Sunday, May 30, 2021

خود ساختہ عقلیت پسندوں کی علمی دھوکہ دہی

 

کہیں پڑھا تھا "معاشرے میں فلسفہ تب جنم لیتا ہے جب وہ تہذیب   اپنے علمی نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہو ، اور اس کے بعد زوال شروع ہوتا ہے " ۔ شاید غزالی ہماری تہذیب کے نقطہ عروج کی نشانی ہیں  اور آج جب ہم علم کی پست ترین سطح پر جی رہے ہیں ایسے میں فلسفہ شناسی کے دعویدار ، عقلیت پسندی کے علمبردار وں کی اہلیت نتیجے میں الحاد سے ہی عیاں ہوجاتی ہے ۔ جو ذہن مذہب جیسے مرتب و منظم نظام علم کو سمجھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہو اس کے فلسفے کی اہلیت کیا ہوگی ؟

یہ پیراگراف دیکھیں

"مذہب جو بذات خود تضادات کا مجموعہ ہے ، وہ فلسفے اور منطق کے بارے میں بات کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ، کیونکہ اس کے لیے اسے فلسفیانہ اور منطقی ہونا پڑے گا ۔ فلسفے کی تاریخ میں فلسفیانہ اور منطقی دلائل کے استعمال سے کسی فلسفے کا رد ایک عمومی رویہ ہے ، کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ۔ غزالی کی بہرحال ناکامی یہ ہے کہ وہ چند تضادات کو عیاں ہی کرسکا لیکن ان کی تحلیل نہ کر پایا ، جیسے فختے نے کانٹین  طریقہ کار کا استعمال کر کے کانٹ کے فلسفے میں موجود تضادات کی تحلیل کی تھی ۔ " (ایک  کانٹ کا مرید یا جدید عقلیت پسند )

 

ذرا غور کریں  حضرت نے پہلے مذہب پہ   دوحکم لگائے ۔ نمبر ایک " تضادات کا مجموعہ " ۔ نمبر دو یہ فسلفے اور منطق کے بارے میں بات کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔

یہ جو دوسرا حکم ہے  اس کو قوت بخش بنانے کے لیے جو گرہ انہوں نے استعمال کی وہ ان کی مخالفت میں جا رہی ہے " کیونکہ اس کے لیے اسے فلسفیانہ اور منطقی ہونا پڑے گا "۔ گویا یہ اپنے پہلے حکم کی دلیل کے طور پر پیش فرما رہے ہیں کہ مذہب  چونکہ ہے ہی تضادات کا مجموعہ لہذا جب مذہبی آدمی فلسفے و منطق پہ نقد کرے گا تو  اسے مذہب سے نکل کر فلسفے و منطق کے میدان میں قدم رکھنا ہوگا ۔ 

خود ہی مدعی ، خود ہی منصف

کیسے کرلیتے ہیں یہ لوگ ، جو اپنے آپ کو عقلیت پسند کہتے ہوں اور اتنی دیدہ دلیری سے  علمی دھوکہ دہی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں ۔ دراصل مندرجہ بالا اقتباس حضرت کے ایک مکمل مضون سے لیا گیا ہے جہاں وہ غزالی کے اس نقطے کو بنیاد بنا کر بحث فرما رہے ہیں جہاں غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں " ان لوگون سے انہی کی زبان میں مناظرہ کریں " ۔ اس جملے کو بنیاد بنا کر انہوں نے یہ مکمل تعبیر باندھی ہے ۔

غزالی کے اس جملے کے معنی بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں ۔ کہ ہر علم کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں ۔ چونکہ ملحدین  نے جو فلسفہ و منطق کے اصول وضع کیے ہیں وہ  ایک طرح سے ان کے لیے مذہب کا ہی درجہ اختیار کرچکا ہے ۔ ان کے نزدیک منطق وہی ہے جو وہ کہیں ۔ خواہ اپ سو دلائل پیش کردیں انہوں نے تسلیم نہیں کرنے ۔ اس طرح  مذہبی اصطلاحات کی توہین ہی ہونی ہے کہ آپ کسی " میں نہ مانوں" کو سمجھانے کی کوشش کریں ۔  کیونکہ وہ "اہل " ہی نہیں ہے کہ اعلی علوم  اور اس کے اصول و ضوابط کو تسلیم کرسکے ۔ اس کی عقل ابھی اس درجے تک پہنچی نہیں مگر وہ "زعم " میں مبتلا ہوچکا ہے ۔ لہذا کوشش کی جائے کہ اسی کے میدان کو استعمال کرتے ہوئے اس کا زعم توڑنے کی کوشش ہو ۔

