Saturday, February 27, 2021

شکوہ کناں پردیسی

 شکوہ کناں پردیسی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اکثر دیکھنے میں آتا ہے پردیسی دوست شکوہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کی کمائی پہ دیس میں ان کے والدین اور ان کے بھائی بہن عیاشیاں کر رہے ہیں اور ان کی اہمیت محض پیسہ کمانے کی مشین جیسی رہ گئی ہے یا اس قسم کے دوسرے شکوے ۔ 

شاید ایسا ہوتا بھی ہو پر ایسی مثالیں حقیقتا بہت کم ہی ہوتی ہیں ۔ اگر ہوتی بھی ہیں تو میرا ماننا ہے کہ یہ شکوہ ان کا قطعا بجا نہیں ہے ۔ کیونکہ پردیس جانا عموما پاکستان کے اکثر نوجوانوں کا خواب ہوتا ہے ۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ باہر جائیں گے تو زیادہ پیسے کمائیں گے ۔ ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی ہوگی ۔ ترقی یافتہ ممالک کی چکا چوند سے لطف اٹھائیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ اور باہر جاکر حقیقتا وہ ان آسائشوں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اور ان آسائشات کو ترک کرنا ان کے بس میں نہیں رہتا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آسائشات انہیں وطن واپسی سے روکے رکھتی ہیں ۔ اور وہ اپنی زندگی باہر ہی بسر کرنا بہتر سمجھتے ہیں ۔ 

ہمارے پسماندہ معاشرے میں عموما باہر جانے والے دو قسم کے افراد ہوتے ہیں ۔ ایک اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی نیت سے کوچ کرتے ہیں جبکہ دوسرے اپنے خاندان کو سپورٹ کرنے کے “ بہانے “ سفر کرتے ہیں ۔ سو دوسری قسم کے افراد ہی زیادہ تر اپنے خاندان سے شکوہ کرتے پائے جاتے ہیں ۔ اور “ خود ترسی “ جو ہماری قومی نفسیات بن چکی ہے ، سے مجبور اپنے دوست احباب میں اپنے گھر والوں کو اپنی جان کا دشمن بتاتے لطف محسوس کرتے ہیں ۔ جبکہ وہ خود ان سے بدرجہا بہتر زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں ۔ ریالات ، ڈالر ، یورو و دینار میں سے کتنا حصہ وہ گھر والوں پہ خرچ کرتے ہونگے ؟ وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے باہر آنے کا سبب ہی یہی تھا کہ ان کے خاندان والے زندگی کی آسائشات سے مستفید ہوسکیں اور جب ان کی قربانی سے وہ مستفید ہونے لگیں تو انہیں لگتا ہے کہ وہاں فضول خرچیاں شروع ہوگئی ہیں ۔ ان کا خیال نہیں رکھتا کوئی ، بلکہ انہیں پیسوں کی مشین سمجھتا ہے ۔ بالآخر ہوتا یہ ہے کہ شادی کے بعد ایسے افراد اپنی زندگی الگ تھلگ کرلیتے ہیں ۔ اور ان کے والدین آخری سانسیں اپنے عزیز بیٹوں کو دیکھنے ، سننے کو ترستے گزاردیتے ہیں ۔ یہاں تک کے ان کے جنازوں کو کندھا دینا بھی اکثر پردیسی بیٹوں کو نصیب نہیں ہوتا ۔ 

یہ عجیب خود ترسی کی نفسیات ہے ۔ یہاں ہر شخص کی انجانی خواہش جیسے دوسروں کی ہمدردی بٹورنا رہ گئی ہو ۔ وہ بلند اخلاق ، وہ بلند حوصلے ، وہ قربانی کا مزاج مفقود ہو کر رہ گیا ہے ۔ ایسے میں مقاصد زندگی کو طے کرنا ، سوچ و فکر کا تخلیقی و تعمیری ہونا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ ہمیں اس نفسیات سے باہر نکلنا ہوگا ۔ 

خود ترسی پس ماندگی کی علامت ہے جبکہ عاجزی میں لیاقت چھپی ہے ۔ اور عاجزی علم کی گہرائیوں اور عمل کی مشقتوں میں پنہاں ہوتی ہے۔

