Saturday, January 2, 2016

وقت کیا ہے ؟

وقت کیا ہے ؟

سرسراتی ہوا  ، اور چلچلاتی دھوپ

ہوا جب سرسراتی ہوئی نرم و گداز ململیں چادر کو بوسہ دیتی ہے ،  وہ چادر اک ادا سے شرما جاتی ہے ۔۔۔۔ شیشے  کے پار 

کھڑی بیٹی لیکن سہم جاتی ہے ۔۔۔
 
سخت گرم موسم میں چلچلاتی دھوپ ۔۔ شیشے کے اس پار ۔۔۔ دل کو مسحور کیے دیتی ہے ۔۔۔ اسی دیوار کے سائے میں 

اک بوڑھی بھی بیٹھی ہوتی ہے ۔۔۔
 
شاہد صفحہ قرطاس پر " لمحے " کا ادراک تحریر کرتا ہے ۔۔ 

Saturday, December 26, 2015

سائنس اور مذہب کی ارتقاء کے قبول و رد میں انسانی رویہ


سائنس اور مذہب کی ارتقاء کے قبول و رد میں انسانی رویہ ۔

شہیر شجاع

سائنس اور مذہب ۔۔ ہر دو کی ارتقاء کو قبول کرنے میں انسان  کا رویہ ایک ہی جیسا ہے ۔ ۔۔۔ مگر انتہا  میں ایک بہت بڑا فرق ہے ۔۔ ۔۔
  سائنس انسان کے غور و فکر کا نتیجہ ہوتا ہے ۔۔۔ جس میں یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں ۔۔ مختلف لوگ اپنی تحقیقات پیش کرتے ہیں ۔۔ یعنی اپنا علم پیش کرتے ہیں ۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ مزید لوگ آتے ہیں جو ان ہی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہیں ۔۔ یعنی علم کی اعلی سے اعلی شکل دریافت کرتے  ہیں ۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ۔۔ پچھلی تحقیق  کا خالق  ناکارہ تھا ۔۔ بلکہ اس کا مقام اس کی عزت و احترام بھی ساتھ ملحوظ خاطر رہتا ہے ۔۔۔ مگر تاج اسی کے سر بیٹھتا ہے  جو تحقیق کو ایک کمل شکل دے ۔۔۔ مگر یہ بھی ہے کہ  سائنس میں ممکن نہیں کہ کوئی بھی تحقیق مکمل ہو ۔۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے  ۔۔ ۔
مذہب  میں صرف اتنا ہے کہ ۔۔۔ یہ علم آسمان سے اللہ کی طرف سے انسان کے لیے آتا ہے ۔۔۔ اور اس کا ذریعہ اللہ جل شانہ ۔۔ انہی انسانوں میں سے ایک انسان کو منتخب فرماتے ہیں ۔۔ جسے تمام انسانون میں اعلی و ارفع کرتے ہیں ۔۔۔ اور اسے نبی  و رسول اللہ ۔۔ کا نام یا مقام دیتے ہیں۔۔ اور ان کے ذریعے سے وہ علم دنیا کے دوسرے انسانوں تک پہنچتا ہے ۔۔۔۔ 
ہر  دو میں انسان کے دو مختلف رویے رہے ہیں ۔۔ سائنسی تحاقیق  میں ہر اول محقق کا نام و مقام باقی رہتا ہے ۔۔ لیکن ساتھ ہی ۔۔ نئے محقق کو نہ صرف سراہا جاتا ہے بلکہ اسے نسبتا زیادہ سراہا جاتا ہے ۔۔
جبکہ مذہب کے معاملے میں ہر نئے علم کے لانے والے کو انسان رد کرتا آیا ہے ۔۔۔ اور اصرار یہی رہا کہ جو پہلے علم لانے والا تھا وہی برحق تھا ۔۔
موسی علیہ السلام کے ماننے والوں نے عیسی علیہ السلام کو رد کیا ۔۔ عیسی علیہ السلام پر یقین رکھنے والوں نے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رد کیا ۔۔۔ بس وہی کامیاب رہا ۔۔ جس نے علم کو علم سمجھا ۔ ۔ اور علم کی ارتقاء کو قبول کیا ۔۔

