Thursday, April 5, 2018

میرا جسم میری مرضی


میرا جسم میری مرضی 
شہیر شجاع
بلال الرشید صاحب فرماتے ہیں ۔ "انسان ایک جنگل میں جائے وہاں ایک خوبصورت اور پیچیدہ عمارت کھڑی ہو تو شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہاں کوئی ذہین مخلوق تھی ، جس نے یہ عمارت بنائی ۔ انسان ہر کہیں ڈھونڈتا ہے ، اسے کوئی نہیں ملتا ۔ اب وہ سوچتا ہے کہ اس عمارت سے فائدہ اٹھاوں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فرض کرلیا جائے کہ یہ عمارت خودبخود بنی ہے کیونکہ  اگر کسی معمار اور کسی مالک کی موجودگی تسلیم کرلی گئی  تو پھر انسان اسے استعمال تو نہیں کرسکتا ۔ اسے یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ جیسے ہی اصل مالک آیا ، عمارت خالی کرنا پڑے گی ۔ اسی طرح ہمارے جسم کی جو پیچیدہ عمارت موجود ہے ، یہ اپنے آپ تو نہیں بن سکتی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ خدا کی موجودگی تسلیم کر لیں تو پھر آپ کو اپنی خواہشات سے دستبردار ہونا پڑتا ہے ۔ بیٹھ کر پانی پینا ہے ، بسم اللہ پڑھ کر لقمہ توڑنا ہے ۔ حلال ذرائع سے کمانا ہے ۔ انسان للچا کر یہ سوچنے لگتا کہ کیوں نہ خدا کے وجود کا انکار کردیا جائے ۔ اس طرح اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکوں گا ۔ خدا کون سا سامنے کھڑا احکامات دے رہا ہے ۔ نہ ہی  کوئی فوری سزا ہے ۔ "
مگر یہاں دعوی  ملحد کی جانب سے نہیں بلکہ مومنات کی جانب سے وارد ہوا ہے ۔  یہ اس امر کی دلیل ہے کہ " حیا جو رخصت ہوتی ہے تو اپنے ساتھ ایمان بھی لے جاتی ہے  " ۔   حیا نہ صرف ایمان ، بلکہ معاشرے کی چولیں ہلا دیتی ہے ۔ تہس نہس کر کے رکھ دیتی ہے ۔  عالم مغرب میں حقوق نسواں کی تحاریک نے زور پکڑا اس تحریک کو  کامیابی ملی ۔   صنف نازک جو چاہتی تھی اسے مہیا کردیا گیا ۔ فرق بس اتنا ہے پہلے عورت ایک دو یا تین مردوں  کی زیادتی سہتی تھی ، اب  وہ کئی مردوں کی زیادتیاں  بخوشی قبول کرتی ہے ۔   یعنی " میرا جسم میری مرضی " ۔
انسان  ہمیشہ غلبے کی خواہش تلے ہی مارا جاتا ہے ۔ یہاں تک آخری صورت میں الحاد کی رسی کو تھام کر مطئن رہنے کی لاحاصل کوشش کرتے ہوئے رخصت ہوجاتا ہے ۔   

