Saturday, August 13, 2016

جشن آزادی مبارک

جشن آزادی مبارک 
شہیر شجاع

رات کے دوسرے پہر ٹیبل پر کہنی جمائے ، ٹھوڑی کو مٹھی میں سمائے ، قلم کو انگلیوں میں پھنسائے ، آنکھوں کو کاغذ میں جمائے ۔۔۔کمر کرسی میں پھنسائے ، آنکھوں میں سپنا سجائے ، ذہن کو جشن آزادی کے لفظوں میں بسائے ، یوں ہی تو نہ بیٹھا تھا ؟ 
ارادہ تو تھا کہ جشن آزادی پر جذبات کو چند لفظوں میں پروئے ۔۔۔۔ صفحہ قرطاس کی زینت بناوں گا ۔۔۔۔ مگر اب الفاظ چڑیوں کی مانند میرے آگے یہاں وہاں پھر رہے تھے ۔۔۔۔ ان کی چہچہاہٹ کانوں کے ذریعے دماغ میں ایک شور بپا کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔ دل کی دھڑکنیں ۔۔۔۔ بےربط ہوچلی تھیں ۔۔۔ میری انگلیاں قلم کو میرے ہی گالوں میں چبھونے لگیں ۔۔۔ سامنے کھلی کھڑکی سے چاند کی کرنیں ۔۔۔ سرخ محسوس ہونے لگی تھیں ۔۔۔۔ ان کرنوں کا لاوا جیسے میرے کاغذ کو جلا رہا تھا ۔۔۔ اور اس کے شعلے میرے سینے کو بھسم کردینا چاہتے تھے ۔۔۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ آواز بن کر کانوں کو ستانے لگی ۔۔۔۔ جیسے مجھ سے شکوہ کر رہی ہوں ۔۔۔ مگر میں اس آواز کو چڑیوں کا شور ثابت رکھنے پر مائل تھا ۔۔۔ میں وہ شکوہ قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا ۔۔۔۔ آوازیں مزید تیز ہونے لگیں ۔۔۔ چڑیوں کا ساتھ دینے ، طوطا مینا بھی آگئے ہوں جیسے ۔۔۔ میرا دماغ پھٹنے لگا تھا ۔۔۔۔ میرا سینہ آگ کی تپش سے بھسم ہوجانا چاہتا تھا ۔۔۔۔ 
کہیں دور سے آواز آئی ۔۔۔۔۔ میں تو آزاد ہی پیدا ہوا تھا ۔۔۔۔ میری سانسیں آزاد تھیں ۔۔۔ میرا سونا میرا جاگنا آزاد تھا ۔۔۔۔ پھر یہ جشن کس لئے ؟ 
شور مزید گہرا ہونے لگا ۔۔۔ 
میں نے سر جھٹک دیا ۔۔ میں مزید سننا چاہتا تھا ۔۔۔ 
آواز تک رسائی ہوئی ۔۔۔۔ !
تو آزاد پیدا ہوا ۔۔۔۔ پھر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ۔۔۔۔ کسی زنجیر کا نام مغل ٹہرا ۔۔ کہیں انگریز ۔۔۔ 