ماخوذ از ۔۔۔ پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب

Thursday, December 24, 2015

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا






وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا 
 شہیر شجاع 

سرزمین عرب کے ریگزاروں میں عجب سرکشی و انسانیت سوز مناظر کا دور دورہ تھا ۔کہ مٹی مٹی بوٹا بوٹا پناہ مانگے ۔ کہ اسی دوران ان کے درمیاں ایک نہایت باعظمت خاندان  میں ایک چشمہ پھوٹا ۔ جس نے اپنے پیدا ہونے سے چند ماہ قبل ہی یتیمی کا تاج پہن لیا تھا ۔ عظمت کے لیے خالق کائنات  بہت سی پیچیدگیاں اپنے بندوں میں پیدا کرتا ہے ۔۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ انسان  کی عظمت رفتہ میں  نمایاں کردار ادا کرتی ہیں ۔۔۔  وہ بچہ ابھی چند سال کا ہی تھا کہ مستقل یتیمی کا تاج سر پر پہن لیا ۔  دادا کے ہاتھوں تربیت کا سلسلہ شروع ہوا ۔۔ پر یہ سایہ شفقت بھی تادیر قائم نہ رہ سکا ۔ اس کے  بعد اس عظیم المرتبت بچے کے سر پر اللہ جل شانہ نے چچا کا سایہ قائم فرما دیا ۔۔۔
اللہ جل شانہ کا کوئی بھی عمل بلا مقصد و مصلحت نہیں انجام پاتا ۔۔  یہ بھی ایک طریقہ تھا امت کو بتلانے کا ، رشتوں کی اہمیت کو جتانے کا ۔۔ تربیت کے اصولوں کو باور کرانے کا ، محبت کی اہمیت اجاگر کرنے کا ۔
جو اپنی رضاعی ماں کے لیے  اپنی چادر اتار کر زمین پر بچھا دیتا ۔ جو  مہاجر ہو کر اپنی عظیم المرتبت بیوی ( رضی اللہ عنہا ) کی قبر مبارک سے دور ہوتا ہے ۔۔ اور جب واپس اپنے وطن لوٹتا ہے تو ۔۔ وہ راستہ منتخب کرتا ہے جہاں اس کی وہ عظیم بیوی آسودہ خاک ہے ۔
وہ  عظیم المرتبت انسان ۔۔۔۔۔(صلی اللہ علیہ وسلم ) جب لوگوں کے پتھروں سے خونم خون ہوجاتا ہے ۔۔  تو ان کے دل سے پھر بھی کوئی بد دعا یا کلام  بے فیض نہیں نکلتا ۔۔ بلکہ دعائیں اور  اچھائی کی تمنا ہی ہوتی ہے ۔  وہ    حالت کمزوری میں روا رکھے گئے ظلم و ستم  کے علمبرداروں کو طاقتور ہونے کے بعد معاف کردیتا ہے ۔ وہ جو  کالے اور گورے کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ۔  عورت کا مقام بلند اور مرد کو اس کا محافظ بناتا ہے ۔
جس کے ذریعے سے اللہ جل شانہ نے اسلام جیسی عظیم نعمت دنیا کو بخشی ۔ انسان کو انسان بنائے جانے کے لیے  مبعوث ہوا ۔ جان کے پیاسوں کو بھائی بھائی بنا دیا ۔ یہ اسی اسلام کا سرخیل تھا  جس نے انسانیت کا سب سے پہلا سبق دنیا کو پڑھایا ۔ جس نے دنیا کو ایک نظام دیا ۔ ٹھوس معاشرتی نظام ۔ جس میں امیر غریب ۔ کمزور طاقتور سب کو برابر کا درجہ دیا ۔  انسانیت کیا ہے ؟ درحقیقت  اسلامیت ہے ۔ جس دنیا کو غور و فکر کی دعوت دی ۔ اور اذہان کو اس بات پر راضی کیا ۔ وہ اذہان جن کو سوائے قتل و غارت کے ۔ عصبیتی تناو کے اور کچھ نہ آتا تھا ۔۔ انہیں مفکر بنایا ، مدبر بنایا ، مقتدر بنایا ، معلم بنایا    ، سخی بنایا ، معاف کرنے والا بنایا ، غرض ہر وہ صفت جو معاشرہ  و ریاست مرتب کرتی ہے ، غور وفکر ہر حال میں ان کا شعار ہوتا ہے ۔۔۔۔   جی ہاں ۔۔۔ وہ انسانوں میں عظیم انسان بنے ۔ جنہوں نے دنیا کو امن دیا ، زندگی کی رونقیں بخشیں ۔  
وہ یتیم بچہ ایسا عظیم المرتبت ہوا کہ رحمت اللعالمین ہوا ۔   جو اپنے وقت کا عظیم سپہ سالار تھا ۔۔۔ جس کی سپاہ  کے پیٹ میں ایک ایک پتھر بدنھے تھے ۔ اپنے پیٹ میں  دو پتھر باندھے ۔۔ فاقہ کشی کر رہا تھا ۔۔ جو سب سے بڑا حکمران تھا ۔۔ وہ  ٹاٹ کی چٹائی ، مٹی کے گھروندے پہ سو رہا تھا ۔۔ وہ سراسر اسلام تھا  ۔ جو دنیا کو انسانیت کا درس دینے آیا تھا ۔ جو طریق حکمرانی ، طریق انسانی ، طریق زندگی سکھلانے آیا تھا  ۔     جس نے سکھلایا کہ ۔۔۔  مسلم ہو یا غیر مسلم ۔۔۔ اسلام کا درس انسانیت ہے ۔۔ سب کے ساتھ یکساں برتاو ہی  کامیابی کا راستہ ہے ۔
ہمیشہ امت کے درد میں راتوں کو جاگ کر اس کی مغفت و فلاح کی نہ صرف دعائیں کرنا ۔۔۔ بلکہ ہمہ وقت فلاح کے راستوں کی رہنمائی پر کمر بستہ رہنا ۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی کا ہر پل صرف امت  کی بہبود و کامیابی کی سوچ و فکر میں صرف رہا ۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔  باہمی محبت ، ایثار و ہمدری و رواداری  کی بیشمار مثالیں قائم کیں ۔  
آج  ہمیں اپنے اس عظیم الشان لیڈر صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت مطہرہ  کے تناظر میں محاسبے کی ضرورت ہے ۔  شاید کہ آج  کے دن کو ہم منانے کے لیے سب سے بہتر طریقہ محاسبہ تععین کریں ۔

