Saturday, March 12, 2016

مصطفی کمال کی آمد

مصطفی کمال کی آمد 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران خان نے پنجاب میں اپنے پنجے گاڑنے کی سر توڑ کوشش کی ۔۔۔۔ اسٹریٹیجی ان کی " میاں صاحب" کی ذات کو نشانہ بنانا رہی ۔۔۔۔ جس بنا پر وہ ہنجے کیا جماتے ۔۔۔ مزید نفرتوں کو پروان چڑھا گئے ۔۔۔
اور اب اسی اسٹریٹیجی کے ساتھ " مصطفی کمال " صاحب میدان میں آئے ہیں ۔۔۔ دعوی یہ ہے کہ ۔۔۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں کی انکھیں کھولیں گے ۔۔۔
سیاسی اسٹریٹیجی کے بنانے میں سب سے اہم ۔۔۔ سماج کا مطالعہ ہے ۔۔۔۔ جو کہ ہمارے کسی سیاستدان میں نظر نہیں آتا ۔۔۔
اگر اسی طرح ایک " معتقد " سماج میں ۔۔۔ اپنے مخالف کی ذات کو ٹارگٹ کرکے کامیابی کے خواب دیکھنے ہیں تو ۔۔۔ انہیں پہلے سے پیشتر واپس چلے جانا چاہیے ۔۔۔۔ کیونکہ اس طرح سے تفریق در تفریق تو جنم لے سکتی ہے ۔۔۔۔ مگر تعمیر نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔
مزید یہ کہ ۔۔۔۔ وسیم آٖتاب صاحب نے جو پریس کانفرنس کی ۔۔۔ اگر وہی اس نئی جماعت کا بیانیہ ہو جائے تو ۔۔۔ پاکستان کو بہترین راہنما میسر آسکتے ہیں خصوصا ۔۔۔ اردو بولنےوالوں کو ۔۔ 

