Showing posts with label دہشت گرد. Show all posts
Showing posts with label دہشت گرد. Show all posts

Saturday, May 31, 2014

کراچی کے راہزنوں سے خطاب

 
 
کراچی کے راہزنوں سے خطاب؎
 
شہیر
 
صبح دن چڑھے  جب آنکھ کھلتی ہے تو تمہارے ذہنوں میں یہ خیال نہیں آتا ہوگا کہ  میں آج روزی روٹی کی تلاش میں کونسا روزگار تلاش کروں کہ میرا آج اور میرے آنے والے کل کے لیے راہ ہموار ہوجائے ۔    کس رستے جاوں کے میرے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں اور رب تعالی کے حضور  شرمندہ ہونے سے محفوظ ہوجاوں ۔   میرا معاشرہ مجھ پر فخر کرے  اور میری وجہ سے اس معاشرے میں انقلاب آجائے ۔ مجھ میں اتنی قوت ہے کہ میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں سڑک کے بیچوں بیچ  راہ چلتے  عام سے آدمی کے کپڑے تک اتروا سکتا ہوں تو اس قوت کو میں  اپنی طاقت بنا لوں اور اپنے جیسے نوجوانوں اور ان نوجوانوں کے لیے بھی جو میرے ہاتھوں اپنا دھن لٹوا ڈالتے ہیں جو مجھ سے کمزور ہیں  اور بیشک بڑی تعداد مجھ سے بھی زیادہ طاقتور ہوگی جن کے ملاپ سے  اپنے راستے خود متعین کروں ،  روزگار خود چل کر میرے راستے میں بچھ جائیں ۔  اور میں تمام بے کس  و ناداروں میں اسے تقسیم کروں ، دہشت کی علامت ہونے کے بجائے ان کا مسیحا ہو جاوں۔
گر واقعی ایسی سوچ نہیں در آتی   
تو
ان   چوروں لٹیروں ڈاکووں کو کیوں نہیں لوٹتے جنہوں نے تمہیں اس درجے تک پہنچنے پر مجبور کیا  ۔

Monday, April 21, 2014

حامد میر پر حملہ

حامد میر ۔۔۔۔۔ پر حملہ ۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا تو پاکستان کی بہت ہی قیمتی اساس پر حملہ ہوگیا ۔۔۔ اور ۔۔۔ یہ حملہ غداران وطن پاکستان کے محافظین کی طرف سے ہوا ۔۔۔۔۔ اگر اس بات پر یقین کر لیا جائے تو ۔۔۔ پھر تو ۔۔۔۔۔۔ ہم سالہا سال سے ایسی غلامی میں پل زندگی گزار رہے ہیں جو ہم بخوشی رضا و رغبت کے قبول بھی کیے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ۔۔ ہم دشمن کی نشاندہی میں سرگرداں ۔۔ کبھی مشرق تو کبھی مغرب ۔۔ شمال تو کبھی جنوب کی جانب سرگرداں ہیں ۔۔۔ مختصر یہ کہ ۔۔۔۔ ہمیں علم ہی نہیں کہ ہم کون لوگ ہیں ۔۔ اور ہماری حیثیت کیا ہے ؟

اور اگر اس کے برخلاف حامد میرانہ صحافت کو ناسور مان لیا جائے ۔۔۔ ؟ اس صورت میں بھی ہم اپنی حیثیت کی کھوج میں ۔۔ ناکام ہی نظر آتے ہیں ۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...