Thursday, January 21, 2016

باچا خان اور سانحہ باچا خان یونیورسٹی



باچا خان اور سانحہ باچا خان یونیورسٹی 
شہیر شجاع 

ہمارے پاس اتنے قضیے ہیں جو آج تک حل نہیں کیے جا سکے ۔۔۔ ان قضیوں میں قضیہ ۔۔ خان عبدالغفار خان ۔۔ عرف باچا خان مرحوم بھی ہیں ۔۔۔۔ دنیا  میں اب اسی کا راج ہے جس کی گرفت پروپیگنڈوں پر مضبوط ہے ۔۔ اتنی مضبوط  کہ اس کے حصار سے باہر نکلنا ۔۔ نہایت ہی مشکل ہو گیا ہے ۔۔۔۔   جس نے ہمارے اجتماعی شعور کو کچھ زیادہ ہی متاثر کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ نظم کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے ۔۔۔۔ مگر ہمارے ہاں یہی سب سے بنیادی نکتہء سیاست ہے ۔۔۔ اگر اجتماعی نظم پیدا کر دیا گیا ۔۔ اور مکمل ریاست ایک واحد نظم پر قائم ہوگئی ۔۔ تو پھر ان  جوکروں و ٹھیکیداروں کا اقتدار کی دوڑ میں رہنا ممکن نہ رہے گا ۔۔۔ دہشت گرد جب چاہیں جیسے چاہیں ۔۔۔ خون بہا دیتے ہیں ۔۔۔ جس کا رد عمل ۔۔۔ مشینی و ۔۔ بولی ووڈ ۔۔ انداز میں پیش آتا ہے ۔۔۔ چند اداس چہرے ۔۔ اور چند ۔۔ بے تکی باتیں ۔۔ اور پھر سے گاڑی رواں دواں ۔۔۔۔  پہلے آرمی اسکول ۔۔۔ اب باچا خان یونیورسٹی ۔۔۔۔ یہ انسانی خون نہیں ۔۔۔ علم و ادب پر وار ہے ۔۔۔ اور جن کو علم و ادب سے کوئی سرو کار ہی نہ ہو ۔۔۔ ان کے لیے سیاست ایک کھیل ہے ۔۔۔۔۔ جس کھیل   کے اصولوں میں ایک انسانی جان ، شعور ، بیداری ، نظم و ضبط ۔۔۔ کی خرابی سب سے اہم ہیں ۔۔ اگر اس اندھے ہجوم کو ۔۔ انہوں نے بصیرت دے دی تو پھر ان کی فیکٹری کیسے چلے گی ۔۔۔۔۔۔ دشمن نے باچا خان سے منسوب علمی ادارے ۔۔۔ جس کا منصب ان اصولوں پر غور و فکر ہے جن اصولوں کی بنیاد ۔۔ خدائی خدمت گار تھے ۔۔۔ اس پر چوٹ کی ہے ۔۔۔ جس ضرب سے ہر وہ شخص زخم خوردہ ہے ۔۔ جسے اس کی اہمیت کا اندازہ ہے ۔۔۔۔۔ باچا خان  کو پہلے ۔۔ اس جماعت نے ملزم ٹہرایا جس کے لیے اس نے  جدوجہد آزادی کی تاریخ رقم کی ۔۔۔ اس کے بعد ان اپنوں نے اس قدر چوٹ پہنچایا کہ ۔۔۔۔ آج اس کا نام عموما ایک گالی کی طرح عوام کے ذہنوں میں پیوست ہے ۔۔۔۔ اور اب اس یونیورسٹی ۔۔ میں دہشت گردی ۔۔ بھی ایک قضیے کی طرح اڑادی جائیگی ۔۔ 

