مغرب میں جنسی ہراسانی نہیں ہوتی کا ایک زاویہ اوربھی ہے ۔ وہاں حیا کا معیار مختلف ہے ۔ وہاں کسی لڑکی پر آواز کس دیں تو وہ مائنڈ نہیں کرے گی ۔ رستے میں روک کر اس سے ہنسی مذاق کریں تو بھی شاید اس کے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہ ہو ۔ جبکہ ہمارے ہاں حیا کا معیار بلند ہے ۔ یہاں رستہ بھی پوچھنا ہو تو ہم مردوں کا انتخاب کریں گے ۔ سو یہ ہمارے معاشرے کی مثبت بات ہے اور اسی کو معیار بنا کر جنسی ہراسانی پر ہمیں کہانیان سنائی جاتی ہیں ۔ جبکہ ان سب کے باوجودمغربی ماحول میں زیادہ زنا بالجبر اور جنسی ہراسانی کے کیس سامنے آتے ہیں جیسے “ می ٹو “ کی تحریک وہیں چلتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
فوکس
فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...
-
دل اور قلب شہیر شجاع ہم اکثر کہا کرتے ہیں “میرا دل کھانے کا کر رہا ہے ، یا میرا دل چاہ رہا ہے ، یا میرا دل خراب ہورہا ہے ۔۔۔۔یا “ اس “ پہ م...
-
پا کستانی فوجی سرحد کی حفاظت میں تو دنیا کی اعلی عسکری طاقت کے طور پر منوا چکے لیکن سیاسی طور پر اب تک ناکام رہے ہیں ۔۔۔ ہماری بد قسمتی ...
-
پشاور کے اتنے شدید اور نہایت ہی دلگیر اور افسوسناک واقعہ پہ ہر دل رو رہا ہے ۔۔۔ پورے ملک کی حکومتی مشینری سے لیکر عام آدمی تک متحرک ہے ...
No comments:
Post a Comment