Showing posts with label والدین. Show all posts
Showing posts with label والدین. Show all posts

Tuesday, January 31, 2017

بیٹی کے معاملے میں والدین کی کوتاہی

بیٹی کے معاملے میں والدین کی کوتاہی
شہیر شجاع
سماجی رویوں میں بیشمار پیچیدگیاں محض رسوم و رواج کی بنا پر موجود ہیں ۔  جس بنا پر  مسائل ہمہ وقت معاشرے کی  ہر اکائی یعنی خاندان   کے ساتھ لاحق ہیں ۔ طبقات کے لحاظ سے  ہر ایک کے مسائل  بھی جدا ہیں ۔ مگر عموما اخلاقی مسائل میں  تمام کو ایک ہی   قطار میں رکھا جاسکتا ہے ۔    ہمارے سماج کے لیے بیٹی کا تصور بیٹے سے کہیں زیادہ حسین ہے ۔ مگر جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی جاتی ہے  والدین کو اس کا گھر بسانے کی فکر پریشان کرتی رہتی ہے ۔ اس کی  کئی وجوہات ہیں ۔ جس میں  مختلف طبقات کی مختلف سوچ  بھی ہے ۔  جیسے یوں چاہنا کہ اس  کا داماد تعلیم یافتہ ہو ، ذمہ دار ہو ، اچھا کماتا ہو ، اپنے گھر کا مالک ہو ، گاڑی  بنگلہ ، دین دار ، اچھی فیملی ، اسی طرح دیگر امیدیں  جن میں کئی امیدیں فطری ہیں اور چند ایسی بھی ہیں جو کہ سماجی و معاشرتی رویوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ  ایک فکر جہیز کی بھی رہتی ہے ۔   بہت سی لڑکیاں تو محض مناسب جہیز کا دستیاب نہ ہونے کی بنا پر بن بیاہی رہ جاتی ہیں ۔   والدین کی جانب سے بھی بہت سی زیادتیاں بیٹی کے ساتھ عام ہیں ۔ جیسے اگر بیٹی  کو پڑھایا لکھایا ہے تو اس کا مطلب اس کے لیے لڑکا اس سے کہیں اعلی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ۔ لڑکے کا اسٹینڈرڈ اس قدر ہائی رکھ دیا جاتا ہے کہ اس پراگندہ و مسائل کا شکار معاشرہ ایسا داماد آسانی سے مہیا نہیں کرپاتا ۔اور اگر ایسا لڑکا میسر ہو تو وہاں کا اسٹینڈرڈ اتنا ہائی ہوتا ہے کہ اسے یہ رشتہ مناسب نہیں محسوس ہوتا ہے ۔  پھر بیٹی اگر کماو پوت ہے تو والدین زیادہ سے زیادہ اس سے مستفید ہونے کی کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ اس کی عمر ڈھل جاتی ہے اور ہمارا معاشرتی رویہ ڈھلی عمر کی لڑکی کو قبول نہیں کرتا ۔ یا پھر ایسی شرطیں رکھ دی جاتی ہیں جو کہ عام متوسط گھرانے کے لیے ایسی بہو کا انتخاب مشکل ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ  اس جدید دور میں بھی برادری سے باہر شادی نہ کرنے کا رواج   عام ہے ۔ جو اس  دائرے سے باہر بھی ہیں تو آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔   کچھ والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمہ وقت پراگندہ خیال رہتے ہیں ۔ ان کو ہر رشتے میں کوئی نہ کوئی ایسی کمی نظر اجاتی ہے جس وجہ سے اچھے خاصے رشتے وہ ٹھکراتے جاتے ہیں ۔   یہاں تک رشتوں کی حیثیتیں بدلنی شروع ہوجاتی ہیں ۔ آخر کار ایسے والدین  کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہتا کہ سر پیٹ کر کسی کے بھی گلے باندھ دیا جائے ۔   پھر اچھے  تعلیم یافتہ طبقات میں  بھی یہ گھٹن محسوس کی گئی ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو ان کی اپنی شادی کے لیے مشورے میں شریک نہیں کرتے ۔ بلکہ فیصلے تھوپتے ہیں ۔ جبکہ اسی لڑکی کو بڑی جامعات میں انہوں نے تعلیم دلوائی ہوتی ہے ۔ کہیں تو لڑکی خاموش رہتی ہے اور ان کے فیصلوں پر اپنی زندگی داو پر لگائے رکھتی ہے ۔ جبکہ بغاوت پر آمادہ لڑکیاں پھر اس گھٹن سے باہر نکل آنے پر توجہ دینے لگتی ہیں ۔  جس کا نتیجہ عموما بہتر نہیں نکلتا ۔ یہ موضوع طویل اور تفصیل کا متقاضی ہے ۔ ہم بس سرسری طور پر ان نکات کو سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو عموما رائج ہیں ۔ تاکہ ہم ان رویوں کو سمجھ سکیں اور اس کے حل کی جانب توجہ دے سکیں ۔
جب سے آزادئ نسواں کا جادو سر چڑھ کر بولا ہے ۔ ہمارا معاشرہ بہترین ماؤں سے محرومیت کی جانب نہایت تیزی سے سفر کرنے لگا ہے ۔   یہ ایک الگ موضوع ہے ۔ مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان لڑکی نے اٹھایاہے اور اٹھا رہی ہے ۔ چونکہ ماں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت میں اپنے اوقات صرف کرے ۔ ماں کا درجہ ہی سب زیادہ بلند اس لیے کہ ماں بننے کے بعد اس کی زندگی کا ہر لمحہ اولاد کی فلاح کے لیے وقف ہوتا ہے ۔ مگر اک فریب نے اسے  " میری زندگی " کی جانب مائل کردیا ہے ۔ اور نسلیں تباہ ہونی شروع ہوگئی ہیں ۔ جب اولاد کی تربیت محض معاشرے پر چھوڑ دی جائے تو پھر معتدل  معاشرے کی توقع رکھنا ایک سراب  کے  سوا کچھ نہیں ہو سکتا  ۔ خصوصا آج کے دور میں جب معاشرے میں برائی  کا تصور بھی سرسری  سا رہ گیا ہے ۔ ایسے میں بہت زیادہ توجہ طلب  کام ہے ۔ بیٹے کی تربیت ایسی کی جائے کہ کل کو جب وہ اپنا گھر بسائے تو اسے اپنی ذمہ داریوں کا علم ہو ۔ اور بیٹی کی شادی کی عمر سے پہلے ہی کوششیں شروع کردی جائیں ۔ کہ جیسے ہی درست وقت پہنچے وہ بہتر نتائج حاصل کرچکے  ہوں ۔ ا سکے لیے عام میل جول رکھنا نہایت ضروری ہے ۔ تقاریب میں شریک ہونا ۔ رشتہ داروں سے بہتر تعلقات بنائے رکھنا ۔  پڑوسیوں سے  بہتر انداز میں پیش آنا ۔ اپنے سماجی رابطوں کو بحال رکھنا ۔  اسی طرح آہستہ آہستہ اپنے آپ کوان  روسوم و رواج کی پابندی سے باہر کرتے جانا  جنہوں نے آج عام زندگی  میں پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں ، بھی ضروری ہے ۔  اللہ جل شانہ کا فرمان الطیبات للطیبین ، والطیبون للطیبات ۔ اس پر کامل یقین ہونا چاہیے ۔ تاکہ ہم اپنی اولاد کو بھی طیب اور طیبہ کی کیٹیگری میں شامل کرسکیں اور جب یہ ہوجائے تو پھر یقینا انہیں بھی ویسا ہی ہمسفر میسر ہوگا ۔ محض وسوسوں اور اندیشوں کی بنا پر فیصلے سے بھاگنا حل نہیں ہوتا ۔ اس کے لیے پہلے سے تیاری کرنی ہوتی ہے ۔ قوت فیصلہ پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ اپنی نظروں کو زیرک بنانا ہوتا ہے ۔ کیونکہ جتنے بھی فرمانبردار اولاد ہیں ان کی زندگیاں آپ کے فیصلوں کےمرہون منت ہیں ۔ لیکن ساتھ  ہی ان کی زندگی کے فیصلوں سے انہیں دور رکھنا ، نہ ہی مذہبی طور پر درست ہے اور نہ سماجی ۔  ویسے بھی اسلام جلد شادی کردینے پر زور دیتا ہے ۔ اگر آپ اپنی اولاد کو محض تعلیم کی وجہ سے شادی میں تاخیر کرا رہے  ہیں تو اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں ۔ ایسی کیا تعلیم جس میں انسان ہیجان کا شکار ہو ۔ ذہن آلودہ ہو ۔ یکسوئی نہ ہو ۔ اور شادی کے بعد کیوں تعلیم جاری نہیں رکھی جا سکتی ۔؟

