اور بنیادی حصہ خاندانی نظام کا ہے ، جو فرد کے دلمیں ایک منضبط اخلاقی پابندی کے لیے موثر کردار ادا کرتا ہے ۔ 
مثال کے طور پر اولاد کے لیے والدین کا خوف پھر عزیز و اقارب کا خوف پھر سماج کا خوف ایک ایسا موثر ذریعہ ہے جو پابندی اخلاقکو قائم رکھنے کا سب سے اہم سبب ہے ۔ 
اس خوف پر غور کرنے والے مثبت و منفی معانی کا جامہ پہنا سکتے ہیں ۔ پر جبر کے بنا انسان کی فسادی فطرت کو کسی بھی مثبتنظام کے تابع رکھنا ناممکن ہے ۔ 
اگر جبر کو منفی مفہوم دیا جائے تو ہھر ہر وہ قابون لا یعنی ہوجاتا ہے جو سماج کو جرم سے پاک رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے ۔کیونکہ اس قانون کا “ اثر “ جبر ہی ہے اور نتیجہ امن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ 


Monday, April 9, 2018

معاشرتی زوال

معاشرتی زوال
شہیر شجاع
پاکستانی معاشرے کی کایا کلپ آنا فانا نہیں ہوئی بلکہ فطری اصولوں کے تحت ہی آہستہ آہستہ مختلف اسباب کے حدوث کے ساتھ ہوتی گئی ۔  پاکستان جب معرض وجود  میں آیا تو ہم سیاہ و سفید کی طرح یہ بات جانتے ہیں کہ اس خطہ ارضی کی مثال ایک بنجر زمین کے بجز کچھ نہ تھی ۔ سونے پہ سہاگہ اس زمین  کو قابل کاشت بنانے کے لیے جو لوازمات درکار ہوتے ہیں ان سے بھی محرومی تھی ۔ پھر وہ کیا تھا ؟ کیسا معجزہ تھا یا وہ انتھک محنت و اخلاص تھا کہ   دنیا یہ سمجھتی رہی کہ اس زمین نے سوکھ کر قحط سالی کا شکا رہوجانا ہے اور وہ دن آیا کہ اس کے باسی بھوکے پیاسے نیست و نابود ہوجائیں گے ۔ مگر اس  خطے نے دنیا میں ایک ایسا مقام پیدا کیا کہ عالم دنگ رہ گیا ۔ اس نے ہر طرح کے ہیرے پیدا کیے جس نے چار دانگ اپنی قابلیت کو منوایا اور اس خظہ ارضی کو اپنے پیروں پر یوں کھڑا کیا کہ اس کا چوڑا سینہ دیکھ کر آنکھوں میں جلن  اور دلوں میں حسد نے  جگہ بنالی ۔ 
۔ تخریب ہمیشہ داخل سے ہی شروع ہوا کرتی ہے خواہ خارج   سے  نیت و عمل شامل ہو یا نہ ہو ۔ داخل سے جب تک رضا شامل نہ ہو تخریب کا عمل کارگر نہیں ہو سکتا ۔ لہذا مختلف صورتوں میں اس خطے میں تخریب کاروں نے اپنا عمل دخل قائم کیا اور مختلف پہلووں پر اپنے اثرات کا نفوذ کیا ۔ معاشرے  کی ہر ہر قدر کو نشانہ بنایا  جاتا رہا جس کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی رہی ۔ یہاں تک کہ سماج سے تعلیمی ، اخلاقی ، سیاسی ، سماجی قدریں  اپنی توانائی کھونے لگیں ۔
آج صورتحال یہ ہے کہ ہر ذہن کسی نہ کسی مقام پر " بزعم خود" والی صورتحال کا شکار ہے ۔ ہر فکر کا حاصل انتہا ہے ۔ اختلاف کا مطلب قتل ہے ۔ اقرار کا مطلب اطاعت ہے ۔ انکار کا مطلب ارتداد ہے ۔ غرض سماج اپنی سب سے اعلی قدر " عقل" سے محرومی پرنازاں ہے ۔
یہاں آج بھی ستر سال پہلے کے واقعے پر سوال اٹھایا جاتا ہے ۔ اور ہزار سال  پہلے کے واقعے پر " پر  مغز " بحث ہونے کے بجائے " پر بغض " بحث ہوا کرتی ہے ۔  فکر کا جوہر " انتہا" ہوچکا ہے ۔
" فرد سے لیکر طبقات تک ، ہر ایک  مخالف پر تنقید کے لیے دیوان پر دیوان لکھ سکتا ہے ، مگر تعمیر کے لیے اذہان خالی ہیں ۔ "

