Showing posts with label احساس. Show all posts
Showing posts with label احساس. Show all posts

Monday, December 22, 2014

لبرلز کا جرم



ہمیشہ یہ اعتراض کیا جاتا ہے ۔ جو کہ حقیقت بھی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں نے دنیاوی ترقی اور اپنی توانائیوں کا بڑھانے میں کیا کردار ادا کیا ۔۔ ؟ بیشک صفر ۔۔۔
لیکن یہ سارا کا سارا ملبہ اٹھا کر ۔۔۔۔۔ مذہبی طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ کہ یہ سارا کیا دھرا انہی کا ہے ۔۔۔۔۔
یعنی ہمارے انجینئرز ۔۔ ڈاکٹرز ۔۔۔ ۔ سائنٹسٹس ۔۔۔۔۔ سب معذور ہیں ۔۔۔ ان کا کام تو صرف پیسہ بنانا ۔۔۔ غیر ممالک میں جا کر انہی کی ترقی میں کردار ادا کرنا ۔،، اپنا بینک پیلنس ۔۔ طرز زندگی بہتر سے بہترین بنانا ۔۔۔۔ اور پھر ۔۔۔ ان ممالک کی ترقی کے گن گانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد ۔۔۔ اپنے کردار کو محفوظ رکھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مولوی ملا پر ۔۔ ۔لعن طعن کرنا ۔۔۔۔ کہ تم نے کیا کیا ؟ ۔
۔ دنیا چاند پر پہنچ گئی تم اب تک مسجد مدرسہ لیکربیٹھے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب ۔۔۔ واللہ عجیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ۔۔ کتنی عجیب الخلقت قوم ہیں ۔
شہیر شجاع۔

Monday, May 12, 2014

اسلام کے داعی ہی کیوں نشانے پر ؟



محمد شہیر شجاع
میری نظر میں میدیا بروزن پروپیگنڈا ہے ۔۔۔۔۔ حالیہ عرصے میں جس شدت سے اس کو استعمال کیا گیا ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے ۔۔۔۔۔ کسی بھی چینل کا بٹن دبائیں ۔۔ وہ نظریاتی وار کرتا نظر آئے گا ۔۔ کسی منبر و مسجد پر الزام تراشتے ہوئے کوئی فوٹیج نہیں دکھائی جائے گی ۔۔۔ لیکن وہ الزام فرد جرم عائد کرنے کے بعد سزا تک سنا ڈالنے کے مترادف ہوگا ۔۔۔۔ اسی تناظر میں تجزیہ نگار کے تجزیے آئے دن نظرسے گزرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ اور میں سوچتا ہوں ۔۔ کہ اگر فرقہ واریت ہی مسلمانوں کے زوال کا سبب ہے تو ۔۔ فی زمانہ سیاست میں ملا متحدہ مجلس عمل جیسی قیادت سامنے لاتے ہیں ۔۔۔ ایک ہی محلے میں کئی فرقوں کی مساجد میں بیک وقت لوگ نمازیں ادا کر رہے ہوتے ہیں ۔۔ بہت سی باتوں پر محلے دار منبر پر ہونے والے امور سے اذیت پہ مبلا ہوتے ہیں ۔۔ لیکن خاموش رہتے ہیں کہ ۔۔ کچھ کہا تو اسے مخالفت سے تعبیر کیا جائے گا ۔۔۔۔۔ جب ہر لمحہ دنیا میں مسلمان قتل ہو رہا ہے تو قاتل کی کوئی شناخت نہیں ہے ۔۔۔۔ اور بے شناخت قاتل کے سر پہ عمامہ باندھ دینا ۔۔ پروپیگنڈے ۔۔۔۔۔ کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ زمینی حقائق جو ہیں سو ہیں۔۔۔۔

مسلمان حکمرانوں کی عیاشیاں تو بالکل بجا ہیں ۔۔۔ کیونکہ انہیں روکنے ٹوکنے والا جو نہیں ۔۔۔۔۔ ان پر سرسری بات ہوگی ۔۔ جبکہ اپنی عیاشیوں کو کھلی چھوٹ رہے گی ۔۔۔۔ تختہ دار پر تو ملا نے ہی چڑھنا ہے۔

Wednesday, April 16, 2014

احساسات کی مار



محمد شہیر شجاع

جب دنیا میں محبت ، یگانگت تھی بھائی چارہ رتھا  ،تو اتحاد بھی تھا ۔ خوشحالی کے ساتھ ساتھ خوشیاں بھی تھیں ۔  اطمینان تھا ،   سکون تھا ، رعب و دبدبہ تھا ۔ فخر تھا ، عزت تھی   ۔ علم کے ابواب  ہم ہی سے کھلتے تھے   ، اور ساری دنیا سیراب ہونے کو ترستی تھی ۔   ہم فاتح تھے تو مفتوح  ہماری تہذیب کے گن گاتے تھے ۔   ہم مفتوح ہوئے تو پھر کسی ماں نے  ایوبی و سلطان جنا ،، سوری ، و قاسم و غوری و ابدالی  جنا ۔ امام الہند  و شیخ الہند  سے مدنی و عثمانی ۔۔۔۔۔۔۔  اقبال و جناح ،،، و مودودی  ۔۔۔۔۔  پیدا ہوئے ۔

 اب تک دنیا میں محبت قائم تھی  ۔

عورت  کی عظمت تھی مرد کا دبدہ تھا ، بزرگ  کا احترام تھا  تو علم کی  توقیر  تھی ۔ استاد ہونا پیشہ نہیں ذمہ  داری تھی ، طالب علم ہونا شوق تھا ، شوق بھی ایسا جیسے فرض ہو ۔ اقدار  کی قدر رگ و پے میں بسی تھی  ۔

پھر ایک دور آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ماں ہونا عورت کے لیے سبکی قرار پایا  ،۔  اس  کی چار دیواری اسے جیل ، اولاد اسے مرد کی خواہش محسوس ہونے لگی  ۔ اس نے آزادی کا نعرہ لگایا ۔معاشرے نے اس معصوم  کو روکنا چاہا لیکن اس مرتبہ معاملہ شدید تھا ۔ وہ نہ رکی ۔۔ اسے آزادی ملی ۔
محبت  کی  پیاس شدید ہوگئی ۔ نہ جانے اب کون سی محبت درکار تھی ۔  امن  و شانتی نے اپنے آپ کو مسدود کرنا شروع کر دیا ۔ انسان  کی جان سے زیادہ قیمتی ،  جذبات قرار پائے ۔  ام طارق ، و ام محمد کی جگہ لیلی ، و جولیٹ نے لے لی ،۔
۔۔

   جب مائیں نہ رہیں تو غوری کون سا فرشتہ تھا  ۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...