شور نے ایک مرتبہ پھر میری یکسوئی غافل کرردی ۔۔۔۔۔ شاید یہ کوئی دوسرا مخاطب تھا ۔۔۔ اور میں ان دونوں کی گفتگو کو سننا چاہتا تھا ۔۔ کیا واقعی ؟ 
ہاں اس انگریز سے میرے اجداد نے آزادی حاصل کی ۔۔۔۔ اس کی قیمت کا مجھے ہمیشہ پڑھایا گیا ہے ۔۔۔۔ 
دوسری آواز آئی ۔۔۔۔ لیکن تیرا دل و دماغ اس قیمت کو بھول چکا ہے ۔۔۔ ورنہ تیرا سینہ پھٹ جائے ۔۔۔ آنکھوں سے لہو بہنے لگے ۔۔۔ دماغ کی رگوں میں آگ دوڑنے لگے ۔۔۔ سانسیں تندور بن جائیں ۔۔۔۔ 
 ۔۔۔۔ شور تھم چکا تھا ۔۔۔ پر میں اب بھی گم صم ۔۔۔ تھا ۔۔۔۔ 
پھر پہلی آواز آئی ۔۔۔۔ میں تعلیم یافتہ ہوں ۔۔۔ میں نے تہذیب بنائی ۔۔۔ تمدن اختیار کیا ۔۔۔۔ 
ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔۔۔ میرے کان سن سے ہوگئے ۔۔۔ میں نے قلم کو کاغذ میں چبھودیا ۔۔۔۔ 
مختلف آوازوں کا شور یکبارگی اٹھا ۔۔۔۔۔ الفاظ قابل سماعت تھے ۔۔
میرا چچا ڈی ایس پی ہے ۔۔۔ 
دوسری آواز آئی ۔۔۔ میرا ماموں سیکریٹری ہے ۔۔
تیسری آواز آئی ۔۔۔ میرے ابا سیاستدان ہیں ۔۔۔ پھر بہت سی آوازوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔۔ ہم آزاد ہیں ۔۔۔ ہم مامون و محفوظ ہیں ۔۔۔۔ تم کیوں شکوہ کرتے ہو ۔۔؟  ۔۔۔۔ 
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی ۔۔۔
پھر کراہنے کی آواز ۔۔۔۔ سسکیوں کی آواز ۔۔۔ تھکن سے چور پیاس کی شدت سے بلبلاہٹ ۔۔۔ غم و اندوہ میں لپٹی تلملاہٹ ۔۔۔۔ خون میں لت پت اجسام میں مکھیوں کی بھنبھناہٹ ۔۔۔۔ 
میرے قلم کا زور کاغذ پر بڑھتا گیا ۔۔۔۔ بڑھتا گیا ۔۔۔ ایک ہاتھ سے میں نے اپنے کان بند کرلیے ۔۔۔ میں ان آوازوں سے تنگ آچکا تھا ۔۔۔۔ مجھے اپنے چہرے پر نازک سی نرم تپش محسوس ہوئی ۔۔۔ قلم کا زور مانند پڑنے لگا ۔۔۔ میں نے کھڑکی کی جانب نگاہ کی ۔۔۔۔ رات بیت چکی تھی ۔۔۔ صبح کے سورج کی پہلی کرنیں ۔۔۔ مسکرا رہی تھیں ۔۔۔۔ میرا قلم چلنے لگا ۔۔۔ چہرہ مسکرانے لگا ۔۔۔۔ جشن آزادی مبارک ۔۔۔۔ صفحہ قرطاس میں ۔۔۔ کھلکھلانے لگا ۔۔۔ اور میں ان کرنوں کا استقبال کرنے لگا ۔۔۔ 

