فوکس
ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے
لیے امر ہوگئے ۔
اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ ہے ۔ مگر
ہم نے فوکس بوریا نشینی کو ہی کرنا ہے کارنامے کی اوقات تو ہے نہیں ۔
فوکس
ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے
لیے امر ہوگئے ۔
اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ ہے ۔ مگر
ہم نے فوکس بوریا نشینی کو ہی کرنا ہے کارنامے کی اوقات تو ہے نہیں ۔
کل نفس ذائقۃ الموت
اللہ جل شانہ نے یہ نہیں کہا کہ “ ہر نفس کو زندگی کا ذائقہ چکھنا
پڑے گا “ یہاں جو ہر شخص زندگی سے نالاں و ناشاد ، شکوے و شکایات لیے مضطرب و نوحہ
خواں رہتا ہے ۔
اللہ جل شانہ فرماتا ہے “ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا پڑے گا “ ۔
زندگی تو اک دھوکہ ہے اور دھوکہ کبھی انسان کے لیے خوشی کا باعث ہوا ہے بھلا ؟
حقیقت تو بس موت ہے ۔
ایک دوست کی والدہ اس کے بچپن میں رحلت فرما گئی تھیں ۔ اللہ جل
شانہ مرحومہ کی مغفرت فرمائیں آمین ۔ وہ آج ماشاء اللہ زندگی میں کامیاب ہے ۔ دنیا
کی سہولیات سے آراستہ زندگی ہے من فضل اللہ ۔
اکثر کہا کرتا ہے کہ “ کاش والدہ حیات ہوتیں تو میں ان کو زندگی کی
ان سہولیات سے خوشی پہنچاتا ۔ وہ بیچاری مفلسی کی زندگی بسر کر کے اتنی جلدی چلی
گئیں ۔”
ایک دن میں نے کہہ دیا ۔ شاید وہ زندہ ہوتیں تو انہیں زندگی کی
آسائشات کی طلب نہ ہوتی ۔ خدا ترس لوگ آسائشات سے نہیں ، اپنوں کی خوشی سے خوش
رہتے ہیں ۔ شاید اسے زندگی کی خوشیاں سمیٹتے دیکھ کر زیادہ خوش رہتیں۔ خیر شاید کے
علاوہ اگر واقعی ان کو خوشی پہنچانا چاہتے ہو تو اللہ جل شانہ نے توفیق عطا فرمائی
ہے جو شاید ان کی حیاتی میں نہ ہوتی ۔ کہ اب ان کے نام پہ کوئی صدقہ جاریہ کا
سلسلہ چلا دو ۔ جیسے کسی دو بچوں کو عالم فاضل بنادو جو اپنی زندگی اللہ جل شانہ
کا نام بلند کرنے پہ صرف کریں ۔ اور یہی تربیت وہ اپنی اولاد کی کریں ۔ تو یہ ایک
بہترین صدقہ جاریہ ہوسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے کام ہیں جو اس زمرے میں آتے
ہیں ۔
اکثر بہت سے دوستوں کی باتوں اور اپنے ذہن میں امڈتے خیالات پہ
غورو فکر ہوتا ہے تو محسوس ہوتا ہے ہم اپنے نفس کو بہلانے کا سامان زیادہ کرتے ہیں
، خواہشات کی نوحہ خوانی زیادہ اور عملیت سے کوسوں دور رہتے ہیں
خواہشات
جب خواہشات کا گلا گھونٹنا جیسے پھٹیچرجملے ہماری زندگی کا حصہ بن
جائیں اور ایسے جملے ہماری فکر کو ، ہمارے احساسات کو ، جذبات کو متاثر کرنے لگیں
تو پھر خدا کی حیثیت محض خواہشات میں رنگ بھرنے والے کی رہ جاتی ہے ۔ خدا جو خالق
کائنات ہے ، جس نے مجھے بنایا ، جو مجھے رزق دیتا ہے ، مجھے بیمار کرتا ہے تو مجھے
شفا بخشتا ہے ، مجھے غموں سے آزماتا ہے تو میری زندگی کو اپنی نعمتیں و رحمتیں عطا
کرتا ہے جو ان غموں و کمزور لمحوں پہ ہزار گنا بھاری ہوتی ہیں ۔ مگر یہ ساری
عطائیں ان چند خواہشات کی بے رنگیوں پہ حاوی ہوجاتی ہیں ۔ اور شکوے شکایات کے موسم
میں سارا جہاں ظلم سے تاریک محسوس ہوتا ہے ۔