اس کا مطلب اگر عقلیت پسند یہ نکالیں کہ مذہب میں اہلیت ہی نہیں تو  "عقل والوں "کے سامنے اس خود ساختہ عقلیت پسندی  کی قلعی کھل جانی چاہیے ۔

Sunday, May 9, 2021

ہیولا

 

ہیولا

شہیر شجاع

سخت دھوپ کی تمازت سے اس کا بدن بھیگ چکا تھا ۔ وسیع النظر پھیلا صحرا جہاں دور دور تک سائے کی امید بھی نہیں تھی اورریت کی تپش سے اس کے پاوں شل ہورہے تھے ۔ اس نے آسمان کی جانب دیکھا لیکن اس کی آنکھیں سورج کی روشنی سے چندھیاگئیں اور اس کا ہاتھ غیر ارادی طور پر اپنی آنکھوں کے سامنے چھجا بنائے اٹھ گیا ۔ کچھ دیر تو اندھیرا سا چھایا رہا ۔ اس کینظروں کے سامنے کھلا آسمان تھا جو نیلگوں سمندر جیسا محسوس ہوتا تھا جہاں دور نظر دوڑائی جائے تو بھاپ اڑتی محسوس ہوتیہے ۔ سورج کی شعاعیں اس کا بدن جھلسا رہی تھیں وہ زیادہ دیر آسمان کی جانب نگاہ نہ رکھ سکا ۔

اس کے ذہن میں ایک گونج لہرائی “ غور کرو “ ۔ 

وہ کچھ دیر کے لیے ساکت ہوگیا ۔ مگر فورا ہی عیاری کے ساتھ اس کو جھٹک دیا ۔ اس نے سوچا میرا یہ سفر اور کس لیے ہے ؟ 

اس کا سفر مگر بنا کسی تدبیر کے تھا ۔ اس کو زعم تھا کہ شعور کے گوشے متحرک ہیں ۔ وہ دیکھ رہے ہیں ، تجزیہ کر رہے ہیں ، فکرمند ہیں ، اور نتیجہ خیزی تو وہ حاصل کر ہی لے گا ۔

وہ کچھ دور اور چلا ایسے میں اسے اپنے بائیں جانب مگر بہت دور ایک ہیولا سا نظر آیا ۔ 

اس کو تجسس ہوا کہ یہ کیا ہے ؟ کہیں میرے جیسا مسافر ہی تو نہیں ؟ 

اس نے اس ہیولے کی جانب اپنا رخ موڑ لیا ۔ وہ جتنا آگے جاتا ، ہیولا اس سے مزید دور ہوتا جاتا ۔ کافی طویل سفر پھر بھی اس نے کرلیا مگر اب آرام کرنا ضروری ہوگیا تھا ۔ اس نے کوشش کی کہ وہ ہیولا اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہوجائے ۔ اتنی مشقت کے بعد اسکے سفر میں کسی انجان منزل کے تعاقب میں کوئی حقیقت نمائی میسر آئی تھی وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا ۔ کچھ ہی دیر میںتھکن سے چور وہ نڈھال جسد نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو صحرا میں چاندنی بکھری ہوئی تھی اورآسمان میں پورا چاند اس کی جانب دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔ 

اس نے یک ٹک چاند پر نظریں جمائی رکھیں ۔ جو کچھ اس کے ذہن کے نگار خانے میں چاند سے متعلق مواد تھا انہیں دہرانے لگا ۔ مگراسے اس مخصوص وقت میں چاند بالکل بھی دلکش نہ لگا ۔ اس نے اپنے بستے سے دفتر نکالا اور قلم ہاتھ میں لیکر چند دکھ بھرےاشعار منضبط کردیے ۔ وہ انہیں بار بار پڑھتا ، نوک پلک سنوارتا ۔ اس کا دل خوشی سے معمور ہوجاتا ۔ 