Sunday, January 10, 2016

ہمار امعاشرہ بحران کا شکار کیوں ؟






قول احمد جاوید صاحب

ہر تہذیب کا ایک اجتماعی شعور ، اجتماعی قلب ، اور اجتماعی ارادہ ہوتا ہے۔ اپنے اجتماعی شعور کو سیراب کرنے کے لیے ہر تہذیب اپنا نظام علم بناتی ہے ۔اسی طرح تہذیب کا اجتماعی ارادہ اس کے مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ اب اگر تہذیب اپنی اوریجنل مراد ، خؤاہش سے دستبردار ہوکر دوسروں کے مقاصد کو اپنا مقصد بنانے کا فیصلہ کرلے تو اس کا وہ اجتماعی ارادہ معطل ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں تخلیقی اعمال نہیں ہو سکتے ، بڑے مقاصد حاصل کرنے والی اجتماعی محنت نہیں ہوسکتی ۔ اسی طرح تہذیب کا اجتماعی قلب اس تہذیب کی محبت ، نفرت اور اس کے جذبات ، احساسات کو ایک خاص ہیئت ، رنگ اور حالت میں رکھتا ہے ۔ ہر تہذیب اپنا نظام احساسات بھی رکھتی ہے ۔ اگر تہذیب اپنے نظام احساسات سے خالی اور غیر مطمئن ہوجائے تو اس کا قلب دھڑکنا بند کردیتا ہے ۔ ان تینوں سطحوں پر اگر دیکھیں تو ہم بانجھ پن کا شکار ہوچکے ہیں ۔
" اب ہم یہ کہنے کے لائق نہیں رہے کہ یہ رہا ہماری تہذیب کا اجتماعی ذہن او ر  یہ رہے اس کے افکار و اقدار ، یہ رہی ہماری منزل اور یہ رہی ہماری پسند و ناپسند ۔ جس تہذیب کے اندر اس کی آبیاری ، اس کی نگہداشت ، حفاظت کا نظام ختم ہوجائے ، اس تہذیب کو باطنی قوت فراہم کرنے والا نظام تعلیم ، نظام اخلاق ، نظام انصآف وغیرہ ختم ہوجائے تو پھر وہ تہذیب بڑا آدمی پیدا کرنے سے معذور ہوجاتی ہے ۔ بڑا آدمی اپنی تہذیب کے ذہن اور قلب کا مظہر بن جانے والے کو کہتے ہیں ۔ جس تہذیب کے اندر خلا پیدا ہوجائے گا ، وہ پھر خالی لوگ ہی پیدا کرے گی ۔ ۔

Saturday, January 9, 2016

مطالعہ و مشاہدہ کیسے فائدہ مند ہو ؟


مطالعہ و مشاہدہ کیسے فائدہ مند ہو ؟

شہیر شجاع

کسی بھی مشاہدے  کے دوران ذہن رد عمل  ظاہر کرنے سے باز رہے تو مشاہدےکا نتیجہء خاطر برآمد ہو سکتا ہے ۔ بصورت دیگر ۔۔  معمول  کی صحت  ہی انکار و اقرار  کے دوراہے پر کھڑی نظر آئے گی ۔  کہیں مسلکی، و مذہبی یا فکری تصادم  میں  ہم آہنگی پر بغلیں بجائے گا ۔ مخالفت پر تیوریاں چڑھائے گا ۔  بالآخر بنا کسی فائدے کے مشاہدہ یا مطالعہ  اپنے انجام کو پہہنچے گا ۔  اس طرح سے مثال کے طور پر کسی بھی کتاب کا مطالعہ  محض وقت کا ضیاع ہی ثابت ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ اور اگر سکون سے  مصنف  سے رضا مندی کے ساتھ  مطالعہ مکمل کرے تو ۔۔ حا صل مطالعہ   نتیجہ خیز  یقینا ثابت ہوگا ۔