Saturday, March 10, 2018

پینٹنگ

پینٹنگ

شہیر شجاع

جمیل مسیح   ۔۔ ہمیشہ ہنتے مسکراتے رہنا ۔ خوش رہنا ، بلا کا ظرف پایا تھا اس نے ۔ وہ   مکینک تھا ۔ واشنگ مشین ، اے سی وغیرہ ٹھیک کرنا اس کا پیشہ تھا ۔ہم  ایک تھالی میں کھانا بھی کھاتے ۔ ایک ہی گلاس میں پانی بھی پیتے ۔ یہ میرے لیے انوکھا تجربہ تھا ۔ کیونکہ بچپن سے کچھ الگ ہی ذہن بنا ہوا تھا ۔ جس کے بالکل برعکس میں چل پڑا تھا ۔ وہ جس دکان پر ملازم تھا اس کا مالک عظیم بھی میرا دوست تھا ۔ اسی کی توسط سے میں جمیل سے ملا تھا ۔ وہ صبح دکان کھولتا شام تک کام کرتا ۔ خواہ وہ دکان پر ہو یا کسٹمر کے گھر جا کرکام کرنا ہو ۔ وہ مکمل " ایمانداری " کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتا ۔ اتوار کو جب وہ صبح تیار ہوتا ۔ اور چرچ جانے لگتا تو  ایک نہایت ہی معصوم اور پیارا سا مذہبی جذبہ اس کے چہرے سے عیاں ہوتا ۔  میں مسکرائے بغیر نہ رہتا ۔
اس دن ہمارا پکنک کا پروگرام تھا ۔ سوچا کہیں ساحل سمندر کی جانب چلا جائے ۔ کچھ ہلا گلا کیا جائے ۔ کچھ باربی کیو ، کچھ سمندر کے کھارے پانی میں ڈبکیا ں ۔ کہیں صیاد ہو کر صید مچھلی ۔ سو  پچھلی رات تیاریاں مکمل کرکے ہم چار لوگ صبح سویرے نکل کھڑے ہوئے ۔ میں ، جمیل ، عظیم اور عظیم کے بزرگ والد جو کافی ضعیف اور بیمار بھی تھے ، اتنے کے اپنی شلوار  صاف رکھنے پر اختیار کھو چکے تھے  ۔ ڈرائیو عظیم کر رہا تھا۔
ڈیش بورڈ سے اوپر بیک مرر  پہ آیت الکرسی لٹک رہی تھی ۔ اور ساتھ ہی مختلف رنگوں کے امتزاج سے کوئی خوبصورت پینٹنگ بھی لٹکا رکھی تھی ۔ میری نظر جب بھی اس پینٹنگ سے ٹکراتی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ۔ وہ رنگ مجھے تحلیل ہوتے محسوس ہوتے ۔  مختلف رنگوں کا امتزاج آہستہ آہستہ کسی ایک رنگ میں تبدیل ہورہا ہو ۔ اور میرے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل جاتی ۔ کچھ تارے سے جھلملانے لگتے ۔
  اس کے ساتھ والی سیٹ پر اس کے والد بیٹھے تھے ، جمیل اور میں پچھلی سیٹ پر براجمان تھے ۔  اس کے چہرے پر کچھ اداسی سی چھائی تھی ۔ جس کے اظہار سے وہ کترا رہا تھا ۔ جسے میں نے شدت سے محسوس کیا ۔ اس میں وہ ہمیشہ کی گرمی نہیں تھی جو اس کے چہرے سے پھوٹا کرتی ۔ اس کی حرکیات سے ماحول خوشگوار کیے رکھتی ۔
کیا بات ہے جمیل پریشان لگ رہے ہو۔۔۔؟
نہیں آزاد بھائی ٹھیک ہوں ۔ ایسی کوئی بات نہیں ۔
کچھ تو ہے ۔ جس کی پردہ داری ہے ۔ ہاں !!!!۔۔ میں نے قدرے خوشگوار انداز میں اسے چھیڑا ۔
تب بھی اس کے چہرے پر وہ مسکراہٹ عیاں نہ ہوسکی ۔ میں ٹھٹک گیا ۔ کچھ تو تھا جس نے اسے پریشان کر رکھا تھا ۔ 
جمیل کیا بات ہے ؟ تمہارے بھی کسی عزیز کا گھر جل گیا ۔ ؟
اس نے بے اختیار میرے چہرے کی جانب دیکھا ۔ اور اس کی آنکھوں سے دو قطرے ٹپک پڑے ۔  میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کچھ زور دیکر اپنی جانب کھینچا ۔ اس نے اپنا چہرہ میرے سینے میں رکھ دیا
اور بنا آواز بنا سسکیوں کراہوں کے رودیا ۔ بس اس کے آنسو تھے جو میری ٹی شرٹ   بھگو کر میری چھاتی میں جذب ہورہے تھے ۔ وہ آنسو جیسے محض پانی نہ تھے ، کرچیاں تھیں جو میرے سینے میں چبھ رہی تھیں ۔ میرے پاس الفاظ نہیں تھے اسے دلاسہ دینے کے لیے ۔ یونہی  چند لمحے گزرے اور مزید گزرے  ۔
ابے انہی لوگوں نے  پہل کی تھی ۔ آخر کو بھگتنا تو پڑے گا ۔ یہ عظیم کے الفاظ تھے ۔ جس پر جمیل نے سر اٹھانے کی کوشش کی پر میں نے اسے سینے میں دبوچے رکھا ۔ کرچیاں کچھ زیادہ بڑھ گئیں ۔
یار عظیم ، جرم کا حساب عدالت میں ہوتا ہے ۔ صحیح غلط  کے فیصلے کے لیے عدالتیں موجود ہیں ۔ قانون کے ادارے موجود ہیں ۔   کسی کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ سر راہ  کسی کو بھی نقصان پہنچائے ۔ اور یہ تو ایک گھر نہیں پورا محلہ جلا دینا ۔ نہ جانے کس مشقت سے ، تنکا تنکا جوڑ کر گھر بنایا ہوگا ۔ انہیں بے گھر کردینا ۔ یہ  کہاں کے اخلاق ہیں ؟
