Sunday, August 1, 2021

سرمایہ دار اور حضرت انسان

 سرمایہ دار اور حضرت انسان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلمانوں کے زوال کے بعد جتنے بھی نظام آئے وہ ناکام ہوئے مگر سرمایہ دار کامیاب ہی نہیں کامیاب ترین ثابت ہوا ۔ اس کا سبب جو مجھے نظر آتا ہے اس نے انسان کا بخوبی مطالعہ کیا اور اس کی “ جبلتوں “ کو نشانہ بنایا ۔ اور اپنی “ مصنوعات” کی طلب پیدا کرتا رہا ۔ اس دوران جو سب سے بڑی رکاوٹ اسے پیش آئی وہ انسانوں کے عقائد تھے ۔ اور اس کو کمزور کرنا نہایت ضروری تھا اسے گاہک بڑھانے تھے اسی طرح ہی پیداوار میں اضافے کا فائدہ ہوسکتا تھا ۔ اس نے اس کے لیے میڈیا کو استعمال کیا اور انسان کے جلد باز جبلت کو نشانہ بنایا ۔ اور اس طرح وہ انسانوں کو اس کی انسانی حیثیت سے گرا کر جانوروں کی جبلت کی سطح پر لے آیا جہاں وہ آزاد رہنا چاہتا ہے ۔ اپنی خواہشات کا اسیر ۔ اپنی ذات میں گم ۔ اسے اس بات کا ادراک ہوچلا ہے کہ وہ مکمل حیاتیاتی مادہ ہے اور وہ جو سوچتا ہے وہی حقیقت ہے ۔ وہ اپنی ذات سے باہر نکل کر سوچنے سے عاری ہوچکا ہے ۔ اس کی زندگی اپنی خواہشات کی تکمیل میں اس قدر مصروف ہوگئی ہے کہ وہ اس حصار سے نکل کر سوچنے سے ہی عاری ہوچکا ہے ۔ ایسے میں جب اس کے سامنے مذہب کا نام لیا جاتا ہے تو وہ ناک بھنویں چڑھاتا ہے کیونکہ مذہب تو “ بندگی” کا نام ہے ۔ جس میں خواہشات کے بجائے فطرت کی بات ہوتی ہے ۔ جس میں “ وقتی “ فائدے سے قطع نظر “ دائمی فائدے “ کا عندیہ ہے ۔ اور یہ باتیں اس کی جلد باز طبیعت کو ناشاد کرتی ہیں۔ یوں سرمایہ دار آج اتنی بڑی طاقت بن چکا ہے کہ اربوں انسان ویسا سوچنے لگے ہیں جیسا وہ چاہتا ہے ۔

نام کے سابقے لاحقے

 نام کے سابقے لاحقے

المیہ ایک یہ بھی ہے کہ ہم لوگوں کو ان کی ڈگریوں سے پہچانتے ہیں لیکن ان کے افعال و کردار کو ان کی ڈگری سے منسوب صرف اس صورت کرتے ہیں جب ڈگری “ مولانا ، مفتی “ وغیرہ کی ہو ۔ بصورت دیگر محض برائی دکھتی ہے ۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ محض ڈگری لے لینے سے کوئی “ عالم “ نہیں ہوجاتا ۔ مثلا ایم بی بی ایس کا ڈگری یافتہ بھی تب عالم کہلاتا ہے جب وہ ایک طویل پریکٹس کے مرحلے سے گزرتا ہے ۔ اسی طرح مختلف ڈگریوں پہ یہ قانون لاگو کیا جا سکتا ہے ٹھیک اسی طرح درس نظامی یا افتاء کی ڈگری لے لینا اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ “ عالم “ بھی ہے ۔ یہ تو تب اس پر لاگو ہوگا جب وہ عملی دنیا میں ثابت کر کے دکھائے گا ۔ چونکہ ہمارا معاشرہ “ ڈاکٹر صاحب ، مولانا صاحب ، مفتی صاحب ، حاجی صاحب ، چوہدری صاحب وغیرہ وغیرہ “ کہنا اور کہلانا پسند کرتا ہے تو نام کے ساتھ ڈگریاں جوڑنا بھی رواج ہوچکا ہے ۔ اس رواج نے ہمیں مزید اس سبب سے بھی نقصان پہنچایا کہ ہم نہایت ہی سطحی فکر کے ساتھ مستقل نظریات تعمیر کرلینے میں طاق واقع ہوئے ہیں سو نام کا سابقہ ہی شخصیت کو عزت دینے کے لیے کافی ہے ۔ ہمیں شخصیت سے کیا غرض ؟ تو بھائی ذرا فکر کو گہرائی دینے کی ضرورت ہے ۔ غلط کو غلط کہہ دینا کافی ہوتا ہے اس کے لیے نام کے سابقے لاحقے معنی نہیں رکھتے ۔ جب غلط کو غلط کہنے کا رواج ہوگا تب یہ لاحقے والوں کو بھی پرواہ ہوگی کہ وہ کس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کا نقصان کیا ہوسکتا ہے ۔