زندگی

جنت تو ایک ترغیب ہے ۔ حقیقی  نظریاتی مقصد مخلوق  کے لیے آگہیئ  خالق ہے ۔

شہیر شجاع

Monday, January 4, 2016

پردیس

پردیس

شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردیس ایک  لفط ہے یا ایک اصطلاح ۔  آج ایک  دوست کی والدہ کے انتقال کی خبر سن کر میں ان کی تعزیت کے لیے گیا ۔ کچھ دیر بیٹھا ۔ دو چار باتیں کی ۔۔ پھر اجازت لے لی ۔ واپس آتے ہوئے راستے میں  ، میں سوچنے لگا ۔ کہ پردیس کیا ہے ؟  دماغ نے غورو فکر شروع کی  ، ایک لفظ سامنے آیا " موجد "  جسکا مصدر ایجاد ہے ۔ اس لفظ کو سنتے ہی  کیا خیال آتا ہے ؟ یہی کہ بنانے والا ، ایجاد کرنے والا ۔
مزید غور کیا ۔ ایجاد کی حقیقت کیا ہے ؟
جواب ملا ۔ "وجد " سے نکلا ہے جو کہ عربی لفظ ہے ۔ اور اس کے معنی ہیں پانا ۔ حاصل کرنا ۔ یعنی کے ۔ " موجد" درحقیقت پانے والے کو کہتے ہیں ۔۔ کیا پانے والا ؟
گراہم بیل " ۔۔ ٹیلیفون پانے والا تھا ؟ نہیں وہ اس حقیقت کو پانے والا تھا یا اس علم کو پانے والا تھا جس کے ذریعے سے اس نے دنیا کو ٹیلیفون سے روشناس کرایا ۔ جی ہاں ۔ یہ عقل ہے جسے اللہ نے انسان کو تفویض کیا ۔ اور اسے اسی لیے  افضل کیا کہ وہ غورو فکر کرے ۔
خیال آیا ۔۔ ایک لفظ " پردیس " پر غور کرنے پر ۔۔ لفظ " ایجاد" ملا ۔۔ مزید غور کرنے پر ۔۔ لفظ " ایجاد " کی حقیقت سامنے آئی ۔۔۔ اور  قرآن  کریم جو اللہ جل شانہ کا کلام ہے ۔۔  اگر اس پر اسی طرح غورو فکر کیا جائے تو ۔۔ آج کا انسان کیا کچھ پالے  ؟
بہر حال بات پردیس سے  نکلی تھی ۔ لفظ پردیس بھی ایسی ہی ایک اصطلاح ہے ۔۔۔ جس کا پس منظر مختلف تہذیب و تمدن میں مختلف ہو سکتا ہے ۔  خصوصا ۔ مشرق وسطی کے ممالک  کے پردیسی ۔ عموما " چھڑے " یا " علامتی رنڈوے (متبادل لفظ مجھے نہیں معلوم )" ہوتے ہیں  ۔ مختلف ممالک سے  روزی کی تلاش میں یکجا ہوتے ہیں ۔  ان کے  مسائل بھی عموما یکساں ہی ہوتے ہیں ۔   ویسے تو انسان دنیا میں کہیں بھی کسی بھی حال میں ہو ۔ مسائل کے بنا زندگی  ممکن نہیں ۔۔
انسان مسائل  و غموں کی کیفیت مین اکثر غورو فکر سے عاری ہوجاتا ہے ۔۔۔ اس کی وجوہات پر مین نہیں جاتا ۔۔   اگر انسان "کرب " کے لمحات میں ۔۔ ذرا ۔۔ اپنے ذہن کو ۔۔ متحرک کرے ۔۔ تو اس کے سامنے ۔۔ اللہ جل شانہ ایسے ایسے در ۔۔ وا ۔۔ کر دیتا ہے ۔۔ کہ انسان خود حیران ہوا جاتا ہے ۔۔۔  اسی طرح پردیس بھی ایک ۔۔۔ انسٹیٹیوشن ہے ۔۔۔۔۔ جہاں انسان کو حقیقی زندگی سے واسطہ پڑتا ہے ۔۔  اگر وہ چاہے تو اپنے دل کو مایوسی  و کم مائیگی کی آماجگاہ بنا لے ۔۔۔ یا  ۔۔ اس موقع سے فائدہ اٹھالے ۔
درد  و الم ۔۔۔۔ کرب و اذیت ۔۔ کے بنا تخلیق کا عمل مکمل نہیں ہوتا ۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...