Monday, December 22, 2014

قصور وار کون ؟


پشاور کے اتنے شدید اور نہایت ہی دلگیر اور افسوسناک واقعہ پہ ہر دل رو رہا ہے ۔۔۔ پورے ملک کی حکومتی مشینری سے لیکر عام آدمی تک متحرک ہے ۔۔۔۔ کیا ہوا ؟ ۔۔۔ ان معصوم بچوں کا کیا قصور تھا ؟ ۔۔۔ ان کو کیوں نشانہ بنایا گیا ؟ ۔۔ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی اس آگ میں ان معصوم جانوں کو کیوں جھونکا گیا ؟ ۔۔۔ ایسے کئی سوالات ہیں ۔۔ جو میرے ذہن میں گردش کر رہے ہیں ۔۔۔ اب بہت سے قلم اٹھیں گے اپنے تجزئے پیش کریں گے ۔۔ الزامات کی بوچھاڑ ہوگی ۔۔۔ گریبان پھاڑے جائیں گے ۔۔ لعن طعن کا بازار گرم ہوگا ۔۔ سیاست دان اپنے داو پیچ کا استعمال کریں گے ۔۔۔
لیکن ۔۔۔ ان گھروں کا ماتم اپنی جگہ قائم رہے گا ۔۔۔۔ کیونکہ میکاولی کا فلسفہ ہے ۔۔۔ کہ ۔۔ جو حکمران عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں ۔۔ ان کی حکومت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی ۔۔۔ اور ہم اس کے نمائندگان کو ۔۔ اپنی زندگی بھینٹ کر چکے ہیں ۔۔۔۔   
یہ طالبان کون ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ ۔۔۔ ان کا مقصد کیا ہے ؟ ۔۔۔ وہ کیا تھے اور کیا ہیں ؟ ہمارے پاس تھنک ٹینکس نہیں ہیں ۔۔۔ دباو میں فیصلے ہوتے ہیں ۔۔۔ پرپیگنڈوں پر رائے عامہ ہموار ہوتی ہے ۔۔۔ ان پاکستانی طالبان کے پیچھے کون سے عناصر سر گرم ہیں ۔۔۔؟ اس پر بات کرنے سے ہر زبان بند ہے ۔۔ ہر قلم خاموش ہے ۔۔۔ کیوں ؟   
اللہ جل شانہ ۔۔ ان معصوم فرشتوں کےوالدین کو خوب صبر دے ۔۔۔ اور ہمیں اس آگ کی لپیٹ میں آنے سے اب محفوظ فرما لے ۔۔ ہماری آنکھیں کھول دے ۔۔ اور صحیح سمجھ بوجھ کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔۔۔ 
شہیر شجاع

رب سے شکوہ کیوں ؟



ہم نے اپنے رب کو چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس سے شکوہ کس منہ سے کریں ؟ ۔۔۔۔۔ ہمارے مقاصد دیکھیں کیا ہیں زندگی کے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے دشمن کے مقاصد ۔۔ ا ور ان کی تیاریاں دیکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے خواب کیا ہیں ؟ ۔۔ ہماری زندگی کیا ہے ؟ ۔۔ ہمارے مقاصد کیا ہیں ؟ ۔۔ ہمارے افعال کیا ہیں ؟ ۔۔۔ جینے کی وجہ کیا ہے ؟ ۔۔۔۔ مرنے کا امتحان کیا ہے ؟ ۔۔۔
اور
اور
اور ۔۔
مسلمان ہونے کا حق کیا ہے ؟