    

Wednesday, June 7, 2017

نظام تعلیم ، توجہ درکار ہے ۔

نظام تعلیم  ، توجہ درکار ہے ۔
شہیر شجاع
مدارس کے تعلیمی نصاب پر بہت زیادہ تنقید کی جاتی ہے ۔ اور یہ بجا بھی ہے ۔ جبکہ عصری تعلیمی نظام بھی اس قدر بوسیدہ ہے کہ دو نسلیں برباد ہوچکی ہیں ۔  مگر پھر بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں ۔ تنقید و تنقیص کا میدان گرم ہے ۔ حل کی جانب کوئی توجہ نہیں۔ 
معاش انسان کی بنیادی ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام ، ایک بہترین معاشی نظام کے قیام کی وضاحت کرتا ہے ۔  دوران تعلیم ہر طالبعلم کا  ذہن بعد از حصول ڈگری بہترین ذریعہ معاش کی کھوج میں لگا رہتا ہے ۔ مدرسے کے طالبعلم کے پاس محدود آپشن ہوتے ہیں ۔  وہ مسجد مدرسے کے گرد ہی سرگرداں رہتا ہے ۔ کیونکہ اس سے باہر کی دنیا نے اس کے لیے کسی ذریعہ معاش کا انتظام نہیں کیا ہوتا۔ سو جن میں لیاقت ، علمیت  و دیگر صفات موجود ہوتی ہیں وہ  کسی بہتر مقام کو پالیتے ہیں ۔ چند  جن میں استطاعت ہو وہ عصری جامعات کا رخ کرتے ہیں اور  اپنے آپ کو اس سماج کے لیے قبول کرواتے ہیں ۔ اور جو بچ رہتے ہیں ، ان کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہوتی ہے ۔ کوئی مسجد کی امامت سنبھال لیتا ہے ، چھوٹے مدرسوں میں مدرس لگ جاتا ہے ۔ یا پھر چار و ناچار کوئی ہنر سیکھ کر اپنی دال روٹی چلانے لگتا ہے ۔ اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اس سماج کی رگ کو سمجھتے ہیں وہ اپنی  خانقاہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ایسے افراد کو ہاتھوں ہاتھ بھی لیا جاتا ہے ۔ اور وہ  علماء سے کہیں بڑھ کر مقام حاصل کرتے ہیں ۔  جبکہ عصری جامعات سے فارغ التحصیل طلباء کا ذہن شروع سے وائٹ کالر نوکری کے گرد طواف کرتا رہتا ہے ۔ جونہی فائل ہاتھ میں دبائے  انٹرویوز  کی بسیں مس کرتا جاتا ہے وہ دلبرداشتہ ہوتا جاتا ہے ۔ اس کے پاس بھی معاشرے میں آپشنز نہیں ہیں ۔
چونکہ معاشرے میں " محنت مشقت " کو عزت و ذلت کے دائرے میں بانٹ دیا گیا ہے ۔  لہذا وہ طلباء پیزا ڈیلیوری مغرب میں جا کر تو شوق سے کرلیں گے ، کیونکہ وہاں محنت کا مطلب محنت ہے ۔ مگر اپنے ملک میں شرم محسوس کریں گے ۔ اسی طرح کسی ہنر کو سیکھ کر اپنے معاش کا ذریعہ بنانا بھی عیب سمجھا جاتا ہے ۔ کاروبار کی جانب بھی یوں توجہ نہیں دے سکتا کہ وسائل کہاں سے لائے اور اگر وسائل کسی حد تک موجود بھی ہوں تو بازار میں بازار پر اعتماد نہیں کر سکتا ۔اس کے علاوہ کاروبار کی بھی سطح مقرر ہے ۔ کہ فلاں کاروبار بڑآ ہے فلاں چھوٹا ۔ کہ فلاںباعث عزت ہے فلاں نہیں ۔   خیر ہم حل کی جانب سوچتے ہیں  ۔
