Thursday, May 11, 2017

ہاں اپ سب کچھ بتاو !! (ایک تحریر پر تبصرہ )





ہاں اپ سب کچھ بتاو !! (ضیغم قدیر تحریر پر تبصرہ )
شہیر شجاع
ہاں آپ سب کچھ بتاو !!! مگر ہر بات کی ایک منطق بھی ہوتی ہے ۔ غالب گمان ہے لطفظ منطق کے حقیقی مفہوم سے آشنا ہونگے ۔ جب بات کولر میں لگے گلاس کی ہوتی ہے اسے اس لیے باندھا جاتا ہے کیونکہ یہان بد تہذیبی ہے اس میں بے ایمانی نہیں شامل ۔ چور کا کوئی ایمان نہیں ہوتا ۔ اس کی تربیت غلط ہوتی ہے ۔ اور کوئی کولر کا گلاس چوری نہیں کرتا۔ بلکہ پانی پی کر اسے  واپس اپنی جگہ پہ نہیں رکھتا ۔  آپ کولر لگانے والے کو تھر کے باسیوں کا سوگ سناتے ہو ۔ کیا پتہ اس نے تھر کے لیے کتنی امداد پہلے ہی بھیج رکھی ہو ؟ اللہ کا گھر محفوظ نہ ہونے کی ذمہ داری  عام شہری کی نہیں پر اخلاقی فرض ضرور ہے ۔ اور یہ دو مختلف باتیں ہیں ۔ ذمہ داری  پر سوال اٹھتا ہے اخلاقی ذمہ داری پر جوابدہی نہیں ہوتی (کیونکہ استطاعت کا ہونا نہ ہونا نا معلوم ہے )۔   اور جو لوگ مسجدیں بنواتے ہیں وہ زکوۃ و عشر ، صدقات و فطر ۔ خیرات  و عطیات بھی دیتے ہیں ۔  پڑوسی بھوکا سوتا ہے یہ محض ایک کہاوت ہے یا ایسے موقعوں پر کہا جانے والا محاورہ ۔ کیونکہ ہم نے اعتراض کرنا ہوتا ہے ۔ اس کے لیے ایسے اعتراض موزوں ترین ہوتے ہیں ۔  مسجد جائے عبادت ہے اس کے حفاظت و دیکھ بھال کی  جس کی استطاعت ہے وہ ذمہ داری اٹھاتا ہے ۔  اور عموما وہ ذمہ دار اکثر مسجد کی گلی کے رہنے والے بھی نہیں ہوتے ۔  اسی طرح  انسانیت کی خدمت کے مختلف ذرائع ہیں ۔  جو حتی الامکان اپنی مدد آپ کے تحت پورے ہورہے ہیں اور وہ بھی پاکستان ہی ہیں ۔
روشنی  کی کرن جھانکنا ایک اچھی سوچ ہے اس کے جواب میں جو تحریر سامنے آئی اس میں ہر جواب میں بد ظنی کا اظہار ہے جو کہ کم از کم  روشنی کی کرن جھانکنے پر اعتراض کہا جاسکتا ہے یا اس سے آنکھیں چرانا ۔  اگر ہم دونوں تحاریر پر طائرانہ نگاہ ڈالیں تو دونوں ایک دوسرے سے متضاد ہیں ۔ پہلی تحریر مکمل طور پر معاشرتی  اصلاح اور سماجی رویوں پر مشتمل ہے ۔ جبکہ جواب میں سماج   اور ریاستی اداروں کا باہمی مقابلہ کیا گیا ہے جو کہ کسی بھی طرح  اس پہلی تحریر کا جواب نہیں ہو سکتا ۔ بیشک ہمارا معاشرہ  تہذیب و اخلاق کے پیمانوں سے ماورا ہوتا جارہا ہے ۔ جہاں قندیل بلوچ(مرحومہ اللہ جل شانہ مغفرت فرمائیں ) جیسوں کو ہیرو بنا کر پیش کیے جانے کی  سوچ جنم لیتی ہے تو دوسری جانب نہایت ہی سخت الفاظ میں اس سوچ پر اظہار رائے کیا جاتا ہے ۔  ایک سوچ اخلاقی رویوں کے پاسداران کو ابھارنے کا موجب ہوتی ہے تو دوسری  شدت کا بیانیہ بن کر سامنے آتی ہے ۔  سو چہار جانب منفی رویے دیکھنے میں آتے ہیں اور اس کی وجہ منفیت   کی جانب زیادہ توجہ دینا ہے ۔ جبکہ  ہر واقعہ ، عمل ، مشاہدہ وغیرہ منفی و مثبت دونوں  صفات کا حامل ہوتا ہے ۔ اب یہ  تجزیے کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ منفیت کی نفی کرے اور اثبات کو ابھارے ۔  اس جوابیہ تحریر کا بھی جائزہ لیا جائے تو یہ بھی فوری رد عمل کا شاخسانہ معلوم  ہوتی ہے ۔ جس میں ایک مثبت رائے کو قبول نہ کرنے کی ضد محسوس ہوتی ہے ۔ یہی وہ رویہ ہے جس سے سماج کو دور کرنے کے لیے  روشنی کی کرن کی جانب  دیکھنے کی استدعا کی گئی تھی ۔ کہ تلاش وہ کریں جس کی سماج کو ضرورت ہے اور جو معاشرت کے لیے زہر قاتل ہے اس پر تنقید کریں ۔ یہ بھی ایک فن ہے جو لکھنے والے کے ذریعے قاری کی ذہن سازی کرتا ہے کہ وہ  ایک ہی وقت میں دونوں چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہے ایک کے لیے اس کے دل میں نفی کے جذبات جنم لیں اور دوسرے کو اپنانے کے۔ لکھنا ہی کمال نہیں پڑھنے کا بھی ایک سلیقہ ہے ۔ اور پڑھتے وقت ذہن خالی رکھنا ہر رد عمل سے عاری رکھنا اشد ضروری  ۔ یوں ہو تو بصیرت نہیں پیدا ہوجاتی ؟
 محض تنقید ، تنقید ، تنقید آگے جا کر تنقیص کی صورت میں نمودار ہوتی ہے ۔ اور اسی روش نے نظریات کے تصادم کو شدت پسندانہ رویہ فراہم کیا ہے ۔ درپیش مسئلے پر  سب سے پہلے غور کیا جانا ضروری ہے ۔ اس کے بعد اس مسئلے کے عناصر کا تجزیہ اپنی فہم و ادراک کی کسوٹی پر پرکھنا ، تب جا کر کسی نتیجہ خیزی کی جانب پہنچا جا سکتا ہے ۔ بصورت دیگر ایک خوبصورت ، صحت مند تحریر پر بھی کچھ یوں مدافعانہ ردعمل سامنے آتا ہے ۔ کہ قاری بھی غش کھا کر گر پڑے ۔ عصر حاضر میں تو  ہم پاکستانی اتنے بد اعتماد ہو چکے ہیں ہمیں کوئی کیا سبز باغ دکھائے ؟ کوئی سبز باغ پر سچ بھی بول رہا ہو تو ہم کہاں یقین کرتے ہیں ؟  خامیوں کو سامنے لانا اور چیز ہے ۔ مثبت رویے 
کی استدعا اور چیز  ۔ ان دونوں کو خلط ملط نہیں ہونا چاہیے ۔ والسلام