وہ چند بے رنگیاں ان تمام رنگینیوں کو مٹا ڈالتی ہے جو ہماری زندگی
میں موجود ہوتی ہے ۔ جو ہمیں قدم قدم پر طاقت پہنچایا کرتی ہے ۔
پھر آہستہ آہستہ معرفت کے رستے سے اتر کر ہم ان کانٹے دار رستے کا
انتخاب کرلیتے ہیں جہاں زندگی محض بے کلی اور حتی الوسع پھیلے باغ و بہار ہمارے
لیے وسیع النظر صحرا کی مانند پھیلی رہتی ہے ۔ جہاں شکر کا گزر نہیں ہوتا جہاں
خوشی و غمی کے معانی بدل چکے ہوتے ہیں ۔ جہاں دور دور تک محض " خواہشات"
کی بے رنگیوں کا دور دورہ ہوتا ہے ۔
اور خدا ۔۔۔۔
قائد نے کہا تھا” بچے
مستقبل کا معمار ہیں “
نسلیں بدل گئیں تعمیر پہ تخریب کا پلڑا بھاری ہے ۔ کیا آج ہم اپنے
بچوں کو “ مستقبل کا معمار “ بنانے کی سعی کر رہے ہیں یا ان کے دماغوں میں “ کیرئر
یا لائف اسٹائل یا نواب “ بننے کو کامیابی سے تعبیر کرارہے ہیں ؟
کیونکہ کیرئر بیسڈ کے لیے اپنا لائف اسٹائل سب سے زیادہ اہم ہوتا
ہے ۔ اور پھر جب اس کے ہاتھ میں اختیار آتا ہے تو چھوٹوں میں “ برتر “ اور برتروں
میں “ خوشامدی “ ہوتا ہے ۔ ایسے لوگ حرام و حلال کی تمیز سے ماورا صرف اپنی ذات
میں محدود بینک بیلنس ، برتر عہدہ ، بڑی گاڑی ، بڑا گھر ، عالمی سیاحت وغیرہ سے
باہر کبھی نہیں نکل سکتے ۔ اور یہ فکر ہم میں جونک کی طرح چمٹ گئی ہے ۔ کیونکہ جس
کو حاصل ہوگیا وہ نوچنے میں مصروف ہوگیا اور جسے نہیں ہوا وہ حسد و ہیجان ، نفرت و
احساس کمتری میں مبتلا ہوکر رہ گیا ۔
ایوب خان کے زمانہ استبداد میں شورش کاشمیری کا اپنے ہفت روزہ رسالے "چٹان
" میں لکھا گیا ... اداریہ ۔۔۔۔۔
" آخری چارہ کار"
یونان کا ایک نامور فلسفی جب عوام کی ناقدری سے عاجز آگیا اور اس نے محسوس کیا
کہ اس کے فکر و نظر اور علم و حکمت پر لوگ توجہ نہیں دیتے بلکہ مذاق اڑاتے ہیں اور
اس پر پتھراو کرتے ہیں تو اس نے دشنام و اتہام سے تنگ آکر رقص و سرود کا ایک طائفہ
بنایا ، پھٹے پرانے کپڑے پہن کر ڈھول گلے میں ڈالا ، چہرے پر بھبھوت مل لی ،
ہاتھوں میں کنگن ڈال لیے ، گانے بجانے کا سوانگ رچایا اور پاگلوں کی طرح بازاروں
میں ناچنے لگا ، وہ رقص و غنا کے ابجد سے بھی واقف نہ تھا ، لیکن رسمی دانشوروں نے
سر پراٹھالیا ۔ اس کے رقص پر محاکمہ ہونے لگا کہ اس فن میں نئی راہیں نکالی ہیں تب
پاگل تھا اب مجتہد ہے ۔
جب یونان میں اس کے اس نئے روپ کا شہرہ عام ہوگیا تو اس نے اعلان کیا کہ فلاں
دن وہ اوپن تھیٹر میں اپنے طائفہ سمیت رقص و سرود کے نئے انداز پیش کرے گا ، تمام
ایتھنز ٹوٹ پڑا ، اس نے رقص کا نیا انداز پیش کیا ، سرتاپا دیوانہ ہوگیا ناچ نہیں
جانتا تھا لیکن پاگلوں کی طرح ناچتا رہا ، عوام و خاص اور امرا و شرفا لوٹ پوٹ گئے
۔ جب وہ وتھک گیا اور محسوس کیا کہ جو لوگ اس کے سامنے بیٹھے ہیں اس کی مٹھی میں
ہیں ۔۔۔ تو یکایک سنجیدہ ہوکر کہا :
" یونان کے بیٹو ! میں تمہارے سامنے علم و دانائی کی باتیں کرتا رہا میں
نے تمہاری برتری کے لیے فکر و نظر کے موتی بکھیرے ، تم نے میری باتیں سننے سے