حل کیا ہونا چاہیے ؟  یہاں کئی کام حکومت کی جانب سے کیے جا سکتے ہیں ۔ سب سے پہلے اساتذہ کی تربیت نہایت اہم ہوچکی ہے ۔ کیونکہ اب استاذ کی مسند پر بھی وہی طالبعلم بیٹھا ہے جو ڈگری کے حصول کے بعد دلبرداشتہ سڑکیں ناپتا رہا ہے ۔ اور اب اس مسند پر بھی محض اس لیے بیٹھا ہے کہ فی الحال یہی غنیمت ہے ۔ اور اگر اساتذہ واقعی مخلص ہیں بھی تو ان میں اتنی علمیت موجود ہی نہیں جو ایک استاذ کے شعور کو درکار ہوتا ہے ۔ جس کے ذریعے سے ایک نسل کی تربیت ہوتی ہے ۔ سو اساتذہ کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ طلباء میں "علم " کی حکمت ، ضرورت ، حیثیت ، مقام ، مقصد ، سبب ، علت غرض " علم " ہی ان کے لیے مقصد حصول ہو ۔ اور اس حصول کے لیے وہ مٹی پتھر ڈھونا بھی قبول کرلے ۔  مستحق طلباء کے لیے بینکس یا دیگر معاشی اداروں کو قائل کرے کہ وہ ان کی مدد کریں ۔  اسی طرح مدارس کے طلباء کے لیے مختلف حکومتی ونجی اداروں میں نوکریوں کا انتظام کیا جائے ۔  جب وہ طلباء دفاتر میں فائلیں اٹھائیں پھریں گے تو انہیں اندازہ ہوگا کہ ان کے نظام تعلیم میں کیا کمیاں ہیں ۔ اسی طرح جب طلباء انٹرویو دینے آیا کریں گے تو انہیں اندازہ ہوچکا ہوگا کہ ان کو مزید بھی کچھ سیکھنا ضروری ہے ۔ پھر ایک   داخلی طور پر ہی تحریک اٹھے گی جس نے خود بخود ہی مدارس کے کرتا دھرتاوں کو مجبور کردینا ہے کہ ان کے نصاب میں مناسب تبدیلی ضروری ہے ۔ ان کے مدرسے کا  فارغ التحصیل  کے ذریعہ معاش کے ساتھ ساتھ سماج کے مقتدر طبقات کے ساتھ گھلنے ملنے سے مجبور ہے ۔ اور جب تک مدرسے کا طالبعلم آٖفس میں گریجویٹ کلرک کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ نہیں کرے گا ۔ ہر دو افراد ایک مقام پر یکجا نہ ہونگے یہ خلیج بھی یونہی حائل رہے گی ۔  محض تنقید کرنا اور مطالبہ کرنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ لیکن ان سب کے موثر ہونے کے لیے ایک اہم سیڑھی معاشرے میں میرٹ کا قیام بھی ہے ۔
تنقید اب تنقیص کی حدوں کے اندر سرایت کر چکی ہے ۔ عملی اقدامات کے لیے ان اذہان کی ضرورت ہے جو  مخلص ہوں اور واقعتا مسائل کا حل چاہتے ہوں ۔ ورنہ اب تک کی ہماری حکومتوں نے تعلیم و تعلم کے شعبے میں صفر کام کیا ہے ۔ عمارت دیوار کھڑی کردینے کا نام نہیں جب تک بنیاد مضبوط نہ ہو ۔ تعلیمی نظام کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور اس ڈھب میں دینی تعلیم کو بھی شامل کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کیا جا سکتا ہے ۔ کسی کی ہٹ دھرمی پر اسے چھوڑ دینا عقل مندی نہیں ۔ اس کے لیے نئی تدابیر درکار ہوتی ہیں ۔  نظام تعلیم ، تدابیر کا ضرورت مند ہے ۔
اور یہی آنے والے کل کے سماج کا اخلاقی و شعوری نظام متعین کرے گا ۔ 