میں نے کچھ اپنی دانش جھاڑنے کی کوشش کی ۔
ابے تجھے کیا پتہ انہوں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی ۔ صلی اللہ کا ۔۔ اللہ کچھ زور دے کر اس نے کہا ۔
گاڑی دھپ سے اچھل پڑی ہم سب ہل کر رہ گئے ۔ عظیم  باتوں میں اس جمپ کو دیکھ نہ سکا تھا ۔ ساتھ وہ آیت الکرسی اور پینٹنگ لرز کر رہ گئے  ۔ پینٹنگ کے رنگ جیسے یہاں وہاں بکھر رہے ہوں ۔ جن میں سرخ رنگ نمایاں محسوس ہوتا تھا ۔
تو کیا اس کی سزا تم دو گے ؟ وہ بھی ان کے گھر جلا کر ؟ انہین بے گھر کر کے ؟ ان کے زندہ سلامت جسد کو سوختہ لاش بنا کر ؟ یہ تو ظلم کی حد ہے ۔ یہ کوئی انصاف  کے ایک ذرے کا تقاضا بھی پورا نہیں کرتا ۔ تمہیں اگر اتنی محبت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ گستاخ کو سمجھاتے اس کی ہدایت کی جلن لیکر اٹھتے کہ وہ نہیں جانتے ۔ یہی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں ۔ میں نے بھی صلی اللہ کے اللہ پر کچھ زیادہ زور دے کر بھاشن دے ڈالا ۔ 
جمیل نے پھر سر اٹھانے کی کوشش کی پر میں نے اسے وہیں سینے سے لگے رہنے پر مجبور رکھا ۔
ابے جا بڑا  آیا لبرل بننے والا ۔ تیرے دل میں تو عشق رسول ہے ہی نہیں ۔ اگر ہوتا تو ، تو نے یہ نہ کہنا تھا ۔ بلکہ ان کے گھر جلانے والوں میں تو بھی شامل ہوتا ۔ گستاخ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ۔  عظیم نے میرا تمسخر اڑایا ۔
پھٹ پھٹ پٹ پٹ ۔۔ پڑڑڑڑڑ ۔۔۔
چھی ۔۔ شٹ ۔۔ ابو یہ کیا کیا ؟ کم از کم بتا ہی دینا تھا ۔ میں گاڑی کھڑی کردیتا ۔ ساری گاڑی گندی کردی ۔
عظیم نے گاڑی کچھ آگے جا کر ایک جانب روکی ۔ سڑک سنسان تھی ۔ اکا دکا گاڑیاں زن سے گزر جاتیں ۔ میں اور جمیل باہر نکلے ۔ عظیم پہلے ہی ابوکی جانب  کا دروازہ کھول چکا تھا ۔ اور انہیں باہر نکالنے کی سعی کر رہا تھا   اور اس پھیلی ہوئی غلاظت سے ناک بھوں چڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو محفوظ بھی رکھنا چاہتا ہو ۔  میری  بھی اب تک ہمت نہ ہوئی تھی کہ پاس جاتا ۔ جمیل مسیح آگے بڑھا اور ابو کو  سکون سے اپنی گود میں اٹھا لیا ۔ جیسے وہ اسی کے باپ ہوں ۔  وہ انہیں اٹھا کر کچھ دور لے گیا ۔ اسی دوران میں پانی کی بڑی بوتل ڈگی سے نکال کر ان کے پیچھے چل پڑا ۔ عظیم ایک جانب کھڑا ۔۔ شٹ ۔۔ شٹ کرتا رہ گیا ۔
جمیل نے ان کے کپڑے اتارے، میں دوڑ کر چادر لے آیا جو انہیں اوڑھا دیا۔جمیل نے  ان کپڑوں کو دھویا ۔ ان کے جسم کی غلاظت کو صاف کیا ۔  اس دوران اس کے چہرے پر ہلکی سی بھی کوئی بدمزگی پیدا ہوئی ہو ۔ نہایت اطمینان سے اس نے  یہ سارے کام انجام دیے ۔
ابے جلدی کرو دیر ہورہی ہے ۔ عظیم کے چیخنے کی آواز آئی ۔ جمیل اور میری آنکھیں چار ہوئیں ۔ اس کے چہرے پر پر خراش مسکراہٹ تھی اندر کہیں اداسی سرسراتی تھی ۔ میری آنکھیں زیادہ دیر اس سے ہمکلام نہ رہ سکیں اور جھک گئیں ۔ ویسے ہی گیلے کپڑے ابو کو پہنائے اور ہم دونوں کندھوں کا سہارا دیکر انہیں گاڑی تک لے آئے ۔
ابو کو میں کندھے پر سہارا دیے رکھا ۔ اس دوران جمیل نے سیٹ صاف کردی ۔پھر انہیں گود میں اٹھایا اور قدرے مشکل سے انہیں اگلی سیٹ پر بٹھا دیا ۔ 
میری نظر سرکتی ہوئی پینٹنگ کی جانب گئی جو  اس زور آزمائی پر گاڑی کے لرزنے کی وجہ سے  دائیں بائیں ہلنے لگی تھی ۔  رنگوں کا امتزاج  خوشنما تھا یا بدنما میں کوئی فیصلہ نہ کر پایا ۔
ابھی سفر باقی تھا ۔ ہم پکنک منانے نکلے تھے ۔
ہم نے سمندر میں ڈبکیاں لگانی تھیں ۔ باربی کیو کرنا تھا ۔
صیاد مچھلی ہونا تھا ۔
گاڑی آگے کو دوڑتی جاتی تھی ۔ آیت الکرسی اور وہ پینٹنگ دائیں بائیں ہلتی تھیں ۔ رنگوں کا امتزاج پر تحلیل نہ ہوتا تھا ۔ میرا تصور کہیں منجمد ہوگیا تھا ۔ 