انکار کردیا ۔ میرا مذاق اڑایا ، مجھے گالیوں سے نوازا ، پتھراؤ کیا اور خوش ہوتے رہے ۔ تم نے حق و صداقت کی ہر
بات سننے سے انکار کردیا ۔ مجھے پاگل قرار دیکر خود پاگلوں سی حرکتیں کرتے رہے ،
تم نے اپنے دماغ حکمرانوں کے پاس رہن رکھ دیے ۔ تمہارے جسموں کی طرح تمہاری عقلیں
بھی امراء و حکام کی جاگیر ہوگئی ہیں ۔
میں عاجز آگیا تو میں نے یہ روپ اختیار کیا ، میں فلسفی کی جگہ بھانڈ ہوگیا ۔
مجھے کچھ معلوم نہیں کہ ناچ کیا ہوتا ہے اور گانا کسے کہتے ہیں ۔ لیکن تم نے میرے
اس بھانڈ پن پر تحسین و ستائش کے ڈونگرے برسائے ، پہلے تم میں سے چار آدمی بھی
میرے گرد جمع نہیں ہوتے تھے ، آج انسانوں کا جم غفیر میرے سامنے بیٹھا ہے گویا تم
نے مٹ جانے والی قوم اور ایک فنا ہوجانے والے معاشرے کی تمام نشانیاں قبول کرلی
ہیں تم ایک انحطاط پذیر ملک کی علیل روحوں کا انبوہ ہو ۔ تم پر خدا کی پھٹکار ہو تم نے دانائی کو
ٹھکرایا اور رسوائی کو پسند کیا ۔
تم خدا کے غضب سے کیونکر بچ سکتے ہو کہ تمہارے نزدیک علم ذلیل ہوگیا ہے اور
عیش ، شرف و آبرو۔ جاو میں تم پر تھوکتا
ہوں ، میں پہلے بھی پاگل تھا آج بھی پاگل ہوں ۔ "
جب علم و نظر اور فکر و معروف کہ یہ مرحلہ جانکنی پیش آجائے ۔ خوشامد کابول
بالا ہو اور حکمت و دانائی احمقوں کے
گھرانے میں چلی جائے اور وہ اپنے دماغ کی علالت کو صحت کا نام دینے لگیں ۔ علم کے
مالک جاہل ، ادب کے اجارہ دار گاؤدی ، سیاست کے متولی کاسہ لیس ، اور دین کے مسند
نشین بکاو ہوجائیں تو اس فضا میں یونان کے فلسفی کی طرح پاگل ہوکر ناچنا بھی عین عبادت ہے اور نہیں تو
اس سے خدا کا غضب ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔
نظر
شہیر شجاع
دنیا اس حسین دو شیزہ کی مانند ہے جس کی چال ، اس کے لچھن ، خال و
خد ، مسکراہٹ ، کھلکھلاہٹ اس کی سریلی آواز اپنی جانب مائل کرتے ہیں ۔ مرعوب کرتے
ہیں ، متاثر کرتے ہیں ۔ جیسے بڑے بڑے شاپنگ مالز ، لگژری سواریاں ، تزئین و آرائش
کی شاہکار بلند و بالا عمارتیں ، مہنگے ملبوسات کچھ دیر کے لیے انسان کے نفس میں
رعب ڈال دیتے ہیں ۔ اپنی دسترس میں حاصل کرلینے کی جانب مائل بہ فریاد ہوتے ہیں ۔
لیکن ذرا غور کرے انسان تو فنا ان تمام رعنائیوں سے کراہت پیدا
کردیتا ہے ۔
دوسری جانب بلند و بالا پہاڑ ، سرسبز وادیاں ، ٹھاٹھیں مارتا سمندر
، جاری دریا ، ندیاں ، پیڑ پودے ، وسیع ریت کے میدان ، صحرا جمالیات کی تشنگی
دوبالا کردیتے ہیں ۔
اپنے خالق کے لا متناہی جمال کے تصور سے قلب و وجود کو ششدر کر
دیتے ہیں اور وہ پکار اٹھتا ہے “ اللہ نور السموات والارض “ ۔
بس اس نظر کا حصول ہی زندگی ہے
عالمی نظام کو کلام اللہ کا خوف
شہیر شجاع
ابو بکر رضی اللہ عنہ جب ہجرت کی غرض سے مکہ سے نکلنے لگے تو راہ میں ابن الدغنہ سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے پوچھا کہاں ؟
آپ نے فرمایا “ میری قوم مجھے رہنے نہیں دیتی ، چاہتا ہوں کہ کہیں الگ جا کر خدا کی عبادت کروں “ ۔
ابن الدغنہ نے کہا ، یہ نہیں ہوسکتا کہ تم جیسا شخص مکہ سے نکل جائے میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں ۔ اور وہ دونوں مکہواپس آئے ۔