Thursday, May 5, 2016

تربیت اولاد کا ایک بنیادی نقطہ



تربیت اولاد کا ایک بنیادی نقطہ 

شیر شجاع

روز مرہ کے معمولات میں اکثر اوقات ہماری توجہ کا مرکز بچے ہوتے ہیں ۔ ان  کے ساتھ کھیلنا انہیں کھلانا  ، پڑھانا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ یہاں بہت اہم امر ان کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہے ۔ جس جانب توجہ تو ہوتی ہے مگر طریقہ کار ایسا اختیار کیا جاتا ہے جو کہ بہتری کے بجائے تنزلی کا ہی باعث بنتا ہے ۔ 
ایک مثال اس کی یہ ہے کہ ۔۔۔۔  اسے مختلف چیزیں رٹائی جاتی ہیں ۔ اس کے بعد اپنے احباب کے سامنے اس سے سوال کیا جاتا ہے ۔
کہ بیٹا فلاں کیا ہے یا فلاں کا مطلب کیا ہے ؟
بچہ کچھ دیر سوچنے لگتا ہے ، اور یہ فطری امر ہے کیونکہ انسان کی اپنے بقیہ حیوانات میں جو خصوصیت جداگانہ ہے وہ غورو فکر ہی ہے ۔ اور یہ انسان میں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ۔ الا یہ کہ اسے ظاہر کیا جائے ابھارا جائے ۔ مگر ابھی وہ ننھا منا پودا ہی ہوتا ہے ۔ اس کی اس گراں قدر صلاحیت کو اس کی ناقابلیت کے طور پر اسے باور کرایا جاتا ہے ۔
یہاں سوال ہو اور یہاں جواب دیا جائے ۔۔ یہی کامیابی کی دلیل اس کے ذہن کے گوشوں میں سرایت کرتی جاتی ہے ۔
جیسے ہی بچہ سوچنے لگتا ہے ۔  سوال کرنے والے کو ہتک محسوس ہوتی ہے ، اور اسے مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ۔۔ فوری جواب دیا جائے ۔۔ اور یہی طبیعت آہستہ آہستہ بچے کا مزاج بن جاتی ہے ۔۔
ہمیں چاہیے کہ بچے کو سوچنے دیں بلکہ کوئی بھی جواب فوری اگر مل جائے تو الٹآ مجبور اس بات پر کیا جائے کہ بچہ پہلے کچھ دیر سوچے غور کرے اس کے بعد جواب دے ۔ جب طبیعت میں جواب معلوم ہونے پر بھی مزید غور جس کو ہم صبر بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔ کا مادہ پیدا ہوجائے گا تو یہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ مزید قوی ہوتا جائے گا ۔