عورت کا مسئلہ

 آپ نے نکاح کو مشکل بنا رکھا ہے ۔ جلدی شادی کو عیب سمجھتے ہیں ۔ کثیر الازدواج آپ کے لیے روح فرسا ہے ۔ اور پھر معاشرے میں روا مرد و عورت کے مسائل کا حل مادر پدر آزادی میں تلاش کرتے ہیں ۔ نور اور عینی کی مثال لاتے ہیں ۔ لیکن ان دونوں پہ غور نہیں کرتے ۔ صرف درندگی نظر آرہی ہوتی ہے ۔ درندہ تو درندگی سے باز نہیں آئے گا ۔ ایسے میں غور کرنا ہوتا ہے کہاں کیا غلط ہو رہا ہے ؟

عینی ایک بیوی ہے اور اس کے پاس شرعی اختیار ہے کہ وہ علیحدہ ہوجائے ۔ مگر آپ کے معاشرے میں مطلقہ ہونا جیسے اچھوت ہونا ہے ۔ کیونکہ یہ “ہزاروں سالہ تہذیبی زمین “ ہے ۔ یہاں صاحب استطاعت مردوں کو ایک شادی کی آزادی ہے خواہ وہ باہر زنا کرتا ہھرے ۔ مگر دوسری تیسری شادی کی اجازت نئیں ہے ۔ عورت کی طلاق ہوجائے یا وہ بیوہ ہوجائے تو اب اس کے لیے ساری زندگی گھٹ گھٹ کر جینا آپ ہی نے لکھ دیا ہے ۔ کیونکہ مردوں کو اسے اپنانے کی آپ کی جانب سے اجازت نہیں ۔
ہاں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی اپنی “ مرضی “ سے تعلقات استوار کرلے اور توڑ لے ، پھر اور کسی سے جوڑ لے ۔ یعنی اسے اس بات کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ سو مردوں کے بستر کی زینت بنے پھر بھی کوئی پسند نہ آئے تو اکیلی رہے ۔ یہاں عورت کے لیے کیا مثبت ہے ؟ پھر اس کی توجیہہ کے لیے عورت کے ساتھ پیش آئے درندگی کے واقعات کو سامنے لاتے ہیں ۔ ان کا آپس میں کیا تال میل ہے ؟ دلیل لائیں تو کم از کم منطقی لائیں ۔ عورت کو سوچنا ہوگا وہ “ شوپیس “ نہیں ہے ۔ اس کی زندگی نکاح میں ہے اور اگر شوہر پسند نہیں تو بے جھجھک علیحدہ ہوجائے نہ کہ ظلم سہتی رہے ۔ یہ مسائل چلتے رہیں گے ، دانش گاہیں آباد رہیں گی ان دانشوروں سے جن کے قلم مفادات کے تابع ہوتے ہیں ۔

سسٹم

 جس ذہن کو سسٹم یا نظام زر کے خلاف متحرک ہونا تھا اس کے سامنے “ سسٹم “ نے “ مذہبی فکر” کا عفریت کھڑا کردیا اور وہ اس لکیر کو پیٹنے میں مصروف ہے ۔ کیونکہ اگر سسٹم کے خلاف کوئی اٹھ سکتا یا اٹھتا ہے تو وہ یہی مذہبی ذہن ہی ہے ۔ قطع نظر اس کے کہ مذہب کا استعمال بھی “سسٹم” کی بقا کے لیے ہوتا ہے اور بہت ہوتا ہے ۔

