Thursday, March 4, 2021

اقتدار کا کھیل

 

اقتدار کا کھیل

شہیر شجاع

اکثر دو مخالف سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی باہم ملاقات کی ہنستے مسکراتے تصویر نظر آتی ہے تو خیال گزرتا ہے کہ یہ جو ڈائس پہ کھڑے ہو کر مکے لہرا کر عوام کے سامنے مخالف کی دھجیاں اڑا رہے ہوتے ہیں ، عام آدمی کے دلوں میں اک نفرت بیدار کر رہے ہوتے ہیں ، تو کیا یہ بس سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہوتی ہے ؟  اور ان کی جماعت کو چاہنے والوں میں اضافہ ہو ۔ یا واقعتا ان کے بھی دلوں میں مخالف سے نفرت موجود ہوتی ہے ؟ اگر دلوں میں نفرت ہونے کے باوجود جو یہ ہنستے مسکراتے مل رہے ہوتے ہیں ، کیا یہ منافقت ہوتی ہے ؟ محض ڈھکوسلا اور دکھاوا ؟

پہلے زمانوں میں اقتدار کی جنگیں تلواروں کے سائے میں ہوا کرتی تھیں ۔ جو اقتدار کے خواہش مندوں کے درمیان فیصلے جنگ کے میدان میں ہوا کرتے تھے ۔ خون کی ندیاں بہہ جایا کرتی تھیں ۔ اور جیتنے والا اقتدار کا حقدار ٹہرتا تھا ۔ پھر زمانے نے کروٹ لی انسان نے فیصلہ کیا کہ اب ان جنگوں سے سے گریز کرنا چاہیے اور اقتدار کا فیصلہ عوام کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے ۔ وہ جسے بہتر جانیں اسے اپنا بادشاہ چن لیں ۔ جس کا فیصلہ ووٹ کے ذریعے ہوا کرے ۔ اب بھی وہی دو فریق تھے ۔ ایک عوام دوم اقتدار کے خواہش مند ۔ لیکن اب میدان کارزار تلواروں کے سائے میں نہیں بلکہ  پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے اور اپنے نشان پر مہر لگوانے کے لیے عوام کی ذہن سازی یا رائے سازی کے لیے سجنے لگے ۔ پہلے تو بس طاقت اور جنگی حکمت نے فیصلہ کرنا ہوتا تھا ۔ اب معاملہ مختلف ہوگیا ۔ اب ایک ہی تخت کے کئی امیدوار ہیں اور ان سب کی خواہش کہ عوام انہیں اقتدار سونپ دیں اور اپنا بادشاہ مان لیں ۔ عوام سے حق اقتدار حاصل کرنے کے دو اسباب ہوسکتے ہیں ۔ ایک اپنے آپ کو عوام کا درست انتخاب ثابت کیا جائے ۔ اور اپنی خصوصیات بتائی جائیں اور عملا بھی دکھائی جائیں ۔ دوم  ، مخالف کو غلط اور بد ثابت کیا جائے ۔

ہم دیکھ سکتے ہیں  ہماری جماعتیں عموما دوسرا رستہ اختیار کرتی ہیں ۔ کیونکہ یہ آسان بھی ہے اور پر اثر بھی ۔ کیونکہ اس تالاب کی ساری مچھلیاں ہی گندی ہیں ۔ اور گندی مچھلی دوسری مچھلی کو گندا ثابت کرتی ہے ۔