Saturday, March 12, 2016

تربیت اولاد اور ہم




تربیت اولاد اور ہم

شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تربیت اولاد  ہماری  ذمہ داریوں میں نہایت ہی خاص اہمیت کا حامل ہے ۔۔۔۔  میری نظر جب اپنے اطراف میں پڑتی ہے تو مجھے  نظر آتا ہے کہ ۔۔۔۔ آج کے والدین کی سوچ ، معیار سوچ  و مقصد تربیت یکسر بدل چکا ہے ۔۔۔ ویسے تو ہمارا تہذیبی زوال  کئی سو سال پہلے شروع ہو چکا تھا ۔۔ مگر آسمانی تہذیب اتنی جلدی نہیں ختم ہوسکتی ۔۔۔ اور جس دن یہ ختم ہوئی اس دن دنیا سے انسان کا وجود بھی مٹ جائے گا یعنی قیامت برپا ہوجائے گی ۔۔  
اس فانی زندگی میں ہمارا اس قدر گم ہوجانے کی واضح دلیل یہ ہے کہ ۔۔ ہم پر سختیاں پڑتے ہی زبان پر شکوے آجاتے ہیں ۔۔۔ اور اپنے آپ کو کم بخت و  بد نصیب کرداننے لگتے ہیں ۔۔۔۔ اگر اس کی معمولی سی تصویر دیکھنی ہو تو ۔۔۔  آج کے شعری ادب کا ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔  جبکہ جو زندگی ہماری ابدی ہوگی ۔۔۔ اس کا  شعور ہمارے ذہنوں میں بیٹھا نہیں بلکہ بٹھایا جا رہا ہے ۔۔ جس میں وہ عناصر بخوبی کامیاب بھی ہیں ۔۔ کہ مذہبی لوگ عذاب سے ڈرا ڈرا کر انسان کو کمزور کرتے ہیں ۔۔۔ جنت کا تصور ہی پیش نہیں کرتے ۔۔۔۔ اس جملے نے اس قدر پذیرائی حاصل کی ہے کہ  اب  عذاب آخرت کا تصور ہمارے ذہنوں سے تقریبا محو ہو کر رہ گیا ہے ۔۔ عربوں کے ہاں ایک جملہ اسی مد میں بقدر سننے کو ملتا ہے کہ ۔۔۔ گر غلطیاں ہوجائیں تو ۔۔ کہہ دیتے ہیں ۔۔ اللہ غفورو رحیم ہے ۔۔ وہ معاف کردے گا ۔۔ سو کرتے جاو ۔۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہم نڈر ہوگئے ہیں ۔۔ اور تصور زندگی ۔۔ حقیقتا معیار زندگی کو بلند کرنا ہی رہ گیا ہے ۔۔۔۔  
ہمارا آج کا معاشرہ اس قدر  متذبذب کیوں ہے ؟  آج کے نوجوان میں وہ بنیادی شعور زندگی کیوں موجود نہیں ہے  جس کی بنیاد ہمارے اجداد ہم میں بچپن سے ڈالتے  آئے ہیں۔۔۔ ہر موڑ پر ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہوتے تھے ۔۔ اور علم کی محبت ہمارے دلوں مین انڈیلتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔ کردار و معیار سوچ کو بلند کرنے  کی  تحریک دیتے تھے ۔۔ اور اس کے طریقے بتاتے تھے ۔۔۔۔ آج  صورت حال یہ کہ بزرگوں سے تو ہم نے مکمل ناطہ توڑ لیا ہے ۔۔ انہیں پرانے زمانے  کی بوسیدہ دیوار کہہ کر ایک طرف دھکیل دیا ہے ۔۔۔  اور ماوں کے دلوں میں یہ بات  سرایت کرتی جارہی ہے کہ ۔۔ ان کی اپنی بھی کوئی زندگی ہے ۔۔۔۔  وہ کیوں قربان کی جائے ۔۔۔  اور باپ   آخر اُس بلندی کو چھونے کی تگ و دو میں اولاد سے  یکسر غافل ہوجاتا ہے ۔۔ اسکول   ٹیوشن آتا جاتا دیکھ کر وہ مطمئن رہتا ہے ۔۔۔ اس بچے کے پاس تو اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ ۔۔ دن کے چند گھنٹے ماں باپ کے ساتھ بیٹھ جائے ۔۔۔ کہ یہ صحبت بھی  بہت اہم ہے ۔۔۔ بزرگ گھر پر ہوں تو اس سے اچھی کیا بات ہو کہ ان کی صحبت تو والدین کی صحبت سے ہزار درجہ بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔۔  ہم بہت سے تعمیری کام ، رویوں  اور اقدام کا ذکر کرتے ہیں ۔۔۔ اگر صرف اس جانب توجہ دے لیں ۔۔ اور اپنے مقاصد طے کرلیں تو ۔۔۔ چند ہی سال گزریں گے ۔۔۔۔۔۔ سماج اور معاشرے میں نمایاں فرق خود ہی محسوس ہونے لگے گا ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...