پشاور حادثہ اور ہم



ایک المناک سانحہ پاکستان کی سر زمین میں ایک مرتبہ پھر پیش آیا ۔۔۔۔ سوگ ، غم و غصہ ، تشویس ، ماتم ، تجزیے ، مشاہدے ، الزام ، بدلہ اور کیفیات کی مزید جتنی بھی اقسام ہیں سامنے آئیں ۔۔۔۔۔۔
لیکن ایک بات جو مجھے ہمیشہ سے دکھ پہنچاتی ہے ۔۔۔ لال مسجد کے سانحے کے دوران ان کے متعلقین کا غم و غصہ شدید تھا ۔۔ جبکہ بہت سے لوگ اس سانحے کو سراہتے بھی رہے ۔۔۔
اس کے علاوہ ایک سانحہ لاہور میں پیش آیا جب پولیس نے منہاج القراں کے دفتر میں درندگی کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔ اس وقت منہاج القرآن کے متعلقین کا غم و غصہ شدید تھا ۔۔۔۔۔۔
اور اب یہ سانحہ جس کے شہداء بچے ہیں ۔۔۔ جن کو ہم مذہب ، رنگ ، نسل ، سیاست غرض کسی بھی ترازو میں نہیں تول سکتے ۔۔۔ وہ معصوم بچے ۔۔ وہ کلیاں جو ابھی کھلی نہیں ۔۔ انہیں اس غیر انسانی فعل کے ذریعے جنت برد کردیا گیا ۔۔۔۔ ان ماوں پر کیا بیت رہی ہوگی ۔۔۔ جن کو عمر بھر کا دکھ ایک پل میں میسر آگیا ہے ۔۔ جو ہر لمحہ درد کی ٹیسیں سہیں گی ۔۔ جن کا ہر لمحہ ہر پل اپنی ننھی معصوم اولاد کی ایک ایک حرکت کو یاد کرتے گزرے گا ۔۔ جن اور چہرہ آسمان کی طرف اٹھ جائے گا کہ شاید کوئی معجزہ ہو اور ان کا بیٹا / بیٹی دوڑتے ہوئے ان کو " مااااااں " پکارتے ہوئے چلے آئیں ۔۔ جن کی زندگی چلتی پھرتی لاشوں جیسی ۔۔۔۔۔ ان کا نوالہ کیسے ان کے حلق سے اترتا ہوگا ۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مولوی عبدالعزیز جو عورتوں اور بچیوں کی لاشوں کے سہارے مین اسٹریم میں اچھل کود کر رہا ہے ۔۔۔۔ اور میڈیا اس لالی پاپ سے خوب انجوائے کر رہا ہے ۔۔۔۔ جس میڈیا کی ماں کوئی اور ہے اور نہ جانے باپ کتنے ۔۔۔ ۔۔۔ جو " ما آدری " کے مفہوم سے نا آشنا ہے ۔۔۔ علماء کو ایسے اشخاص کو پردے سے باہر لانا ہوگا ۔۔۔۔ یا پھر کم از کم انہیں نکیل ڈالنی ہوگی ۔۔۔ ۔۔ ورنہ ان کی حیثیت بھی یونہی مشکوک ہوتی جائیگی ۔۔ جس کے لیے فاشسٹ دنیا ایک صدی سے کوششوں میں لگی ہے ۔۔۔ علماء سوء جو کہ سب سے پہلے جہنم رسید ہونگے ۔۔۔ کا مائینڈ سیٹ اتنی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ آگے جا کر ۔۔ علماء پر یقین کرنے والا کوئی نہ رہے گا ۔۔۔۔۔۔
مزید مذہبی گروہوں میں بھی اسی قسم کے مختلف مشاہدات دیکھنے میں آرہے ہیں ۔۔۔ کوئی شیعہ بن کر آواز اٹھا رہا ہے ۔۔۔ تو کوئی کچھ بن کر ۔۔۔۔ مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ ایسے حضرات کے ان کمنٹس کو پڑھ کر ۔۔۔ جو کہ ہمارے معاشرے کے دانشور کہلاتے ہیں ۔۔۔