شکوہ کناں رہنے میں اطمینان نہیں بلکہ شکر گزاری میں سکون ہے ۔

میں پردیسی شکوہ کناں دوستوں سے اتنا ہی کہوں گا کہ اپنوں پہ اعتماد کرنا سیکھیں اور محض پیسہ کمانے کی وجہ سے اپنے ماں باپ کے خود باپ نہ بن جائیں ۔ آپ کیا جانیں آپ کی ماں راتوں کو اٹھ اٹھ کر ، دن میں چلتے پھرتے آپ کے لیے دعا گو رہتی ہے اور آپ کا باپ اپنے گھر کے سکون کو دیکھ کر آپ کے لیے دعائیں کرتا رہتا ہے ۔ تب جا کر آپ میں اتنی استطاعت پیدا ہوتی ہے کہ آپ بہت سی مشقتوں کو برداشت کرسکیں اور ان سے کہیں بڑھ کر آسائشوں سے مستفید ہوسکیں اور اللہ جل شانہ آپ کے رزق میں برکت ڈال دے جس سے پیچھے والوں کے لیے بھی آپ ذریعہ بنے رہیں ۔ ورنہ آپ میں اتنی استطاعت ، اہلیت و اعلی قابلیت ہوتی تو کبھی اپنا وطن نہ ترک کرتے ۔ بلکہ بدتر حالات کا مقابلہ کرتے اور اپنا رستہ بناتے ۔ 


شہیر شجاع

کامیابی کی بازگشت

 کامیابی کی بازگشت 


ہم پیدا ہوتے ہی جس جملے کی بازگشت سے روشناس ہوتے ہیں وہ ہے “ زندگی میں کامیاب انسان بننا ہے “ ۔ آیا یہ کامیاب انسان کون ہوتے ہیں ؟ یا کامیاب انسان کیسا ہوتا ہے ؟ کامیابی کی حقیقت کیا ہے ؟ کامیابی حقیقتا خارجی ہے یا داخلی ؟ ایسے بہت سے سوالات یقینا ہیں جو کامیابی کی لفظا و معنا تشریح کے لیے ضروری ہیں ۔ یقینا ہم کسی نہ کسی سطح پر اس کے مفہوم سے آشنا ہیں اور وہی مفہوم ہماری عملی زندگی میں کارفرما ہے ۔ یہی مفہوم ہماری فکری راہ متعین کرتا ہے اور راہ عمل کا انتخاب کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ 

اگر ہم ذرا دیر رک کر آس پاس گہری نظر دوڑائیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ ہر کوئی آگے نکل جانے کی تگ و دو میں ہے ۔ کسی طرح اس کی جبلی خواہشات ، صورت حقیقی میں تبدیل ہوجائیں ۔ اور اس کے لیے ہم کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں ۔ خواہ ضمیر بیچنا پڑ جائے ، یہاں تک کہ کسی انسان کے قتل سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ ہم سنتے تو ہیں کہ “ زندگی ایک سفر ہے“ ۔ اور ایسے محاوروں سے ہم بہت محظوظ ہوتے ہیں ۔ مگر عملی طور پر ہم دوڑ میں لگے ہیں ۔ ایک ایسی دوڑ جس کی انتہا سے یقینا ہم نا آشنا ہیں ۔ 

کیا کامیابی وہ ہے جو ہم اپنے سے زیادہ با اختیار ، ذی شہرت ، با صلاحیت یا عام افراد میں نمایاں لوگوں یا آسائشات زندگی سے لطف اندوز ہوتے انسانوں کو دیکھ کر محسوس کرتے ہیں ؟

یا یہ کوئی داخلی شے ہے ، جو انسان کی “ فطری “ تسکین سے متعلق ہے ؟


شہیر

Saturday, August 22, 2020

خیالات

 

شہیر 

ہمارے اذہان سوچتے ہیں ۔ سوچ کے بھی محرکات ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ذہن خودمختار حیثیت میں نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا اور اس امر کے ادراک سے انسان عموما خالی ہوتا ہے ۔ اور ذہن کی تسکین کے حصول میں نامکمل راستوں پہ چل پڑتا ہے ۔ لہذا وہ مزید گنجلک مراحل میں داخل ہوجاتا ہے ۔