( جس پر تبصرہ کیا گیا ضیغم قدیر کی تحریر 
https://daleel.pk/2017/05/11/42765

محسن حدید کی تحریر 
https://daleel.pk/2017/03/28/36537-- 
صاحب یوں تو کام نہیں چلے گا
شہیر شجاع
انتالیس ممالک کی فوج کا سربراہ پاکستان سے چنا گیا
جس پر چالیسویں ملک کو اعتراض ہے  
 کیا ہی اچھا ہوتا وہ چالیسواں ملک بھی اس مجموعے میں شامل ہوتا ؟ اور پھر اعتراض ہم پر ہی کہ انتالیس ملکوں کی سربراہی تمہاری جانب سے کیوں ؟ اور ہم اتنے بے کس ، انتالیس کا مجموعہ بھی ہمیں معذرت خواہانہ رویہ رکھنے پر مجبور ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ  چالیسواں ملک ہمیں ایک زبردست قسم کی دھمکی بھی رسید کر دیتا ہے ۔ اور ہم چوزوں کی طرح چوں چوں کرنے لگتے ہیں ۔
بھارت کے معاملے میں رویہ معذرت خواہانہ ۔۔
افغانستان کے معاملے میں معذرت خواہانہ ۔۔
 آخر ہماری پالیسی ہے کیا ؟
"آپ کہہ دیں کہ سول حکومت کے پاس پوٹینشل ہے کہ وہ ایک آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دے ۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کے آگے مجبور ہے ۔" معذرت !! یہ دلیل قابل قبول نہیں ہے ۔
کیونکہ !!
ہم نے خارجہ امور پر کبھی پارلیمنٹ میں بحث ہوتے نہیں دیکھا ۔ کبھی پارلیمینٹیرینز کی جانب سے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی جانب اقدام نہیں دیکھے ۔ جب پارلیمان ایسے مقدمات پر بحث کرے اور کوئی مضبوط لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کرے گی ۔ پھر اسٹیبلشمنٹ کے پاس اختیارات محدود ہوجائیں گے ۔ مگر جب تک دارومدار ایک خاندان اور فرد واحد کے گرد گھومے گا ۔ یہ بے چینی ہمیشہ قائم رہے گی ۔ منطقی نتائج بہرحال کبھی حاصل نہیں ہوسکتے ۔
ایک رائے اس منتخب حکومت کے انداز حکمرانی کو دیکھتے ہوئے  یہ بھی ابھر کر آئی ہے کہ ۔۔   حساس خارجہ امور کو عوام کی آگاہی سے مکمل بلیک آوٹ رکھا جائے ۔ اور تمام ناکامی کی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ کے سر تھوپ دی جائے ۔ اس طرح خصوصا ن لیگ کو پسند کرنے والوں کے ذہن میں راسخ کردہ سوچ کہ " اسٹیبلشمنٹ کام کرنے نہیں دیتی " مزید مضبوط ہو ، اور حکمرانوں کے سر سے ذمہ داری کا بوجھ بھی اتر جائے ۔
سرمایہ دار بالاضافہ خاندان کی بالادستی بالغرض جمہوریت جب تک قائم ہے  ، مثبت نتائج کی تمنا چہ معنی دارد ؟
۔۔۔۔ صاحب یوں تو کام نہیں چلے گا