Thursday, August 11, 2016

سلسلہ غورو فکر

سلسلہ غورو فکر 
شہیر شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے فکری سطح پر فرد کے تصور سماج کو پراگندہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ آج ہم اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں سماج ہر اس برائی کو قبول کرنے پر آمادہ ہے جس کے ذریعے سے اس کی روز مرہ زندگی معمول پر چلتی رہے ۔ خواہ اس کے عوض کوئی بھی قیمت چکانی پڑے ۔
آج ہماری تعمیری طبقات کی حیثیت کیا ہے ؟
اہل علم کے مخاطب خواص ہیں ۔
اہل ادب ،کے مخاطب خواص ہیں ، یا اپنے ہی ہمعصر جہاں وہ اپنے اپنے نظریات پر بحث کرسکیں ۔
اہل صحافت کے مخاطب عوام ہیں پر موضوع جنگ و جدل پر مبنی ہے ۔ یعنی عوام کے اذہان میدان جنگ ہیں یا جنگی سازو سامان ۔ ان کے حقیقی مخاطب حکومت یا بین الاقوانی سیاست ہے ۔ مقصد حصول محض اجارہ داری ۔
اہل سیاست و اہل صحافت دونوں ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے ۔ عام آدمی کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں ۔ اور عام آدمی کی زندگی ویسے ہی وسائل کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہے ، اسے مذید فکری پراگندگی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے ۔
تعمیر کہاں ہے ؟ آج کے نوجوان کی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کو کس نے کشید کرنا ہے ؟
سماج کی تشکیل انتہائی غیر مہذب سطح کو چھو رہی ہے ۔۔۔۔ جہاں نئی نسل کے پاس سوچنے ، غور و فکر کرنے کےلیے کوئی اوزار نہیں ۔ عسرت کے ساتھ چند جماعتیں وہ پڑھتا ہے ۔ اس کے بعد پراگندہ ذہن کے ساتھ وسائل و مسائل کی جنگ سے نبرد آزما ہوجاتا ہے ۔ کیا یہ صورتحال اہل فکر کو پریشان نہیں کرتی ؟ یا شاید اہل فکر بھی اپنی ذات تک محدود ہوچکے ہیں اس  کیپیٹل از م نے ہر انسان کا تصور زندگی وسائل کا تصرف تخلیق کرلیا ہے ۔ رہی سہی کسر الیکٹرانک میڈیا اور اہل سیاست نے پوری کردی ۔ دونوں عناصر نے جذبات کو مخاطب بنایا ۔ اور اذہان کو غورو فکر سے دور کردیا ۔ جذبات کا سیل رواں ہے جو بہتا جا رہا ہے ۔ کہیں انٹرٹینمنٹ کے نام پر ۔۔۔ کہیں لیڈر کے نام پر ۔  ہر دو مقام پر عام آدمی نے فرشتے تخلیق کر لیے ہیں ۔ جہاں اسے چند لمحے آسودہ حال ہونے کو مل جاتے ہیں ۔ اور وہ ان کی پوجا میں مصروف ۔ 

Tuesday, August 9, 2016

غیر ذمہ دار حاکم اور اندھی رعایا



غیر ذمہ دار حاکم اور اندھی رعایا 

شہیر شجاع

دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائے گا ۔
دہشت گرد کہیں بچ کر نہیں جا سکتے ۔
دہشتگردوں کا انجام عبرتناک ہوگا۔
دہشتگردوں کو پوری طاقت سے کچل دیا جائے گا ۔
ان کا ملک کے کونے کونے تک پیچھا کیا جائے گا ۔

ایسے سینکڑوں بیانات ہمارے اخبارات میں بھرے پڑے ہیں ۔ ذرا غور کیجیے ۔ ایک بھی ذمہ دارانہ بیان ہے ؟ کسی ایک ذمہ دار نے ذمہ داری اٹھائی ہو ؟ کہ اس ملک کی رعایا کی جان مال کا تحفظ اس کی ذمہ داری ہے ۔ خواہ مرکزی حکومت ہو ، صوبائی ہو یا فوج ہو ۔
مذمتی بیانات
الزام تراشی
سیاسی پوائنٹ اسکورنگ
وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ وہ تمام کام ان ذمہ دار عناصر کر رہے ہیں جو ان کے کام ہیں ہی نہیں ۔ انہیں ہم نے اپنی جان مال  عزت نفس کے تحفظ کے لیے اپنا حاکم بنایا ۔ یہاں تک کہ ان کے برے افعال کی پردہ داری بھی ہماری عزت نفس قرار پائی ۔ ان پر نکتہ چینی کرتی زبان ہماری دشمن قرار پائی ۔
جبکہ دوسری طرف انہوں نے ہمارا امن تباہ کردیا
ہماری جان محفوظ نہیں ۔۔ ہمارے مال کی کوئی ضمانت نہیں ۔۔۔
ان کے محلات کھڑے ہورہے ہیں ۔۔ ہماری مٹی گھروندے بھی ٹوٹ رہے ہیں۔
ان کی آل اولاد ترقی کر رہی ہے ۔۔
ہماری اولاد سڑک پر بیروزگار پھر رہی ہے ۔
ان کی آل اولاد باہر ملکوں میں ہمارا مال جمع کر کے اپنی نسلوں کا تحفظ کر رہی ہے ۔۔
ہماری اولاد باہر ملکوں میں ذلالت بھری زندگی گزار رہی ہے ۔ جن کے پاس کوئی جائے پناہ نہیں ۔ جن کا کوئی پرسان حال نہیں ۔
ہم نے ووٹ دے کر انہیں ذمہ دار بنایا ۔۔

