Saturday, February 17, 2018

تماشہ


تماشہ
شہیر شجاع
مسئلہ یہ نہیں عدالتوں میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔ مسئلہ یہ آج نہیں پیدا ہوا ۔۔ یہ مسئلہ شروع سے ہی ہے ۔۔ جس کی ابتداء نظریہ ضرورت کے تحت ہوئی ۔۔۔۔ 
آج جو میاں صاحب اینڈ فیملی جلے بھنے بیٹھے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آج اس آگ نے ان کے دامن کو جلا ڈالا ہے ۔۔۔۔
افسوس کہ ہم بجائے اس کے کہ ان اقتدار کے بھوکوں سے اپنے حقوق کے مطالبے کرنے کے ہم اس حریص ِ اقتدار کے ساتھ کھڑے عدلیہ کو ہی کمزور کرنے اور عدلیہ پر جو بھی اعتبار ہے اسے ختم کرنے پر تل گئے ہیں ۔۔ پہلے تو ن لیگ نے پوری کوشش کی کہ فوج کے بارے میں عوام میں شدید بدگمانی پیدا ہوجائے ۔۔ جس کو کافی حد تک کم کرنے میں جنرل باجوہ نے اہم کردار ادا کیا ۔۔۔ اب عدلیہ کے ساتھ کون کھڑا ہو ؟ 
عمران خان کے پاس نواز شریف جیسی " سوکالڈ سیاست " نہیں اور نہ وہ ان عوامل کا ادراک رکھتا ہے جو پاکستان جیسے معاشرے میں جنرل ضیاء کے دور سے سیاست میں در آئے جس نے سیاست کے معانی بدل کر رکھ دیے ۔۔۔ 
ان سیاستدانوں نے آج تک پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے ، پارلیمنٹ کو عوام کی بہبود کے لیے استعمال کرنے ، خارجہ و داخلہ امور پر گفتگو کرنے کے لیے کتنا استعمال کیا ؟ سوائے ان امور میں پارلیمنٹ میں یہ سب متحد ہوئے جہاں ان کے اقتدار اور ان کی کرپشن یا ان کے مفادات کو خطرات لاحق ہوئے ۔۔۔ ورنہ آج بلدیاتی نظام اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا جاتا ۔۔ پارلیمنٹ ایک منتظم کی حیثیت سے قوانین بنا رہی ہوتی اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو مضبوط تر کرنے ، انصاف کی فراہمی کو آسان کرنے و دیگر امور پر رات دن ایک کیے ہوتے ۔۔۔
ہمارا کیا ہے ؟ کبھی " آمر " فوجی ہوتا ہے ۔۔ کبھی " سیاستدان " ۔ تو کبھی عدلیہ ۔۔۔۔
ہم تو تماشائی ہیں ۔۔ کبھی اس کے لیے تالیاں پیٹنے والے کبھی اُس کے لیے ۔۔۔
سو لگے رہیں ۔۔۔