تربیت اولاد اور ہم




تربیت اولاد اور ہم

شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تربیت اولاد  ہماری  ذمہ داریوں میں نہایت ہی خاص اہمیت کا حامل ہے ۔۔۔۔  میری نظر جب اپنے اطراف میں پڑتی ہے تو مجھے  نظر آتا ہے کہ ۔۔۔۔ آج کے والدین کی سوچ ، معیار سوچ  و مقصد تربیت یکسر بدل چکا ہے ۔۔۔ ویسے تو ہمارا تہذیبی زوال  کئی سو سال پہلے شروع ہو چکا تھا ۔۔ مگر آسمانی تہذیب اتنی جلدی نہیں ختم ہوسکتی ۔۔۔ اور جس دن یہ ختم ہوئی اس دن دنیا سے انسان کا وجود بھی مٹ جائے گا یعنی قیامت برپا ہوجائے گی ۔۔  
اس فانی زندگی میں ہمارا اس قدر گم ہوجانے کی واضح دلیل یہ ہے کہ ۔۔ ہم پر سختیاں پڑتے ہی زبان پر شکوے آجاتے ہیں ۔۔۔ اور اپنے آپ کو کم بخت و  بد نصیب کرداننے لگتے ہیں ۔۔۔۔ اگر اس کی معمولی سی تصویر دیکھنی ہو تو ۔۔۔  آج کے شعری ادب کا ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔  جبکہ جو زندگی ہماری ابدی ہوگی ۔۔۔ اس کا  شعور ہمارے ذہنوں میں بیٹھا نہیں بلکہ بٹھایا جا رہا ہے ۔۔ جس میں وہ عناصر بخوبی کامیاب بھی ہیں ۔۔ کہ مذہبی لوگ عذاب سے ڈرا ڈرا کر انسان کو کمزور کرتے ہیں ۔۔۔ جنت کا تصور ہی پیش نہیں کرتے ۔۔۔۔ اس جملے نے اس قدر پذیرائی حاصل کی ہے کہ  اب  عذاب آخرت کا تصور ہمارے ذہنوں سے تقریبا محو ہو کر رہ گیا ہے ۔۔ عربوں کے ہاں ایک جملہ اسی مد میں بقدر سننے کو ملتا ہے کہ ۔۔۔ گر غلطیاں ہوجائیں تو ۔۔ کہہ دیتے ہیں ۔۔ اللہ غفورو رحیم ہے ۔۔ وہ معاف کردے گا ۔۔ سو کرتے جاو ۔۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہم نڈر ہوگئے ہیں ۔۔ اور تصور زندگی ۔۔ حقیقتا معیار زندگی کو بلند کرنا ہی رہ گیا ہے ۔۔۔۔  
ہمارا آج کا معاشرہ اس قدر  متذبذب کیوں ہے ؟  آج کے نوجوان میں وہ بنیادی شعور زندگی کیوں موجود نہیں ہے  جس کی بنیاد ہمارے اجداد ہم میں بچپن سے ڈالتے  آئے ہیں۔۔۔ ہر موڑ پر ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہوتے تھے ۔۔ اور علم کی محبت ہمارے دلوں مین انڈیلتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔ کردار و معیار سوچ کو بلند کرنے  کی  تحریک دیتے تھے ۔۔ اور اس کے طریقے بتاتے تھے ۔۔۔۔ آج  صورت حال یہ کہ بزرگوں سے تو ہم نے مکمل ناطہ توڑ لیا ہے ۔۔ انہیں پرانے زمانے  کی بوسیدہ دیوار کہہ کر ایک طرف دھکیل دیا ہے ۔۔۔  اور ماوں کے دلوں میں یہ بات  سرایت کرتی جارہی ہے کہ ۔۔ ان کی اپنی بھی کوئی زندگی ہے ۔۔۔۔  وہ کیوں قربان کی جائے ۔۔۔  اور باپ   آخر اُس بلندی کو چھونے کی تگ و دو میں اولاد سے  یکسر غافل ہوجاتا ہے ۔۔ اسکول   ٹیوشن آتا جاتا دیکھ کر وہ مطمئن رہتا ہے ۔۔۔ اس بچے کے پاس تو اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ ۔۔ دن کے چند گھنٹے ماں باپ کے ساتھ بیٹھ جائے ۔۔۔ کہ یہ صحبت بھی  بہت اہم ہے ۔۔۔ بزرگ گھر پر ہوں تو اس سے اچھی کیا بات ہو کہ ان کی صحبت تو والدین کی صحبت سے ہزار درجہ بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔۔  ہم بہت سے تعمیری کام ، رویوں  اور اقدام کا ذکر کرتے ہیں ۔۔۔ اگر صرف اس جانب توجہ دے لیں ۔۔ اور اپنے مقاصد طے کرلیں تو ۔۔۔ چند ہی سال گزریں گے ۔۔۔۔۔۔ سماج اور معاشرے میں نمایاں فرق خود ہی محسوس ہونے لگے گا ۔۔۔