یہ ہماری سیاست ہے اور یہ ہم عوام ہیں ۔ اور یہ اقتدار کا کھیل ہے ،۔

Wednesday, March 3, 2021

رومانوی تصورات اس کے قاتل ہیں

رومانوی تصورات اس کے قاتل ہیں

شہیر شجاع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چلی جارہی تھی ،اس وادی کی جانب جہاں اسے نجات نظر آتی تھی ۔ اس کا ذہن رومانوی تصورات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا ۔ وہ محسوس کر رہی ہوگی  کہ اسکے ندی میں کودنے کے بعد وہ پانی ہوجائے گی اور ندی کی طرح بہتی رہے گی ، یا ہوا میں تحلیل ہوجائے گی اور اڑتی پھرے گی ، اپنے اداس والدین کو تھپکیاں دیا کرے گی ،اپنے شوہر کی بے بسی دیکھا کرے گی ، اپنے ستانے والوں کودکھی دیکھ کر مسکرایا کرے گی ، اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوئے گی اور سمندر کی گہرائیوں میں موتیاں چنے گی ، صبح و شام کی مسرتیں سمیٹے گی ،"خدا سے شکوے کرے گی کہ اسے ایسا کیوں بنایا ؟" انہی سوچوں میں گم اس کے قدم آگے کی جانب بڑھتے جا رہے تھے ۔ اک سرد لہر اس کے بدن میں دوڑ جاتی تھی ۔ "میدان کارزار میں شہادت کے طالب کے تصورات کی مانند کہ اس کی جان جان آفرین کے سپرد ہو رہی ہے ، اور اس نے ہمیشہ کے لیے سرخرو ہوجانا ہے ۔ "وہ مسکرائی ہوگی ۔ اس کے اندر موجود نفسانی برتری کی خواہش نے انگڑائی لی کہ ہر نفس خود پسند ہوتا ہے اسے اپنی بڑائی سننا اپنی تعریف سننا پسند ہوتا ہے ۔ شاید اسی نفسیات کے تحت اس نے ندی کنارے سیل فون نکالا ہوگا اور ویڈیو بنانے لگی ہوگی۔ جس میں وہ اپنی موت کی ذمہ داری سے ہر ایک کو سبکدوش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے ۔ ایک ایسا تضاد جس میں آج ہمارا تمام معاشرہ مبتلا ہے ۔ اس کے والدین اسے زندہ رہنے کی ناکام تلقین کر رہے ہیں ۔ مگر اس کو موت کے بعد کے نجات کا تصورمرنے پر ابھار رہا ہے ۔ اس کے ذہن میں سینکڑوں بالی ووڈ فلموں کی مناظر چل گئے ہونگے ۔ بالآخر انہی کسی منظر کے تصور میں وہ پانی میں کود گئی ہوگی ۔ اور جب پانی اس کے پھیپھڑوں میں جانا شروع ہوا ہوگا وہ تلملائی ہوگی اس نے جان ماری ہوگی کہ کسی طرح وہ یہاں سے نکل آئے اور جب اس کی سانسیں اکھڑنے لگی ہونگی اور اس کی روح کھینچی جا رہی ہوگی تو اسے اپنے ماں باپ کی تلقین ضرور یاد آئی ہوگی ۔

مگر وقت گزر چکا تھا ۔

"معاشرتی و سماجی ناانصافیاں  ساری دنیا میں موجود ہیں ۔ اس کی صورتیں مختلف ہیں ۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ لڑکی کو خود مختار ہونا چاہیے ۔ یہ لڑکی بھی خود مختار تھی ۔ جاب کرتی تھی ۔ اپنی زندگی خود گزار سکتی تھی ۔ اسے ایسے سسرالیوں یا شوہر کی ضرورت نہیں تھی جو اس کی زندگی میں زہر گھول دیں ۔ مگر اس کے باوجود اس نے کونسا رستہ اختیار کیا ؟ اور کیوں ؟

احمد جاوید صاحب نے تہذیب کی کیا عمدہ  تعریف فرمائی ہے ۔ ہر تہذیب دو عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ تصور حقیقت اور تصور غایت ۔ یہی دو بنیادی عناصر تہذیب کی تشکیل کرتے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے ہماری تہذیب ہمارے ہاتھوں ہی مٹ رہی ہے ۔ ہماری تہذیبی فکر میں "تصور حقیقت " و "تصور غایت " نہ صرف دھندلا گیا ہے بلکہ اس پر رنگ برنگی لیپا پوتی بھی ہوگئی ہے ۔   

Saturday, February 27, 2021

شکوہ کناں پردیسی

 شکوہ کناں پردیسی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اکثر دیکھنے میں آتا ہے پردیسی دوست شکوہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کی کمائی پہ دیس میں ان کے والدین اور ان کے بھائی بہن عیاشیاں کر رہے ہیں اور ان کی اہمیت محض پیسہ کمانے کی مشین جیسی رہ گئی ہے یا اس قسم کے دوسرے شکوے ۔ 