ابن الدغنہ نے تمام سرداران قریش سے کہا کہ “تم ایسے شخص کو نکالتے ہو جو مہمان نواز ہے ، مفلسوں کا مددگار ہے ، رشتہ داروںکو پالتا ہے ، مصیبتوں میں کام آتا ہے ۔”
قریش نے کہا “یہ یہاں رہ لیں مگر شرط یہ ہے کہ یہ نماز میں چپکے جو مرضی پڑھیں ہمیں مسئلہ نہیں ہے ۔ بلند آواز سے قرآن پڑھتےہیں تو ہماری عورتوں اور بچوں پہ اثر پڑتا ہے ۔”
ماخوذ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس واقعے میں قرآن کی عظمت اور سیکولر نظام کی حقیقت کتنی وضاحت کے ساتھ سامنے آرہی ہے ۔ کفار کو مسلمان سے کوئیخوف نہیں ہے اسے خوف ہے تو اللہ کی پکار سے جو ان پہ ہیبت طاری کردیتا ہے ۔ بڑی محنت و جانفشانی ہی نہیں کروڑوں لوگوں کیجانیں لیکر قائم کیا گیا نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے قریش مکہ کا اقتدار خطرے میں پڑ رہا تھا۔ اسی لیے مذہبکو انفرادی معاملہ کہہ کر اسے محبوس کرنے کی خواہش سیکولر لبرل نظام کی شکل میں سامنے آتی ہے ۔
سراب زندگی
شہیر شجاع
ایک ہندی لڑکا ہمارےقرب و جوار میں رہتا تھا ۔ کم گو اور
اپنے کام سے کام رکھنے والا ۔ اس کی شخصیت
میں متانت اور ٹہراو تھا ۔ ایک شام
مسجد کی پارکنگ ایریا میں اس کی گاڑی کھڑی تھی اور پولیس والے کھڑے تھے ۔ جاکر دیکھا
تو پتہ چلا اس نے اپنے ہی ہاتھوں اپنا گلا کاٹا ہوا تھا ۔ خود کشی کے واقعات ہوتے
رہتے ہیں ۔ لیکن یہ کیس انوکھا تھا کہ اپنی ہی گردن پر چھری پھیر دینا ؟ بہرحال
کچھ باتیں نکلیں تو پتہ چلا نومولود بچی کا باپ تھا اور نہ جانے گھریلو حالات کیا
تھے کہ وہ اپنے گھر والوں سے کہا کرتا کہ
میں جلد ایک سرپرائز دوں گا ۔ اور وہ سرپرائز یہ تھا ۔ گھر والوں پہ جو بیتی سو بیتی
۔ اس نے جو اپنے ساتھ اتنا برا کیا اس کا کیا ؟
میں جب اپنے آس پاس لوگوں کو دیکھتا ہوں تو سب ہی ایک تخیلاتی
زندگی جیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ حقیقت پسندی و عملیت سے کوئی لینا دینا نہیں ۔
ماضی کا تصور ناسٹیلجک ، حال ناخوش و شکوہ کناں اور مستقبل تخیلات سے بھرپور ۔زندگی
کا محور"ذات" ۔خوشی غمی ، تعلقات ، رشتے ناطے ، نوکری ، تجارت ، سفر و
حضر سب اس کی ذات کے گرد گھوم رہے ہوں ۔ اور پیش آمدہ اوامر کے من مانے نتائج وہ
انسان اپنے ذہنوں میں اخذ کیے ہوئے ۔ جس سبب سے وہ ساری دنیا سے ناراض پھرتا ہے ۔ یہاں تک کہ خدا سے شکوہ کرتے بھی نہیں
ہچکچاتا ۔ ایسے میں تعمیر و تخلیقی فکر کیونکر
استوار ہوسکتی ہے ؟ زندگی کی گاڑی اونچائی کی جانب کیا سیدھی بھی نہیں بلکہ ڈھلوان
کی جانب گرتی چلی جاتی ہے ۔ اب اس شخص کی خؤدکشی کیا تھی ؟ ایک تخیلاتی زندگی کا
حاصل ۔ "روح کا جسم سے جدا ہوکر ہی حقیقت کا سامنا کرنا ہو" تو پھر ایسی
زندگی اپنے لیے تو مفید ہو نہیں سکتی بلکہ دوسروں کے لیے بھی غیر مفید ہی ثابت ہوگی
۔ اور اسی بنیاد پر ہمارا معاشرہ پنپتا جا رہا ہے ۔
سنا تھا کہ کراچی کتب میلے میں ریکارڈ کتابیں بکیں ۔ کئی کروڑ روپے کی تجارت ہوئی ۔ نہ جانے وہ کتابیں پڑھی بھی گئیں ۔ یا فیس بک میں تصویری پوسٹوں اور بیٹھک کی الماریوں میں سجانے کے کام آئیں ۔