یا ۔۔

انہیں اپنا آقا بنایا۔۔۔؟؟

ذرا سوچیں ۔۔

کل کی خون کی ہولی ۔۔ میں ۔۔ میرا اور آپ کا خون بہا ہے ۔۔۔۔۔
ذمہ داران ۔۔۔ کا تو پسینہ بھی نہیں بہا ۔۔۔ وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ ۔۔۔ غیر ذمہ دارانہ بیانات داغ کر ۔۔۔ بری الذمہ ہوگئے ۔۔۔

حاکم وقت ۔۔۔ ہمارے محبوب نہیں ۔۔ تلوار کی نوک پر ہوتے ہیں ۔۔۔ تب ہی جا کر اپنے  حقوق کا تحفظ ہوتا ہے ۔۔
کون جمہوریت کا مخالف ہے ؟ مخالفت غیر ذمہ داری کی ہے ۔۔
مخالفت ہٹ دھرمی پر ہے ۔
مخالفت سینہ زوری کی ہے ۔
مخالفت حَکم کی بادشاہت کی ہے ۔
۔ جس پر ایک دنیا شاد ہے ۔۔۔
وہ نہ میرے ہیں نہ تمہارے ہیں ۔۔۔
وہ ہمارے حاکم ہیں ۔۔۔ ہمارے آقا نہیں ہیں ۔۔

دل خون خون کیوں نہ ہو ؟ ۔۔۔

Tuesday, July 26, 2016

بندوبست

بندوبست

شہیرشجاع

آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ، جو اس کے گالوں کو چھو کر اس میں توانائی کا احساس جگارہی تھیں ۔ وہ یک ٹک آسمان کے بادلوں کو دیکھے جا رہا تھا ۔ منڈلاتی چیلوں  کو گھورتا ۔ ان کے پھیلے پروں پہ اٹکے وجود کو اڑتا دیکھ کر اس کا دل مچل سا جاتا اور چہرے پر ایک مسکراہٹ طاری ہوجاتی ۔ کبھی کوئی چیل ایک دوسرے کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرنے لگتیں تو اس کے پیلے پیلے دانت جھلکنے لگتے ۔ ناک سکڑ سی جاتی اور معصوم آنکھوں میں تارے جھلملالنے لگتے ۔
کچھ شور کی آواز سے اس کی نظریں اپنے دائیں جانب اتریں ۔ چند زرق برق لباس اور بیوٹی پارلر کے حسن میں ڈھلی  آنٹیوں کو دیکھ کر وہ ذرا ٹھٹکا ان میں ایک تقریر کر رہی تھیں ، باقی ان کا ساتھ دے رہی تھیں ، اسے کیا سمجھ آنی تھیں وہ اس جھنڈ میں اپنی بوسیدہ سے کپڑوں میں ملبوس فاقہ کش ماں کا ڈھانچہ تلاش کرنے لگا ۔ کامیابی نہ ملنے پر اس کا چہرہ ذرا ڈھل سا گیا ۔ اس کی آنکھوں کے تارے مزید گہرے سے ہوگئے ۔ اتنے میں اسے ایک ٹھکوکر لگی ۔ خوبصورت جوتوں میں ملبوس پیر اس کی گود میں تھا ۔ اور ایک وقت کے کھانے کا کچھ بندوبست ہونے لگا تھا ۔