اس نے حقارت سے چاند کی جانب دیکھا اور وہی اشعار جو اس نے ابھی نذر دفتر کیے تھے انہیں لے میں دہراتارہا ۔ 

اچانک اسے اس ہیولے کا خیال آیا ۔ اس نے چاروں جانب نگاہ دوڑائی مگر چاندنی سے پرے گھپ اندھیرے کے وہ کچھ نہ دیکھ سکا ۔ 

مگر وہ مطمئن تھا کہ اس کا سفر ضرور رنگ لائے گا ۔ وہ اپنی “ انجان منزل “ کو ضرور پالے گا ۔ اس نے اپنے سفری بستے سےچائے بنانے کا سامان نکالا ۔ چائے بنائی اور چسکیاں لینے لگا ۔ اس دوران وہ کافی ہشاش بشاش ہوچکا تھا ۔ کبھی کبھی دور کسیکتے کے بھونکنے کی آواز سے وہ چونک جاتا اور اسے ہیولے کا خیال آجاتا ۔ اسے محسوس ہوتا شاید وہی اس کی طلب تھی جو ابنظروں سے اوجھل پوچکی ہے۔ 

اس نے اپنا سامان باندھا اور پھر ایک نئی امنگ کے ساتھ اس “ ہیولے “ کے راستے کا تعین کر کے اس جانب چل پڑا ۔ 

Thursday, April 29, 2021

تہذیبی طعنہ زنی

تہذیبی طعنہ زنی 

شہیر شجاع


ہمیں اکثر طعنہ دیا جاتا ہے کہ "مغل، لودھی و سوری غزنوی باہر سے آئے تھے اور اپنی تہذیب لیکر آئے تھے اس پہ اسلامی تہذیب کا لیبل لگا کر فخر نہ کرنا چاہیے ۔ بلکہ ہماری تہذیب ہندوستانی ہے ۔"میرا کم فہمی پر مبنی شعور اس طعنے کو ہضم نہیں کر پاتا کیوں کہ تہذیب  اور ثقافت میں ایک بنیادی فرق ہوتا ہے ۔ ثقافتیں زمین سے جڑی ہوتی ہیں ۔ جیسے بلوچ ژقافت ، سندھی ، پنجابی ، سرائیکی ، پختون  اسی طرح دیگر ثقافتیں ۔ مگر تہذیب کو زمین سے جوڑ کر دیکھنا ایک خلا پیدا کرتا ہے ۔

کیا عورت کو ستی کرنا ہماری تہذیب ہے ؟ کیا بیوہ کو سفید کپڑے پہنا کر ایک کونے میں ڈال دینا ہماری تہذیب ہے ؟ کیا گائے کو ماتا ماننا ہماری تہذیب ہے ؟ کیا بڑوں کے پیر چھونا ہماری تہذیب ہے ؟  نہیں ہماری تہذیب کی خاصیت ہی یہی ہے کہ یہ پوری امت پر محیط ہے ۔ یہ آسمانی تہذیب ہے ۔ یہ ہمیں ایک دوسرے سے ملنے کے آداب سکھاتی ہے ۔ یہ پہننے اوڑھنے کا سلیقہ فراہم کرتی ہے ۔ یہ کھانے پینے سے لیکر زندگی کے ہر لمحے میں راہنمائی کرتی ہے ۔ پھر تہذیب کسی بھی زمینی خطے سے منسلک نہیں رہ جاتی ۔ بلکہ یہ تو اس اسلامی تہذیبی اقدار کی خصوصیت ہے کہ اس کو کسی کی بھی زمینی عصبیت حاصل نہیں ۔ عرب ہوں ترک و افغان ہوں یا کسی بھی خطے کا باشندہ تہذیبی عصبیت کا دعوی نہیں کرسکتا ۔ یہ ایسی خصوصیت ہے جو تمام عالم اسلام کو ایک لڑی میں پروتی ہے ۔