Monday, June 21, 2021

مدارس کیون ضروری ہیں

 سوال ہوتا ہے کیا معاشرے کو مدرسے کی ضرورت ہے ؟ 

اگر ایک سطر میں جواب دیا جائے تو یقینا ہے ۔


 پاکستان میں دو نظام تعلیم ہیں ۔ مذہبی و عصری کے دو مختلف ناموں سے یہ چل رہے ہیں۔ درحقیقت یہ مذہبی و عصری کے نام ہی غلط ہیں ۔ یہ دراصل دونوں ہی تعلیمی اداروں کی مختلف شاخیں ہیں ۔ جیسے انجینئرنگ یونیورسٹی علیحدہ ہوتی ہے اسی طرح کامرس کالج ، میڈیکل کالج ، آرٹس کالج وغیرہ کی تقسیم ہے اسی طرح علوم اسلامیہ کے لیے بھی کالج درکار ہے جو مدارس کی شکل میں موجود ہیں ۔ 

اب یہ حکومت کی زیرسرپرستی کیوں نہیں ہیں ؟ اس کا جواب کیا مشکل ہے ؟ 


گورنمنٹ اسکولوں میں بھینسیں بندھی ہوتی ہیں اور اگر کوئی اسکول چل بھی رہا ہو تو وہاں سے فارغ التحصیل کے لیے معاشرے میں کوئی معاشی کشش موجود نہیں ہے اور  نجی تعلیمی ادارے “ برینڈز” بن چکے ہیں ۔ جن کی فرنچائز بک رہی ہیں ۔ جتنا بڑا برینڈ اتنا زیادہ “ مال “ ۔ 

عام آدمی کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں یا تو وہ اپنے بچے کو ان نجی اداروں میں داخل کرے جو گلی محلوں میں آٹھ دس کمروں میں کارخانوں کی طرح کھلے ہوئے ہیں ۔ ایک پریکٹس ہے کہ ہاں میرا بچہ اسکول کا جارہا ہے ۔ اور جو اس قابل بھی نہیں ہوتے کہ وہ کوئی فیس ہی ادا کرسکیں ؟ تو وہ بچہ گلیوں میں پلتا ہے یا کسی ورکشاپ ، ہوٹل وغیرہ میں پایا جاتا ہے یا پھر اسے مدرسہ پناہ دیتا ہے ۔ معاشرے میں آج بھی شرح خواندگی پچاس فیصد سے کچھ اوپر ہے ۔ اور بیروزگاری بھی شایداتنی ہی ہے ۔ 

آپ کے پاس نہ ہی تعلیمی نظام ہے اور نہ معاشرے میں شرح خواندگی بڑھانے کی کوئی سعی ۔ اور نہ ہی اس نظام تعلیم سے فارغ التحصیل افراد کی زندگی کا تجزیہ کہ کتنے فیصد سند یافتہ روزگار حاصل کر پائے اور کن روزگار سے منسلک رہے اور کتنے بیروزگار رہے اور انہوں نے کیا ذریعہ معاش اپنایا وغیرہ وغیرہ ۔

ایسے میں جامعات علوم اسلامی کی ضرورت کی شدت بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ زیادہ نازک اور حساس معاملہ ہے جو غیر ذمہ دار افراد کے ہاتھوں میں جانا زیادہ نقصان دہ ہوگا ۔ 

اچھائی برائی پر تنقید اس کے وجود کو اپنا کر کیا جائے تو یقینا مثبت نتائج بھی نکلیں گے ورنہ معاشرے میں موجود تمام معاملوں کی طرح یہ بھی تعصب کا شکار رہ کر ارتقائی شکل اختیار نہیں کر پائے گا ۔ 


شہیر

Sunday, May 30, 2021

خود ساختہ عقلیت پسندوں کی علمی دھوکہ دہی

 

کہیں پڑھا تھا "معاشرے میں فلسفہ تب جنم لیتا ہے جب وہ تہذیب   اپنے علمی نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہو ، اور اس کے بعد زوال شروع ہوتا ہے " ۔ شاید غزالی ہماری تہذیب کے نقطہ عروج کی نشانی ہیں  اور آج جب ہم علم کی پست ترین سطح پر جی رہے ہیں ایسے میں فلسفہ شناسی کے دعویدار ، عقلیت پسندی کے علمبردار وں کی اہلیت نتیجے میں الحاد سے ہی عیاں ہوجاتی ہے ۔ جو ذہن مذہب جیسے مرتب و منظم نظام علم کو سمجھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہو اس کے فلسفے کی اہلیت کیا ہوگی ؟