Friday, July 1, 2016

میڈیا کا کردار اور معاشرت



میڈیا کا کردار اور معاشرت

شہیر شجاع

ہمارا میڈیا پاکستان کی سیاست سے لیکر معاشرت کو دکھانے میں اس قدر تنگ دست ہے کہ اس نے عوامی شعور میں ایک پرچھائی سی بچھا دی ہے ۔۔۔ جیسے پاکستان میں سوائے کرپشن، فرقہ واریت ، عورت کی حق تلفی ، مذہب کی غنڈہ گردی ، سیاسی جماعتوں کی دہشت گردی وغیرہ کے سوا کچھ اچھا نہیں ۔۔۔ یعنی نتیجتا ۔۔۔ دماغ اس سوچ پر اپنا اختتام کرے کہ پاکستان کا بننا ہی غلط تھا ۔۔۔۔ میں اکثر فیس بک میں بھی ایسے دانشور یا نیم دانشوروں کی تحریریں پڑھتا ہوں تو افسوس اس بات کا نہیں ہوتا کہ وہ یہ کیا لکھ رہے ہیں ۔۔۔ بلکہ دو اسباب مجھے نظر آتے ہیں ۔۔۔ ایک یہ کہ یا تو وہ پاکستان کی بنیادی ضرورت اور اس کے آئین سے اختلاف رکھتے ہیں ۔۔۔ دوسرا یہ کہ وہ زر خرید لکھاری ہیں ۔۔۔۔
پاکستان کا آئین وہ آئین ہے جس پر عمل ہوجائے تو دنیا اس نظام کے نافذ کرنے پر اصرار کرے ۔۔۔ چونکہ اس نظام کے پس پردہ اسلام کا نام آنے کا مکمل جواز موجود ہے تو دنیا کیوں چاہے گی کہ مفتوحین کا پیش کردہ نظام وہ قبول کریں ۔۔کیونکہ فاتح میں ہمیشہ ایک غرور ہوتا ہے چھوٹی سی بات اے بھئ اس کی انا کو چوٹ پہنچتی ہے پھر یہ تو مکمل نظام ہے جس کے بل بوتے پر وہ سپر پاور کہلانے کا استحقاق حاصل کیے ہوئے ہیں ۔۔۔ خیر
پاکستان کی حکومت ، میڈیا ، ادارے کمزور ہوسکتے ہیں مگر معاشرت کے پرزے ابھی مضبوط ہیں ۔۔۔ یہ وہ آزاد فضا ہے جہاں ہم اس فاقہ کشی میں بھی سکون محسوس کرتے ہیں ۔۔۔ کوئی سڑک پہ بیمار ہوجائے تو کی مدد کو دوڑنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔۔ شادی بیاہ میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں ۔۔۔ غرض میرے دیس کی فضا میں نفرت کا وہ تعفن ابھی اس قدر جڑیں نہیں پکڑ پایا جس قدر میڈیا یا بیمار سوچ کے حامل افراد دکھانے کے کوشش کرتے ہیں ۔۔۔ الحمدللہ ہم آزاد ہیں اور ہم سب اس سرزمین کی آبیاری کے ذمہ دار ہیں ۔۔۔۔ نفرتیں اور تنگ دلی پھیلانے کے بجائے لکھاری ک مرتبہ امکانات جگانا ہو تو کیا ہی بات ہو ۔۔۔ خواب دکھانا اور طریق کی یاد دھانی بھی اہم مرتبہ ہے ۔۔۔ الحمدللہ ہم مایوس نہیں ہیں ۔۔۔۔ حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں تو اپنی بقا کے لیے لیکن ان سے پھر بھی ہم مایوس نہیں کیونکہ وہ بھی پاکستانی ہیں ۔۔۔ شاید مثبت تنقید و احتجاجی رستے ہموار کردے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہیر

کراچی اور موت



کراچی اور موت 

شیر

ابھی حال ہی میں ایک عزیز دوست سے بات ہو رہی تھی ۔۔۔ بڑے دکھی تھے ۔۔۔ جدہ میں رہتے ہیں ۔۔ کہہ رہے تھے کراچی سے ایک دوست ان سے ویزے کی درخواست کر رہے تھے ۔۔ حالانکہ صاحب حیثیت تھے ۔۔۔ سبب دریافت کرنے پر انہوں اتنا ہی کہا کہ حالات ٹھیک نہیں ۔۔۔ اب پاکستان میں ہر شخص حالات ٹھیک نہیں کی وجہ سے ہی باہر نکل جانا چاہتا ہے ۔۔۔ سو کراچی والے صاحب کی بات کو وہ عام سمجھے اور بہت زیادہ تشویش نہیں سمجھا ۔۔۔ یہاں تک کہ کچھ عرصے بعد ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کی زوجہ محترمہ نے فون اٹھایا ۔۔۔ صاحب کی بابت دریافت کرنے پر ان کی آواز رندھ گئی ۔۔ کہنے لگیں ان کو ایم کیو ایم کی جانب سے کچھ عرصے سے بھتے کی دھمکیاں مل رہی تھیں ۔۔۔ اب حالات ایسے نہ تھے کہ بھتہ دیا جا سکتا ۔۔۔ تاخیر پر قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں ۔۔پچھلے ہفتے انہیں سر پر گولی مار دی گئی ۔۔۔۔ مقدمہ وہی نامعلوم افراد ۔۔۔ اب تو جیسے ہم سڑک پر ہی آگئے ہیں ۔۔ دوست کا رنگ فق ۔۔۔۔ تسلی دلاسہ دے کر فون رکھا ۔۔۔ اور ان کے بیٹے کے لیے ویزے کا بندوبست کیا ۔۔ اللہ جزائے خیر دے ۔۔۔ ابھی اس واقعے کو سنے زخم مندمل نہیں ہوئے تھے کہ کراچی کی زمین ایک "معلوم" شخص کو نگل گئی ۔۔۔ جس پر بھی سیاست ۔۔۔۔ بلکہ " عصبی سیاست" شروع ہوگئی ۔۔۔۔۔
میرا وطن پاکستان اور پھر کراچی میرا گلشن ۔۔۔ کیا ہمارے ضمیر نے ہماری عقل نے یہ سارا منافقانہ کلچر اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے ؟
کیا اسی طرح ۔۔۔ لیڈر و ملا کی اقتداء محض جذبات کی بنیاد پر ہم نے جاری رکھنی ہے ؟
امام غزالی نے ایک حدیث نقل کی ہے ۔۔۔۔ میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں کہ اگر وہ درست ہو تو سب درست ہوجائیں اگر وہ بگڑے ہوں تو سب بگڑ جائے ۔۔۔۔۔ ایک امراء و حکام دوسرا فقہاء ۔۔۔۔ ہم تو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، یہ دونوں بگڑے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ اس کی مزید تشریح کروں تو بگڑے ہؤون کے پاس اختیارات ہیں ۔۔۔۔ کیا نہیں ؟
شاید کہ مدہوشی سے ہم انگڑائی لیں ۔۔۔۔ اور کتنا لہو ہم ان امراء و فقہاء کی قلبی تسکین کے خراج میں ادا کریں گے ؟

حیا


حیا تہذیب کا بنیادی جز ہے 

شہیر 

اگر انسانی فطرت بدلی جا سکتی تو ۔۔۔۔ ممانعات من اللہ بھی جدا ہوتے ۔۔۔ وہ رب ذوالجلال ۔۔۔ انسان کا خالق ہے اور اپنی مخلوق کی فطرت بھی اسی کی جانب سے ہے ۔۔۔ وہ خالق کائنات ہی مکمل علم رکھتا ہے ۔۔۔ اسی لیے انسان کے لیے بہت سی ممانعات جنہیں ترک فعل کے زمرے میں رکھا جائے گا ۔۔۔ انسانی سہولت کے کیے رکھی گئی ہیں ۔۔۔۔ ان ممانعات کو بیجا کہنے کے لیے فطرت کو بدل دینے کا تقاضا غیر عقلی ہے ۔۔۔۔ اور یہی بات ۔۔۔ اوریا مقبول صاحب کا بنیادی نکتہ ہے ۔۔
#‏اوریامقبول_جان

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...