حسن ظن

حسن ظن
شہیر شجاع
جب ن لیگ نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم نامزد کیا یہاں تک کہ وہ وزیر اعظم بنا بھی دیا گیا ۔ اس وقت تک ہم جیسے عام لوگ ان کو پی آئی اے کے سربراہ اور اپنی نجی ائر لائن ائر بلو کے مالک کی حیثیت سے ہی جانتے تھے ۔ سوال اٹھانے والے کہتے تھے ان کی اپنی ائر لائن تو منافعے میں جا رہی ہے اور پی آئی اے کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے کرپشن ہی کی ہوگی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ ایک سرسری سا وزیراعظم صاحب کی شخصیت کے بارے میں جو تاثر پیدا ہوا وہ مخفی منفی ہی تھا ۔ چونکہ ان کی شخصیت پر پروپیگنڈا کرنے کے لیےمواد موجود نہ تھا سو بات مزید آگے نہیں بڑھی ۔ پھر چند تصاویر اور آرٹیکلز حضرت کے بارے میں سامنے سے گزرے ۔ جن سے ان کی الگ شخصیت کا نیا تاثر ابھرا ۔ ایک سادہ ، مخلص شخصیت ۔ یہ بات ہم بھی جانتے ہیں سارے سیاستدان برےنہیں ہوتے ۔
المیہ یہ ہے کہ سب سے پہلی شکست سیاستدان کو اس وقت ہوتی ہے جب اس کے گلے میں پارٹی ڈسپلن کا طوق ڈالا جاتا ہے ۔ غائر نظر پارٹی ڈسپلن ایک مثبت شے ہے ۔ مگر اس کی بنیاد عموما پارٹی کا ڈسپلن نہیں ہوتا بلکہ پارٹی کے سربراہ کا حاکمانہ تصور ہوتا ہے ۔ پارٹی ڈسپلن دراصل پارٹی سربراہ کی منشاء کی تحریری شکل ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے مخلص سیاستدان بھی اپنا چند فیصد ہی ادا کرپاتے ہیں ۔
ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف  فی الوقت سیاست کے میدان میں ن لیگ  دراصل نواز شریف کی پارٹی ، پیپلز پارٹی دراصل بھٹو کی پارٹی کے از بعد مین اسٹریم میڈیا میں تیسری جماعت کو حصہ ملا ہے وہ تحریک انصاف عمران خان  کی پارٹی ہے ۔  میرا اب یہ یقین ہے کہ تحریک انصاف  میں کوئی  روایتی سیاست سے ہٹ کر کچھ نہ رہا ۔ اسی وجہ سے پہ درپہ وہ شکست خوردہ ہوئی جاتی ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں اس کی سب سے بڑی وجہ تحریک انصاف کی اعلی قیادت ہے ۔ چونکہ یہ جماعت بھی روایتی سیاست کے رستے پر چل نکلی ہے سو اب ان کی کامیابی کا دارومدار بھی  " دکھاو پر پیسہ بہاو " پر ہی منحصر ہے ۔ چہ جائیکہ اس جماعت کی حکومت میں شامل وزراء اپنے کام میں بقیہ جماعتوں کے وزراء کی نسبت آزاد ہونگے یہ میرا حسن ظن ہے ۔ بہرحال بات کہیں سے کہیں جا نکلی ۔ اس وقت ن لیگ کی جانب سے  نامزد اور پاکستان کے منتخب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی صاحب بھی ان سیاستدانوں میں محسوس ہوتے ہیں جن کے پاس اختیارات ہوں تو وہ پاکستان کی ترقی میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہوں ۔ اپنی بہترین ٹیم کے انتخاب کا ان کے پاس اختیار ہو تو شاید وہ پاکستان کے حق میں ایک اچھے سیاستدان ثابت بھی ہو سکتے ہوں ۔ یہ میرا گمان ہے ۔ اور شاید پاکستان کا ہر باسی کسی بھی شخص میں خدا ترسی دیکھ لے تو وہ فورا موم ہوجاتا ہے اور اس شخص کے لیے احترام کا جذبہ پال لیتا ہے ۔ خواہ وہ لبادہ حقیقی ہو یا نا ہو ۔ مسلم کے  فطری اخلاق یہی ہیں اور یہی دیکھنے میں آیا ہے ۔ افسوس کے ن لیگ کی جانب سے نواز شریف کے لیے تو مکمل میشنری موجود ہے ۔ مگر فی الوقت جس شخص نے  ن لیگ کی حکومت کا بار اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے ۔ اس کے لیے چند الفاظ لکھنے کی توفیق بھی ان میں نہیں۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس طرح شریف فیملی کی قدر میں کمی نہ پیدا ہوجائے ۔ اور ان کی ناراضی مول لینا  ان مفاد پرستوں کے بس کی بات نہیں ۔ میرا یہ بھی احساس ہے کہ شاہد خاقان عباسی جیسے شخص کا وزیر واعظم منتخب ہوجانا  جمہوری دور میں ایک نئے موڑ کا باعث بھی بن سکتا تھا بلکہ ہے ۔ اگر اس وقت ن لیگی جمہوریت کو صحیح معنوں میں زندہ کرنے کی نیت خلوص رکھتے ہوں اور ان کی سیاست کا مقصد حقیقی پاکستان کی فلاح ہو ۔ وہ اس طرح کہ ساری کی ساری کابینہ ، وزراء ، سیاسی کارکن  اپنے وزیر اعظم کے مسلسل کاموں کو پروموٹ کریں ۔ جو یہ ظاہر کرے کہ پارٹی کا ہر کارکن کام کرنے میں آزاد ہے سوائے اس کے کہ وہ منشور سے رو گردانی کرے جو منشور عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے ۔ یا آئین پاکستان کے خلاف اعمال و افعال  سامنے آئیں ۔ اس طرح سے ن لیگ کو ایک خاندان کے چنگل سے بھی نکالا جا سکتا ہے ۔ بیشک یہ آسان نہیں ہے ۔ کیونکہ اس کے بعد اس خطے کی سیاست میں طاقت کا توازن بھی بگڑنے کا مکمل  امکان رہتا ہے ۔ جو قوت اقتدار شریف خاندان کو میسر ہے شاید وہ قوت ن لیگی کسی دوسرے فرد میں منتقل ہونا قبول نہ کریں ۔ اس کے ساتھ ہی  پارٹی کے لیڈر کے لیے جماعت اسلامی کا فارمولہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
مگر اگر مگر یہ سب کیونکر ہو ۔۔۔ شاہد خاقان عباسی ، ۔۔ اور ان جیسے کئی ایسے لوگ ہونگے جو شاہی خانوادوں کے اقتدار کی نذر ہوتے رہیں ۔ اپنی منشاء کے مطابق کہ ۔۔ کسی نے کیا خوب جملہ کہا ہے ۔۔۔
پاکستان میں دو وزیر اعظم ہیں ۔ ایک " نا اہل وزیر اعظم " جو اپنے آپ کو نا اہل نہیں مانتا ۔ دوسرا " اہل وزیر اعظم " جو اپنے آپ کو نا اہل مانتا ہے ۔