شاید ایسا ہوتا بھی ہو پر ایسی مثالیں حقیقتا بہت کم ہی ہوتی ہیں ۔ اگر ہوتی بھی ہیں تو میرا ماننا ہے کہ یہ شکوہ ان کا قطعا بجا نہیں ہے ۔ کیونکہ پردیس جانا عموما پاکستان کے اکثر نوجوانوں کا خواب ہوتا ہے ۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ باہر جائیں گے تو زیادہ پیسے کمائیں گے ۔ ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی ہوگی ۔ ترقی یافتہ ممالک کی چکا چوند سے لطف اٹھائیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ اور باہر جاکر حقیقتا وہ ان آسائشوں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اور ان آسائشات کو ترک کرنا ان کے بس میں نہیں رہتا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آسائشات انہیں وطن واپسی سے روکے رکھتی ہیں ۔ اور وہ اپنی زندگی باہر ہی بسر کرنا بہتر سمجھتے ہیں ۔ 

ہمارے پسماندہ معاشرے میں عموما باہر جانے والے دو قسم کے افراد ہوتے ہیں ۔ ایک اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی نیت سے کوچ کرتے ہیں جبکہ دوسرے اپنے خاندان کو سپورٹ کرنے کے “ بہانے “ سفر کرتے ہیں ۔ سو دوسری قسم کے افراد ہی زیادہ تر اپنے خاندان سے شکوہ کرتے پائے جاتے ہیں ۔ اور “ خود ترسی “ جو ہماری قومی نفسیات بن چکی ہے ، سے مجبور اپنے دوست احباب میں اپنے گھر والوں کو اپنی جان کا دشمن بتاتے لطف محسوس کرتے ہیں ۔ جبکہ وہ خود ان سے بدرجہا بہتر زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں ۔ ریالات ، ڈالر ، یورو و دینار میں سے کتنا حصہ وہ گھر والوں پہ خرچ کرتے ہونگے ؟ وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے باہر آنے کا سبب ہی یہی تھا کہ ان کے خاندان والے زندگی کی آسائشات سے مستفید ہوسکیں اور جب ان کی قربانی سے وہ مستفید ہونے لگیں تو انہیں لگتا ہے کہ وہاں فضول خرچیاں شروع ہوگئی ہیں ۔ ان کا خیال نہیں رکھتا کوئی ، بلکہ انہیں پیسوں کی مشین سمجھتا ہے ۔ بالآخر ہوتا یہ ہے کہ شادی کے بعد ایسے افراد اپنی زندگی الگ تھلگ کرلیتے ہیں ۔ اور ان کے والدین آخری سانسیں اپنے عزیز بیٹوں کو دیکھنے ، سننے کو ترستے گزاردیتے ہیں ۔ یہاں تک کے ان کے جنازوں کو کندھا دینا بھی اکثر پردیسی بیٹوں کو نصیب نہیں ہوتا ۔ 

یہ عجیب خود ترسی کی نفسیات ہے ۔ یہاں ہر شخص کی انجانی خواہش جیسے دوسروں کی ہمدردی بٹورنا رہ گئی ہو ۔ وہ بلند اخلاق ، وہ بلند حوصلے ، وہ قربانی کا مزاج مفقود ہو کر رہ گیا ہے ۔ ایسے میں مقاصد زندگی کو طے کرنا ، سوچ و فکر کا تخلیقی و تعمیری ہونا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ ہمیں اس نفسیات سے باہر نکلنا ہوگا ۔ 

خود ترسی پس ماندگی کی علامت ہے جبکہ عاجزی میں لیاقت چھپی ہے ۔ اور عاجزی علم کی گہرائیوں اور عمل کی مشقتوں میں پنہاں ہوتی ہے۔