دوہزار اکیس اور پانچواں موسم
شہیر شجاع
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے ، زندگی یونہی تمام ہوتی ہے ۔ یہ جملہ ہم
اکثر سنتے اور کہتے رہتے ہیں ۔ شاید ایک وقت تک ہم ایسی ہی زندگی گزارتے ہیں ۔ بس
چلے جاتے ہیں ، ٹارگٹ بناتے ہیں اور دوڑے چلے جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں ہم کیا کچھ
کھودیتے ہیں ۔ مگر پھر ایسا بھی ہوتا ہے جب ایک ایک لمحہ آپ کو محسوس ہوتا
ہے ۔ خزاں رسیدگی کے احساس سے لیکر بہار کے کھلتے پھولوں کی خوشبو کا
عطر ۔ بادلوں کی چہ مگوئیوں کا اداس احساس ۔ بارش کی موسیقی اور مٹی کی
سوندھی خوشبو کا دل کی چوکھٹ پر ڈیرے ڈال دینا ۔اگلے دن گہرے کالے بادلوں کو
دیکھ کر احساسات کے پردے کاپھڑ پھڑانا ، اور پھر اچانک دھوپ نکل آنے پر مختلف
احساس سے روشناس ہونا ۔کسی کچے گھر کو دیکھ کر بارش کا سوچنا اور اس کچی چھت پہ
اداس ہوجانا ۔ بلند و بالا عمارتوں کا آنکھوں کو چندھیا دینا اس سے
مرعوب ہوجانا اور کبھی " چل ہٹ " کہہ کر نظریں پھیر لینا ۔پکی سڑک پہ
اچھی سواری کا لطف تو کبھی کچی سڑک پہ ڈگمگاتے ، ہچکولے کھاتے سوچوں کا در
کھولنا ۔ کبھی دور پیدل نکل جانا تو کبھی سستانے بیٹھ کر یک ٹک سورج ، چاند یا
اسٹریٹ لائٹ کو تکتے رہنا ۔
کچھ عرصے سے زندگی کی سواری ایسی سڑک پہ رواں تھی اور دل اس درخت کی
مانند تھا جو طوفانی جھکڑوں میں گھرا ہو ۔ کبھی دائیں کبھی بائیں ۔ بس مضبوط
جڑوں کے سہارے ٹکا ہوا تھا ۔پتے جھڑ جاتے ، پھر نئی کونپلیں نکل آتیں ۔ اسی طرح
دوہزار اکیس شروع ہوا ۔ کوویڈ کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ اور ہماری
شادی کی تاریخ کہیں جم نہیں پارہی تھی ۔ اس سال یہ سنگ میل بھی طے ہو جانا تھا
۔انسان اگر دوسرے جانداروں میں ممتاز ہے تو اس کا سبب اس کا باختیار ہونا ہے
۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر انسان میں قوت فیصلہ مختلف ہوتی ہے ۔ اور ہم ان
افرادمیں شامل ہیں جن میں یہ قوت کمزور ہے ۔ بہرحال اس کا استعمال زندگی ہے، ہر
آنے والے لمحے کے لیے ناگزیر ہے ۔ لہذا فیصلہ ہوا اور پھر رخت سفر باندھ لیا گیا ۔
کچھ آنا فانا والی صورتحال رہی ۔ نئی منزلوں کی جانب سفر درپیش تھا اور
دروازے سے گزرنے میں طبیعت حارج ہورہی تھی ۔
یہ تو طے ہے کہ ہر نئی منزل اپنے ساتھ نئے ایڈونچر ساتھ لاتی ہے ۔
اور پھر زندگی کروٹ لیتی ہے اور ہم اس غیر مرئی دروازے سے گزر جاتے ہیں ۔ماضی اور
حال کے درمیان بظاہر ایک لکیر کھینچ دی جاتی ہے ۔ مستقبل کا نقشہ یکسر تبدیل
ہوجاتا ہے ۔ اور حال جیسے ہلکے سرد موسم میں بارش کی بوندوں کی آواز اور سرد
ہواوں کی سرسراہٹ میں کچھ پرانے اور نئے احساسات کو دل کے کمرے میں خوش
آمدید کہا جاتاہے ۔
حسن آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا اور جمال ستاروں کی مانند آس پاس بکھر
رہا تھا ۔ دونوں اٹھکھیلیاں کر رہے تھے اور ہم میزبان تھے ابھی تو میز سجنی