جبکہ لبرلز ۔۔۔۔۔ تو افغان اور مذہبی معتقدین کے پیچھے یوں پڑ گئے ہیں جیسے یہ سارا کیا دھرا انہیں کا ہے ۔۔۔۔ جہاد کا نام ظالمان استعمال کر رہے ہیں ۔۔۔۔ چھ آٹھ افراد ناکوں چنے چبوادیتے ہیں ۔۔۔ اور گرفتاری ایک بھی عمل میں نہیں آتی ۔۔۔ یا تو جہنم رسید کر دیے جاتے ہیں یا اپنے آپ کو جینم کی غذا بذات خود ہی بان ڈالتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ایک بیان آتا ہے ۔۔۔ تھڑیک ظالمان پاکستان نے ۔۔۔ اس کی ذمہ داری قبول کر لی ۔۔۔۔ اور پھر ایک بچشم مذہبی لیکن غیر منطقی و لا یعنی سی توجیہ سامنے آتی ہے ۔۔۔۔ اور اسلام اور اس کی تاریخ سے نا آشنا ۔۔۔ غصے سے لال پیلے ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور اسلام و جہاد و قتال پر لعن طعن شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہود بھی تو مسلمان بچوں کو ہی ختم کر رہا ہے ۔۔۔۔۔ کیا یہ کڑیاں نہیں ملتی ۔۔۔۔؟؟؟؟
افغان قوم پر رسہ کشی شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم بھول جاتے ہیں ۔۔۔ جب افغان طالبان کابل پر بر اجمان تھے ۔۔۔۔ ہم مطمئن تھے ۔۔۔ ہمیں کوئی خطرہ نہیں تھا ۔۔۔ ہماری محفوظ تھے ۔۔۔۔۔ لیکن پھر ایک شور بلند ہوا ۔۔۔۔ پاکستان میں دہشت گرد موجود ہیں جو قبائلی علاقوں میں پناہ گزین ہیں ۔۔۔۔۔ وہ تو ساٹھ سال سے وہاں رہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب وہ دہشت گرد ہیں ۔۔۔ آپریشن شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔ ڈرون حملے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ مرتے پاکستانی ہیں ۔۔۔۔ خواہ ادھر ہوں یا ادھر ۔۔۔۔ کسی امریکی و برطانوی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔۔۔ مختلف آوازیں اٹھتی ہیں ۔۔ کوئی حق میں تو کوئی مخالفت میں ۔۔۔ لیکن نقصان تو ہمارا اپنا ہی ہوتا رہا ۔۔۔ ۔ افغان طالبان پر پاکستان کے راستے چڑہائی ہوئی ۔۔ وہ خاموش رہے ۔۔۔ کیا وہ بیوی بچوں والے نہں ہیں ؟ ان کے بچے یتیم ان کی عورتیں بیوا ۔۔۔ ان کے بچے اور اور عورتیں شہید نہیں ہوتی ہونگی ؟ ۔۔۔۔۔ لیکن مجال ہے جو ایک لفظ انہوں نے پاکستان مخالفت میں کہا ہو ۔۔۔ بہر حال ۔۔۔ پاکستان کے ظالمان ہم نے ہی بنائے ۔۔۔ اور پھر ۔۔
ہم نے ضرب عضب شروع کیا ۔۔ انہوں نے ضرب غضب ڈھا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کون کر رہا ہے ؟ ۔۔۔ خؤد کش حملہ آور کون ہیں ؟ کہاں سے آتے ہیں ؟ وہ تو پشتو بھی نہیں بولتے ۔۔۔۔۔ جعلی تصویریں ۔۔۔۔ میڈیا میں پھیل جاتی ہیں ۔۔ جنہوں نے اپنے چیتھڑے اڑا لیے تھے ۔۔۔۔ ان کی سالم مردہ تصویریں سر عام گردش کر رہی ہوتی ہیں ۔۔ اور ہم اپنی اپنی توجیہ کے مطابق ان پر اپنی داشمندانہ رائے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
ہم کل بھی بٹے ہوئے تھے ۔۔۔ ہم آج بھی بٹے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم کون ہیں ؟؟؟ ہم کیا ہیں ؟ ہمیں اپنی کاسٹ کی بنیاد کو تو علم ہوتا ہے ۔۔ لیکن اپنے نسب سے نا واقف ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
حقیقتا ۔۔۔۔۔ ہم کٹھ پتلیاں ہیں ۔۔۔۔ یہاں تک کہ ۔۔۔ ہمارے ذہن بھی وہی سوچتے ہیں ۔۔۔ جیسا انہیں سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہیر شجاع