شکوہ کناں رہنے میں اطمینان نہیں بلکہ شکر گزاری میں سکون ہے ۔

میں پردیسی شکوہ کناں دوستوں سے اتنا ہی کہوں گا کہ اپنوں پہ اعتماد کرنا سیکھیں اور محض پیسہ کمانے کی وجہ سے اپنے ماں باپ کے خود باپ نہ بن جائیں ۔ آپ کیا جانیں آپ کی ماں راتوں کو اٹھ اٹھ کر ، دن میں چلتے پھرتے آپ کے لیے دعا گو رہتی ہے اور آپ کا باپ اپنے گھر کے سکون کو دیکھ کر آپ کے لیے دعائیں کرتا رہتا ہے ۔ تب جا کر آپ میں اتنی استطاعت پیدا ہوتی ہے کہ آپ بہت سی مشقتوں کو برداشت کرسکیں اور ان سے کہیں بڑھ کر آسائشوں سے مستفید ہوسکیں اور اللہ جل شانہ آپ کے رزق میں برکت ڈال دے جس سے پیچھے والوں کے لیے بھی آپ ذریعہ بنے رہیں ۔ ورنہ آپ میں اتنی استطاعت ، اہلیت و اعلی قابلیت ہوتی تو کبھی اپنا وطن نہ ترک کرتے ۔ بلکہ بدتر حالات کا مقابلہ کرتے اور اپنا رستہ بناتے ۔ 


شہیر شجاع

کامیابی کی بازگشت

 کامیابی کی بازگشت 


ہم پیدا ہوتے ہی جس جملے کی بازگشت سے روشناس ہوتے ہیں وہ ہے “ زندگی میں کامیاب انسان بننا ہے “ ۔ آیا یہ کامیاب انسان کون ہوتے ہیں ؟ یا کامیاب انسان کیسا ہوتا ہے ؟ کامیابی کی حقیقت کیا ہے ؟ کامیابی حقیقتا خارجی ہے یا داخلی ؟ ایسے بہت سے سوالات یقینا ہیں جو کامیابی کی لفظا و معنا تشریح کے لیے ضروری ہیں ۔ یقینا ہم کسی نہ کسی سطح پر اس کے مفہوم سے آشنا ہیں اور وہی مفہوم ہماری عملی زندگی میں کارفرما ہے ۔ یہی مفہوم ہماری فکری راہ متعین کرتا ہے اور راہ عمل کا انتخاب کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ 

اگر ہم ذرا دیر رک کر آس پاس گہری نظر دوڑائیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ ہر کوئی آگے نکل جانے کی تگ و دو میں ہے ۔ کسی طرح اس کی جبلی خواہشات ، صورت حقیقی میں تبدیل ہوجائیں ۔ اور اس کے لیے ہم کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں ۔ خواہ ضمیر بیچنا پڑ جائے ، یہاں تک کہ کسی انسان کے قتل سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ ہم سنتے تو ہیں کہ “ زندگی ایک سفر ہے“ ۔ اور ایسے محاوروں سے ہم بہت محظوظ ہوتے ہیں ۔ مگر عملی طور پر ہم دوڑ میں لگے ہیں ۔ ایک ایسی دوڑ جس کی انتہا سے یقینا ہم نا آشنا ہیں ۔ 

کیا کامیابی وہ ہے جو ہم اپنے سے زیادہ با اختیار ، ذی شہرت ، با صلاحیت یا عام افراد میں نمایاں لوگوں یا آسائشات زندگی سے لطف اندوز ہوتے انسانوں کو دیکھ کر محسوس کرتے ہیں ؟

یا یہ کوئی داخلی شے ہے ، جو انسان کی “ فطری “ تسکین سے متعلق ہے ؟


شہیر

Saturday, August 22, 2020

خیالات

 

شہیر 

ہمارے اذہان سوچتے ہیں ۔ سوچ کے بھی محرکات ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ذہن خودمختار حیثیت میں نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا اور اس امر کے ادراک سے انسان عموما خالی ہوتا ہے ۔ اور ذہن کی تسکین کے حصول میں نامکمل راستوں پہ چل پڑتا ہے ۔ لہذا وہ مزید گنجلک مراحل میں داخل ہوجاتا ہے ۔

