Monday, June 23, 2014

دانشوران ملت



دانشوران ملت

شہیر شجاع

بنت حوا کی لاش نیم برہنہ حالت میں زمین پر آڑھی ترچھی پڑی تھی ۔۔۔ اس کا جسم اس کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر چیخ چیخ کر پکار رہا تھا ۔۔۔   لوگ چہ مگوئیاں کر رہے تھے ۔۔ ایک بولا ۔ اللہ غارت کرے ظالموں کو ۔۔ حکمرانوں کو۔۔

ایک اور آواز ابھری ۔ ۔۔یہ ہمارے ملک کو کیا ہوگیا ہے ۔۔ ہم اس قدر پستی کی جانب گرتے چلے جا رہے ہیں  ۔۔

 جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔ اتنے میں ۔ ایک صحافی ابن آدم آگے بڑھا۔۔


 اپنی نیم برہنہ لٹی پھٹی بہن کی لاش  کی تصویر کھینچی ۔۔ اور کہا کہ میں ساری دنیا کو دکھاونگا کہ ہمارے ملک میں یہ کیا ہورہا ہے ۔۔ تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کروائی ہو اور ایسے واقعات کی روک تھام ہو۔۔

ادیب اگے بڑھا ۔۔ اس نے کہا ۔۔ میں اس واقعے کو ایک ایک آدمی تک پہنچاوں گا ۔۔ تاکہ لوگوں کو آگاہی ہو  ۔۔


سیاست دان آگے بڑھا ۔۔ اس نے کہا ۔۔ ہم احتجاج کریں گے ۔ یہاں تک کہ انصاف ملے۔۔

بنت حوا کی ماں ایک طرف بیٹھی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔۔ آس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ وہ آگے بڑھی ۔۔  پولیس نے روکنے کی کوشش کی کہ لاش  کی ابتدائی تحقیقات ہونے تک آپ لاش کو نہیں چھو سکتیں  ۔۔۔


ارے کمبخت وہ میری بیٹی ہے ۔ لاش نہیں ۔۔  مجھے کوئی انصاف نہیں چاہیے ۔۔۔  وہ رو رہی تھی ۔۔چیخ رہی تھی۔۔

اپنے سر سے چادر اتاری ۔۔ اور پولیس والے کی طرف پھینک کر چلائی کہ کم از کم میری بیٹی کو اس سے ڈھانپ دو ۔۔   اور غش کھا کر گر پڑی  ۔۔۔

Wednesday, June 18, 2014

خدارا اپنے آپ کو محدود و مکسور نہ رکھیں

خدارا اپنے آپ کو محدود و مکسور نہ رکھیں 
شہیر شجاع


جب اپنوں پہ ظلم ہوتا ہے تو ۔۔۔ غم سے آشنائی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ آنسو چھلک چھلک پڑتے ہیں ۔۔۔ دل میں ٹیسیں اٹھتی ہیں ۔۔۔۔۔ ظالم سے نفرت ۔۔۔ اور ظلم کے خلاف بغاوت کا جذبہ پیدا ہوتا ۔۔۔۔ کیونکہ اپنا وہی ہے جو میری جماعت کا ہے ، یا میرے مسلک کا ہے ، یا میرے شیخ کا مرید ہے ۔۔ یا یا یا یا ۔۔
۔ شاید اب وہ گھڑی ہے ۔۔۔۔۔ کہ اپنے غم کو ۔۔۔۔۔ ہمارا غم ۔۔۔۔ اپنی مشکل کو ہماری مشکل اور اپنے زوال کو ہمارا زوال سمجھیں ۔۔۔۔ کیونکہ ۔۔ دنیا کہ ہر گوشے میں بسنے والا مسلمان ۔۔ ہم جماعت ہے ۔۔۔۔ ہر کلمہ گو کا خون ہمارا خون ہے ۔۔ ہر کلمہ گو پر ہونے والا ظلم ہم پر ظلم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہر اس آہ پر دل نہ تڑپ اٹھے تو وہ کیسا ایمان ہے ۔۔ کیسا دل ہے ۔۔۔ جس میں محض شیخ یا شیخ کی دل لبھانے والی باتیں بسی ہیں ۔۔۔۔۔ حقیقت کو پہچانیں  ۔۔

ہم صدیق اکبر کے صدق ، فاروق اعظم کی بصیرت ، عثمان غنی کی قناعت اور علی شیر خدا کی شجاعت ۔۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قوم سے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔ ہمارے امام ۔۔۔ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
ہماری عقیدت صرف ان سے ہے یا ان کو مکمل طور پر اپنے قالب میں ڈھالنے والوں سے ۔۔۔۔۔۔۔ جو گزر چکے ۔۔ جو اپنی حیات ہمارے لیے سیکھنے اور عمل کرنے کے لے چھوڑ گئے ۔۔۔۔۔ ہم عقیدت مند مندرجہ بالا حضرات کے ہوسکتے ہیں ۔۔۔ فی زمانہ ہم صرف انسانیت کا احترام کر سکتے ہیں اور بس ۔۔۔۔۔۔۔ ہر شخص محترم ہے ۔۔۔۔ یہ ضرور ہے کہ مقام سب کا جداگانہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ حد سے بڑھی عقیدت ہی ہمارے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے ۔۔۔ جس نے ہمیں اندھا کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صحیح غلط کی تفہیم سے ماوراء کردیا ہے  ۔۔



خدارا اپنے آپ کو محدود و مکسور نہ رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ متحد ہو کر لامحدود ہونے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...