جس ذہن کو سسٹم یا نظام زر کے خلاف متحرک ہونا تھا اس کے سامنے “ سسٹم “ نے “ مذہبی فکر” کا عفریت کھڑا کردیا اور وہ اس لکیر کو پیٹنے میں مصروف ہے ۔ کیونکہ اگر سسٹم کے خلاف کوئی اٹھ سکتا یا اٹھتا ہے تو وہ یہی مذہبی ذہن ہی ہے ۔ قطع نظر اس کے کہ مذہب کا استعمال بھی “سسٹم” کی بقا کے لیے ہوتا ہے اور بہت ہوتا ہے ۔
Sunday, August 1, 2021
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
فوکس
فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...
-
دل اور قلب شہیر شجاع ہم اکثر کہا کرتے ہیں “میرا دل کھانے کا کر رہا ہے ، یا میرا دل چاہ رہا ہے ، یا میرا دل خراب ہورہا ہے ۔۔۔۔یا “ اس “ پہ م...
-
پا کستانی فوجی سرحد کی حفاظت میں تو دنیا کی اعلی عسکری طاقت کے طور پر منوا چکے لیکن سیاسی طور پر اب تک ناکام رہے ہیں ۔۔۔ ہماری بد قسمتی ...
-
پشاور کے اتنے شدید اور نہایت ہی دلگیر اور افسوسناک واقعہ پہ ہر دل رو رہا ہے ۔۔۔ پورے ملک کی حکومتی مشینری سے لیکر عام آدمی تک متحرک ہے ...
No comments:
Post a Comment