یہاں انسان دو غلطیاں کرتا ہے ۔ اول وہ منزل کا تعین نہیں کرتا اور بے منزلی کا سفر سوائے آوارہ گردی کے کیا ہوسکتا ہے ؟ دوم وہ انسانی وجود یعنی اپنے آپ کے فہم سے بھی ناآشنا ہوتا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ راستے کے شعور سے عاری ہوجاتا ہے ۔ فعلیت کے عناصر غیرفعال رہتے ہیں اور سارا بوجھ ذہن کو سنبھالنا پڑتا ہے جس کا وہ اہل نہیں ہوتا ۔

میں اور روایت کا میں

آج ہم اس زمانے میں جی رہے ہیں جہاں ہم نے اسی رویے کو اپنا رکھا ہے ۔ تعمیر و تنقید ساتھ ساتھ چلتے ہیں یعنی تعمیر ہوگی تو تنقید بھی ہوگی ۔ اور تعمیر کے لیے تخلیقی عوامل کا ہونا بھی ضروری ہے ۔

معلوم ہوتا ہے جب تخلیقی وفور نا پید ہوجائے تو تنقید کی جگہ تنقیص لے لیتی ہے اور دیکھنے والی عینک شفاف نہیں رہ پاتی ۔ ایک ہٹ دھرمی مزاج کا حصہ بننے لگتی ہے ۔ اور مختلف فکری تعصبات ، انسان کو متشدد بنادیتے ہیں ۔

میں اگر کسی تہذیب کا حامل ہوں تو اس کا اچھا برا ہر حصہ “ میں “ ہی ہوں ۔ اگر میں اس میں سے چھانٹتا ہوں تو میرا بدن مکمل کیونکر ہوسکتا ہے ؟

جو کل برا تھا اس سے تہی دامن ہونے کا رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ آج بھی برا ہے ۔ جب میں نے اسے برا مان لیا تو گزرے کل کو اپنا کر اپنے آج کو اس سے پاک کرنا میری ذمہ داری ہے ۔ جب میں اس کل سے ہی لاتعلق ہوجاوں گا تو یقینی طور پر آنے والا کل، آج سے لاتعلق ہوسکتا ہے ۔ تو میں آج کو کس طرح مکمل تعمیر کرسکتا ہوں ؟

میرا مستقبل کیونکر روشن ہوسکتا ہے ؟

کیا یہ رویہ اپنی “ روایت “ سے کٹ جانے کی وجہ سے تو نہیں پیدا ہوا ؟


سرمایہ دارانہ تعلیم اور جدیدیت

سرمایہ دارانہ تعلیم اور جدیدیت


یوں محسوس ہوتا ہے جیسے "جدیدیت " سرمایہ دار کی جانب سے پیش کردہ ایسا تصور حیات ہے جس میں ملبوس ہوکر انسان "میں " میں مبتلا ہوجائے اور سرمایہ دار کی ترقی کے لیے اپنی ساری قوت صرف کردے ۔ بیس بچیس سال  کی انتھک محنت کے بعد ایک ڈگری کا حصول اس کو کسی سرمایہ دار کی خدمت کا حقدار بنادے ۔ جس کے عوض اس کی ذات کو چند جبلی آسائشات میسر آجائیں ۔

اسی بنیاد پر کامیابی و ناکامی کا تصور قائم ہے ۔ اسی ذیل میں آج کے اخلاقی تصورات تشکیل پاتے ہیں ۔ جہاں خدمت کی باقاعدہ ویڈیو بنائی جاتی ہے  ۔ فوٹو سیشن ہوتا ہے ۔ ناموں کی تختیاں سجائی جاتی ہیں ۔

غریب ایک ایسا پروڈکٹ ہے جس سے ڈرایا جاتا ہے ، جسے استعمال کیا جاتا ہے ، جسے گالی سمجھا جاتا ہے ، جسے معاشرے کا کلنک سمجھا جاتا ہے ۔ ہنرمندی "عیب" اور جفاکشی بے حمیتی کا استعارہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب "افسر " عوام میں آتا ہے تو "ہٹو بچو " کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔

کیسے تضادات سے بھرے تصورات ہیں ۔ اور یہ جدیدیت ہے ۔


Wednesday, June 17, 2020

​فکر مشرق

فکر مشرق

شہیر شجاع

 

مسلم دنیا تحقیق کے میدان میں کتنا سفر کرچکی ہے علم نہیں ۔ خصوصا طب کا میدان جو آج کا خاص موضوع ہے اس میں ہم کہاںکھڑے ہیں ؟ بظاہر ہاتھ باندھے مغرب کی  جانب نظریں گاڑے بیٹھے ہیں کہ کوئی ویکسین آئے تو “ہم” شور مچانا شروع کریں ۔۔۔۔۔۔“ اےاہل مشرق تم نے ایک دوسرے کو کافر کہنے کے سوا کیا کیا ؟ یہ دیکھو کافروں نے علاج دریافت کرلیا “ ۔ ۔۔۔۔اور اگر اہل مشرق اپنیمقدور بھر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر کسی تحقیق کی بنا پر علاج کا بتائے تو اس کا تمسخر اڑا کر عوام الناس کو اس سے مستفیدہونے سے محروم کردیا جائے ۔ گویا اہل مشرق کو صرف تمسخر کا نشانہ بننے کا حق ہے ۔ 

ہم اپنی صلاحیتوں کو یوں ہی ضایع ہوتے دیکھتے رہیں یا ذرا آنکھیں نیچی کر کے اپنے قوت بازو کو بھی آزمانے پر توجہ دیں ۔ ورنہ یہسلسلہ دراز ہے ۔ 

آخر یہ “ ہم “ اور “ اہل مشرق “ کیا دو جدا آدمی ہیں ؟ 

 


لاحاصل زندگی

 

 

 

لاحاصل زندگی

شہیر شجاع

آج کا مادی انسان زندگی سے کیا چاہتا ہے ؟ یہی ناں کہ رہنے کو پرآسائش گھر ہو ۔۔۔ سواری کے لیے لگژری گاڑی ہو ۔۔۔ اور ایکاچھا کام ہو ۔ پھر اس سے آگے کی سیڑھیاں کہ۔۔۔ بڑا نام ہو ۔۔۔ شہرت ہو ۔۔ دنیا اسے پہچانے ۔۔۔ چہار جانب چمک دمک ہو ۔۔۔ شبابہو شراب ہو کباب ہو ۔۔۔یہ سب تو مل گیا تھا اس لڑکے کو جس کو سوشان سنگھ کے نام سے دنیا جانتی ہے ۔ پھر اس نے سوائےچمکنے دمکنے کے مرجانا کیوں پسند کیا ہوگا ؟ 

کہتے ہیں ڈپریشن کا شکار تھا ؟ ڈپریشن کیا ہے ؟ یہی ناں کہ نا آسودہ روح ؟ جب زندگی کا دارومدار ہی روح پر ہے تو خواہشات نفسکی پیروی میں خوشیوں کو تلاشنا بیکار نہ ٹہرا ؟ 

وہ خوبصورت خواب جو انسان کے نفس سے نچوڑ کر اس کے تخیل میں کھڑے کردیے گئے ہیں ۔ جن کی تکمیل چند ایک کو ہی میسرہوسکتی ہے ۔ جنہیں میسر نہیں وہ بھی ایک بے ثمر اور لاحاصل خواب کو منزل بنائے ذہن و دل کو داغ حسرت سے سجائے ، زیر اندوہاپنے آپ کو کمزور و لاغر کیے جاتے ہیں ۔ جہاں شکوے جنم لیتے ہیں اور ان شکووں میں انسان اپنی خودی کھو بیٹھتا ہے ۔ اور جو اپنےخوابوں کو پالیں انہیں منزل پر پہنچ کر لاحاصلیت کا سانپ جب ڈستا ہے تو کوئی شراب و کباب میں اپنی ناکامی سے دور بھاگنا چاہتاہے تو کوئی گلے میں پھندا لگا لیتا ہے ۔ 

 


فوکس

 فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...