تھی ، قمقمے جلنے تھے ، آتش بازی ہونی تھی ، غل غپاڑہ ہونا تھا ، شور وغل کا طوفان
اٹھنا تھا ، چہروں کی مسکراہٹوں نے قہقہوں میں تبدیل ہونا تھا ۔ کہ دوہزار
اکیس بھی اختتام پذیر ہونے کو آتا ہے ، بہت سی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ، دلوں کی
دھڑکنوں کا مطلب تبدیل ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ دوہزار بائیس نے شروع ہونا ہے ۔
جس کا پہلا مرحلہ پنچھی کے لیے اپنا گھونسلہ چھوڑنے کی صورت پیش آنا ہے ۔
پرندے کی اڑان کے ساتھ ہی موسم انگڑائی لیتا ہے ۔ ایک نیا موسم درپیش
ہوتا ہے ، پانچواں موسم ۔
ہماری ذہنی ساخت ہی مکمل طور پر مجرمانہ ہوچکی ہے ہم جرم کو جرم نہیں سمجھتے بلکہ فخریہ بیان کرتے ہیں یہ بھی ایک درست تجزیہ ہے ۔ مگر اس میں ایک خامی ہے ۔ جنس کا تعلق شہوات سے ہے اور محض قوانین سے نہیں روکا جا سکتا اس کے لیے ایک طویل المدت پالیسی درکار ہے جو اس نسل کو نہیں تبدیل کرسکتی مگر آئیندہ نسل میں جا کر یہ تبدیلی نظر آنے کے امکانات ہیں ۔ وہ تعلیمی نظام سے لیکر نکاح کے رواج تک کے تمام مراحل پر مشتمل ہوسکتا ہے ۔ جس میں پرہیزگاری کی اہمیت زیادہ ہے اور یہی تعلیمی نظام کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے ۔
مغرب میں جنسی ہراسانی نہیں ہوتی کا ایک زاویہ اوربھی ہے ۔ وہاں حیا کا معیار مختلف ہے ۔ وہاں کسی لڑکی پر آواز کس دیں تو وہ مائنڈ نہیں کرے گی ۔ رستے میں روک کر اس سے ہنسی مذاق کریں تو بھی شاید اس کے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہ ہو ۔ جبکہ ہمارے ہاں حیا کا معیار بلند ہے ۔ یہاں رستہ بھی پوچھنا ہو تو ہم مردوں کا انتخاب کریں گے ۔ سو یہ ہمارے معاشرے کی مثبت بات ہے اور اسی کو معیار بنا کر جنسی ہراسانی پر ہمیں کہانیان سنائی جاتی ہیں ۔ جبکہ ان سب کے باوجودمغربی ماحول میں زیادہ زنا بالجبر اور جنسی ہراسانی کے کیس سامنے آتے ہیں جیسے “ می ٹو “ کی تحریک وہیں چلتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔
دل اور قلب
شہیر شجاع
ہم اکثر کہا کرتے ہیں “میرا دل کھانے کا کر رہا ہے ، یا میرا دل چاہ رہا ہے ، یا میرا دل خراب ہورہا ہے ۔۔۔۔یا “ اس “ پہ میرا دل آگیا ہے ۔۔ وغیرہ وغیرہ “ ۔ درحقیقت اس چاہنے کا یا مائل ہونے کا تعلق دل سے نہیں طبیعت سے ہے ۔ طبیعت مائل ہوتی ہے کچھ کھانے کی جانب ، کچھ کرنے نہ کرنے کی جانب ، کہیں گھومنے پھرنے کی جانب ، کسی کو مارنے نہ مارنے کی جانب ، کچھ حاصل و ترک کی جانب ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ یہ طبیعت ہے جو خواہش ابھرنے کا سبب ہے ۔ اور ہم جانتے ہیں طبیعت نفس کا حصہ ہے ۔ قلب تو کچھ اور ہی شے ہے ۔
آئی جی پولیس افضل شگری نے ایک
پلاٹ اپنے نام پر لیا ، دو پلاٹ اپنی بیگم ، اور دو پلاٹ اپنی بیٹی کے نام پر لیے
۔ یہ وہ پلاٹس ہیں جو پولیس شہداء کے خاندانوں کی ملکیت ہونے تھے یا ان سے متعلق
تھے ۔ ان پلاٹس پہ شوکت عزیز کا نام بھی
ہے ۔ اور بھی کئی نام جو کل رؤوف کلاسرہ نے اپنے کالم میں ذکر کیا ۔