یہ پیراگراف دیکھیں

"مذہب جو بذات خود تضادات کا مجموعہ ہے ، وہ فلسفے اور منطق کے بارے میں بات کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ، کیونکہ اس کے لیے اسے فلسفیانہ اور منطقی ہونا پڑے گا ۔ فلسفے کی تاریخ میں فلسفیانہ اور منطقی دلائل کے استعمال سے کسی فلسفے کا رد ایک عمومی رویہ ہے ، کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ۔ غزالی کی بہرحال ناکامی یہ ہے کہ وہ چند تضادات کو عیاں ہی کرسکا لیکن ان کی تحلیل نہ کر پایا ، جیسے فختے نے کانٹین  طریقہ کار کا استعمال کر کے کانٹ کے فلسفے میں موجود تضادات کی تحلیل کی تھی ۔ " (ایک  کانٹ کا مرید یا جدید عقلیت پسند )

 

ذرا غور کریں  حضرت نے پہلے مذہب پہ   دوحکم لگائے ۔ نمبر ایک " تضادات کا مجموعہ " ۔ نمبر دو یہ فسلفے اور منطق کے بارے میں بات کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔

یہ جو دوسرا حکم ہے  اس کو قوت بخش بنانے کے لیے جو گرہ انہوں نے استعمال کی وہ ان کی مخالفت میں جا رہی ہے " کیونکہ اس کے لیے اسے فلسفیانہ اور منطقی ہونا پڑے گا "۔ گویا یہ اپنے پہلے حکم کی دلیل کے طور پر پیش فرما رہے ہیں کہ مذہب  چونکہ ہے ہی تضادات کا مجموعہ لہذا جب مذہبی آدمی فلسفے و منطق پہ نقد کرے گا تو  اسے مذہب سے نکل کر فلسفے و منطق کے میدان میں قدم رکھنا ہوگا ۔ 

خود ہی مدعی ، خود ہی منصف

کیسے کرلیتے ہیں یہ لوگ ، جو اپنے آپ کو عقلیت پسند کہتے ہوں اور اتنی دیدہ دلیری سے  علمی دھوکہ دہی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں ۔ دراصل مندرجہ بالا اقتباس حضرت کے ایک مکمل مضون سے لیا گیا ہے جہاں وہ غزالی کے اس نقطے کو بنیاد بنا کر بحث فرما رہے ہیں جہاں غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں " ان لوگون سے انہی کی زبان میں مناظرہ کریں " ۔ اس جملے کو بنیاد بنا کر انہوں نے یہ مکمل تعبیر باندھی ہے ۔

غزالی کے اس جملے کے معنی بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں ۔ کہ ہر علم کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں ۔ چونکہ ملحدین  نے جو فلسفہ و منطق کے اصول وضع کیے ہیں وہ  ایک طرح سے ان کے لیے مذہب کا ہی درجہ اختیار کرچکا ہے ۔ ان کے نزدیک منطق وہی ہے جو وہ کہیں ۔ خواہ اپ سو دلائل پیش کردیں انہوں نے تسلیم نہیں کرنے ۔ اس طرح  مذہبی اصطلاحات کی توہین ہی ہونی ہے کہ آپ کسی " میں نہ مانوں" کو سمجھانے کی کوشش کریں ۔  کیونکہ وہ "اہل " ہی نہیں ہے کہ اعلی علوم  اور اس کے اصول و ضوابط کو تسلیم کرسکے ۔ اس کی عقل ابھی اس درجے تک پہنچی نہیں مگر وہ "زعم " میں مبتلا ہوچکا ہے ۔ لہذا کوشش کی جائے کہ اسی کے میدان کو استعمال کرتے ہوئے اس کا زعم توڑنے کی کوشش ہو ۔

اس کا مطلب اگر عقلیت پسند یہ نکالیں کہ مذہب میں اہلیت ہی نہیں تو  "عقل والوں "کے سامنے اس خود ساختہ عقلیت پسندی  کی قلعی کھل جانی چاہیے ۔

Sunday, May 9, 2021

ہیولا

 