Tuesday, March 8, 2016

ہمارا معاشرتی رویہ از مذہبی اختلاف



ہمارا معاشرتی رویہ از مذہبی اختلاف

شہیر شجاع

ڈاکٹر  حسن ترابی انتقال فرما گئے ۔۔۔ اللہ جل شانہ غریق رحمت فرمائے ۔۔  ایک بات اکثر ذہن کو پریشان کرتی ہے کہ ۔۔۔ یہ کفر و ضلال کے فتوے زبان زد عام کیوں ہوجاتے ہیں ؟ ڈاکٹر مرحوم کے علمی و فکری خیالات نظر سے گزرتے تھے ۔۔۔ آج مزید کچھ جاننے کا موقع ملا ۔۔۔۔ وہ بھی ایک عالم تھے مفکر تھے ۔۔ اور مجتہد تھے ۔۔۔۔۔ اک بات سمجھ آگئی ۔۔ جس کی تکرار ہر معتدل علماء کیا کرتے تھے اور ہیں اپنے خطابات میں ۔۔ کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں دوسروں کا مسلک چھیڑو نہیں  ۔۔۔۔ اس وقت اس کے مفہوم کچھ اور سمجھ آیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔ پر مفہوم اب جا کر واضح ہوا ۔۔۔ مسلک سے مراد ۔۔ فرقہ یا جماعت بندی نہیں ۔۔۔ بلکہ ۔۔۔ وہ علمی وضاحت ہے جس پر ہم عمل پیرا ہوتے ہیں ۔۔۔ بعینہ وہی مسئلہ کسی دوسرے عالم کے نزدیک ۔۔۔ کسی اور پیرائے سے واضح ہو سکتا ہے ۔۔ا ور اس کا عمل جدا ۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے جو اجتہاد کیا ۔۔ وہ غلط کیا ۔۔۔ وہ بھی عالم ہے ۔۔ اس کی اپنی فکری صلاحیتیں ہیں ۔۔۔ اب جس کا دل چاہ وہ ان کی پیروی کر لے نہ چاہے تو ترک کردے ۔۔۔۔ چہ جائیکہ ۔۔۔ ان افکار کی بنا پر ۔۔ ان کی ذات کو نشانہ بنانا شروع کردے ۔۔۔ جس کا معاشرہ یا تہذیب روادار نہیں ہو سکتی ۔۔ اور انتشار جنم لیتا ہے ۔۔۔۔ اسلام بہت ہی سہولت کا دین ہے ۔۔۔۔ ہر مجتہد کے اجتہاد کی غلطی پر بھی ایک نیکی کا فرمان ہے ۔۔۔ تو پھر یہ گولہ باری کی فضا کیوں ؟
اتنی آسان سی بات ہے ۔۔۔۔ اپنا مسلک چھیڑو نہیں ، دوسروں کا چھیڑو نہیں ۔۔ یعنی میں جس علمی تعبیر پر عمل پیرا ہوں ۔۔ وہ جاری رکھوں ۔۔ دوسرے کے پاس کوئی اور تعبیر ہے تو ۔۔ وہ اپنا عمل کرتا رہے ۔۔۔ اس کے عمل سے مجھے کیا سروکار ؟ ہماری توجہ تو اخلاقی ذمہ داریوں کی طرف ہونی چاہئیں ۔۔۔

Sunday, January 31, 2016

کل اور آج


کل اور آج 

شہیر شجاع 

ڈھائی سو سال پہلے مغلوں کے آخری دور میں جو عوام  کی حالت اور خواص کے تصرفات تھے ۔۔۔ اس پر شاہ صاحب رحمہ اللہ نے یہ الفاظ کہے ۔۔۔۔ جو سو فیصد آج کے عوام و خاص پر بھی مکمل اترتے ہیں ۔۔۔
" اے امیرو ! دیکھو کیا تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا ۔ تم دنیا کی لذتوں میں ڈوبے جا رہے ہو ۔ جن لوگوں ( کسانوں ، دستکاروں وغیرہ ) کی نگرانی تمہارے سپرد ہوئی ہے ان کو تم نے چھوڑ دیا ہے ۔ تم شرابیں پیتے ہو ، جسے تم کمزور پاتے ہو اسے ہڑپ کر جاتے ہو ، جسے طاقتور دیکھتے ہو اسے کچھ نہیں کہتے ۔ تمہاری ساری ذہنی قوتیں لذیذ کھانوں ، نرم و گداز جسم والی عورتوں ، اچھے کپڑوں اور اونچے مکانوں میں صرف ہوتی ہیں ۔"

سرکاری حکام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔۔
" ان کے گھروں میں ہر قسم کی دولت جمع ہوگئی ہے اور عوام بدحال ہیں ۔ "
جاگیر داروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔۔۔۔
" ان لوگوں کی آمدنیاں بے انتہا ہیں ۔ دل میں آتا ہے تو مالیانہ(ٹیکس) دیتے ہیں اورنہ اپنی تجوریاں بھرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اپنی دولت و اقتدار کے بل بوتے پر حکومت سے ٹکر لیتے ہوئے بھی نہیں گھبراتے۔"

یعنی کہ ہم آج بھی تین سو سال پیچھے جی رہے ہیں ۔۔ اور لبرل ازم ۔ سیکولر ازم ۔۔ رجعت پسندی وغیرہ ہمارے موضوعات ۔۔ کتنے بے محل لگتے ہیں ۔۔۔ ہم میں اتنا شعور اور اتنی ہمت نہیں کہ ہم مقتدر حلقوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں ۔۔ اس کے بعد ہی کسی نظام کو لاگو کرنے پر بحث کی جا سکتی ہے ۔۔۔ کتنے سرابوں میں ہم نے اپنی زندگیوں کو ڈال رکھا ہے ۔۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...