گستاخ

گستاخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہیر شجاع
ایک چرچ کی دیوار پہ انجیل کی آیت کو مٹا کر اس پر لبیک یا رسول اللہ لکھ دیا گیا ۔  جذبہ ایمان سر چڑھ کر بولا ۔ بائبل کی آیت کے اوپر لبیک یا رسول اللہ ۔ ؟
وہ ایک بے سہارا ماں تھی ۔ جس کی حافظہ قرآن بیٹی کو " بااثر افراد" اغوا کر کے لے گئے تھے ۔ اس کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا ؟ بالآخر اسے قتل کردیا گیا ۔ ماں دہائی دیتی رہی ۔ قانون کے ادارے اس کی بے  مائیگی  بے بسی پر ٹھٹھے اڑاتے رہے ۔ پر وہ ایک ماں تھی ۔ کسی طرح چند درد مندوں تک اپنی بات پہنچا دی ۔ اور انہوں نے اس درد کو آگے منتقل کرنے کی کوشش کی کہ اس  بے بس ماں کوانصاف ملے  ۔اس معصومہ  جس کے سینے میں کلام اللہ محفوظ تھا، جو اس پاک کلام سے اپنی صبح کیا کرتی تھی اور شام کیا کرتی تھی ۔ جس کی زبان اس پاک کلام سے ہمہ وقت تر رہتی تھی ۔ اس معصومہ کے ساتھ ان " بااثر افراد " نے ظلم و ستم کی حد کردی ۔  جسد مردار میں چند سانسیں بچی تھیں وہ بھی بالآخر چھین لیں ۔۔  
کوئی لبیک یا رسول اللہ نہیں ۔۔۔  
کوئی ہجوم اکھٹا نہ ہوا ۔۔۔ کسی کے جذبہ ایمانی پر آنچ نہیں آئی ۔ کسی صاحب ایمان کا جذبہ ایمانی نہ جاگا کہ ان ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ وہ ظالم دندناتے پھرتے ہیں ۔ اور مظلوموں کو آنکھیں دکھاتے ہیں ۔ ان کا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں ۔ مگر اصحاب ایمان کے ایمان کی حرارت ان کو متحرک نہیں کرتی ۔  
کوئی لبیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔
ساہیوال میں چرچ پر دھاوا بول دیا گیا ۔ لبیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ جذبہ ایمانی کی حرارت ۔۔۔۔۔