ہیولا

شہیر شجاع

سخت دھوپ کی تمازت سے اس کا بدن بھیگ چکا تھا ۔ وسیع النظر پھیلا صحرا جہاں دور دور تک سائے کی امید بھی نہیں تھی اورریت کی تپش سے اس کے پاوں شل ہورہے تھے ۔ اس نے آسمان کی جانب دیکھا لیکن اس کی آنکھیں سورج کی روشنی سے چندھیاگئیں اور اس کا ہاتھ غیر ارادی طور پر اپنی آنکھوں کے سامنے چھجا بنائے اٹھ گیا ۔ کچھ دیر تو اندھیرا سا چھایا رہا ۔ اس کینظروں کے سامنے کھلا آسمان تھا جو نیلگوں سمندر جیسا محسوس ہوتا تھا جہاں دور نظر دوڑائی جائے تو بھاپ اڑتی محسوس ہوتیہے ۔ سورج کی شعاعیں اس کا بدن جھلسا رہی تھیں وہ زیادہ دیر آسمان کی جانب نگاہ نہ رکھ سکا ۔

اس کے ذہن میں ایک گونج لہرائی “ غور کرو “ ۔ 

وہ کچھ دیر کے لیے ساکت ہوگیا ۔ مگر فورا ہی عیاری کے ساتھ اس کو جھٹک دیا ۔ اس نے سوچا میرا یہ سفر اور کس لیے ہے ؟ 

اس کا سفر مگر بنا کسی تدبیر کے تھا ۔ اس کو زعم تھا کہ شعور کے گوشے متحرک ہیں ۔ وہ دیکھ رہے ہیں ، تجزیہ کر رہے ہیں ، فکرمند ہیں ، اور نتیجہ خیزی تو وہ حاصل کر ہی لے گا ۔

وہ کچھ دور اور چلا ایسے میں اسے اپنے بائیں جانب مگر بہت دور ایک ہیولا سا نظر آیا ۔ 

اس کو تجسس ہوا کہ یہ کیا ہے ؟ کہیں میرے جیسا مسافر ہی تو نہیں ؟ 

اس نے اس ہیولے کی جانب اپنا رخ موڑ لیا ۔ وہ جتنا آگے جاتا ، ہیولا اس سے مزید دور ہوتا جاتا ۔ کافی طویل سفر پھر بھی اس نے کرلیا مگر اب آرام کرنا ضروری ہوگیا تھا ۔ اس نے کوشش کی کہ وہ ہیولا اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہوجائے ۔ اتنی مشقت کے بعد اسکے سفر میں کسی انجان منزل کے تعاقب میں کوئی حقیقت نمائی میسر آئی تھی وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا ۔ کچھ ہی دیر میںتھکن سے چور وہ نڈھال جسد نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو صحرا میں چاندنی بکھری ہوئی تھی اورآسمان میں پورا چاند اس کی جانب دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔ 

اس نے یک ٹک چاند پر نظریں جمائی رکھیں ۔ جو کچھ اس کے ذہن کے نگار خانے میں چاند سے متعلق مواد تھا انہیں دہرانے لگا ۔ مگراسے اس مخصوص وقت میں چاند بالکل بھی دلکش نہ لگا ۔ اس نے اپنے بستے سے دفتر نکالا اور قلم ہاتھ میں لیکر چند دکھ بھرےاشعار منضبط کردیے ۔ وہ انہیں بار بار پڑھتا ، نوک پلک سنوارتا ۔ اس کا دل خوشی سے معمور ہوجاتا ۔ 

اس نے حقارت سے چاند کی جانب دیکھا اور وہی اشعار جو اس نے ابھی نذر دفتر کیے تھے انہیں لے میں دہراتارہا ۔ 

اچانک اسے اس ہیولے کا خیال آیا ۔ اس نے چاروں جانب نگاہ دوڑائی مگر چاندنی سے پرے گھپ اندھیرے کے وہ کچھ نہ دیکھ سکا ۔ 

مگر وہ مطمئن تھا کہ اس کا سفر ضرور رنگ لائے گا ۔ وہ اپنی “ انجان منزل “ کو ضرور پالے گا ۔ اس نے اپنے سفری بستے سےچائے بنانے کا سامان نکالا ۔ چائے بنائی اور چسکیاں لینے لگا ۔ اس دوران وہ کافی ہشاش بشاش ہوچکا تھا ۔ کبھی کبھی دور کسیکتے کے بھونکنے کی آواز سے وہ چونک جاتا اور اسے ہیولے کا خیال آجاتا ۔ اسے محسوس ہوتا شاید وہی اس کی طلب تھی جو ابنظروں سے اوجھل پوچکی ہے۔ 

اس نے اپنا سامان باندھا اور پھر ایک نئی امنگ کے ساتھ اس “ ہیولے “ کے راستے کا تعین کر کے اس جانب چل پڑا ۔ 

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...