زمینی تہذیب کی باتیں عموما زبان کو لیکر کہی جاتی ہیں ۔ کہ ہندو پاک کا مسلمان اردو میں سنسکرت یا ہندی کی نسبت عربی و فارسی کو فوقیت و اہمیت دیتا ہے ۔ اور طعن طرازی کے اسباب میں ایران و عرب سے  تنافر ہوسکتے ہیں واللہ اعلم ۔ اگر ایسا ہے تو یہ ایک بڑی فاش غلط فہمی محسوس ہوتی ہے ۔ کیونکہ ہر تہذیب کی ایک علمی زبان ہوتی ہے ۔ اور مسلمانوں کی علمی زبان "عربی " ہے ۔ ٹھیک اسی طرح جیسے یہود کی نسبت عبرانی سے اور ہنود کی سنسکرت سے  وغیرہ وغیرہ ۔ ہم کسی انگریز مسلمان  کو بھی اگر بات کرتے سنیں گے تو ہم اس خصوصیت کو ب؟خوبی محسوس کر سکتے ہیں جب وہ عربی الفاظ کا استعمال جا بجا کرتا نظر آتا ہے ۔ اس کا سبب عربوں کا کوئی کارنامہ ہے نہ ہی ان سے نسبت یہ فقط علمی نسبت ہے ۔ اور ہندوستان میں چونکہ فارسی زبان بھی علم و ادب کی سرکاری سرپرستی کی حامل رہی ہے تو اس زبان  نے بھی علمی ماخذ کا کوئی درجہ حاصل کرلیا جو خصوصا ادب سے متعلق ہے ۔ ہم اگر بحیثیت ہندوستانی جائزہ لیں تو ہماری مذہبی علمی  ماخذ عربی ہے اور اور ادب  کے لیے فارسی کی جانب جانا پڑتا ہے ۔ ہم دیکھیں گے کہ ہمارا  تقریبا سارا ادب فارسی سے متاثر ہے ۔ ہم فارس کے ادیبوں کو تو جانتے ہیں مگر عرب ادباء سے شاذ ہی واقفیت رکھتے ہیں ۔ سو ایسی شفاف صورتحال میں ہندوستانی تہذیب کہہ کر اپنے آپ سے یا اپنی زبان سے کراہت محسوس کرنا درست رویہ نہیں ہے ۔ عصبیتی طور پر ہم سب مسلمان ہیں اگر فکر کی بنیاد اسی اینٹ پر ہے تو واضح ہوجاتا ہے کہ تہذیبی زبان کی بنیاد کسی قوم کی  جاگیر نہیں ہے ۔ اور ہندوستانی ہونے کی بنیاد پر عربی زبان سے تنافر کا کوئی سبب باقی نہیں رہ جاتا بلکہ ان دونوں زبانوں کو رواج دینے کی سعی کی صورت نکلتی ہے ۔

Saturday, April 17, 2021

رمضان اور ذوق عبادت

 عبادت کا ذوق عبادت کے سو بہانے تلاش کرلیتا ہے اور ذوق نہ ہو تو ترک کے بھی ہزار بہانے تراش لیتا ہے ۔ 

یہ وہ مہینہ ہے جہاں انسان اپنے نفس کے روبرو ہے ۔ چاہے تو پہچان لے ، یا جانے دے ۔ 

کم از کم اسلامی ملک ہونے کا اتنا فائدہ ہے کہ عبادت کا احترام موجود ہے ۔ چہ جائیکہ اسے ترک کرنے کے ہزار بہانے تراش لیے جائیں طنز ، طعن و تشنیع کے تیر تیار کر لیے جائیں ، پھر بھی عبادت کی اجتماعیت کے اثر سے طبیعت میں موجود ہونے کی جو حقیقت ہے یہ غیرمذہبیت کو سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے ۔ جیسے قرآن مجید کی تلاوت کریں تو کہتے ہیں “ سمجھ تو کچھ نہیں آرہا پھرپڑھنے کا کیا فائدہ ، یہ تو وقت کا ضیاع ہے “ اس قسم کے غیرعقلی افکار کے ذریعے وہ خود تو محروم ہیں ہی دوسروں کو بھی رکھنا چاہتے ہیں ۔