Wednesday, December 23, 2015

نرگس فخری



ابھی حال ہی میں ۔۔۔۔ ایک اخبار کے اشتہار پر ۔۔۔۔ خوب شور و غل برپا ہوا ۔۔۔۔۔۔ وہ اشتہار اچھا تھا یا برا ۔۔۔۔ اس کے ادراک یا اطلاق کا پیمانہ کیا ہو ؟
نظریہ یا تہذیب ؟ یا نظریاتی تہذیب ؟ یا تہذیبی نظریہ ؟
نظریات ہی دراصل ۔۔۔ تہذیب کی بنیاد ہیں ۔۔۔۔ حالیہ دور میں ۔۔۔ دنیا کو ہم دو تہذیبوں کے دائرے میں پرکھتے ہیں ۔۔۔ مشرقی یا مغربی ۔۔۔۔ اگر یہ دونوں محتلف نہ تھے تو ۔۔ مشرقی و مغربی معاشرے کا فلسفہ وجود میں نہ آتا ۔۔۔۔۔۔ لہذا یہ ثابت ہوا چونکہ فلاں عمل مشرقی معاشرے میں برپا ہوا ۔۔۔ تو اس کا ردعمل مشرقی تہذیبی اساس پر ہی پیش آئے گا ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ۔۔ مشرقی معاشرے کی اساس اخلاقیات کا سب سے بڑا مدرس ہے ۔۔۔ تو اس کا دوسرا پیمانہ اخلاقیات کہلائے گا ۔۔۔۔
گویا کہ ۔۔۔ فلاں عمل ۔۔۔ مشرقی تہذیبی نظریات کا عکاس ہے یا نہیں ؟ ۔۔۔
میں یہ سوچ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں فلاں عمل کے صحیح یا غلط ہونے میں ۔۔۔۔ آسمانی نظریات پر بحث کیوں شروع ہوگئی ؟ ۔۔۔۔ کیا اب مشرقی تہذیب کا دفاع بھی ایمانی خلل کہلائے گا ؟ یا اب تہذیب کا وجود ہی سرے سے مٹ چکا ہے ؟