یہاں انسان دو غلطیاں کرتا ہے ۔ اول وہ منزل کا تعین نہیں کرتا اور بے منزلی کا سفر سوائے آوارہ گردی کے کیا ہوسکتا ہے ؟ دوم وہ انسانی وجود یعنی اپنے آپ کے فہم سے بھی ناآشنا ہوتا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ راستے کے شعور سے عاری ہوجاتا ہے ۔ فعلیت کے عناصر غیرفعال رہتے ہیں اور سارا بوجھ ذہن کو سنبھالنا پڑتا ہے جس کا وہ اہل نہیں ہوتا ۔

میں اور روایت کا میں

آج ہم اس زمانے میں جی رہے ہیں جہاں ہم نے اسی رویے کو اپنا رکھا ہے ۔ تعمیر و تنقید ساتھ ساتھ چلتے ہیں یعنی تعمیر ہوگی تو تنقید بھی ہوگی ۔ اور تعمیر کے لیے تخلیقی عوامل کا ہونا بھی ضروری ہے ۔

معلوم ہوتا ہے جب تخلیقی وفور نا پید ہوجائے تو تنقید کی جگہ تنقیص لے لیتی ہے اور دیکھنے والی عینک شفاف نہیں رہ پاتی ۔ ایک ہٹ دھرمی مزاج کا حصہ بننے لگتی ہے ۔ اور مختلف فکری تعصبات ، انسان کو متشدد بنادیتے ہیں ۔

میں اگر کسی تہذیب کا حامل ہوں تو اس کا اچھا برا ہر حصہ “ میں “ ہی ہوں ۔ اگر میں اس میں سے چھانٹتا ہوں تو میرا بدن مکمل کیونکر ہوسکتا ہے ؟

جو کل برا تھا اس سے تہی دامن ہونے کا رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ آج بھی برا ہے ۔ جب میں نے اسے برا مان لیا تو گزرے کل کو اپنا کر اپنے آج کو اس سے پاک کرنا میری ذمہ داری ہے ۔ جب میں اس کل سے ہی لاتعلق ہوجاوں گا تو یقینی طور پر آنے والا کل، آج سے لاتعلق ہوسکتا ہے ۔ تو میں آج کو کس طرح مکمل تعمیر کرسکتا ہوں ؟

میرا مستقبل کیونکر روشن ہوسکتا ہے ؟

کیا یہ رویہ اپنی “ روایت “ سے کٹ جانے کی وجہ سے تو نہیں پیدا ہوا ؟


سرمایہ دارانہ تعلیم اور جدیدیت

سرمایہ دارانہ تعلیم اور جدیدیت


یوں محسوس ہوتا ہے جیسے "جدیدیت " سرمایہ دار کی جانب سے پیش کردہ ایسا تصور حیات ہے جس میں ملبوس ہوکر انسان "میں " میں مبتلا ہوجائے اور سرمایہ دار کی ترقی کے لیے اپنی ساری قوت صرف کردے ۔ بیس بچیس سال  کی انتھک محنت کے بعد ایک ڈگری کا حصول اس کو کسی سرمایہ دار کی خدمت کا حقدار بنادے ۔ جس کے عوض اس کی ذات کو چند جبلی آسائشات میسر آجائیں ۔

اسی بنیاد پر کامیابی و ناکامی کا تصور قائم ہے ۔ اسی ذیل میں آج کے اخلاقی تصورات تشکیل پاتے ہیں ۔ جہاں خدمت کی باقاعدہ ویڈیو بنائی جاتی ہے  ۔ فوٹو سیشن ہوتا ہے ۔ ناموں کی تختیاں سجائی جاتی ہیں ۔

غریب ایک ایسا پروڈکٹ ہے جس سے ڈرایا جاتا ہے ، جسے استعمال کیا جاتا ہے ، جسے گالی سمجھا جاتا ہے ، جسے معاشرے کا کلنک سمجھا جاتا ہے ۔ ہنرمندی "عیب" اور جفاکشی بے حمیتی کا استعارہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب "افسر " عوام میں آتا ہے تو "ہٹو بچو " کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔

کیسے تضادات سے بھرے تصورات ہیں ۔ اور یہ جدیدیت ہے ۔


فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...