Saturday, January 27, 2018

کراچی ، چند سسکتی یادیں اور امید ۔

کراچی ، چند سسکتی یادیں اور امید ۔
شہیر شجاع
کسی نے  ایک جملہ کہا " مکا تو پولائٹ سا لفظ ہوگا آپ کراچی کے  لوگوں کے لیے " یقینا یہ اذراہ مذاق تھا ۔۔۔ لیکن چشم تصور میں ماضی کی بہت سی یادیں تازہ کرگیا ۔  میں نے اس وقت  ہوش سنبھالا جب کراچی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجا کرتا اور یہ عام بات ہوتی گئی ۔ سڑک اچانک سنسان ہوجاتی اور دو گروہوں کے مابین خونخوار مقابلہ شروع ہوجاتا ۔ چند  لاشیں وہاں گرتیں چند یہاں ۔ ہم رات کو سوتے تو اچانک ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سے آنکھ کھل جاتی ۔ پھر گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونجتی اور چند ہی لمحوں میں سناٹا چھا جاتا ۔ اور پھر ہماری آنکھ لگ جاتی ۔ یہ بے حسی کی جانب ابتداء تھی ۔ ہم صبح سو کر اٹھتے اسکول یونیفارم میں باہر نکلتے تو  سڑک پر لاش پڑی ہوتی جس کے ہاتھ بندھے ہوتے اور سینہ چھلنی ہوتا ۔ ہم اس لاش کو یوں دیکھتے جیسے کوئی بلی مری ہو ۔ پولیس  ایمبولینس اور تماشایوں کا ہجوم ہوتا اور ہم اسکول کی راہ لیتے ۔ گولیوں کا چلنا ، لاشوں کا گرنا ، شیعہ سنی ، ایم کیو ایم ، ایم کیو ایم حقیقی ، ہتھوڑا گروپ ، اور نہ جانے کیا کیا ۔ یوں ہمارا بچپن گزرتا گیا ۔ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھنے سے پہلے ہی سینہ پتھر ہوتا گیا ۔ بھتہ خوری عام تھی  ۔ کاروبار شروع کرنا ، گھر بنانا ، آرائش ، شادی بیاہ ، غرض ہلکی سی چمک آپ کی  دہلیز پر دہشت گردوں کو کھڑا کرنے کے لیے کافی تھی ۔ تعلیمی اداروں پر بھی انہی چیزوں کا راج تھا ۔ ہم پانچویں جماعت میں تھے کہ آٹھویں کا لڑکا اور نویں جماعت کے لڑکے کے مابین جھگڑے کی وجہ یہی پارٹیاں تھی ، خون دیکھ کر اسکول کے ان نازک اندام بچوں پر کوئی خوف طاری نہ ہوا ۔ انہی دنوں ایک نوجوان ہمارے پڑوس میں قتل کردیا گیا ۔ کسی کو افسوس نہ ہوا ۔ خون یوں تھا جیسے پانی ۔ آج کراچی میں خون کی بہتی ندیوں کو بھلے قرار آیا ہے ۔ مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر نادرا کی دہلیز تک کراچی کے لوگ آج بھی بے بس ہیں ۔ بھتہ خوری آج بھی اسی ڈگر پر موجود ہے ۔ آپ کاروبار بنا کسی کو بھتہ دیے نہیں چلا سکتے ۔  
کیا کراچی کو کبھی بھی اپنانے والے سیاستدان پیدا نہیں ہونگے ؟
تھانے بھتے جمع کرنے کے ادارے بن چکے ہیں ۔
پولیس بھتہ خور ہے اور بھتہ لینےوالوں کی محافظ ہے ۔
عدل کے اداروں کی صورتحال سے کون ناواقف ہوگا ۔
کیا کراچی پھر کبھی علم و فن ، تہذیب و تمدن کا  چمکتا ستارہ نہیں بن سکے گا ؟
وہ جو " علم " تہذہب " و ثقافت " اس کی شان تھی ۔ کیا وہ پھر حاصل نہ کرسکے گا ؟
   