ہماری سوچ کا محور کیا ہونا چاہیے ؟



مجھے یاد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد میں آج سے پانچ چھ سال پہلے ۔۔۔ اسلامک یونیورسٹی ( گرلز ) میں بم دھماکہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اس دوران وہاں میری ایک دوست بھی زیر تعلیم تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس قدر شدید زخمی ہوئی کہ اس کا پاکستانی اداروں سے ۔۔ پاکستانی سر زمین پر اعتماد اٹھ گیا ۔۔۔۔ اس نے یونیورسٹی جانا ترک کر دیا ۔۔۔ گھر والوں سے لیکر دوست احباب سب نے اسے سمجھایا ۔۔ لیکن اس کے دل میں وہ خؤف وہ کرب یوں رچ بس گیا تھا کہ ۔۔ جینا محال ہو گیا تھا ۔۔ گھر سے نکلتی تو ایک خوف اس کے دل و دماغ میں چھایا رہتا ۔۔۔ ہم جب کبھی اس سے بات کرتے ۔۔۔ تو اس کے کرب کو اپنے اندر تک محسوس کرتے ۔۔ اور کئی قسم کے خیالات و کیفیات کا ادراک ہوتا ۔۔۔۔۔۔ بالاخر وہ اس کیفیت سے اپنے آپ کو ایک طویل عرصے تک نہ نکال پائی ۔۔۔۔ دراصل وہ زخم اس کا ذہنی تھا ۔۔ جسم تو ا س کا سلامت تھا ۔۔۔
پاکستان میں اکثر تعلیمی اداروں میں اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں ۔۔۔۔ ویسے تو ہم نے کبھی اپنے تعلیمی اداروں کو مظبوط بنانے اور ان میں واقعتا تعلیم کو عام کرنے اور جدید تعلیم سے اپنے ہر ہم وطن کو آراستہ کرنے کی کوئی جدوجہد نہیں کی ۔۔ لیکن جو ادارے ۔۔۔ اپنی مدد آپ کے تحت ہمارے بچوں کو تعلیم بہم پہنچا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ کیا ہماری ذمہ داری نہیں انہیں سپورٹ کریں ؟ ۔۔۔۔
پشاور سانحے کے بعد ۔۔۔۔۔ بچ جانے والے کتنے بچے ہونگے جو اپنی زندگی اس خؤف کے ساتھ جئیں گے ۔۔۔ اور وہ خؤف و دہشت ان کا مستقبل تباہ کر دیگا ۔۔۔۔۔ اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟
ہم طالبان ۔۔ کی حمایت و مخالفت ۔۔ مولوی و غیر مولوی کی ابحاث سے باہر کب نکلیں گے ؟ ۔۔۔۔ کیا یہی ہماری بحث کا موضؤع ہونا چاہیے ؟
شہیر

معاشرہ

بعض افراد ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ اداس رہنا ۔۔۔ اور اداسی ظاہر کرنا پسند کرتے ہیں ۔۔ جیسے خؤشی ان سے نہ روٹھی ہو ۔۔ انہیں ہی خوشیاں پسند نہ ہو ۔۔۔۔ ان کی زبان سے سوائے شکوے کہ ۔۔۔۔ اور کچھ سننے کو نہیں ملتا ۔۔۔ خوشی و غمی تو زندگی کے حصے ہیں ۔۔۔ لیکن غمی سے کچھ زیادہ ہی محبت ہے ۔۔۔ اور اس کے اظہار پے نہ جانے کونسی آسودگی۔۔
شاید یہ بھی ایک مرض ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور شدید پھیلتا ہوا مرض
شہیر شجاع

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...