پطرس مسیح کوئی  غلط میسیج فارورڈ کر دیتا ہے ۔ جس بنا پر عشق رسول کے دعوے دار سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔ اس کی پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔  ہجوم ہے اور شور ہے ۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔ شعور ماتم کناں ہے                                                                                                              
لبیک ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔  

گھروں  کو جلانے کی خواہش  لیکر اصحاب ایمان  کا دوڑپڑنا  ۔۔  اور یہ سب اس ایمانی جذبے کے تحت ہونا ،  جو  رحمت اللعالمین  صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ جن کے عظیم اخلاق  تا قیامت سرچشمہ حیات ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت  کے دعوے کی  بنیاد پر ۔۔۔۔
گھروں کو جلانا ؟   بے گناہ  ، بھلے گناہ گار ہی کیوں نہ ہوں ۔ کونسا ایمانی جذبہ ہے وہ کونسے اخلاق حسنہ ہیں جو گھروں کو جلادینے   ، جیتے جاگتے انسان کو جلادینے کا درس دیتے ہیں  ؟ 
ایک پورا سماج اتھل پتھل ہوجاتا ہے ۔ اصحاب ایمان کے عظیم اخلاق  محبت کے پیامبر کے مقلدین   خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرتے ہیں ۔ افراد کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ دربدر پھریں ۔ وہ اخلاق حسنہ سے خوفزدہ ہوجائیں ۔

نبوی اخلاق ؟ ۔۔۔۔۔

مائیکل صاحب قانون پر اعتماد کرتے ہوئے   لڑکے کو پولیس کے  حوالے کردیتے ہیں ۔ پولیس کیا کرتی ہے ؟  وہی جو ہر ایک کے ساتھ کرتی ہے ۔  وہ پولیس جو ایک بے بس ماں سے کہتی ہے جاو جا کر اپنی بیٹی چھڑا لو ۔ اور وہ ماں خون کے آنسو روتی ہے ، بلکتی ہے ، چیختی ہے چلاتی ہے ، دیوانہ وار گھومتی ہے ، مگر کوئی ایمانی ہجوم اکھٹا نہیں ہوتا ، چہار جانب قہقہے برستے ہیں ، اور شعور ماتم کرتا ہے ۔ ایسی پولیس کے لیے تو یہ کیس اور بھی سہل تھا ۔ اس کی ہڈی پسلیاں ایک ہوتی ہیں ۔ اور شرمناک شدید شرمناک چہرہ دنیا کے سامنے آتا ہے ۔
پولیس گردی ۔۔۔ لبیک ۔۔۔
کیا اب ہجوم اور ریاست میں ہجوم کا پلڑا بھاری ہو اکرے گا ؟
کیا انصاف کے ادارے  پکوڑے بیچا کریں گے ؟
سیاسی ادارے اقتدار کی جنگ لڑا کریں گے ؟
کیا چرچ کی دیوار پر اس مذہب کی مقدس آیت کو مٹانا ، بلاز فیمی میں زمرے میں نہیں آتا ؟
سر عام میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگانے والے علامہ  بلازفیمی میں نہیں آتے ؟ جو   گالی بھی دیتے ہیں اور اسے اخلاق نبوی سے ثابت بھی کرتے ہیں ؟ 
کیا  حب نبی کا تقاضا یہی رہ گیا ہے کہ ۔ اس رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ۔۔۔۔۔۔۔ گھروں کو جلایا جائے ۔   انسانوں کو راکھ کیا جائے ۔ ان کا سانس لینا محال کردیا جائے ۔
یہ کم از کم میرے حبیب ۔۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں نہ ان کی تعلیمات ۔  مجھے افسوس ہے کہ جس بلند اخلاق بلند کردار ، محمد مصطفی ، احمد مجبتی ، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواوں کی جانب سے یہ سب ہو رہا ہے ۔  جن ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا اخلاق یہ تھا کہ وہ اپنے ازلی دشمنوں کو بھی معاف کردیا کرتے تھے ۔ وہ امت کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے تھے ۔ وہ تاریکی مٹانے آئے تھے ۔  ہدایت کی روشنی پھیلانے آئے تھے ۔ وہ عقل کو صحیح سمت میں گامزن کرنے آئے تھے ۔ وہ دلوں کو مسخر کرنے آئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہاں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے ۔ یہ سب میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہو رہا ہے ۔۔
مجھے افسو س ہے ۔۔
مجھے افسوس ہے ۔۔
مجھے افسوس ہے ۔۔