Tuesday, December 19, 2017

عشق کی رمز

عشق کی رمز

بلال الرشید

 لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اٹھارہویں صدی میں اودھ کی ریاست تشکیل دینے والا نواب سعادت خان تھا، جس نے ایک لاوارث بچے کو گندگی کے ڈھیر سے اٹھا کر امان بخشی۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نواب صفدر جنگ کا تھا، سعادت خان نے جس سے اپنی بیٹی بیاہی اور پھر ریاست سونپ دی۔
واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ ایک مہم سے واپسی پر، ایک ویرانے میں‘ نواب کو نوزائیدہ بچّے کے بلکنے کی آواز آئی۔ مہربان دل کے مالک نواب نے ایک نوزائیدہ انسانی بچّہ دیکھا، جس کا رنگ کوئلے کی طرح کالا تھا۔ ایک جنگلی کتا اسے نوچ رہا تھا۔ نواب کی بروقت مداخلت سے جان تو اس کی بچ گئی لیکن اس وقت تک اس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی تھی۔ اس کا چہرہ لہولہان تھا؛ اگر چہ انتہائی کالے رنگ کی وجہ سے خون نظر نہ آ رہا تھا۔ چہرے کے خدوخال میں خوبصورتی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ حالات و واقعات کے سبب یہ بات ظاہر تھی کہ وہ گناہ کی پیداوار تھا۔ باپ تو اس کا تھا ہی نہیں۔ وہ اس قدر بد نصیب تھا کہ ماں بھی اسے مرنے کے لیے چھوڑ گئی تھی۔ نواب کے حکم پر تڑپتے‘ بلکتے بچّے کو مرہم لگایا گیا۔ ایک دودھ پلانے والی آیا ڈھونڈی گئی۔ اسے اجرت پر دودھ پلانے کا حکم دیا گیا۔ اس عورت کا اپنا بچّہ گورا چٹا اور خوبصورت تھا۔ وہ انتہائی ناگواری سے اس غیر بچّے کو دودھ پلایا کرتی۔ مالی بدحالی نہ ہوتی تو شاید وہ کبھی ایسا نہ کرتی۔
نواب نے اس بچّے کا نام حکیم رکھا۔ گوکہ عام طور پر لوگ اپنی گفتگو میں اسے 'کوئلہ‘ کہا کرتے۔ حکیم کمتری کا استعارہ تھا۔ ایک ایسا شخص، جس کا وجود ایک گناہ کی نشانی تھا، جس کی ماں اسے مرنے کے لیے چھوڑ گئی تھی۔ اسے زندہ رہنے کا حق دیا جا سکتا تھا لیکن اس کی عزت نہیں کی جا سکتی تھی۔ حکیم خاموش طبع لڑکا تھا۔ پیدائشی طور پر جیسے اسے اپنی ذات میں موجود کمتریوں کا ادراک تھا۔ اسے کبھی شوخی کرتے نہ دیکھا گیا۔ پیدائشی طور پر وہ تمیزدار اور تہذیب یافتہ تھا۔ ہر حکم وہ خاموشی سے بجا لاتا۔ یہ خاموشی اور افسردگی اس کی ذات کا ایک حصہ بن گئی تھی۔ خدا ترس اور مہربان نواب نے حکیم کو اپنے محل میں ذاتی خدمات گار کا منصب سونپ رکھا تھا۔ جب وہ جوان ہوا تو اسے برص کا مرض لاحق ہوا۔ کہیں کہیں سے اس کا چہرہ دودھ کی طرح سفید ہو گیا۔ یوں تیز کالے اور سفید رنگ کے امتزاج نے اس کی بدصورتی میں آخری حد تک اضافہ کر دیا۔
مہر النسائ‘ نواب کی بھتیجی تھی۔ اس کے مرحوم بھائی کی بیٹی۔ وہ اس قدر حسین تھی، جتنی کوئی بنتِ حوا ہو سکتی ہے۔ وہ حکیم ہی کی ہم عمر تھی۔ وہ حسین تھی، حسب نسب والی، عقلمند، سلیقہ شعار، پڑھی لکھی۔ جیسے حکیم خامیوں والا تھا، ویسے ہی وہ خوبیوں والی تھی۔
عزت، شہرت، دولت، صحت، اولاد اور دنیا کی ہر نعمت نواب کے پاس موجود تھی ۔ ہاں! البتہ اسے ایک استاد کی تلاش تھی۔ وہ استاد جو انگلی پکڑ کر اسے عشق کے کارزار میں چلنا سکھائے۔ وہ اُس ذاتِ قدیم سے، اس ربِ ذوالجلال والاکرام سے عشق کرنا چاہتا تھا۔کبھی کبھار، اپنے دربار میں جب وہ رموزِ عشق بیان کرتا تو آنسوئوں سے اس کی داڑھی تر ہو جاتی۔ اسے ایسے استاد کی تلاش تھی، جو اس کا دل تڑخا دے۔ اس کا آئینہ چکنا چور کر کے اسے نگاہِ آئینہ ساز میں ممتاز کر دے۔ اسی تلاش میں اس کے بال سفید ہو چلے تھے۔