یہ قرآن کا مہینہ ہے سمجھ کر پڑھنے کی کوشش یقینا ضرور کرنی چاہیے مگر جہاں تک ہوسکے اس قسم کی تاویلات کو محرومی کا سبب نہ بنائیں ۔ 

یہ ماہ رمضان ، یہ بابرکت و رحمت و فضیلت کا مہینہ اپنے بہترین “ اذواق” کی تعمیر کا نادر موقع ہے ۔ اللہ جل شانہ اس سے استفادے کی توفیق عطا فرمائیں آمین


شہیر شجاع

Sunday, March 14, 2021

جھانسہ

جھانسہ

شہیر شجاع

یہ میں ہی تو ہے جو انسان کے اندر کے تمام مسائل کی جڑ ہے ۔ جہاں وہ  خود اذیتی کے مراحل سے گزرتا ہے تو اس کا سبب اس کی ذاتی خواہشات کی ناآسودگیاں ہوتی ہیں ۔ اس کی جبلی تشنگیاں ہوتی ہیں ۔ اسے سکھایا جاتا ہے کہ اسے اگر پڑھنا ہے تو اس لیے کہ وہ سماج میں اونچا مقام حاصل کرسکے اور اس کے حصول کے لیے اسے کسی اونچے عہدے تک پہنچنا ہوگا جہاں بیٹھ کر وہ اپنا بینک بیلنس پھیلا سکے اور آسائشات زندگی کو اپنے زندگی میں شامل کرسکے ۔ اور یہ فکر اس طرح پروان چڑھتی ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد ہی جبلتوں کی تسکین بن کر رہ جاتا ہے ۔ اور اسے ہر پرآسائش انسان اپنے سے بہتر محسوس ہوتا ہے ۔ ہر "مادر پدر آزاد" انسان میں اسے آزادی نظر آتی ہے ۔ اور پھر اس قسم کا نعرہ جنم لیتا ہے  " میرا جسم ، میری مرضی " ۔ جب اسے کہا جاتا ہے کہ تمہاری عزت ، احترام ، وجہ تقدیر ، سبب محبت  اور توقیر ذات تو بہن ، بیٹی ، بیوی اور سب سے بڑھ کر "ماں" ہونے میں ہے تو اس کا جواب ہوتا ہے " ان سب میں  ، میں کہاں ہوں ؟" اس ذات کے پیچاک میں غلطاں و پیچاں انسان اس حقیقت سے بھی ناآشنا ہوجاتا ہے کہ انسان کی پہچان و قدر ہی اجتماعی ہے ۔ افراد میں تو اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں ،ورنہ رہبانیت بری کیوں ہوتی ؟ دنیا میں  خاندان کا وجود ہی کیوں ہوتا ؟ ریاستیں ہی وجود میں نہ آتیں  اور نہ ہی تہذیبوں سے ہم آشنا ہوتے ۔ یہ انسانوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو باہم مل کر "ایک تہذیب" کی تشکیل کرتا ہے ، ہر شخص کی شناخت اس کی ذات سے نہیں اس کی تہذیب سے ممکن ہوتی ہے ۔ اگر کسی شخصیت میں سو گن ہوں اور انہیں سراہنے والا ہی کوئی نہ ہو تو ان کمالات کا کیا فائدہ ؟ نہ ان کمالات سے اس کی اپنی ذات کو فائدہ اور نہ دوسروں کو ۔ بہن ، بیٹی ، بیوی اور ماں ہونے میں جو احترام ، توقیر و قدر ہے وہی بھائی ، بیٹے ، شوہر اور باپ ہونے میں ہے ۔ انسان کی انفرادی حیثیت میں کیا شناخت اور کیا  اخلاقی قدر ہوسکتی ہے ؟ اس "میں" کے جھانسے سے نکل کر حقیقت میں اپنے آپ کو ، اپنی حقیقت کو پہچاننا نہایت ضروری ہے ۔ ورنہ  یہ میں درحقیقت جو "نفس" ہے جسے رب تعالی شانہ نے انسان کا ازلی دشمن قرار دیا ہے ، اس نے برباد کردینا ہے ۔  