Wednesday, February 15, 2017

مدغم ہوتی تہذیب

مدغم ہوتی تہذیب
شہیر شجاع

کچھ آفاقی الفاظ (جذبات)سماجی روایتوں کی اخلاقی حدود کو توڑنے میں کافی کارآمد ثابت ہورہے ہیں ۔ لفظ محبت و آزاد ، ان لفظوں نے ایسے فلسفوں کو بڑی تقویت پہنچائی ہے، جو فرد کی آزادی میں گھٹن کا سبب ہوں ۔  مگر اس کاشانہ چمن میں فلسفے کا جواب فلسفے سے ، حدود و قیود کا جواب حدود و قیود سے دینے کے علمی مظاہر نابود ہیں ۔
اخلاقی تقاضے اور جبلی خواہشات میں فرق ہے ۔ ایک ایسی جبلی خواہش ، نامحرموں کا آپس میں " آزادانہ میل ملاپ "ہے ،جسے شہوات کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے ۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے اجتماعی اخلاق آڑے آتا ہے ، سو اس اخلاقی رویے کی ماہیت کو بدلنے کے لیے " لفظ " محبت " کارآمد ہےکہ محبت تو آفاقی جذبہ ہے ۔ سو یہ فسلفہ وجود میں آتا ہے کہ محبت سے کیوں روکتے ہو ؟  کسی طرح یہ اخلاقی رکاوٹ دور ہوجائے ۔جیسے مغرب کی مثال ۔۔۔۔ ۔۔۔
کل کو شراب نوشی کو بھی فرد کی آزادی سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ مغرب میں جوئے کے اڈے مکمل ریاست کی سرپرستی میں قائم ہیں ۔ سماجی روایتوں میں اجتماعی اخلاق اہمیت رکھتے ہیں ۔ اور ہمارا اجتماعی اخلاق پابند ہے ۔ اسی وجہ سے بہت ساری ایسی روایات جو کسی سماج میں بری تصور نہیں کی جاتی، مگر ہمارا سماج ان روایتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ یہی وجہ ہے اس سماج کے ناپسندیدہ افعال چھپ چھپا کر کیےجاتے ہیں ۔ جس سے کم از کم یہ امر واضح رہتا ہے کہ فلاں اوامر ہمارے اجتماعی اخلاق سے مناسبت نہیں رکھتے۔ ہر چند یہ کہ حدود پر جب ضرب پڑتی ہے تو سماج بلبلا اٹھتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ روایتوں کے امیں و باغی دونوں علمی سطح پر صحت مند کلام کرنے اور کسی نتیجے تک پہنچنے کےبھی متحمل نہیں ہیں۔ کیونکہ مسئلہ روایتوں کا نہیں نفرتوں کا ہے ۔ دو مختلف نظریات کا تنافر ۔
یہاں ناکامی کس کی ہے ؟
اس ناکامی کا ہر " متعلق " طبقہ ذمہ دار ہے ۔  سماجی ادرے ، صحافت ، ادب ، تعلیمی ادارے ،  غرض ایک بہت بڑی ذمہ داری سیاسی اداروں  کی بھی ہے ۔ سیاسی اداروں کی اولین ترجیح سماج کو منظم رکھنا ۔ ان کے اخلاقی حدود و قیود کا تعین کر کے ان کا پابند کرنا ، ایک مکمل نُظم قائم کرنا ۔ یہ سیاسی اداروں کی ذمہ داری ہے ۔ یہاں ہر وہ طبقہ جو اپنی ذمہ داریوں کے عوض " عوضانہ " کماتا ہے ۔ اس کا تعلق سماج سے جیسے مکمل کٹا ہوا ہے ۔ مسلسل سماجی اکائیوں کو ہی یہ طعنہ دینا کہ "تم ہی غلط ہو ۔ اپنے آپ کو سدھار لو ۔ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا "۔ اس کے لیے ایک نُظم درکار ہوتا ہے ۔ اور وہ نظم سیاسی ادارے فراہم کرتے ہیں ۔  سب کچھ ایسے ہی چلتا رہا تو بعید نہیں ، آنے والی ایک نسل ایسی بھی ہوگی جہاں مذہبی رجحان فردکی توہین سمجھی جائے گی ۔ اخلاقی حدود کا تعین سڑکوں پر فرد کر رہا ہوگا ۔ اجتماعیت  میں تہذیب اپنے آپ مر جائے گی ۔ یا یوں کہہ لیں ایک ایسی تہذیب میں مدغم ہوجائے گی جس کا عام مشاہدہ ہم مغرب میں کر سکتے ہیں ۔ نہ جانے یہ امتزاج معاشرہ سہہ پائے گا کہ نہیں ؟ 