یہی وہ دن تھے، جب وہ واقعہ پیش آیا۔ ایک شام اچانک نواب نے دیکھا کہ مہر النساء عبادت کے کمرے میں تھی اور چھپ کر حکیم ایک سوراخ سے اندر جھانک رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے نواب کا خون کھول اٹھا لیکن پھر اس نے صبر سے کام لیا۔ اس کا حلم اس کے اشتعال پہ غالب آ گیا۔
نواب نے حکیم کو بلایا۔ وہ چاہتا تو یہ کہہ سکتا تھا کہ تجھے میں نے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھایا اور تو نے یہ کیا گستاخی کی۔ الٹا اس نے حکیم سے سوال کیا: کیا تجھے عشق ہو گیا ہے؟ حکیم خاموش رہا۔ نواب نے کہا: ہاں! تجھے عشق ہو گیا ہے اور اس میں تیرا کوئی قصور نہیں۔ نواب نے کہا: جب محبوب بہت اونچی ذات کا ہو اور عاشق کی ذات بہت کمتر ہو تو پھر عشق کی پہلی رمز یہ ہے کہ اس عشق کو چھپایا جائے ورنہ محبوب کی رسوائی ہوتی ہے۔ سچا عاشق اپنے محبوب کو رسوا نہیں کرتا۔ اس نے کہا: عشق کیا ہے تو اسے نبھانا، میرے بچّے! حکیم خاموش رہا۔
دن، ہفتے، مہینے اور سال گزرتے گئے۔ حکیم نے نواب کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا۔ مہر النساء کی شادی ہوئی اور وہ اپنے سسرال چلی گئی۔ کئی سال بعد اس کا شوہر ایک جنگ میں قتل ہو گیا۔ وہ پھر واپس آ گئی۔ خمیدہ کمر نواب بوڑھا ہو چکا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ مہرالنساء جب عبادت کے کمرے میں جاتی ہے تو اب بھی حکیم چھپ کر اسے دیکھا کرتا ہے۔
یہی وہ دن تھے، جب حکیم کو تپِ دق نے آ لیا۔ بیماری نے اسے چاٹ لیا۔ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا؛ حتیٰ کہ قریب المرگ ہو گیا۔ ایک روز نواب نے دیکھا کہ خاموشی سے بستر پہ پڑا وہ اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ نواب نرم دل انسان تھا، اس روز تو جیسے پگھل ہی گیا۔ اس نے مہر النسا کو بلایا۔ اسے ساری بات بتائی۔ وہ خود ایک نرم دل عورت تھی۔ نواب نے اسے کہا: میری بیٹی! ایک مرتے ہوئے‘ آخری درجے کے بدنصیب انسان کو آخری خوشی ہم دے سکیں توکتنا اچھا ہو۔
قصہ مختصر یہ کہ نواب مہر النساء کو حکیم کے پاس لے گیا اور اسے کہا کہ وہ اظہارِ محبت کر سکتا ہے۔ وہ سکتے کے عالم میں ان دونوں کو دیکھتا رہ گیا۔ پھر زندگی میں پہلی بار نواب نے اسے روتے ہو ئے دیکھا۔ وہ روتا رہا، روتا رہا۔ پھر اس نے یہ کہا: میں مہر النساء سے محبت نہیں کرتا۔ اس نے کہا: میں تو اس سے عشق کرتا ہوں، جسے مہر النساء سجدہ کرتی ہے۔ کچھ دیر کے لیے نواب حواس باختہ ہو گیا۔ حکیم مہرالنساء کو ہمیشہ اس وقت دیکھا کرتا تھا، جب وہ عبادت کے کمرے میں ہوتی۔ حکیم نے کہا: مہر النسا کے ہر سجدے میں، میرا سجدہ شامل ہے۔
نواب نے کہا: اگر تو خدا سے محبت کرتا ہے تو تُو نے اسے ظاہر کیوں نہیں کیا۔ حکیم نے کہا: عشق کی رمز‘ محبوب کی ذات سب سے اونچی، عاشق کی ذات سب سے کمتر۔ نواب نے کہا: وہ تو دنیاوی عشق کی رمز ہے، خدا سے عشق کی نہیں۔ یہ تو نے کیا کیا میرے بیٹے۔ حکیم نے کہا: لوگ یہی کہتے کہ ایک انتہائی کمتر انسان خدا سے عشق کا دعویٰ کر کے عزت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ نواب کو یاد آیا کہ خدا جسے عزیز رکھتا ہے، اسے خوب آزماتا ہے۔ تو درحقیقت حکیم ایک کمتر انسان نہیں تھا بلکہ وہ چنے ہوئے لوگوں میں سے تھا۔ نواب نے حکیم سے پوچھا: وہ کیسا محسوس کر رہا ہے۔ قریب المرگ لڑکے نے جواب دیا: وصل سے پہلے کا وقت ہے۔ دل میں میٹھا میٹھا درد ہو رہا ہے۔
اس روز نواب پر انکشا ف ہوا کہ عشق کی ہر رمز حکیم کو معلوم تھی۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس استاد کو وہ تلاش کر رہا ہے، وہ کوڑے کے ڈھیر سے اٹھایا گیا ایک کالے رنگ کا بچہ ہے۔ جسے وہ کوئلہ سمجھتا رہا، وہ ہیرا تھا۔