Thursday, March 4, 2021

اقتدار کا کھیل

 

اقتدار کا کھیل

شہیر شجاع

اکثر دو مخالف سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی باہم ملاقات کی ہنستے مسکراتے تصویر نظر آتی ہے تو خیال گزرتا ہے کہ یہ جو ڈائس پہ کھڑے ہو کر مکے لہرا کر عوام کے سامنے مخالف کی دھجیاں اڑا رہے ہوتے ہیں ، عام آدمی کے دلوں میں اک نفرت بیدار کر رہے ہوتے ہیں ، تو کیا یہ بس سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہوتی ہے ؟  اور ان کی جماعت کو چاہنے والوں میں اضافہ ہو ۔ یا واقعتا ان کے بھی دلوں میں مخالف سے نفرت موجود ہوتی ہے ؟ اگر دلوں میں نفرت ہونے کے باوجود جو یہ ہنستے مسکراتے مل رہے ہوتے ہیں ، کیا یہ منافقت ہوتی ہے ؟ محض ڈھکوسلا اور دکھاوا ؟

پہلے زمانوں میں اقتدار کی جنگیں تلواروں کے سائے میں ہوا کرتی تھیں ۔ جو اقتدار کے خواہش مندوں کے درمیان فیصلے جنگ کے میدان میں ہوا کرتے تھے ۔ خون کی ندیاں بہہ جایا کرتی تھیں ۔ اور جیتنے والا اقتدار کا حقدار ٹہرتا تھا ۔ پھر زمانے نے کروٹ لی انسان نے فیصلہ کیا کہ اب ان جنگوں سے سے گریز کرنا چاہیے اور اقتدار کا فیصلہ عوام کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے ۔ وہ جسے بہتر جانیں اسے اپنا بادشاہ چن لیں ۔ جس کا فیصلہ ووٹ کے ذریعے ہوا کرے ۔ اب بھی وہی دو فریق تھے ۔ ایک عوام دوم اقتدار کے خواہش مند ۔ لیکن اب میدان کارزار تلواروں کے سائے میں نہیں بلکہ  پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے اور اپنے نشان پر مہر لگوانے کے لیے عوام کی ذہن سازی یا رائے سازی کے لیے سجنے لگے ۔ پہلے تو بس طاقت اور جنگی حکمت نے فیصلہ کرنا ہوتا تھا ۔ اب معاملہ مختلف ہوگیا ۔ اب ایک ہی تخت کے کئی امیدوار ہیں اور ان سب کی خواہش کہ عوام انہیں اقتدار سونپ دیں اور اپنا بادشاہ مان لیں ۔ عوام سے حق اقتدار حاصل کرنے کے دو اسباب ہوسکتے ہیں ۔ ایک اپنے آپ کو عوام کا درست انتخاب ثابت کیا جائے ۔ اور اپنی خصوصیات بتائی جائیں اور عملا بھی دکھائی جائیں ۔ دوم  ، مخالف کو غلط اور بد ثابت کیا جائے ۔

ہم دیکھ سکتے ہیں  ہماری جماعتیں عموما دوسرا رستہ اختیار کرتی ہیں ۔ کیونکہ یہ آسان بھی ہے اور پر اثر بھی ۔ کیونکہ اس تالاب کی ساری مچھلیاں ہی گندی ہیں ۔ اور گندی مچھلی دوسری مچھلی کو گندا ثابت کرتی ہے ۔