Saturday, February 17, 2018

تماشہ


تماشہ
شہیر شجاع
مسئلہ یہ نہیں عدالتوں میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔ مسئلہ یہ آج نہیں پیدا ہوا ۔۔ یہ مسئلہ شروع سے ہی ہے ۔۔ جس کی ابتداء نظریہ ضرورت کے تحت ہوئی ۔۔۔۔ 
آج جو میاں صاحب اینڈ فیملی جلے بھنے بیٹھے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آج اس آگ نے ان کے دامن کو جلا ڈالا ہے ۔۔۔۔
افسوس کہ ہم بجائے اس کے کہ ان اقتدار کے بھوکوں سے اپنے حقوق کے مطالبے کرنے کے ہم اس حریص ِ اقتدار کے ساتھ کھڑے عدلیہ کو ہی کمزور کرنے اور عدلیہ پر جو بھی اعتبار ہے اسے ختم کرنے پر تل گئے ہیں ۔۔ پہلے تو ن لیگ نے پوری کوشش کی کہ فوج کے بارے میں عوام میں شدید بدگمانی پیدا ہوجائے ۔۔ جس کو کافی حد تک کم کرنے میں جنرل باجوہ نے اہم کردار ادا کیا ۔۔۔ اب عدلیہ کے ساتھ کون کھڑا ہو ؟ 
عمران خان کے پاس نواز شریف جیسی " سوکالڈ سیاست " نہیں اور نہ وہ ان عوامل کا ادراک رکھتا ہے جو پاکستان جیسے معاشرے میں جنرل ضیاء کے دور سے سیاست میں در آئے جس نے سیاست کے معانی بدل کر رکھ دیے ۔۔۔ 
ان سیاستدانوں نے آج تک پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے ، پارلیمنٹ کو عوام کی بہبود کے لیے استعمال کرنے ، خارجہ و داخلہ امور پر گفتگو کرنے کے لیے کتنا استعمال کیا ؟ سوائے ان امور میں پارلیمنٹ میں یہ سب متحد ہوئے جہاں ان کے اقتدار اور ان کی کرپشن یا ان کے مفادات کو خطرات لاحق ہوئے ۔۔۔ ورنہ آج بلدیاتی نظام اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا جاتا ۔۔ پارلیمنٹ ایک منتظم کی حیثیت سے قوانین بنا رہی ہوتی اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو مضبوط تر کرنے ، انصاف کی فراہمی کو آسان کرنے و دیگر امور پر رات دن ایک کیے ہوتے ۔۔۔
ہمارا کیا ہے ؟ کبھی " آمر " فوجی ہوتا ہے ۔۔ کبھی " سیاستدان " ۔ تو کبھی عدلیہ ۔۔۔۔
ہم تو تماشائی ہیں ۔۔ کبھی اس کے لیے تالیاں پیٹنے والے کبھی اُس کے لیے ۔۔۔
سو لگے رہیں ۔۔۔

حسن ظن

حسن ظن
شہیر شجاع
جب ن لیگ نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم نامزد کیا یہاں تک کہ وہ وزیر اعظم بنا بھی دیا گیا ۔ اس وقت تک ہم جیسے عام لوگ ان کو پی آئی اے کے سربراہ اور اپنی نجی ائر لائن ائر بلو کے مالک کی حیثیت سے ہی جانتے تھے ۔ سوال اٹھانے والے کہتے تھے ان کی اپنی ائر لائن تو منافعے میں جا رہی ہے اور پی آئی اے کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے کرپشن ہی کی ہوگی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ ایک سرسری سا وزیراعظم صاحب کی شخصیت کے بارے میں جو تاثر پیدا ہوا وہ مخفی منفی ہی تھا ۔ چونکہ ان کی شخصیت پر پروپیگنڈا کرنے کے لیےمواد موجود نہ تھا سو بات مزید آگے نہیں بڑھی ۔ پھر چند تصاویر اور آرٹیکلز حضرت کے بارے میں سامنے سے گزرے ۔ جن سے ان کی الگ شخصیت کا نیا تاثر ابھرا ۔ ایک سادہ ، مخلص شخصیت ۔ یہ بات ہم بھی جانتے ہیں سارے سیاستدان برےنہیں ہوتے ۔
المیہ یہ ہے کہ سب سے پہلی شکست سیاستدان کو اس وقت ہوتی ہے جب اس کے گلے میں پارٹی ڈسپلن کا طوق ڈالا جاتا ہے ۔ غائر نظر پارٹی ڈسپلن ایک مثبت شے ہے ۔ مگر اس کی بنیاد عموما پارٹی کا ڈسپلن نہیں ہوتا بلکہ پارٹی کے سربراہ کا حاکمانہ تصور ہوتا ہے ۔ پارٹی ڈسپلن دراصل پارٹی سربراہ کی منشاء کی تحریری شکل ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے مخلص سیاستدان بھی اپنا چند فیصد ہی ادا کرپاتے ہیں ۔
ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف  فی الوقت سیاست کے میدان میں ن لیگ  دراصل نواز شریف کی پارٹی ، پیپلز پارٹی دراصل بھٹو کی پارٹی کے از بعد مین اسٹریم میڈیا میں تیسری جماعت کو حصہ ملا ہے وہ تحریک انصاف عمران خان  کی پارٹی ہے ۔  میرا اب یہ یقین ہے کہ تحریک انصاف  میں کوئی  روایتی سیاست سے ہٹ کر کچھ نہ رہا ۔ اسی وجہ سے پہ درپہ وہ شکست خوردہ ہوئی جاتی ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں اس کی سب سے بڑی وجہ تحریک انصاف کی اعلی قیادت ہے ۔ چونکہ یہ جماعت بھی روایتی سیاست کے رستے پر چل نکلی ہے سو اب ان کی کامیابی کا دارومدار بھی  " دکھاو پر پیسہ بہاو " پر ہی منحصر ہے ۔ چہ جائیکہ اس جماعت کی حکومت میں شامل وزراء اپنے کام میں بقیہ جماعتوں کے وزراء کی نسبت آزاد ہونگے یہ میرا حسن ظن ہے ۔ بہرحال بات کہیں سے کہیں جا نکلی ۔ اس وقت ن لیگ کی جانب سے  نامزد اور پاکستان کے منتخب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی صاحب بھی ان سیاستدانوں میں محسوس ہوتے ہیں جن کے پاس اختیارات ہوں تو وہ پاکستان کی ترقی میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہوں ۔ اپنی بہترین ٹیم کے انتخاب کا ان کے پاس اختیار ہو تو شاید وہ پاکستان کے حق میں ایک اچھے سیاستدان ثابت بھی ہو سکتے ہوں ۔ یہ میرا گمان ہے ۔ اور شاید پاکستان کا ہر باسی کسی بھی شخص میں خدا ترسی دیکھ لے تو وہ فورا موم ہوجاتا ہے اور اس شخص کے لیے احترام کا جذبہ پال لیتا ہے ۔ خواہ وہ لبادہ حقیقی ہو یا نا ہو ۔ مسلم کے  فطری اخلاق یہی ہیں اور یہی دیکھنے میں آیا ہے ۔ افسوس کے ن لیگ کی جانب سے نواز شریف کے لیے تو مکمل میشنری موجود ہے ۔ مگر فی الوقت جس شخص نے  ن لیگ کی حکومت کا بار اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے ۔ اس کے لیے چند الفاظ لکھنے کی توفیق بھی ان میں نہیں۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس طرح شریف فیملی کی قدر میں کمی نہ پیدا ہوجائے ۔ اور ان کی ناراضی مول لینا  ان مفاد پرستوں کے بس کی بات نہیں ۔ میرا یہ بھی احساس ہے کہ شاہد خاقان عباسی جیسے شخص کا وزیر واعظم منتخب ہوجانا  جمہوری دور میں ایک نئے موڑ کا باعث بھی بن سکتا تھا بلکہ ہے ۔ اگر اس وقت ن لیگی جمہوریت کو صحیح معنوں میں زندہ کرنے کی نیت خلوص رکھتے ہوں اور ان کی سیاست کا مقصد حقیقی پاکستان کی فلاح ہو ۔ وہ اس طرح کہ ساری کی ساری کابینہ ، وزراء ، سیاسی کارکن  اپنے وزیر اعظم کے مسلسل کاموں کو پروموٹ کریں ۔ جو یہ ظاہر کرے کہ پارٹی کا ہر کارکن کام کرنے میں آزاد ہے سوائے اس کے کہ وہ منشور سے رو گردانی کرے جو منشور عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے ۔ یا آئین پاکستان کے خلاف اعمال و افعال  سامنے آئیں ۔ اس طرح سے ن لیگ کو ایک خاندان کے چنگل سے بھی نکالا جا سکتا ہے ۔ بیشک یہ آسان نہیں ہے ۔ کیونکہ اس کے بعد اس خطے کی سیاست میں طاقت کا توازن بھی بگڑنے کا مکمل  امکان رہتا ہے ۔ جو قوت اقتدار شریف خاندان کو میسر ہے شاید وہ قوت ن لیگی کسی دوسرے فرد میں منتقل ہونا قبول نہ کریں ۔ اس کے ساتھ ہی  پارٹی کے لیڈر کے لیے جماعت اسلامی کا فارمولہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
مگر اگر مگر یہ سب کیونکر ہو ۔۔۔ شاہد خاقان عباسی ، ۔۔ اور ان جیسے کئی ایسے لوگ ہونگے جو شاہی خانوادوں کے اقتدار کی نذر ہوتے رہیں ۔ اپنی منشاء کے مطابق کہ ۔۔ کسی نے کیا خوب جملہ کہا ہے ۔۔۔
پاکستان میں دو وزیر اعظم ہیں ۔ ایک " نا اہل وزیر اعظم " جو اپنے آپ کو نا اہل نہیں مانتا ۔ دوسرا " اہل وزیر اعظم " جو اپنے آپ کو نا اہل مانتا ہے ۔