Monday, November 9, 2015

اقبال اور ہم



اقبال اور ہم 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 شہیر شجاع 

قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغ چمن کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نو مید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں ہیں
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفت قلب و نگاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر ایک ذرے میں ہے شاید مکیں دل
اسی جلوت میں ہے خلوت نشیں دل
اسیردوش و فردا ہےولیکن
غلام گردش دوراں نہیں دل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںْ
پھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیں
۔۔۔۔
یہ ایک سرسری سی نظر ہے ۔۔ حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کے درد سے لبریز دل سے نکلے ہوئے فکر کی اتھاہ گہرے سمندر کی اونچی لہروں میں لپٹے ہوئے اشعار ہیں ۔۔۔ آج وہ ہم میں نہیں ہیں پر ان کی فکر جیسے تر و تازہ ہو ۔۔۔ ان کا درد ان کے کلام کے ذریعے ہماری فکر و دل کے تاروں کو ویسے جھنجھوڑ ڈالتا ہے ۔۔۔ کہ وقت بدل گیا پر ہم نہ بدلے ۔۔۔ ترقی کی راہوں میں ۔۔ تبدیلی کی شاخوں میں ۔۔ کئی سنگ میل دنیا عبور کر چکی ۔۔ پر ہم اب تک وہیں کہ وہیں کھڑے عجب تخیلاتی گھمنڈ میں ۔ تخیلاتی ترقی کی راہوں میں گامزن ۔۔۔ نت نئے فلسفوں ۔۔۔۔ اور نام نہاد ماڈرن زندگی کے خواب دیکھ اور دکھا رہے ہیں ۔۔۔۔ اس طویل عرصے میں جبکہ ہمارا زعم اپنے علم پر کچھ اس قدر چھایا ہوا ہے کہ ہم عالم مدہوشی کو خرد مندی سمجھ کر اپنی بقا سے فنا کی جانب مسلسل محو سفر ہیں ۔۔۔لیکن اپنے محاسبے اسے اسی قدر منہ موڑے ہوئے ہیں جیسے کہ صدی اقبال میں تھے ۔۔۔
اقبال رحمہ اللہ کی شخصیت پر نہ جانے کتنی کتب لکھی گئیں ۔۔۔ خواہ تعریف کے ضمن میں ہو یا تنقید ۔۔۔ بڑے انسان کی سوچ بھی بڑی ہوتی ہے ۔۔۔ اور اس کا حصار ہر کس و ناقص کے بس کی بات بھی نہیں ہوتی ۔۔۔۔ لہذا ۔۔۔ تنقیص بھی مسلسل ان پر ہوئی اور ہورہی ہے ۔۔۔۔
شاید کہ ہم شخصیتوں کی عزت و ناموس کو بصد احترام قبول کر کے ۔۔۔۔ اس کو انا کا مسئلہ بنائے بنا ۔۔ اپنے آج اور کل کی فکر میں ۔۔۔۔ فکر و پیغام کو پرکھیں ۔۔ اور اس کے ذریعے اپنے علم و عمل کی ترقی کی جانب محو سفر ہونے کی کوشش کریں ۔۔اور ایک " مکمل قوم " کی حیثیت سے دنیا میں اپنے حقیقی مقام کو اپنے نام کرنے کی جستجو میں اپنے قیمتی اوقات کو صرف کریں ۔۔ ۔ کے ارتقاء کا عمل باہمی احترام و مسلسل فکر میں پنہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی اقبال رحمہ اللہ کا پیغام تھا ،اور ہے ۔۔۔۔