Thursday, August 11, 2016

سلسلہ غورو فکر

سلسلہ غورو فکر 
شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے فکری سطح پر فرد کے تصور سماج کو پراگندہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ آج ہم اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں سماج ہر اس برائی کو قبول کرنے پر آمادہ ہے جس کے ذریعے سے اس کی روز مرہ زندگی معمول پر چلتی رہے ۔ خواہ اس کے عوض کوئی بھی قیمت چکانی پڑے ۔
آج ہماری تعمیری طبقات کی حیثیت کیا ہے ؟
اہل علم کے مخاطب خواص ہیں ۔
اہل ادب ،کے مخاطب خواص ہیں ، یا اپنے ہی ہمعصر جہاں وہ اپنے اپنے نظریات پر بحث کرسکیں ۔
اہل صحافت کے مخاطب عوام ہیں پر موضوع جنگ و جدل پر مبنی ہے ۔ یعنی عوام کے اذہان میدان جنگ ہیں یا جنگی سازو سامان ۔ ان کے حقیقی مخاطب حکومت یا بین الاقوانی سیاست ہے ۔ مقصد حصول محض اجارہ داری ۔
اہل سیاست و اہل صحافت دونوں ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے ۔ عام آدمی کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں ۔ اور عام آدمی کی زندگی ویسے ہی وسائل کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہے ، اسے مذید فکری پراگندگی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے ۔
تعمیر کہاں ہے ؟ آج کے نوجوان کی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کو کس نے کشید کرنا ہے ؟
سماج کی تشکیل انتہائی غیر مہذب سطح کو چھو رہی ہے ۔۔۔۔ جہاں نئی نسل کے پاس سوچنے ، غور و فکر کرنے کےلیے کوئی اوزار نہیں ۔ عسرت کے ساتھ چند جماعتیں وہ پڑھتا ہے ۔ اس کے بعد پراگندہ ذہن کے ساتھ وسائل و مسائل کی جنگ سے نبرد آزما ہوجاتا ہے ۔ کیا یہ صورتحال اہل فکر کو پریشان نہیں کرتی ؟ یا شاید اہل فکر بھی اپنی ذات تک محدود ہوچکے ہیں اس  کیپیٹل از م نے ہر انسان کا تصور زندگی وسائل کا تصرف تخلیق کرلیا ہے ۔ رہی سہی کسر الیکٹرانک میڈیا اور اہل سیاست نے پوری کردی ۔ دونوں عناصر نے جذبات کو مخاطب بنایا ۔ اور اذہان کو غورو فکر سے دور کردیا ۔ جذبات کا سیل رواں ہے جو بہتا جا رہا ہے ۔ کہیں انٹرٹینمنٹ کے نام پر ۔۔۔ کہیں لیڈر کے نام پر ۔  ہر دو مقام پر عام آدمی نے فرشتے تخلیق کر لیے ہیں ۔ جہاں اسے چند لمحے آسودہ حال ہونے کو مل جاتے ہیں ۔ اور وہ ان کی پوجا میں مصروف ۔ 