یہ ہماری سیاست ہے اور یہ ہم عوام ہیں ۔ اور یہ اقتدار کا کھیل ہے ،۔

Wednesday, March 3, 2021

رومانوی تصورات اس کے قاتل ہیں

رومانوی تصورات اس کے قاتل ہیں

شہیر شجاع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چلی جارہی تھی ،اس وادی کی جانب جہاں اسے نجات نظر آتی تھی ۔ اس کا ذہن رومانوی تصورات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا ۔ وہ محسوس کر رہی ہوگی  کہ اسکے ندی میں کودنے کے بعد وہ پانی ہوجائے گی اور ندی کی طرح بہتی رہے گی ، یا ہوا میں تحلیل ہوجائے گی اور اڑتی پھرے گی ، اپنے اداس والدین کو تھپکیاں دیا کرے گی ،اپنے شوہر کی بے بسی دیکھا کرے گی ، اپنے ستانے والوں کودکھی دیکھ کر مسکرایا کرے گی ، اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوئے گی اور سمندر کی گہرائیوں میں موتیاں چنے گی ، صبح و شام کی مسرتیں سمیٹے گی ،"خدا سے شکوے کرے گی کہ اسے ایسا کیوں بنایا ؟" انہی سوچوں میں گم اس کے قدم آگے کی جانب بڑھتے جا رہے تھے ۔ اک سرد لہر اس کے بدن میں دوڑ جاتی تھی ۔ "میدان کارزار میں شہادت کے طالب کے تصورات کی مانند کہ اس کی جان جان آفرین کے سپرد ہو رہی ہے ، اور اس نے ہمیشہ کے لیے سرخرو ہوجانا ہے ۔ "وہ مسکرائی ہوگی ۔ اس کے اندر موجود نفسانی برتری کی خواہش نے انگڑائی لی کہ ہر نفس خود پسند ہوتا ہے اسے اپنی بڑائی سننا اپنی تعریف سننا پسند ہوتا ہے ۔ شاید اسی نفسیات کے تحت اس نے ندی کنارے سیل فون نکالا ہوگا اور ویڈیو بنانے لگی ہوگی۔ جس میں وہ اپنی موت کی ذمہ داری سے ہر ایک کو سبکدوش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے ۔ ایک ایسا تضاد جس میں آج ہمارا تمام معاشرہ مبتلا ہے ۔ اس کے والدین اسے زندہ رہنے کی ناکام تلقین کر رہے ہیں ۔ مگر اس کو موت کے بعد کے نجات کا تصورمرنے پر ابھار رہا ہے ۔ اس کے ذہن میں سینکڑوں بالی ووڈ فلموں کی مناظر چل گئے ہونگے ۔ بالآخر انہی کسی منظر کے تصور میں وہ پانی میں کود گئی ہوگی ۔ اور جب پانی اس کے پھیپھڑوں میں جانا شروع ہوا ہوگا وہ تلملائی ہوگی اس نے جان ماری ہوگی کہ کسی طرح وہ یہاں سے نکل آئے اور جب اس کی سانسیں اکھڑنے لگی ہونگی اور اس کی روح کھینچی جا رہی ہوگی تو اسے اپنے ماں باپ کی تلقین ضرور یاد آئی ہوگی ۔

مگر وقت گزر چکا تھا ۔

"معاشرتی و سماجی ناانصافیاں  ساری دنیا میں موجود ہیں ۔ اس کی صورتیں مختلف ہیں ۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ لڑکی کو خود مختار ہونا چاہیے ۔ یہ لڑکی بھی خود مختار تھی ۔ جاب کرتی تھی ۔ اپنی زندگی خود گزار سکتی تھی ۔ اسے ایسے سسرالیوں یا شوہر کی ضرورت نہیں تھی جو اس کی زندگی میں زہر گھول دیں ۔ مگر اس کے باوجود اس نے کونسا رستہ اختیار کیا ؟ اور کیوں ؟

احمد جاوید صاحب نے تہذیب کی کیا عمدہ  تعریف فرمائی ہے ۔ ہر تہذیب دو عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ تصور حقیقت اور تصور غایت ۔ یہی دو بنیادی عناصر تہذیب کی تشکیل کرتے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے ہماری تہذیب ہمارے ہاتھوں ہی مٹ رہی ہے ۔ ہماری تہذیبی فکر میں "تصور حقیقت " و "تصور غایت " نہ صرف دھندلا گیا ہے بلکہ اس پر رنگ برنگی لیپا پوتی بھی ہوگئی ہے ۔   

فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...