Sunday, April 30, 2017

سیاتدان ، فوج اور ہم

ہم نے جب سے آنکھ کھولی ہے سیاست کو ایک گالی کے طور پر پایا ہے ۔کسی بھی نوجوان کا کسی تنظیم سے تعلق اس بات
کی نشاندہی ہوتا تھا کہ "یہ بگڑ گیا ہے یا بگڑا ہوا ہے " ۔۔ تنظیم کا لفظ ہی معیوب سمجھا جاتا تھا ۔۔ چہ جائیکہ مختلف سماجی
تنظیمیں بھی کام کرتی تھیں ۔ وہ بھی اس وجہ سے پس جاتی تھیں ۔ 
جبکہ ہر بچہ فوجی بننے کا خواب دیکھا کرتا تھا ۔ آرمی میں افسر بننا یا پائلٹ بننا یا نیوی میں جانا ۔ یہ سب سے پہلی ترجیح ہوا کرتی
تھی ۔۔ یہ ایک عام ماحول ہوا کرتا تھا ۔ اس کی وجوہات پر میں نہیں جاتا ۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ترجیحات بدلتی گئیں ۔  پروپیگنڈے  کا دور شروع ہوا جس نے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے خوب جلا پائی ۔ تعلیمی نظام برباد ہوا ۔ اور ہر والدین
کی زبان میں انجینئر یا ڈاکٹر کا رٹا شروع ہوگیا ۔
یہ تین ایسے نکات ہیں جس پر غور و فکر کم ہی کیا جاتا ہے بلکہ کیا ہی نہیں جاتا ۔
میں اگر جائزہ لوں اپنی شعوری عمر کا ۔۔۔
سیاست آج بھی ویسی ہی ہے جیسی تھی ۔ والدین کبھی اپنی اولاد کو تنظیمی کام کرنے کا مشورہ  کبھی نہیں دیں گے ۔۔
تعلیمی نظام روز بروز روبہ زوال۔۔۔
فوج وہ واحد ادارہ ہے جس نے اپنی ساکھ برقرار رکھی ہے ۔
باتیں بہت ساری کی جا سکتی ہیں ۔ مگر آج کے تناظر میں جو دو شدید آراء نظر آرہی ہیں وہ نہایت مایوس کن ہیں ۔ کیا آپکو لگتا ہے  کہ  اللہ کا نظام کسی بھی طرح   کسی عیب کے ساتھ ہوسکتا ہے  ؟ نہیں جناب سیاستدانوں نے سیاست کو گالی بنائی تو ایک ادارے کی ساکھ کو اللہ نے بہتر رکھی ۔ تاکہ معاملات کچھ نہ کچھ معتدل رہیں ۔اپنے اختیارات سے تجاوز سب کرتے ہیں
مگر فوج مخالف جس فضا کی جانب آپ جانے لگے ہیں وہ نہایت ہی نقصاندہ ہے ۔ اس ادارے کو کم از کم ادارے کی حدتک رہنے دیں ۔ یہ سپریم کمانڈر کا کام ہے وہ اپنے اس ماتحت ادارے کو کیسے کنٹرول کرتا ہے ۔ ہمارا کام سیاستدانوں کوکنٹرول کرنا ہے کیونکہ ہم انہیں اپنے ووٹ سے منتخب کر کے لاتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ اپنے مفادات کی  تکمیل پر جت
جاتے ہیں ۔ سیاست کا ادارہ "امانت دار " ہوجائے ۔ فوج بھی ادارے کی حیثیت سے اس کے ماتحت کھڑی ہوگی اس
کے سامنے نہیں ۔
سربراہ کو نمونہ بن کر دکھانا ہوتا ہے ۔ تب ہی اس کے ماتحت اس کو سپریم کمانڈر کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں ۔ اس
کی مثال ہم اپنے ایک گھر سے بھی لے سکتے ہیں ۔ جس کا سربراہ عموما والد ہوتا ہے ۔ اور یہی اصول ہے ۔  