Saturday, January 27, 2018

کراچی ، چند سسکتی یادیں اور امید ۔

کراچی ، چند سسکتی یادیں اور امید ۔
شہیر شجاع
کسی نے  ایک جملہ کہا " مکا تو پولائٹ سا لفظ ہوگا آپ کراچی کے  لوگوں کے لیے " یقینا یہ اذراہ مذاق تھا ۔۔۔ لیکن چشم تصور میں ماضی کی بہت سی یادیں تازہ کرگیا ۔  میں نے اس وقت  ہوش سنبھالا جب کراچی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجا کرتا اور یہ عام بات ہوتی گئی ۔ سڑک اچانک سنسان ہوجاتی اور دو گروہوں کے مابین خونخوار مقابلہ شروع ہوجاتا ۔ چند  لاشیں وہاں گرتیں چند یہاں ۔ ہم رات کو سوتے تو اچانک ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سے آنکھ کھل جاتی ۔ پھر گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونجتی اور چند ہی لمحوں میں سناٹا چھا جاتا ۔ اور پھر ہماری آنکھ لگ جاتی ۔ یہ بے حسی کی جانب ابتداء تھی ۔ ہم صبح سو کر اٹھتے اسکول یونیفارم میں باہر نکلتے تو  سڑک پر لاش پڑی ہوتی جس کے ہاتھ بندھے ہوتے اور سینہ چھلنی ہوتا ۔ ہم اس لاش کو یوں دیکھتے جیسے کوئی بلی مری ہو ۔ پولیس  ایمبولینس اور تماشایوں کا ہجوم ہوتا اور ہم اسکول کی راہ لیتے ۔ گولیوں کا چلنا ، لاشوں کا گرنا ، شیعہ سنی ، ایم کیو ایم ، ایم کیو ایم حقیقی ، ہتھوڑا گروپ ، اور نہ جانے کیا کیا ۔ یوں ہمارا بچپن گزرتا گیا ۔ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھنے سے پہلے ہی سینہ پتھر ہوتا گیا ۔ بھتہ خوری عام تھی  ۔ کاروبار شروع کرنا ، گھر بنانا ، آرائش ، شادی بیاہ ، غرض ہلکی سی چمک آپ کی  دہلیز پر دہشت گردوں کو کھڑا کرنے کے لیے کافی تھی ۔ تعلیمی اداروں پر بھی انہی چیزوں کا راج تھا ۔ ہم پانچویں جماعت میں تھے کہ آٹھویں کا لڑکا اور نویں جماعت کے لڑکے کے مابین جھگڑے کی وجہ یہی پارٹیاں تھی ، خون دیکھ کر اسکول کے ان نازک اندام بچوں پر کوئی خوف طاری نہ ہوا ۔ انہی دنوں ایک نوجوان ہمارے پڑوس میں قتل کردیا گیا ۔ کسی کو افسوس نہ ہوا ۔ خون یوں تھا جیسے پانی ۔ آج کراچی میں خون کی بہتی ندیوں کو بھلے قرار آیا ہے ۔ مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر نادرا کی دہلیز تک کراچی کے لوگ آج بھی بے بس ہیں ۔ بھتہ خوری آج بھی اسی ڈگر پر موجود ہے ۔ آپ کاروبار بنا کسی کو بھتہ دیے نہیں چلا سکتے ۔  
کیا کراچی کو کبھی بھی اپنانے والے سیاستدان پیدا نہیں ہونگے ؟
تھانے بھتے جمع کرنے کے ادارے بن چکے ہیں ۔
پولیس بھتہ خور ہے اور بھتہ لینےوالوں کی محافظ ہے ۔
عدل کے اداروں کی صورتحال سے کون ناواقف ہوگا ۔
کیا کراچی پھر کبھی علم و فن ، تہذیب و تمدن کا  چمکتا ستارہ نہیں بن سکے گا ؟
وہ جو " علم " تہذہب " و ثقافت " اس کی شان تھی ۔ کیا وہ پھر حاصل نہ کرسکے گا ؟
   