Tuesday, October 31, 2017

انسان بیشک دھوکے میں ہے

سوچتا  ہوں اس جہاں میں ہماری زندگی کیا ہے ؟ ہم کتنے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ؟   انسان سمجھتا ہے کہ اس نے کروڑوں کی پراپرٹی بنا لی ، گاڑی ، بنگلہ ، اسٹیٹس ، ہائی فائی لائف اسٹائل ۔  کچھ نہیں تو ان کے حصول کی تگ و دو میں ساری زندگی گزار دیتا ہے ۔ جبکہ درحقیقت وہ اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں جمع کر رہا ہوتا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق ( اللہ کمی بیشی معاف فرمائیں ) جب تک والد حیات ہیں انسان کی ساری کمائی میں ان کا تصرف ہے یعنی وہ جو کچھ کما رہا ہوتا ہے والد کے لیے کمارہا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد اس کے بیوی بچے اس کی زندگی میں آتے ہیں ۔ اس کی تمام تر کمائی میں اب ان کا تصرف ہوتا ہے ۔ مگر وہ تکبر سے ناک پھلائے  گھومتا ہے ،اپنی محنت کی کمائی،  پر دوسروں کے مال پر ۔ یہاں تک کہ وہ دنیا سے کوچ کر جاتا ہے ۔ جب منکر نکیر سے سامنا ہوتا ہے ، تو پتہ چلتا ہے اس نے  درحقیقت اپنے لیے کیا کمایا ؟
یا تو دنیا میں حیات اس کی اولاد خدا کے ذکر سے  اپنی زندگی آباد کرتی ہے ، تو اس کو راحت ملتی ہے ۔ یا وہ کچھ جس کے لیے اس نے ساری زندگی تج دی اس پر لڑ جھگڑ رہی ہوتی ہے ، تب اس کے ساتھ کیا رہ جاتا ہے ؟ 

Saturday, July 29, 2017

پانامہ فیصلہ

ن لیگی غم سے نڈھال ہیں بقیہ خوشی سے نہال ہیں ۔ کیا ن لیگیوں کیلیے یہ بات ہی کافی نہیں کہ ن 
لیگی حکومت نہیں گری ؟ بس ایک کلیدی فرد نا اہل ہوا ہے ۔ اس فیصلے پر  دو رائے ہو سکتی ہیں ۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ ۔۔ ہم منشور کے تابع ہیں یا فرد کے ؟ ایک " محبوب فرد " کے اپنے منصب سے ہٹ جانے پر غم و اندوہ کی یہ کیفیت ذاتی محبت کی بنا پر تو درست ہو سکتی ہے ۔ مگر ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھنا زیادہ بہتر ردعمل ہے ۔ آیا کہ محبوب فرد سے منسوب محبوب جماعت اپنے منشور پر قائم ہے ؟ اور وہ اس پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے کہ نہیں ؟
ہاں اگر ہم اب بھی دربار سے منسلک ہیں اور محبوب بادشاہ کی "نظری موت " کے غم سے نڈھال ہیں ۔ پھر امید رکھنی چاہیے ۔ ہم کبھی جمہوری دور میں داخل نہیں ہوسکتے ۔ جے آئی ٹی کے بننے کے بعد سے میں نے کم از کم اس پورے معاملے میں کسی ردعمل کے اظہار سے گریز کیا ۔ بلکہ معاملات کی درست تفہیم و تعبیر کی کوشش کرتا رہا ۔ کوئی اسے عالمی سازش قرار دیتا رہا ۔ کوئی اسے شفاف احتساب ۔ غرض خودساختہ لیڈروں کی زبان ہمارے منہ میں رہی ۔ اور خوب جگالی ہوتی رہی ۔ نتیجتا ، آج ایک جانب دلوں میں دو مضبوط اور محترم اداروں کے لیے نفرت کا لاوا بھڑک اٹھا ہے ۔ کیا  اب بھی سیاسی ادارے نے اپنی ساکھ کے حصول کے لیے  حسن اخلاص اور حسن نیت کے ساتھ جدوجہد نہیں کرنی چاہیے ؟ پارلیمنٹ کے افراد ہی پارلیمنٹ کو کوئی حیثیت نہیں دیتے ۔ جبکہ یہی وہ ادارہ ہے جو تمام اداروں کا سربراہ ہے ۔ جب سربراہ کے دامن میں چھینٹے ہونگے تو ماتحت کیونکر اس کا احترام کریں گے ؟