Saturday, March 12, 2016

تربیت اولاد اور ہم




تربیت اولاد اور ہم

شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تربیت اولاد  ہماری  ذمہ داریوں میں نہایت ہی خاص اہمیت کا حامل ہے ۔۔۔۔  میری نظر جب اپنے اطراف میں پڑتی ہے تو مجھے  نظر آتا ہے کہ ۔۔۔۔ آج کے والدین کی سوچ ، معیار سوچ  و مقصد تربیت یکسر بدل چکا ہے ۔۔۔ ویسے تو ہمارا تہذیبی زوال  کئی سو سال پہلے شروع ہو چکا تھا ۔۔ مگر آسمانی تہذیب اتنی جلدی نہیں ختم ہوسکتی ۔۔۔ اور جس دن یہ ختم ہوئی اس دن دنیا سے انسان کا وجود بھی مٹ جائے گا یعنی قیامت برپا ہوجائے گی ۔۔  
اس فانی زندگی میں ہمارا اس قدر گم ہوجانے کی واضح دلیل یہ ہے کہ ۔۔ ہم پر سختیاں پڑتے ہی زبان پر شکوے آجاتے ہیں ۔۔۔ اور اپنے آپ کو کم بخت و  بد نصیب کرداننے لگتے ہیں ۔۔۔۔ اگر اس کی معمولی سی تصویر دیکھنی ہو تو ۔۔۔  آج کے شعری ادب کا ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔  جبکہ جو زندگی ہماری ابدی ہوگی ۔۔۔ اس کا  شعور ہمارے ذہنوں میں بیٹھا نہیں بلکہ بٹھایا جا رہا ہے ۔۔ جس میں وہ عناصر بخوبی کامیاب بھی ہیں ۔۔ کہ مذہبی لوگ عذاب سے ڈرا ڈرا کر انسان کو کمزور کرتے ہیں ۔۔۔ جنت کا تصور ہی پیش نہیں کرتے ۔۔۔۔ اس جملے نے اس قدر پذیرائی حاصل کی ہے کہ  اب  عذاب آخرت کا تصور ہمارے ذہنوں سے تقریبا محو ہو کر رہ گیا ہے ۔۔ عربوں کے ہاں ایک جملہ اسی مد میں بقدر سننے کو ملتا ہے کہ ۔۔۔ گر غلطیاں ہوجائیں تو ۔۔ کہہ دیتے ہیں ۔۔ اللہ غفورو رحیم ہے ۔۔ وہ معاف کردے گا ۔۔ سو کرتے جاو ۔۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہم نڈر ہوگئے ہیں ۔۔ اور تصور زندگی ۔۔ حقیقتا معیار زندگی کو بلند کرنا ہی رہ گیا ہے ۔۔۔۔  
ہمارا آج کا معاشرہ اس قدر  متذبذب کیوں ہے ؟  آج کے نوجوان میں وہ بنیادی شعور زندگی کیوں موجود نہیں ہے  جس کی بنیاد ہمارے اجداد ہم میں بچپن سے ڈالتے  آئے ہیں۔۔۔ ہر موڑ پر ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہوتے تھے ۔۔ اور علم کی محبت ہمارے دلوں مین انڈیلتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔ کردار و معیار سوچ کو بلند کرنے  کی  تحریک دیتے تھے ۔۔ اور اس کے طریقے بتاتے تھے ۔۔۔۔ آج  صورت حال یہ کہ بزرگوں سے تو ہم نے مکمل ناطہ توڑ لیا ہے ۔۔ انہیں پرانے زمانے  کی بوسیدہ دیوار کہہ کر ایک طرف دھکیل دیا ہے ۔۔۔  اور ماوں کے دلوں میں یہ بات  سرایت کرتی جارہی ہے کہ ۔۔ ان کی اپنی بھی کوئی زندگی ہے ۔۔۔۔  وہ کیوں قربان کی جائے ۔۔۔  اور باپ   آخر اُس بلندی کو چھونے کی تگ و دو میں اولاد سے  یکسر غافل ہوجاتا ہے ۔۔ اسکول   ٹیوشن آتا جاتا دیکھ کر وہ مطمئن رہتا ہے ۔۔۔ اس بچے کے پاس تو اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ ۔۔ دن کے چند گھنٹے ماں باپ کے ساتھ بیٹھ جائے ۔۔۔ کہ یہ صحبت بھی  بہت اہم ہے ۔۔۔ بزرگ گھر پر ہوں تو اس سے اچھی کیا بات ہو کہ ان کی صحبت تو والدین کی صحبت سے ہزار درجہ بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔۔  ہم بہت سے تعمیری کام ، رویوں  اور اقدام کا ذکر کرتے ہیں ۔۔۔ اگر صرف اس جانب توجہ دے لیں ۔۔ اور اپنے مقاصد طے کرلیں تو ۔۔۔ چند ہی سال گزریں گے ۔۔۔۔۔۔ سماج اور معاشرے میں نمایاں فرق خود ہی محسوس ہونے لگے گا ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...