Monday, April 24, 2017

ایک المیہ

 ایک المیہ 

شہیر

ہمارے نزدیک آج بھی نوکریوں کے طبقات ہیں ۔ کوئی نوکری  اعلی ہے تو کوئی ادنی ۔
ہنرمند آدمی وائٹ کالر "نوکر" کے سامنے ذلیل و حقیر ہے ۔   معاشرے میں پھیلے روزگار کے مواقع سے ہم یوں بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے کہ ہمارے ذہنوں میں انجینئر ، ڈاکٹر ، اکاونٹنٹ و دیگر اس قسم کی چاکری کو ہی راسخ کیا جاتا ہے کہ یہی معاشرے کے عزت دار پیشے ہیں جیسے باقی پیشے  حقیر ہوں ۔ یہی وجہ ہے آج تعلیم بھی تجارت کی حیثیت اختیار کرگئی ہے ۔ ڈگری ایک ایسا ٹول ہے جو آپ کو معاشرے میں " عزت  دار"پیشے اختیار کرنے میں مدد دیتی ہے ۔ ورنہ آپ کو
ذلیل و خوار ہونا پڑے گا ۔ اتنی بنیادی ضرورت کو بھی جب ہم نے  عز ت وذلت ، تحقیر و توقیر کے پیمانے پر تول رکھا
ہے، تو زندگی کے باقی معاملات تو معمولی چیزیں ہیں ۔

حقیقت علم سے کھلتی ہے ، خبر سے نہیں۔

حقیقت علم سے کھلتی ہے  ، خبر سے نہیں۔
شہیر شجاع 

جب تک کوئی بھی سوچ راسخ نہ ہو ۔ سچ جھوٹ واضح نہ ہو ، خواہ اپنی ہی منطق کے مطابق ہی کیوں نہ ہو ؟ خواہ دلیل کی کسوٹی پر اعلی مقام پر ہی کیوں نہ فائز ہو مگر بزعم خود ۔کوئی بھی تجزیہ مکمل نہیں ہوسکتا ۔ ذہن پراگندہ حال ہی رہے گا ۔ اور ایسے تجزیے ، تحاریر و تقاریر اپنے سامعین و قارئین کے اذہان بھی پراگندہ ہی کریں گی ۔
حقیقت علم سے کھلتی ہے  ، خبر سے نہیں۔

Monday, April 10, 2017

ہدایت کی دعا

ہدایت کی دعا 
شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔
اس کا کیا قصور تھا ؟ چہرے پر سنت رسول سجائے ، پانچ وقت رب کے دربار میں حاضری دینا ؟ چھٹیوں میں سر پر عمامہ باندھے امیر صاحب کی راہنمائی میں تبلیغ میں وقت لگانا ۔ کسی مدرسے کا بھی طالبعلم نہیں تھا ۔ اس نے تو ابھی کالج میں قدم ہی رکھا تھا ۔ نہ جانے کتنے خواب اس نے اور اس کے والدین نے سجا رکھے تھے ۔ آج وہ چالیس دن اللہ کی راہ میں لگا کر واپس گھر پہنچاتھا ۔ ماں نے کتنی چاہ سے اس کے پسندیدہ کھانے بنائے تھے ۔ باپ اسے دیکھ دیکھ کر عین و قلب روشن کر رہا تھا کہ ۔۔۔ چند وردی پوش آئے اور آنا فانا اسے اٹھا لے گئے ۔ چار آنکھیں پتھرا کر رہ گئیں ۔ در در کی خاک چھانی گئی ۔ مگر سب بے سود ۔ پورے تین ماہ بعد اس کہانی کا انجام اس دردناک و دلدوز خبر کے ساتھ انجام کو پہنچا کہ پولیس مقابلے میں چند دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ۔ جس میں ان کا لعل بھی تھا ۔ کسی نے اس باپ کے کان میں اس بچے کے قاتلوں کے لیے بدعائیں کی ۔ جس کا وہ اکلوتا بیٹا تھا ۔ اس نے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا اور کہا ۔ بیٹا اللہ کی امانت تھا اللہ نے واپس لے لیا ۔ بد دعاوں سے میرا بیٹا واپس نہیں آئے گا ۔ بس ان لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا کرو ۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...