Sunday, November 1, 2015

ترازو



ترازو
 محمد شہیر شجاع 

فہیم آج بہت خوش تھا ۔۔ بہت صبر کے بعد آج بالآخر اس کی شادی ہونے جارہی تھی ۔ اس کے گھر والے اس کا رشتہ لیکر  کئی گھروں پر گئے تھے ۔۔ پر اس کا مقدر کچھ اور ہی تھا ۔۔ اس کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ اس کا رشتہ کسی اچھے گھرانے کی ایسی لڑکی سے ہوجائے گا ۔ وہ تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔ زور و شور سے شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں ۔۔ بالآخر وہ دن بھی آپہنچا  جب اس کی زندگی  کا ہمسفر اس  کے کمرے میں بیٹھا  بہت سارے خواب و توقعات سجائے اس کے انتظار میں تھا ۔
اس کا گھرانہ ذرا بڑا تھا ۔۔ اس کے چار بڑے بھائیوں کی پہلے شادیاں ہو چکی تھیں ۔۔ وہ بھی ساتھ ہی رہتے تھے ۔۔ فرق صرف اتنا تھا کہ نئی آنے والی بہو شکل و صورت اور تعلیمی لحاظ سے سب میں نمایاں تھی ۔۔ جس کا دیگر بیبیوں کو احساس تھا ۔۔ بجائے اس کے کہ یہ احساس  نئے مہمان کے لیے پیار و محبت کی فضا قائم کرتا ۔۔  دل میں کینہ  پیدا ہوگیا ۔۔ ان کے بچے فہیم کے کمرے میں بلا روک ٹوک در آتے اودھم مچاتے چیزیں توڑتے پھوڑتے ۔۔ لڑکی فہیم سے شکایت کرتی تو ۔۔ فہیم یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ کوئی بات نہیں میں نیا لے آوں گا ۔  کسی بھی مسئلے پر فہیم کا ردعمل ہوتا کہ  درگزر کرو ۔ صرف نظر کرو ۔ جبکہ وہ اپنے گھر کے بچوں کو ذرا بھی ٹوکنا گوارا نہیں کرتا ۔
اس کی اس بات نے لڑکی کے دل میں عدم تحفظ   کا احساس بیدار کرنا شروع کردیا ۔ وہ فہیم کا جس قدر خیال رکھ سکتی رکھتی ۔ مگر دل  میں سسکتی رہتی ۔ اپنے گھر والوں سے بات کرتی ہے تو ۔ ایک طوفان کھڑا ہونے کا خدشہ ۔۔ اور وہ طوفان ان دونوں کی زندگیوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا کردیتا ۔  فہیم اس بات سے خوش تھا کہ اس کی بیوی اس کی ہر بات مانتی ہے ۔۔۔ اس کے کہنے کو سمجھتی ہے ۔۔ اسے اپنی کم مائیگی کا ذرا بھی احساس نہ تھا ۔۔
اسی اثناء میں فہیم کی اکلوتی بہن کا رشتہ ہوگیا ۔۔ جو کہ فہیم سے بہت قریب تھی ۔ اور اس کی بہن  پیا دیس سدھار گئی ۔۔ وہ  اپنے کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے  کئی دنوں تک اپنی بہن سے ملنے نہ جا سکا ۔۔ پورے ڈیڑھ ماہ بعد وہ اپنی بیوی کے ساتھ اپنی بہن سے ملنے گیا ۔۔ اس کے کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کہ اس نے دیکھا وہاں نئی نویلی الماری  کے شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں ۔۔ ڈریسنگ ٹیبل   میں خراشیں پڑی ہیں ۔ اس نے اپنی بہن  کی طرف دیکھا ۔۔ اور بہن اس کے سینے سے لگ کر روپڑی ۔ سسکتے ہوئے کہا ۔ کہ دیکھیں ۔ ان کو ذرا بھی احساس نہیں کہ میں بھی اب ان کی زندگی میں شامل ہوں ۔  ان کے لیے  میں اب تک ان کی اپنی نہیں ہوسکی ۔   یکلخت فہیم کی نظر اس کی بیوی کی جانب اٹھی جو سر جھکائے سب دیکھ رہی تھی ۔۔ اور اس کی آنکھوں سے دو موتی  اس کے گالوں میں لڑھک آئے ۔۔