ایک جانب ہم اپنے اقدار و تہذیب کی
بات کرتے ہیں ، مساوات کی بات کرتے ہیں ، مرد و عورت کے درمیان مقابلہ بازی کرتے
ہیں ، خصوصا وہ پسا ہوا طبقہ جو پاکستان کاسب سے بڑا طبقہ ہوگا جس کو مکمل غذا بھی میسر نہیں
ہوتی، نہ یہ نظام تعلیم اسے کوئی مقصد زندگی فراہم کرسکا ہے ،سوائے اس کے
کہ ڈگری لو اور نوکری(غلامی) تلاش کرو ۔ بابووں کے پیر پکڑو ۔ سفارشیں تلاش کرو ۔
ایک ایسا نظام زندگی اس زمین کے لوگوں کو مہیا کیا گیا ہے جہاں وہ جھوٹے تصورات
یا زعم میں جی رہے ہیں ۔ وہ بیک وقت احساس کمتری ، خود ترسی کا بھی شکار ہیں اور یہ زعم بھی پال رکھا ہے کہ
ان سے برتر کوئی نہیں ۔ زعم دانش سے لیکر پارسائی تک ، ایسا کیا ہے جو ہمارے جسموں میں خون بن کر نہ
دوڑ رہا ہو ۔ ایسے میں جب اس طبقے سے کوئی اوپر پہنچتا ہے تووہ جہاں بھی پنیر بٹ
رہی ہو وہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے یا چھینتا ہے یا چراتا ہے ۔
پھر یہ اشرافیہ جن کا بچہ جو سونے
کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوتا ہے وہ بھی کیوں اس دوڑ میں صف اول میں جگہ بناتا
ہے ؟ برانڈڈ اسکولوں میں پڑھ کر ، برانڈڈ طرز زندگی جی کر جب وہ "سول
سرونٹ" یا بااختیار ہوتا ہے تو "بابو" بن جاتا ہے اور اسے آس پاس
کی بستیوں سے گھن آنے لگتی ہے ۔ اس کو صبح چائے پلانے والے " چاچا خیر دین
" ، ان کو اس سے کچھ فاصلے سے ملنا ہوتا ہے ۔ چوری کرنا یا قانون توڑنا اپنا
حق سمجھتا ہے ۔ دوسروں کاحق چھینتا ہے
،قتل کرتا ہے ، وائٹ کالر ڈاکے ڈالتا ہے، اور یہ سب وہ مکمل دلی اطمینان کے ساتھ
کرتا ہے ۔ اس کا ضمیر اسے قطعی ملامت نہیں کرتا ۔
ایسے سماج میں جہاں گھٹن ، جبر ہر
شخص کی زندگی کا حصہ ہے ، انسانیت سوز واقعات کا
تواتر کے ساتھ پیش آنا کوئی انہونے واقعات نہیں ہیں ۔
اس جبر اور اس گھٹن کو لبرل فکر "مذہبیت " کو زیر کرنے کے لیے
استعمال کرتی ہے ۔ اور مذہبی فکر "لبرل فکر " کو ۔
یہاں بنیادی غلطی کہاں ہو رہی ہے ؟
اس جانب ہماری کسی کی توجہ نہیں ہے ۔ ہمارے
لیے ظلم وہ ہے جو ہمارے نظریے کے مطابق ہے
۔ یہاں کوئی واقعہ رونما ہوا "اور میڈیا کی زینت بنا " ہم نے دل کے پھپھولے پھوڑنے شروع کردیے ۔ صفیں مرتب
ہوگئیں ۔ اور دونوں جانب جیسے دو فوجیں
کھڑی ہوں اور ایک دوسرے کی جانب نیزے تن جاتے ہوں۔ اذہان میں
موجود تصورات مزید شدت اختیار کرلیتے ہیں ۔ کہیں مذہبیت نشانہ بنتی ہے تو کہیں
لبرل سوچ پر گولہ باری ہوتی ہے ۔ اور یہ
سلسلہ دراز ہے اور رہے گا ۔
کیونکہ ہمارا مسئلہ سماجی نہیں
"ذاتی " ہے ۔ جس دن ہم من حیث القوم سوچنا شروع کردیں گے ہمیں مسئلے کی
جڑ نظر آجائے گی ۔ کہیں یہ"ڈیوائڈ اینڈ رول" تو نہیں ؟
ذات کی اسیری
سرمایہ دار اور حضرت انسان
نام کے سابقے لاحقے
آپ نے نکاح کو مشکل بنا رکھا ہے ۔ جلدی شادی کو عیب سمجھتے ہیں ۔ کثیر الازدواج آپ کے لیے روح فرسا ہے ۔ اور پھر معاشرے میں روا مرد و عورت کے مسائل کا حل مادر پدر آزادی میں تلاش کرتے ہیں ۔ نور اور عینی کی مثال لاتے ہیں ۔ لیکن ان دونوں پہ غور نہیں کرتے ۔ صرف درندگی نظر آرہی ہوتی ہے ۔ درندہ تو درندگی سے باز نہیں آئے گا ۔ ایسے میں غور کرنا ہوتا ہے کہاں کیا غلط ہو رہا ہے ؟