Tuesday, December 19, 2017

عشق کی رمز

عشق کی رمز

بلال الرشید

 لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اٹھارہویں صدی میں اودھ کی ریاست تشکیل دینے والا نواب سعادت خان تھا، جس نے ایک لاوارث بچے کو گندگی کے ڈھیر سے اٹھا کر امان بخشی۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نواب صفدر جنگ کا تھا، سعادت خان نے جس سے اپنی بیٹی بیاہی اور پھر ریاست سونپ دی۔
واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ ایک مہم سے واپسی پر، ایک ویرانے میں‘ نواب کو نوزائیدہ بچّے کے بلکنے کی آواز آئی۔ مہربان دل کے مالک نواب نے ایک نوزائیدہ انسانی بچّہ دیکھا، جس کا رنگ کوئلے کی طرح کالا تھا۔ ایک جنگلی کتا اسے نوچ رہا تھا۔ نواب کی بروقت مداخلت سے جان تو اس کی بچ گئی لیکن اس وقت تک اس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی تھی۔ اس کا چہرہ لہولہان تھا؛ اگر چہ انتہائی کالے رنگ کی وجہ سے خون نظر نہ آ رہا تھا۔ چہرے کے خدوخال میں خوبصورتی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ حالات و واقعات کے سبب یہ بات ظاہر تھی کہ وہ گناہ کی پیداوار تھا۔ باپ تو اس کا تھا ہی نہیں۔ وہ اس قدر بد نصیب تھا کہ ماں بھی اسے مرنے کے لیے چھوڑ گئی تھی۔ نواب کے حکم پر تڑپتے‘ بلکتے بچّے کو مرہم لگایا گیا۔ ایک دودھ پلانے والی آیا ڈھونڈی گئی۔ اسے اجرت پر دودھ پلانے کا حکم دیا گیا۔ اس عورت کا اپنا بچّہ گورا چٹا اور خوبصورت تھا۔ وہ انتہائی ناگواری سے اس غیر بچّے کو دودھ پلایا کرتی۔ مالی بدحالی نہ ہوتی تو شاید وہ کبھی ایسا نہ کرتی۔
نواب نے اس بچّے کا نام حکیم رکھا۔ گوکہ عام طور پر لوگ اپنی گفتگو میں اسے 'کوئلہ‘ کہا کرتے۔ حکیم کمتری کا استعارہ تھا۔ ایک ایسا شخص، جس کا وجود ایک گناہ کی نشانی تھا، جس کی ماں اسے مرنے کے لیے چھوڑ گئی تھی۔ اسے زندہ رہنے کا حق دیا جا سکتا تھا لیکن اس کی عزت نہیں کی جا سکتی تھی۔ حکیم خاموش طبع لڑکا تھا۔ پیدائشی طور پر جیسے اسے اپنی ذات میں موجود کمتریوں کا ادراک تھا۔ اسے کبھی شوخی کرتے نہ دیکھا گیا۔ پیدائشی طور پر وہ تمیزدار اور تہذیب یافتہ تھا۔ ہر حکم وہ خاموشی سے بجا لاتا۔ یہ خاموشی اور افسردگی اس کی ذات کا ایک حصہ بن گئی تھی۔ خدا ترس اور مہربان نواب نے حکیم کو اپنے محل میں ذاتی خدمات گار کا منصب سونپ رکھا تھا۔ جب وہ جوان ہوا تو اسے برص کا مرض لاحق ہوا۔ کہیں کہیں سے اس کا چہرہ دودھ کی طرح سفید ہو گیا۔ یوں تیز کالے اور سفید رنگ کے امتزاج نے اس کی بدصورتی میں آخری حد تک اضافہ کر دیا۔
مہر النسائ‘ نواب کی بھتیجی تھی۔ اس کے مرحوم بھائی کی بیٹی۔ وہ اس قدر حسین تھی، جتنی کوئی بنتِ حوا ہو سکتی ہے۔ وہ حکیم ہی کی ہم عمر تھی۔ وہ حسین تھی، حسب نسب والی، عقلمند، سلیقہ شعار، پڑھی لکھی۔ جیسے حکیم خامیوں والا تھا، ویسے ہی وہ خوبیوں والی تھی۔
عزت، شہرت، دولت، صحت، اولاد اور دنیا کی ہر نعمت نواب کے پاس موجود تھی ۔ ہاں! البتہ اسے ایک استاد کی تلاش تھی۔ وہ استاد جو انگلی پکڑ کر اسے عشق کے کارزار میں چلنا سکھائے۔ وہ اُس ذاتِ قدیم سے، اس ربِ ذوالجلال والاکرام سے عشق کرنا چاہتا تھا۔کبھی کبھار، اپنے دربار میں جب وہ رموزِ عشق بیان کرتا تو آنسوئوں سے اس کی داڑھی تر ہو جاتی۔ اسے ایسے استاد کی تلاش تھی، جو اس کا دل تڑخا دے۔ اس کا آئینہ چکنا چور کر کے اسے نگاہِ آئینہ ساز میں ممتاز کر دے۔ اسی تلاش میں اس کے بال سفید ہو چلے تھے۔
یہی وہ دن تھے، جب وہ واقعہ پیش آیا۔ ایک شام اچانک نواب نے دیکھا کہ مہر النساء عبادت کے کمرے میں تھی اور چھپ کر حکیم ایک سوراخ سے اندر جھانک رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے نواب کا خون کھول اٹھا لیکن پھر اس نے صبر سے کام لیا۔ اس کا حلم اس کے اشتعال پہ غالب آ گیا۔
نواب نے حکیم کو بلایا۔ وہ چاہتا تو یہ کہہ سکتا تھا کہ تجھے میں نے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھایا اور تو نے یہ کیا گستاخی کی۔ الٹا اس نے حکیم سے سوال کیا: کیا تجھے عشق ہو گیا ہے؟ حکیم خاموش رہا۔ نواب نے کہا: ہاں! تجھے عشق ہو گیا ہے اور اس میں تیرا کوئی قصور نہیں۔ نواب نے کہا: جب محبوب بہت اونچی ذات کا ہو اور عاشق کی ذات بہت کمتر ہو تو پھر عشق کی پہلی رمز یہ ہے کہ اس عشق کو چھپایا جائے ورنہ محبوب کی رسوائی ہوتی ہے۔ سچا عاشق اپنے محبوب کو رسوا نہیں کرتا۔ اس نے کہا: عشق کیا ہے تو اسے نبھانا، میرے بچّے! حکیم خاموش رہا۔
دن، ہفتے، مہینے اور سال گزرتے گئے۔ حکیم نے نواب کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا۔ مہر النساء کی شادی ہوئی اور وہ اپنے سسرال چلی گئی۔ کئی سال بعد اس کا شوہر ایک جنگ میں قتل ہو گیا۔ وہ پھر واپس آ گئی۔ خمیدہ کمر نواب بوڑھا ہو چکا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ مہرالنساء جب عبادت کے کمرے میں جاتی ہے تو اب بھی حکیم چھپ کر اسے دیکھا کرتا ہے۔
یہی وہ دن تھے، جب حکیم کو تپِ دق نے آ لیا۔ بیماری نے اسے چاٹ لیا۔ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا؛ حتیٰ کہ قریب المرگ ہو گیا۔ ایک روز نواب نے دیکھا کہ خاموشی سے بستر پہ پڑا وہ اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ نواب نرم دل انسان تھا، اس روز تو جیسے پگھل ہی گیا۔ اس نے مہر النسا کو بلایا۔ اسے ساری بات بتائی۔ وہ خود ایک نرم دل عورت تھی۔ نواب نے اسے کہا: میری بیٹی! ایک مرتے ہوئے‘ آخری درجے کے بدنصیب انسان کو آخری خوشی ہم دے سکیں توکتنا اچھا ہو۔
قصہ مختصر یہ کہ نواب مہر النساء کو حکیم کے پاس لے گیا اور اسے کہا کہ وہ اظہارِ محبت کر سکتا ہے۔ وہ سکتے کے عالم میں ان دونوں کو دیکھتا رہ گیا۔ پھر زندگی میں پہلی بار نواب نے اسے روتے ہو ئے دیکھا۔ وہ روتا رہا، روتا رہا۔ پھر اس نے یہ کہا: میں مہر النساء سے محبت نہیں کرتا۔ اس نے کہا: میں تو اس سے عشق کرتا ہوں، جسے مہر النساء سجدہ کرتی ہے۔ کچھ دیر کے لیے نواب حواس باختہ ہو گیا۔ حکیم مہرالنساء کو ہمیشہ اس وقت دیکھا کرتا تھا، جب وہ عبادت کے کمرے میں ہوتی۔ حکیم نے کہا: مہر النسا کے ہر سجدے میں، میرا سجدہ شامل ہے۔
نواب نے کہا: اگر تو خدا سے محبت کرتا ہے تو تُو نے اسے ظاہر کیوں نہیں کیا۔ حکیم نے کہا: عشق کی رمز‘ محبوب کی ذات سب سے اونچی، عاشق کی ذات سب سے کمتر۔ نواب نے کہا: وہ تو دنیاوی عشق کی رمز ہے، خدا سے عشق کی نہیں۔ یہ تو نے کیا کیا میرے بیٹے۔ حکیم نے کہا: لوگ یہی کہتے کہ ایک انتہائی کمتر انسان خدا سے عشق کا دعویٰ کر کے عزت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ نواب کو یاد آیا کہ خدا جسے عزیز رکھتا ہے، اسے خوب آزماتا ہے۔ تو درحقیقت حکیم ایک کمتر انسان نہیں تھا بلکہ وہ چنے ہوئے لوگوں میں سے تھا۔ نواب نے حکیم سے پوچھا: وہ کیسا محسوس کر رہا ہے۔ قریب المرگ لڑکے نے جواب دیا: وصل سے پہلے کا وقت ہے۔ دل میں میٹھا میٹھا درد ہو رہا ہے۔
اس روز نواب پر انکشا ف ہوا کہ عشق کی ہر رمز حکیم کو معلوم تھی۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس استاد کو وہ تلاش کر رہا ہے، وہ کوڑے کے ڈھیر سے اٹھایا گیا ایک کالے رنگ کا بچہ ہے۔ جسے وہ کوئلہ سمجھتا رہا، وہ ہیرا تھا۔

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...