Thursday, July 27, 2017

سب ہی تو معجزے کے منتظر ہیں

 سب ہی تو معجزے کے منتظر ہیں  
............................................................شہیر شجاع

مغربی ممالک کی مہیا کی گئی پر آسائش زندگی میں جیتے ہوئے اپنے اس سماج کو قابل گردن زدنی قرار دینا نہایت آسان ہے ۔یہ زمین صدیوں سے غیر منصفانہ روایتوں اور رواجوں کی بنیاد پر سسک رہی ہے ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مغربی دنیا ہر قسم کے اخلاقی و سماجی مسائل سے پاک ہے ۔ جہاں مادر پدر آزاد معاشرہ ہونے کے باوجود زنا بالجبر کی شرح ہم جیسے گھسے پٹے معاشرے سے کہیں زیادہ ہے ۔ سڑ کوں پر اور اپنی گاڑیوں کو اپنا گھر بنانے والوں کی تعداد ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہ ہمارا معاشرہ ہے جہاں ۔۔ایس آئی یوٹی ، شوکت خانم، اخوت اور نہ جانے کتنے ایسے ادارے موجود ہیں ۔ یہ بھی اسی سماج کا حصہ ہیں ۔ ہمارا معاشرہ صدیوں سے جاگیر داروں ، سرداروں ، وڈیروں ، خانوں ، چوہدریوں کی غلامی کر رہا ہے ۔ عام آدمی کے پاس تعلیمی وسائل ہیں نہ تربیتی مراکز اس سماج کو میسر ہیں ۔ اگر کہیں کچھ مثبت ہے بھی تو اس میں بھی کیڑے نکالنے کی روایتیں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ آپ کے پاس ایسا کیا ماڈل ہے جو اس سماج کو تعلیم یافتہ بنائے ? اس کو اپنے اقدار سے روشناس کرائے ؟ اس کے اخلاقی اقدار کو قائم کرے ؟ مسلکی عصبیتیں بہت بعد کی چیزیں ہیں صاحب ۔ یہاں نسلی و لسانی عصبیتیں اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں ۔ وہ تو آپ کو مغرب نے ایک بتی کے پیچھے لگا یا ہے ۔ مذہب کا نام آتے ہی کرنٹ دوڑ جاتا ہے۔ دل میں نفرت آنکھوں میں انگارے دوڑ جاتے ہیں ۔ ہر جانب ملا کسی دیو کی طرح دکھنے لگتا ہے ۔ آپ کبھی مدارس کا دورہ تو کر کے دیکھیے ۔ پانی والی دال اور سوکھی روٹی کھا کر ٹاٹ کے بستر پر سوکر ، چٹائیوں میں بیٹھ کر جو اپنی جوانی لٹا دیتے ہیں ۔ ان کے لیے اس معاشرے میں کیا مقام ہے ؟ امام مسجد بنا دو ؟ موذن لگا دو ، نکاح پڑھوالو ؟
جناب اگر آپ اس سماج کا حصہ بن کر اس کے لیے محنت نہیں کر سکتے تو کم از کم ہم پر لعن طعن بھی نہ کریں ۔ ہم مریض ہیں تو مرض کی تشخیص بھی ہے اور اس کا علاج بھی ، بہر طور علاج کے وسائل کی کمی ہے وہ بھی ان شاء اللہ کبھی نہ کبھی اپنی دسترس میں لے ہی آئیں گے ۔ ہم نے اسی سماج میں جینا ہے اسی کی خدمت کرنی ہے ۔ آپ تو ا س سے کب کا ناطہ توڑ چکے ۔ بس لعن طعن تک کا رشتہ باقی ہے ۔
۔ سب ہی تو معجزے کے منتظر ہیں ؟

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...