جس ذہن کو سسٹم یا نظام زر کے خلاف متحرک ہونا تھا اس کے سامنے “ سسٹم “ نے “ مذہبی فکر” کا عفریت کھڑا کردیا اور وہ اس لکیر کو پیٹنے میں مصروف ہے ۔ کیونکہ اگر سسٹم کے خلاف کوئی اٹھ سکتا یا اٹھتا ہے تو وہ یہی مذہبی ذہن ہی ہے ۔ قطع نظر اس کے کہ مذہب کا استعمال بھی “سسٹم” کی بقا کے لیے ہوتا ہے اور بہت ہوتا ہے ۔
سوال ہوتا ہے کیا معاشرے کو مدرسے کی ضرورت ہے ؟
اگر ایک سطر میں جواب دیا جائے تو یقینا ہے ۔
پاکستان میں دو نظام تعلیم ہیں ۔ مذہبی و عصری کے دو مختلف ناموں سے یہ چل رہے ہیں۔ درحقیقت یہ مذہبی و عصری کے نام ہی غلط ہیں ۔ یہ دراصل دونوں ہی تعلیمی اداروں کی مختلف شاخیں ہیں ۔ جیسے انجینئرنگ یونیورسٹی علیحدہ ہوتی ہے اسی طرح کامرس کالج ، میڈیکل کالج ، آرٹس کالج وغیرہ کی تقسیم ہے اسی طرح علوم اسلامیہ کے لیے بھی کالج درکار ہے جو مدارس کی شکل میں موجود ہیں ۔
اب یہ حکومت کی زیرسرپرستی کیوں نہیں ہیں ؟ اس کا جواب کیا مشکل ہے ؟
گورنمنٹ اسکولوں میں بھینسیں بندھی ہوتی ہیں اور اگر کوئی اسکول چل بھی رہا ہو تو وہاں سے فارغ التحصیل کے لیے معاشرے میں کوئی معاشی کشش موجود نہیں ہے اور نجی تعلیمی ادارے “ برینڈز” بن چکے ہیں ۔ جن کی فرنچائز بک رہی ہیں ۔ جتنا بڑا برینڈ اتنا زیادہ “ مال “ ۔
عام آدمی کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں یا تو وہ اپنے بچے کو ان نجی اداروں میں داخل کرے جو گلی محلوں میں آٹھ دس کمروں میں کارخانوں کی طرح کھلے ہوئے ہیں ۔ ایک پریکٹس ہے کہ ہاں میرا بچہ اسکول کا جارہا ہے ۔ اور جو اس قابل بھی نہیں ہوتے کہ وہ کوئی فیس ہی ادا کرسکیں ؟ تو وہ بچہ گلیوں میں پلتا ہے یا کسی ورکشاپ ، ہوٹل وغیرہ میں پایا جاتا ہے یا پھر اسے مدرسہ پناہ دیتا ہے ۔ معاشرے میں آج بھی شرح خواندگی پچاس فیصد سے کچھ اوپر ہے ۔ اور بیروزگاری بھی شایداتنی ہی ہے ۔
آپ کے پاس نہ ہی تعلیمی نظام ہے اور نہ معاشرے میں شرح خواندگی بڑھانے کی کوئی سعی ۔ اور نہ ہی اس نظام تعلیم سے فارغ التحصیل افراد کی زندگی کا تجزیہ کہ کتنے فیصد سند یافتہ روزگار حاصل کر پائے اور کن روزگار سے منسلک رہے اور کتنے بیروزگار رہے اور انہوں نے کیا ذریعہ معاش اپنایا وغیرہ وغیرہ ۔
ایسے میں جامعات علوم اسلامی کی ضرورت کی شدت بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ زیادہ نازک اور حساس معاملہ ہے جو غیر ذمہ دار افراد کے ہاتھوں میں جانا زیادہ نقصان دہ ہوگا ۔
اچھائی برائی پر تنقید اس کے وجود کو اپنا کر کیا جائے تو یقینا مثبت نتائج بھی نکلیں گے ورنہ معاشرے میں موجود تمام معاملوں کی طرح یہ بھی تعصب کا شکار رہ کر ارتقائی شکل اختیار نہیں کر پائے گا ۔
شہیر
فوکس ہمارے اسلاف بوریا نشین تھے ۔ مگر ان کے کارنامے رہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے ۔ اس جملے میں فوکس کرنے کی چیز بوریا نشینی نہیں کارنامہ...