Thursday, September 3, 2015

عقل انسانی اور سماج

عقل انسانی اور سماج ۔۔۔

شہیر شجاع

باپ اپنے بچے کو شرارت ، نافرمانی پر کیوں  تنبیہہ کرتا ہے ؟
ماں جیسی   حساس  و محبت سے بھری ہستی ۔۔۔ اپنی اولاد پر ہاتھ کیونکر اٹھا لیتی ہے ؟
محبت کا عنصر محض مرضی کی اجازت ہی نہیں ، غلطی و  کوتاہی پر سزا  کی بھی محرک ہے ۔۔ جزا و سزا کو گر حذف کردیا جائے تو نفس انسان بیباک ہوجاتا ہے ۔  اس بیباکی کا خوف والدین کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہر ممکن طریقے سے راہ راست پر رکھیں ۔  جو انہیں  اپنا مستقبل روشن  بنانے میں کارآمد ہو ۔۔ اور وہ اپنی اولاد کو کامیابی و کامرانی کی منازل طے کرتا دیکھیں ۔ ان کے اخلاقی کردار کی تحسین ہو ۔
جہاں والدین میں یہ خوف ناپید ہوجائے وہاں   نسل انسانی  کے فیصلے  ان اذہان  کے ذریعے برپا ہونے شروع ہوجاتے ہیں ۔ جن کے تجربات  محض جذبات ہوتے ہیں ۔ تدبر تک ان کی رسائی ابھی کافی بعید ہوتی ہے ۔ اور پھر ایسے سانحات رونما ہونے لگتے ہیں جیسے کہ چند دن پیشتر  ہم نے  ایک قتل اور ایک خودکشی کی صورت میں دو بچوں کی لاشیں  خون میں لت پت دیکھیں ۔ 
ہم کسی بھی واقعے کو محض  معمولی یا اپنی ساخت کا     لاشعوری واقعہ کہہ کر درگزر نہیں کر سکتے ۔۔ بلکہ ہمیں اس کے محرکات پر غور کرنا ہوگا ۔ ان عوامل کو نشان زد کرنا ہوگا ۔۔ جن کے اثر سے انسان متاثر ہو کر " بیباکی " کے منازل طے کرجاتا ہے ۔۔ صحیح و غلط کی قید سے نکل کر ۔۔ اپنی ہی عدالت میں فیصلہ سناکر حق و باطل  کی حدود طے کرتا ہے ۔ 
آج ہم  کسی بھی واقعے کو  جانچنے کے لیے عموما دو  طرح کے کلام استعمال کرتے ہیں ۔۔
الزام  در مذہب
الزام در سیاست
جس طرح ۔۔۔ مسلمان کا طرز عمل اسلام کو برا بھلا کہنے پر دال نہیں ۔۔۔ اسی طرح سیاسی عوامل کا طرز عمل سیاست کو برا بھلا کہنے پر دال نہیں ۔۔
ہاں ایک " سوچ" ہے ۔۔۔۔ جو تواتر سے پروان چڑھ رہی ہے ۔۔۔  جسے  ہم ۔۔۔ مذہبی و غیر مذہبی سوچ کہہ سکتے ہیں عام زبان میں ۔۔۔۔ یا دانشورانہ طرز پر ۔۔۔  قدامت پسند  اور لبرل ۔۔
اگر آپ طرز معاشرت میں مذہب کے کردار کی بات کریں گے ۔۔۔ تو ۔۔ قدامت پسند کہلائیں گے ۔۔
اگر آپ معاشرے سے مذہب کو خارج کردیں ۔۔ اور سماجی پہلووں  پر عقلی دلائل کی بات کریں تو لبرل کہلائیں گے ۔۔۔
اگر سماج ۔۔۔ عقل  سے تشکیل پا سکتا  ۔۔ تو مذہب  کا دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے ذریعے سے  بھیجنے کا تصور ۔۔ کیا لایعنی تھا ؟
انسان   کی فطرت اجتماع ہے ۔۔ اور اجتماع ہی سماج  ہے ۔ اور اس اجتماع  کی اخلاقی قدروں کا کوئی نہ کوئی محرک تو ہوگا ؟
کیا وہ محرک انسانی عقل ہے ؟
یا وہ   اس انسان کے تخلیق کار کی جانب سے عطا کی گئی ہے ؟
اگر انسانی عقل کو  کامل تسلیم کر لیا جائے تو ۔۔۔  یہ انسانی عقل ہی ہے ۔۔۔ جو بتوں کو خدا بنا لیتا ہے ۔۔۔ گائے کی  انسان کے لیے قربانی سے متاثر ہو کر اسے  پوجنے لگتا ہے ۔۔۔  اپنے نفس کی تسکین کے لیے نت نئے طریقے ڈھونڈ کر اسے سماج کا حصہ بنانے کی تگ و دو بھی اسی عقل انسانی کا شاخسانہ ہے ۔۔
محبت و عداوت  میں انسان تو اکثر عقل سلیم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔۔۔ 
پھر  یہ حد کیونکر  بنا مذہب و آسمانی کتب  کے طے ہوسکتی ہے ؟  
انسانی عقل  بذات خود کسی نتیجے پر پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔۔۔ مگر یہ کہ اسے راستہ بتا دیا جائے ۔۔ پھر اس کی " طلب " اسے منزل تک پہنچاتی ہے ۔۔۔ 
یہ دو  معصوم  بچوں کا واقعہ معمولی نہیں ہے ۔۔۔۔ اس میں غور و فکر کے کئی باب کھلتے ہیں ۔۔ گر غور کرنا چاہیں ۔۔  اللہ جل شانہ ان معصومیں پر رحم فرمائے ۔۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...